سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے چیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف دائر نااہلی دراخوست کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ درخواست کی سماعت کی،سماعت میں وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ۔دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایسی توقع نہ رکھیں کہ فیصلہ کل آجائے گا،پوری تصویر سامنے رکھ کر دیکھنا ہے کہ کیا عمران خان بے ایمان آدمی ہے کہ نہیں۔اس سے قبل سماعت شروع ہوئی تو عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس بات سے آگاہ ہوں جو سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ،ایک دفعہ موقف اپنانے کے بعد اس سے پھر نہیں سکتے،اس کیس میں3سوال اٹھائے گئے تھے، سورس آف لندن پراپرٹی، کتنی قیمت پر بیچا گیااور رقم کہاں خرچ ہوئی؟ ،لندن پراپرٹی پاکستان میں کب ڈکلیئرکی گئی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تحریری جواب سے آج تک کوئی یوٹرن نہیں لیااور نہ ہی ان کے کسی بیان میں تضادہے ، نعیم بخاری کا کہناتھا کہ لندن فلیٹ کی منی ٹریل عدالت کوپیش کردی،اسے ایمنسٹی سکیم میں ظاہر کیاگیاجبکہ آف شورکمپنی میں عمران خان ڈائریکٹرنہیں۔اس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ لندن فلیٹ ظاہرکیاگیالیکن آف شورکمپنی ظاہرنہیں کی گئی۔درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ کا کہناتھا کہ عدالت نے عمران خان کوبیان میں تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔نعیم بخاری کا کہناتھا کہ نیازی سروسزلمیٹڈکے اکاونٹ میں ایک لاکھ پاونڈرکھے گئے،جولائی 2007میں عمران خان کے اکاونٹ میں 20ہزاریورو آئے،مارچ 2008میں عمران خان کے اکاونٹ میں 22ہزاریوروآئے اوریہ رقوم 2012میں کیش کرائی گئیں۔نعیم بخاری کا کہناتھا کہ عمران خان کی ریٹرن پرالیکشن کمیشن نے اعتراض نہیں کیا،کچھ چھپایاہوتاتوریٹرننگ افسردستاویزات مستردکرسکتاتھا۔دوران سماعت جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے چھپانے اورغلطی میں فرق ہے،عمران خان نے یورواکاونٹ ظاہرنہیں کیا،یورواکاونٹ کب اورکتنی رقم سے کھولاگیا؟۔اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اکاونٹ تب کھولاگیاجب عمران خان ایم این اے تھے،یہ اکاونٹ لندن فلیٹ کی عدالتی کارروائی کے دوران کھولاگیا،اوریہ رقم عمران خان پاکستان لائے۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا عدالت پاناما فیصلے کانظرثانی فیصلہ بھی دیکھ لے، نعیم بخاری کہتے ہیں کہ اثاثے نہ بتاناغلطی ہوسکتی ہے، عمران خان نے جمائمہ خان کی بنی گالہ اراضی کاغذات میں بتائی، جمائمہ کے پاکستان کے باہرکے اثاثے نہیں بتائے گئے، نظرثانی کے فیصلے کے بعد کاغذات نامزدگی کے پیرامیٹرزسخت ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ بتائیں کہ ماضی کی غلط بیانی کا موجودہ الیکشن پرکیسے اثرپڑسکتا ہے جس پروکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جعلی ڈگری کے مقدمات میں عدالت ماضی کی غلط بیانی پرکامیاب امیدوارکا اگلا الیکشن اورانہیں نااہل کرچکی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوشش ہے کہ آج ہرچیز ختم کردیں، اگر کوئی چیز رہ جاتی ہے تو فریقین تحریری صورت میں دے سکتے ہیں۔