شمالی کوریا کے صدر مجھے بوڑھا کیوں کہتے ہیں، میں نے کبھی انہیں چھوٹا نہیں کہا، ٹرمپ کا شکوہ

واشنگٹن: ویسے تو شمالی کوریا اور امریکا میں گزشتہ 6 دہائیوں سے تلخیاں جاری ہیں،جو ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد مزید تیز ہوگئی ہیں، اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے امریکی و شمالی کوریائی صدر کے درمیان جہاں لفظی جنگ جاری ہے، وہیں دونوں ممالک کے سفیروں اور وزیروں میں بھی لفظی جنگ جاری ہے، لیکن اس بار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے صدر سے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کم جونگ انہیں بوڑھا کیوں کہتے ہیں، کبھی انہوں نے شمالی کوریا کے صدر کو چھوٹا اور موٹا نہیں کہا، ساتھ ہی امریکی صدر نے شمالی کوریا کے صدر سے دوستی کی خواہش بھی ظاہر کردی۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی جانب سے انھیں ’بوڑھا‘ کہنے کہ جواب میں کہا ہے کہ انھوں نے تو کبھی کم جونگ کو ’پست قد اور موٹا‘ نہیں کہا، غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘یہ کتنا ہی اچھا ہو گا اگر وہ اور کِم جونگ ان دوست بن جاتے ہیں، جہاں ایک طرف صدر ٹرمپ نے کِم جونگ اُن سے دوستی کرنے کی خواہش ظاہر کی وہیں ٹویٹر پر اپنی ناراضی کا اظہار بھی کیا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی ’کم جونگ اُن مجھے بوڑھا کہہ کر کیوں با بار بے عزت کر رہے ہیں۔ میں نے انھیں کبھی پست قد اور موٹا نہیں کہا۔ میں نے اُن کا دوست بننے کی بہت کوشش کی ہے، ہو سکتا ہے کسی دن یہ ہو بھی جائے۔‘