ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو25برس بیت گئے

نئی دہلی :ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو پچیس برس بیت گئے لیکن مسجد پرحملے اوربعد میں پھوٹنے والے فسادات میں ملوث بھارتی انتہا پسندوں کو آج تک سزانہیں دی جا سکی۔تفصیلات کے مطابق 6 دسمبر1992دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام نہاد دعویدار بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی شہادت کو آج25برس مکمل ہوگئے۔اترپردیش کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد مغل بادشاہ بابر کے دور1528میں تعمیر کی گئی لیکن انتہا پسند ہندؤوں نےدعویٰ کردیا کہ مسجد کی جگہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے،تنازع پر پہلے مسجد بند کی گئی اور پھر باقاعدہ منصوبہ بنا کر تاریخی یادگار پر دھاوا بول دیا، بھارتی حکومت حملہ آوروں کو روکنے میں ناکام رہی۔تاریخی مسجد کی شہادت پر بس نہیں کیا گیا مسجد کے اطراف مسلمانوں کے گھر بھی جلا دئیے گئے، ان فسادات میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کی جان لے لی گئی۔بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیراعلیٰ کلیان سنگھ اورشیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت 49 افراد کے خلاف مقدمات تو درج کیے گئے لیکن آج تک کسی ایک حملہ آور کو بھی سزا دینے کی نوبت نہیں آئی، متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