ناگواری کی وجہ تو سمجھ میں آگئی تھی۔ مگر وہ اتنی گہری محویت سے باہر آیا تھا کہ گردو پیش کو اب بھی نہیں سمجھ سکا تھا۔
اسی لمحے ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔”مال چاہئے باﺅ جی؟.... ایسی کچھی کلیاں ہیں موگرے کی....“
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہی کوے جیسی چپکے چپکے ادھر ادھر چاروں طرف دیکھتی ہوئی آنکھیں۔ مٹھی میں دبا ہوا سگریٹ.... [...continue]
:: قسط نمبر 31 عشق کا شین
”ارے.... میں تو آپ سے محبت کرتا ہوں۔ یہ میں نے کیا کردیا.... یہ آپ کے ساتھ میں نے ظلم....“ رشید سے بولا بھی نہیں جارہا تھا، پھر اس نے نادرہ کے سامنے ہاتھ جوڑدیئے۔ ”یہ شراب بڑی کمینی چیز ہے۔ میں پیتا نہیں ہوں۔ لیکن اماں سے لڑنے کے بعد غم غلط کرنے کیلئے پی لی تھی۔ آپ مجھے معاف کردیں.... خدا کیلئے معاف کردیں، ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گا.... خدا [...continue]
:: قسط نمبر 30 عشق کا شین
رشید اٹھ کر باہر چلا گیا تھا۔ وہ کپڑے پہن کر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ وہ واپس آگیا۔ ”میں دروازے پر تالا ڈال آیا ہوں۔ باہر جانے کا خیال دل میں نہیں لانا۔ ویسے باہر مجھ سے بھی زیادہ برے لوگ ملیں گے۔“ اس نے کہا۔ پھر اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ”تم جا کہاں رہی ہو؟“
”دوسرے کمرے میں.... اپنی بھتیجی کے پاس۔“ نادرہ نے [...continue]
:: 29 عشق کا شین
وہ خوف زدہ ہوکر دبک گئی۔ وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ مرجانا چاہتی تھی۔ لیکن ارجمند کو اس طرح چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔ لیکن یہ مشکل اپنی جگہ تھی کہ وہ اس حال میں کسی کا سامنا کیسے کرے گی۔
قریب آتی ہوئی آوازیں ابھریں۔ دروازے سے کچھ لوگ ڈبے میں آئے۔ اس نے اماں کی خون آلود چادر اپنے منہ پر ڈال لی اور [...continue]
:: 28 عشق کا شین
نور بانو کیلئے سب کچھ بدل کر رہ گیا تھا.... مینو کے سوا۔ عبدالحق کی چادر اور مینو کے سوا اس کا کوئی مونس ودم ساز نہیں تھا۔ زرینہ کے آنے کے بعد سے وہ پہلے کی طرح خود اعتمادی سے محروم ہوگئی تھی۔ وہی پہلے جیسے خدشے اور وسوسے اسے ستانے لگے تھے۔ اب تو نیند میں بھی وہ لذت نہیں رہی تھی۔ کیونکہ وہ عبدالحق کے خوابوں سے بھی محروم ہوگئی تھی۔ اس کے [...continue]
:: 27 عشق کا شین
”باہر گئے ہیں۔ کیا بات ہے؟“
”بڈھا بڑا پکا ہے۔ میں نے سارے حربے آزمالئے۔ کچھ نہیں اگلا۔ بولتا ہے، میں نے افضال کو قتل کیا ہے اور سالے کا اپنا نام پوچھو تو بولتا ہے، معلوم نہیں۔“
عبدالحق کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یہ تو یقینا افضال صاحب کے بارے میں بات ہورہی تھی۔ ”اب تو آپ اس سلسلے کو روکیں....“
