یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر عالمی برادری کی مذمت

نیویارک: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے، پاکستان، سعودی عرب، ترکی، ایران، لبنان، مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور ملائیشیا سمیت غیر مسلم ممالک فرانس، برطانیہ، سینیگال، سویڈن اور یورپی یونین نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، واضح رہے کہ امریکی صدر نے بدھ کی رات وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اقدام امریکہ کے بہترین مفاد اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان قیامِ امن کے لیے ضروری تھا۔

 تفصیلات کے مطابق امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے،  سعودی عرب کی جانب سے جاری کیے گئے شاہی بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ ‘بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ’ ہے اور ‘یہ فلسطینی عوام کے حقوق کے منافی’ ہے، ایران نے بھی صدر ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ‘اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے، لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے کہا کہ ‘ہمارا ملک بھرپور طریقے سے فلسطینیوں کے ساتھ اپنے حمایت کا اعلان کرتا ہے، ورپ کے دوسرے ممالک کی طرح جرمنی سے بھی امریکی فیصلے کی مذمت سامنے آئی ہے جب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے اپنے ترجمان کے ذریعے پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ‘صدر ٹرمپ کے فیصلے کی قطعی حمایت نہیں کرتیں، دوسری جانب ترک صدر، پاکستانی صدر، قطر کے وزیر اعظم سمیت مصر کے صدر نے بھی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے فیصلے کو عالمی امن کے خلاف قرار دیا۔’