رس گلے کی مالکی پر بھارتی ریاستیں لڑ پڑیں

 

چنئی: برصغیر پاک و ہند میں مشہور رس گلہ ویسے تو سب کی پسند ہے، لیکن اس کی مالکی اور اسے ایجاد کرنے پر گزشتہ 2 سال سے بھارت کی دو بڑی رہاستیں اڑیسہ اور بنگال آپس میں لڑ رہی ہیں، دونوں ریاستوں کا دعویٰ ہے کہ رس گلہ سب سے پہلے انہوں نے ایجاد کیا، دونوں ریاستوں ایک دوسرے پر رس گلے کی مالکی کے جھوٹے دعوے کرنے کے الزامات بھی عائد کر رہی ہیں، اب ریاست بنگال نے اس معاملے کو حل کرانے اور رس گلے کی مالکی لینے کے لیے عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت رس گلے کی مالکی کس کو دیتی ہے.
ہندوستانی میڈیا کے مطابق مطابق ’رس گلے‘ کے حوالے سے تنازع 2015 میں اس وقت دیکھنے میں آیا جب اڑیسہ کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر پرادیپ کمار نے اپنے بیان میں بتایا کہ ’رس گلہ‘ ریاست میں 600 سال سے موجود ہے، بنگال کے وزیرخوراک عبدالرزاق ملا کا کہنا ہے کہ اڑیسہ نے دعویٰ جھوٹ اور بے بنیاد ہے،’رس گلہ‘ خالصتاً بنگال کی ایجاد ہے اور اس دعوے پر بنگال حکومت نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے، انھوں نے کہا کہ ’رس گلے‘ کی ایجاد کے حقائق سامنے لانے کےلئے عدالت میں درخواست دائر کی جارہی ہے جس میں ’رس گلے‘ کی جغرافیائی پیدائش کے حقائق شامل ہیں۔