”آپ کو تھانے کے آداب نہیں آتے [...continue]
:: 26 عشق کا شین
تو اب اگر وہ اسے سچ بتاتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس پر یقین نہ کرے.... بدگمانی کرے کہ وہ.... اس بدگمانی کے بارے میں سوچنا بھی اسے اچھا نہیں لگا۔ وہ جانتی اور سمجھتی ہی نہیں کہ وہ اس کےلئے کتنی محترم ہے۔ وہ اسے نجانے کیا سمجھتی ہے۔
خیر.... اس کا آسان حل یہ تھا کہ وہ اسے رضوان صاحب کے گھر لے جائے، اور اسے ان سے ملوا دے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ [...continue]
:: 25 عشق کا شین
“جھنجھوڑنے لگا۔
”ہاتھ ہٹاﺅ.... مت چھوﺅ مجھے۔“
اور نادرہ کی آنکھ کھل گئی۔ اسے احساس ہوا کہ ارجمند کی کلائی اس کے ہاتھ میں ہے، اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ ارجمند کے چہرے پر تکلیف کا تاثر تھا۔ ”کیا ہوا گڑیا؟“
”آپ میرا ہاتھ تو چھوڑیں نا پھپھو۔“
نادرہ نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ ”اب بولو، کیا بات ہے۔“
”دوسرے [...continue]
:: 24 عشق کا شین
”کی تھی۔ بڑے صاحب تھانے دار صاحب کو پیسے دے رہے تھے۔ انہوں نے منع کردیا۔“
”کون بڑے صاحب ؟“ ہیڈ محرر کچھ محتاط نظر آنے لگا۔
”مسعود احمد خان صاحب۔ رفیوجی کیمپ کے انچارج ہیں۔ بڑے افسر ہیں وہ۔“
اچانک تھانے دار اٹھا اور باہر چلا گیا۔ عبدالحق کو لگا کہ وہ مسعود صاحب کا نام سن کر دانستہ باہر گیا ہے۔
ادھر ہیڈمحرر مزید [...continue]
:: 23 عشق کا شین
”نوربانو دروازے میں کھڑی تھی۔
”اس چادر میں آپ کی خوشبو تھی۔ اس کی وجہ سے آپ دور رہ کر بھی میرے قریب رہے۔“ وہ عجیب سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
عبدالحق کے جسم میں سنسنی سی دوڑنے لگی۔ کیا یہ سب کچھ وہی ہے، جو سمجھ میں آرہا ہے، اسے محسوس ہورہا ہے؟ کیا یہ اظہار محبت ہے؟
”اور یہ چادر لے کر میں نے ایک طرح سے آپ پر احسان کیا۔ [...continue]
:: 22 عشق کا شین
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔“ مسعود صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”میں سمجھ گیا۔ لاہور کو الوداع کہہ رہے تھے تم۔ حالانکہ اس کی ضرورت نہیں۔ارے بھئی لوٹ کر یہیں تو آنا ہے تمہیں۔“
”جی.... جی ہاں سر۔“
”اچھا، اب جلدی سے اندر چلو۔ تمہارے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا۔ بھوک سے برا حال ہے میرا۔“
عبدالحق کی شرمندگی اور بڑھ گئی۔ یہ [...continue]
:: 21 عشق کا شین
میں نے کہا نا دھیے، تو فکر نہ کر۔ اتنے بڑے ملک میں کسی کو صرف اس کے نام سے ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں۔“
عبدالحق سوچنے والا آدمی تھا اور سوچ رہا تھا!
