اے ٹی ایم فراڈ کے بعد اسٹیٹ بینک کا اےٹی ایم کارڈز تبدیل کرنے کا فیصلہ

کراچی:  ڈیبٹ کارڈز میں اسکیمنگ کے ذریعے 559 متاثرہ صارفین کا 1کروڑ 2 لاکھ روپے کا نقصان ہونے  پراسٹیٹ بینک آف پاکستان  نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اے ٹی ایم کارڈز کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک سے جاری اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے بینکوں سے یورو پے ماسٹر کارڈ ویزا (ای ایم وی) معیار کے استعمال کی گزارش کردی جو ان کے مطابق انتہائی محفوظ ہے، مرکزی بینک نے کہا ہے کہ آئندہ سال 30 جون سے یورو پے ماسٹر کارڈز متعارف ہوں گے جس میں ہیکرز کا نشانہ بننے والی مقناطیسی اسٹرپ کے بجائے چپ موجود ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق اے ٹی ایمز کے ذریعے فراڈ ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں اے ٹی ایمز تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا، مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو ماسٹر کارڈ، ویزا اور یورو پے کارڈز کی طرح اے ٹی ایم کارڈز تیار کرنے کی سفارش کردی، اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ڈیبٹ کارڈز کے پیچھے مقناطیسی پٹی میں صارف کے اکاؤنٹ کی تمام تر تفصیلات محفوظ ہوتی ہیں جن کی وجہ سے اسکیمنگ کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ ای ایم وی تکنیک کے حامل ڈیبٹ کارڈز موجودہ دور میں زیادہ موثر اور محفوظ ہے کیونکہ ان میں ایک چپ لگی ہوتی ہے اور دو طرز پر شناخت کا عمل بھی کیا جاتا ہے۔