واٹس ایپ پر نازیبا پیغام بھیجنے پر کویتی خاتون پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

مناما: خلیجی ممالک میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے سخت ضوابط نافذ ہیں، کسی کو بھی آن لائن تضہیک کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوتی، جب کہ شکایت موصول ہونے پر تضہیک کا نشانہ بنانے والے کو سخت سزائیں دی جاتی ہیں، ایسی ہی سزا کویتی خاتون کو بھی دی گئی، تاہم اسے جسمانی سزا دیے جانے کے بجائے جرمانہ بھرنے کی سزا سنائی گئی، ہوا کچھ یوں کہ کویتی خاتون نے دوست کو واٹس ایپ پر پیغام بھیجا جس میں لکھا کہ ’تم میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں، تمہیں شرم آنی چاہیے ،لگتا ہے کہ والدین نے تمہاری تربیت ٹھیک سے نہیں کی‘۔ جب یہ پیغام دوست نے پڑھا تو اس نے ملکی سائبر کرائم بیورو کو اس کی رپورٹ کردی،جس پر خاتون پر 3 ہزار کویتی دیناریعنی پاکستانی دس لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق کویت میں واٹس ایپ پر تضحیک آمیز پیغام بھیجنے والی خاتون پر 3 ہزار دینار یعنی (10لاکھ پاکستانی روپے) جرمانہ عائد کردیا گیا، عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق کویتی خاتون کو اپنے دوست کو واٹس ایپ پر بےعزتی کرنا مہنگا پڑگیا،خاتون کی جانب سےنازیبا پیغام ملنے کے بعد ان کے دوست نے سائبر کرائم کو رپورٹ کردی، سائبر کرائم بیورو نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے تضحیک کرنے پر خاتون کو جرمانے کا نوٹس بھیج دیا، جرمانے کی اتنی بڑی رقم دیکھ کر خاتون چونک گئی اور اس کے ہوش اڑ گئے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی جج نے 2 خواتین کو واٹس ایپ پر ایک دوسرے کی توہین کرنے پر 10،10 کوڑے مارنے کی سزا سنائی تھی