ایک بات وہ یقین سے کہہ سکتا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی خوشی تھی۔ شاید سب سے بڑی اس لئے کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ خوشی اسے مل سکتی ہے۔ پہلی بار اس کی آواز [...continue]
:: 20 عشق کا شین
عبدالحق کے جسم میں سنسنی سی دوڑگئی۔ ”یہ تو آپ نے بہت کام کی بات بتائی ہے۔ اس پر میں ضرور عمل کروں گا۔“
اگلی بار وہ شہر گیا تو وہاں سے اپنے لئے چھوٹا سا ایک مینڈھا بھی لے آیا۔ اسے اس نے پورے بازار میں گھوم پھر کر منتخب کیا تھا۔ یہ وہ سوچ کر نکلا تھا کہ جانور جب تک دل سے پسند نہیں ہوگا، نہیں خریدے گا۔
زبیر اسے دیکھ کر خوش بھی ہوا [...continue]
:: 19 عشق کا شین
مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کوٹھے پر بیٹھی ہے“ بھٹی نے فاتحانہ لہجے میں کہا۔ ”میں ایسے ہی اتنی بڑی کرسی پر نہیں بیٹھا ہوں۔ رعایا سے باخبر رہتا ہوں تو حکمرانی کرتا ہوں۔ اب تو سمجھاجمیل۔ مجھے آنکھیں کبھی نہیں دکھانا۔ ورنہ نوکری تو بہت چھوٹی چیز ہے۔ عمر بھر کیلئے جیل میں سڑوادوں گا تجھے۔ وہ شوبھا خود تیرے کالے کرتوت بیان کردے گی۔ [...continue]
:: 18 عشق کا شین
پندرہ دن بعد میں نے مولوی صاحب سے اوتار سنگھ کی پروگریس پوچھی۔ وہ خود حیران تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی میں ایسا لائق اور محنتی شاگرد کبھی نہیں ملا۔ وہ اتنا تیز چلتا ہے کہ وہ بھی تھک جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی علم کی لگن غیرمعمولی تھی۔
میں نے یہ بات بہت پہلے سمجھ لی تھی کہ اوتار سنگھ کو کبھی کسی بات سے روکنا نہیں ہے۔ مجھے [...continue]
:: 17 عشق کا شین
یہ جمیل کی عبدالحق سے گفتگو کے دو دن بعد کی بات ہے کہ رات کو کھانا کم پڑ گیا۔
مسعود صاحب کو پتا چلا تو تڑپ کر اپنے دفتر سے نکل آئے۔ عملی صورتِ حال سمجھنے میں انہیں ذرا دیر نہیں لگی۔ اس وقت تک کھانا ختم ہو چکا تھا اور چوتھائی کیمپ کھانے سے محروم تھا۔
انہوں نے جمیل اور شمشاد کو طلب کر لیا۔ ”یہ کیسے ہوا؟“ انہوں نے کڑے لہجے میں ان [...continue]
:: 16 عشق کا شین
”خطرہ سب کےلئے برابر ہے....“
”نہیں مالک، زبیر کو آگے جانے دیں۔ خدا کےلئے“۔ عقب سے رابعہ نے مداخلت کی۔
عبدالحق اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اتنی دیر میں زبیر اس خلا میں اترگیا۔
لیکن زبیر عقل مند تھا۔ وہ ایک دم سے نیچے نہیں اترا اور اس نے ایک دم سے گہری سانس بھی نہیں لی۔ چند لمحوں بعد اسے احساس ہوگیا کہ
افضال صاحب پھر مصروف [...continue]
:: 15 عشق کا شین
اور وہ خود کیسے بچا تھا۔ لال آندھی آئی تو وہ خود بھی تو اس کی حدوں میں تھا۔ ایک وقت ایسا لگتا تھا کہ وہ بھی ریت میں زندہ دفن ہوجائے گا۔ اس کے جسم میں ہلنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ ریت اس پر برس رہی تھی اور وہ اب بھی زندہ تھا۔
اتنا کچھ دیکھنے کے بعد ہی وہ امکان کی بات کرتا ہے! سچ ہے انسان پر جب کوئی بحران آتا ہے، وہ اللہ کی پچھلی [...continue]
:: 14 عشق کا شین
اس نے پوٹلیاں کھول کر دیکھا۔ ایک میں نقدی تھی اور دوسری میں سونا اور زیورات۔ رقم بھی بھاری تھی اور سونا بھی کم نہیں تھا۔ وہ تو اچھا خاسا خزانہ تھا۔
”اماں“ اس میں نقدی اور زیورات ہیں.... بہت سارے۔“
”یہ سب تمہارا ہے پتر۔ تمہاری امانت تھی میرے پاس۔ رب سے دعا کرتی تھی کہ امانت لوٹائے بغیر مجھے مرنے نہ دینا“
عبدالحق نے اس کے [...continue]
:: 13 عشق کا شین
انہوں نے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ ان کی ضرورت شہر میں ہی پوری ہوسکتی ہے اور شہر زیادہ دور بھی نہیں ہے اور وہ قریب ترین شہر صادق آباد تھا!
