روہنگیا مسلمان خواتین کو میانمار فوجیوں نے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا: اقوام متحدہ

ڈھاکا: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج نے ‘منظم طریقے سے’ مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والی روہنگیا خواتین کو تشدد واقعات میں گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے وہ بنگلہ دیش کی جانب ہجرت پر مجبور ہوئیں، جنگوں اور تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پاٹن کے مطابق میانمار کی فوج جنسی تشدد کو نسل کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے، یہ معاملہ عالمی عدالت میں اٹھایا جائے گا۔،

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ میانمار کی فوج نہ صرف روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث ہے، بلکہ فوج نے منظم انداز سے مسلمان خواتین کو بھی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل پرمیلا پاٹن نے بنگلہ دیش کے ضلع کوز بازار کا دورہ کیا، جہاں 6 لاکھ 10 ہزار روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں،انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘دورے کے دوران میں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کئی المناک کہانیاں سنیں جن میں سے کئی خواتین اور لڑکیاں ریپ کا نشانہ بننے کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ‘اس المناک واقعات کے بارے میں میرا مشاہدہ ایک انداز کی طرف نشاندہی کرتا ہے جس میں خواتین اور لڑکیوں کو منظم طریقے سے ان کی قومیت کی بنیاد پر ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