مقبول خبریں

نیب ریفرنسز:نواز شریف اور مریم نواز کے استثنیٰ کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز کی استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،فیصلہ ایک بجے سنایا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے 28جولائی کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب )کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف دائرایون فیلڈ پراپرٹیز اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی 12ویں جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی 13ویں سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہوئی،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ریفرنسز کی سماعت کی ۔سابق وزیر اعظم نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے ، نوازشریف 5 مرتبہ جبکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن(ر)صفدر 7 بار عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔دوران سماعت نواز شریف کی جانب سے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں انہوں نے ایک ہفتے تک عدالتی کارروائی سے استثنیٰ حاصل کرنے کی استدعا کی، درخواست میں موقف اختیا ر کیا گیا کہ ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز لندن کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، ان کا اور ان کی اہلیہ کا 40 سال کا ساتھ ہے اور وہ اس مشکل وقت میں اپنی اہلیہ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کا کیموتھراپی کا اگلہ مرحلہ ہونا ہے جس کی وجہ سے وہ لندن جائیں گے، لہٰذا انہیں 20 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے استثنیٰ دی جائے۔دوسری جانب مریم نواز نے احتساب عدالت میں درخواست دائر کی جس میں انہوں نے نمائندہ مقرر کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی صورتحال میں عدالت میں عدم حاضری پر ان کے نمائندے جہانگیر جدون کو پیش ہونے کی اجازت دی جائے تاہم اس درخواست پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔عدالت نے دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا جو ایک بجے سنایا جائے گا ۔احتساب عدالت میں اب سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اورداماد کیپٹن صفدر کیخلاف نیب ریفرنسز میں ٹرائل شروع ہو گیا ہے،اس موقع پر نیب کی ٹیم اور استغاثہ کے گواہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا،دوران سماعت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی خاتون افسر سدرہ منصور نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپنا بیان قلمبند کرادیا ہےاورحدیبیہ پیپر ملز کا ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹ بھی عدالت میں پیش کردی،سدرہ منصور نے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ 18اگست 2017کو نیب لاہور میں تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہوئی اور نیب کی طرف سے مانگی گئی دستاویزات تفتیشی افسر کو پیش کیں جس پر میرے دستخط اور انگوٹھے کا نشان موجود ہے اوریہ اصل دستاویزات چیک کرلیں۔گواہ سدرہ منصور نے عدالت کو بتایا کہ نیب کو فراہم کردہ دستاویزات میں کورنگ لیٹر،کمپنیوں کی سالانہ آڈٹ کی تصدیق شدہ رپورٹس شامل ہیں جونیب کو حدیبیہ پیپر ملز کی2000سے2005تک کی آڈٹ رپورٹ پیش کی،اس مدت کے ریکارڈ کے مطابق نوازشریف ڈائریکٹر رہے نہ شیئرہولڈر،2000سے2005تک کے آڈٹ میں حدیبیہ پیپر ملز میں ایک جیسی رقم موجود نہیں۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کیاحدیبیہ کیس شیئرہولڈرزمیں نوازشریف کانام ہے؟۔اس پر نوازشریف کے وکلا خواجہ حارث اور امجد پرویز نے جرح کے دوران اعتراض اٹھاتے ہوئےکہا کہ یہ فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں۔جس کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیاں ہی ضروری ہوتی ہیں۔استغاثہ کی گواہ سدرہ منصور نے کہا کہ یہ کاپی کمپنیز کی جانب سے ایس ای سی پی کو فراہم کی گئیں۔اس پر نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ان دستاویزات پر کمپنیز کی مہر یا سیل موجود نہیں ہے۔ایس ای سی پی کی خاتون افسر نے کہا کہ جی نہیں ہے اور یہ ضروری بھی نہیں ہے،نیب کے تفتیشی افسر کو بیان میں بھی یہی بتایا تھا۔خواجہ حارث نے کہاکہ ان دستاویزات پر تو کمپنیز کا کورنگ لیٹر بھی نہیں ہے۔استغاثہ کی گواہ نے کہا کہ جی نہیں ہے لیکن فائل سے چیک کرلیتی ہوں،خواجہ حارث نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویزات کےلئے آپ کے خط پرکمپنیزکا جوابی خط کہاں ہے۔گواہ سدرہ منصور نے جواب دیا کہ فائلز میں چیک کر لیتی ہوں۔نیب پراسیکیوٹر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی دستیاب نہ ہوا تو پھر پیش کردیں گے۔وکیل صفائی نے سدرہ منصور کی فراہم کردہ دستاویزات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سارے گواہوں کو دوبارہ بلائیں گے عدالت دیکھے گی۔اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم سمجھ سکتے ہیں ان پر کام کا بہت دباوہے۔اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں میں صرف یہ کیس لڑ رہا ہوں،کام کا دباونہیں۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے ایس ای سی پی کی خاتون افسر سدرہ منصور پر جرح مکمل کر لی،دوسرے گواہ جہانگیر احمد پر جرح جاری ہے۔دوران سماعت نواز شریف کی جانب سے دومتفرق درخواستیں عدالت میں دائر کی گئیں۔ ایک درخواست میں سابقہ عدالتی حکم نامے میں تاریخ کی تصحیح کیلئے گزارش کی گئی ہےجبکہ دوسری درخواست میں مریم نواز کی جانب سے جہانگیر جدون کو نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔آج کی سماعت میں حسن نوازاورحسین نوازکو اشتہاری قراردینے کا فیصلہ بھی ہوگا، احتساب عدالت نے ایف بی آر کے جہانگیر احمد کو بھی بیان قلمبند کرانے کیلئے طلب کر رکھا ہے۔نواز شریف احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پنجاب پائوس کئ جانب روانہ ہوگئے ،نوازشریف کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھےجبکہ ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری، پرویز رشید، مریم اورنگزیب، طارق فاطمی، طارق فضل چوہدری احتساب عدالت میں موجود تھے۔واضح رہے کہ 8نومبر کو نوازشریف کی 5ویں پیشی پر فردجرم عائدکی گئی جبکہ مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر پر19 اکتوبر کوفردجرم عائدکی گئی۔