٭ ٭ ٭
پہلا دن تو صرف جھونپڑیاں کھڑی کرنے میں گزر گیا۔ دو جھونپڑیاں ان کے اپنے لئے تھیں اور دو راج مزدوروں کےلئے۔ عبدالحق نے حمیدہ سے اس کی جھونپڑی خالی کرنے کی اجازت لے لی تھی۔
اگلے روز [...continue]
:: 12 عشق کا شین
اس کی طرف سے مایوس ہوکر وہ لوگ افضال صاحب کو تاکنے لگے۔
افضال صاحب کا پان کی اس دکان پر جانا بھی بے سبب نہیں تھا۔ پان کی یہ دکان اس بالاخانے پر جانے والے زینے کے ساتھ تھی، جس پر انہوں نے زرینہ کو دیکھا تھا۔ اور بگھی رکوانے کے بعد بھی وہ چند منٹ بگھی میں ہی بیٹھے رہے تھے۔ انداز ایسا تھا، جیسے گردوپیش کا جائزہ لے رہے ہوں، اور [...continue]
:: 11 عشق کا شین
جھجکتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔
”کچھ بھی ہو۔ میں یہ سب کتابیں ضرور لے کر جاﺅں گا۔“
”منجھلی بی بی ٹھیک کہہ رہی ہیں مالک۔“ زبیر بولا۔
عبدالحق چند لمحے سوچتا رہا۔ ”انہیں کپڑوں میں لپیٹ کر رکھ لیں۔ میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔“
نور بانو نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔ ”جیسی آپ کی مرضی۔“
”ایک ذاتی بات پوچھ سکتا ہوں آپ [...continue]
:: 10 عشق کا شین
نور بانو خواب دیکھ رہی تھی!
یہی گھر تھا۔ مگر بڑی گہما گہمی تھی۔ اماں بھی موجود تھیں، دونوں بہنیں بھی اور چھمن بوا بھی۔ اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ یقینا کوئی تقریب تھی.... بڑی تقریب! مگر اس کی سمجھ میں تقریب کی نوعیت نہیں آرہی تھی۔
چھمن بوا ادھر سے ادھر بھاگتی پھر رہی تھیں۔ کام بہت تھے اور سب انہی کو نمٹانے تھے۔ نور بانو [...continue]
:: 9 عشق کا شین
عبدالحق کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اب وہ افضال صاحب کے نفسیاتی مسائل کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ حیران تھا کہ آدمی کتنے بڑے بڑے بوجھ اٹھائے پھرتا ہے .... ایسے بوجھ، جن کے بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا۔
”تو آپ کو زمین کا کلیم تو بھرنا چاہئے تھا۔ وہ سب کچھ تو آپ کو اب بھی مل سکتا ہے۔“
”جوان اولاد آنکھوں کے سامنے ختم ہوگئی تو سمجھ میں آیا [...continue]
:: 8 عشق کا شین
پھاٹک سے گزر کر وہ احاطہ میں داخل ہوئی۔ احاطہ لاشوں سے اس طرح پٹا ہوا تھا کہ آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ اتنے خون، اتنی لاشیں اس نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ لیکن کچھ فاصلے پر اس کی نظر ایک جانی پہچانی قمیض پر پڑی۔ وہ گرتی پڑتی اس کی طرف بڑھی۔ وہ وصال دین تھا۔ اس کے سینے میں بہت بڑا گھاﺅ تھا۔ خون جم کر سیاہ ہوچکا تھا۔ [...continue]
:: 7 عشق کا شین
عبدالحق پہلے تو اسٹاف سے ملا۔ ان میں جمیل تھا.... مسعود صاحب کا اسسٹنٹ۔ پھر باورچی شمشاد تھا اور اس کے بے شمار معاونین تھے۔ ڈسپنسری تھی۔ وہاں ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف تھا۔
بنیادی طور پر کیمپ خیموں کی چھوٹی سی بستی تھی۔ کیمپ میں داخل ہوتے ہی خیمے ہی خیمے نظر آتے تھے۔ لیکن صاف پتا چلتا تھا کہ کیمپ قائم کرنے والوں کا اندازہ بری طرح پٹ [...continue]
:: 6 عشق کا شین
