جنید جمشید کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے

کراچی :معروف نعت خوان اور ماضی کے مقبول گلوکار جنید جمشید کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے، لیکن ان کی یادیں اور آواز آج بھی سب کے دلوں میں زندہ ہے۔تفصیلات کے مطابق سانحہ حویلیاں کو ایک سال ہونے پرسوگواروں کے زخم پھر تازہ ہوگئے، دل دل پاکستان کے گیت گانے والے جنیدجمشید کی دھڑکنیں بھی فضاؤں میں ان کے ملی نغمے کے ساتھ گونج اٹھی ہیں، جنید جمشید کےلئے 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کے بدقسمت طیارے کا سفر ہی سفر آخرت ثابت ہوا،اس سانحے میں طیارے کے عملے سمیت 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جنید جمشید کی پہلی برسی آج منائی جارہی ہے۔جنید جمشید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے،انہوں نے موسیقی کے کیریئر کا آغاز میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے کیا اور پہلے البم کی ریلیز نے ہی اس بینڈ اور اس کے مرکزی گلوکار جنید جمشید کو شہرت کی ایسی بلندیوں تک پہنچایا جس کی مثال آج بھی ملنا مشکل ہے،وائٹل سائنز کے فرنٹ مین کے طور پر چار اسٹوڈیو البمز کی کامیابی کے بعد انہیں اپنے سولو کریئر میں بھی خاصی شہرت حاصل ہوئی ،تاہم 2002 میں اپنی چوتھی اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعیلمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر ابھرتے نظر آئے۔جنید جمشید کو 2007 میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