ذیادہ چینی کھانے کی عادت دماغی صحت کیلئےتباہ کن

sugar

نیو یارک ؛امریکا میں ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ چینی کھانے کی عادت ذیابیطس جیسے خاموش قاتل بیماری کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کیلئے بھی انتہائی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔تحقیق کے مطابق دماغ چینی کو گلوکوز میں تبدیل کردیتا ہے تاکہ دماغی افعال کو توانائی فراہم کرسکے،جن لوگوں کا دماغ گلوکوز کو توڑنے میں ناکام رہتا ہے، ان میں الزائمر کے امراض کی علامات سامنے آنے لگتی ہیں۔اسی طرح ایسے افراد میں یاداشت کی محرومی جیسی ڈیمینشیا کی علامات بھی سامنے آتی ہیں۔محققین نے اس مقصد کیلئے لوگوں کے دماغی ٹشوز کے نمونوں کو اکھٹا کیا اور انہوں نے دماغ کے مختلف حصوں کے افعال کا جائزہ لیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو الزائمر امراض لاحق ہوتے ہیں، ان کے دماغ گلوکوز کو توانائی کے حصول کے مقصد کیلئے استعمال کرنے میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ ابتدائی نتائج ہیں، تاہم اس سے زیادہ میٹھا کھانے کی عادت اور دماغی امراض کے درمیان تعلق ثابت ہو جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کا بلڈ شوگر لیول کئی برسوں تک زیادہ رہتا ہے، ان کے دماغ میں گلوکوز کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے۔