میانمار فوج نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم پر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا

ینگون: برطانوی میڈیاکے مطابق میانمار کی فوج نے عالمی دبائو کے بعد روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف اپنی ایک اندرونی تحقیق مکمل کرلی، جس میں برمی فوج نے خود کو روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ہر طرح کے مظالم سے بری الذمہ قرار دیا ہے، میانمار فوج کی اس اندرونی تحقیقات کے نتائج کو اگرچہ عام نہیں کیا گیا، مگر بعض عالمی اداروں کو اس تک رسائی دی گئی ہے، عالمی اداروں نے میانمار کی فوج کی اندرونی رپورٹ کے نتائج پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں دیے گئے شواہد دیگر عالمی اداروں کے شواہد  سے متضاد ہیں، جب کہ اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ یہ بحران’نسل کشی کی نصابی مثال’ ہے۔

تفصیلات کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر میانمار کی فوج نے ایک اندرونی تحقیق میں خود روہنگیا مسلمانوں کے مظالم سے بر الذمہ قرار دیا ہے، جس پر عالمی اداروں نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے،ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی فوج کی رپورٹ کو ‘وائٹ واش’ یعنی خود کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کے مترداف قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ اگست 2017 سے اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ روہنگیا بےگھر ہو کر دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گئے ہیں۔ان کی اکثریت بنگلہ دیش میں مقیم ہے، اور ان میں سے کئی ایسے ہیں جنھیں گولیوں کے زخم آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کی پشت پناہی میں سرگرم بودھ بلوائیوں نے ان کے گھر جلا ڈالے ہیں اور عام شہریوں کو قتل کیا ہے۔