عبدالحق کیمپ پہنچ کر مسعود صاحب سے ملا اور انہیں عرفان احمد کا خط دیا۔ مسعود صاحب نے وہ خط پڑھا، سرسری انداز میں عبدالحق کو دیکھا اور بولے۔ ”اندر بلاﺅنا انہیں۔“
عبدالحق نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ ”کسے بلاﺅں جناب؟“
”ارے بھئی اسی کو، جس کے بارے میں عفی نے یہ خط لکھا ہے۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ پھر دوبارہ خط کا جائزہ لیا اور نام [...continue]
:: عشق کا شین5
”مینو، میں تمہاری نسبت زیادہ محبت کرتی ہوں ان سے....‘
اسی لمحے باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔
”تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہوں۔“ نور بانو نے جلدی سے کہا۔ ”لیکن دیکھ لو۔ میں نے کھانا نہیں چھوڑا۔ یہ تو حماقت ہے۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو....“
رابعہ شیڈ میں داخل ہوئی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بولی۔ ”اوہو.... باتیں [...continue]
:: عشق کا شین4
”تم پر جو گزر رہی ہے مینو، میں اسے سمجھ سکتی ہوں۔ میں تم سے کم تکلیف میں نہیں ہوں۔ لیکن تم اظہار تو کر سکتے ہو۔ کھانا پینا چھوڑ کر بیٹھ گئے نا۔مجھے بتاﺅ، میں کیا کروں؟ میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتی۔“ اُس کے لہجے میں شکایت بھی تھی اور بے بسی بھی۔ ”میں تو کسی سے کچھ کہہ ہی نہیں سکتی۔ اب تم ہی کہو، میرا دکھ بڑا ہے نا؟ مگر میں تمہاری دل [...continue]
:: عشق کا شین3
سردیوں میں ہری گھاس نہیں ہوتی تھی۔
”آپ کچھ کرو منجھلی بی بی۔ میں ابھی آتی ہوں۔“ رابعہ نے کہا اور شیڈ سے چلی گئی۔
نور بانو نے سوچا کہ رابعہ اور زبیر اگر مینو کو کھلانے میں ناکام ہو گئے ہیں تو وہ آسانی سے تو کچھ کھائے گا نہیں۔ اور ابھی وہ اُس سے مانوس بھی نہیں ہے۔ اس لئے پہلے کچھ کھلانے کی کوشش کرنے کے بجائے دوستی کی جائے.... اسے [...continue]
:: عشق کا شین2
مینو بہت خوب صورت تھا۔ اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ لیکن وہ کبھی اُس کے قریب نہیں آتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ عبدالحق گاﺅں میں ہوتا تو مینو ہر وقت اُس کے ساتھ ہی لگا رہتا تھا۔
”چلونا منجھلی دیدی۔“ رابعہ نے اُسے چونکا دیا۔
”مجھے نہیں لگتا کہ کچھ فائدہ ہو گا۔“
”کوشش تو کرو منجھلی دیدی۔ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ مینو کو کچھ ہو نہ [...continue]
:: عشق کا شین1
”مجھے اس کا بھی تو ڈر ہے اماں۔ تو کیا وہ واپس ہی نہیں آئیں گے۔“
اس بار حمیدہ کو اس محبت کی گہرائی کا بھی پتا چل گیا۔ نور بانو کا جسم بری طرح لرز رہا تھا۔
اُدھر نور بانو کو بھی احساس ہوا کہ اس بحران میں وہ اپنے دل کا بھید کھول بیٹھی ہے۔ وہ حمیدہ سے الگ ہوئی۔ اُس نے حمیدہ کے چہرے کو غور سے دیکھا اور وہاں تفہیم کا رنگ دیکھ کر نظریں [...continue]
Page [1/1]
Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4, Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6 E-mail US: Info@ummatpublication.com Daily Ummat Karachi Copyright2003-2008, All Rights Reserved.