مینو بہت خوب صورت تھا۔ اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ لیکن وہ کبھی اُس کے قریب نہیں آتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ عبدالحق گاﺅں میں ہوتا تو مینو ہر وقت اُس کے ساتھ ہی لگا رہتا تھا۔
”چلونا منجھلی دیدی۔“ رابعہ نے اُسے چونکا دیا۔
”مجھے نہیں لگتا کہ کچھ فائدہ ہو گا۔“
”کوشش تو کرو منجھلی دیدی۔ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ مینو کو کچھ ہو نہ جائے۔“
اُس لمحے نور بانو کو مینو پر ایسا پیار آیا کہ وہ خود بھی حیران ہو گئی۔ ”اللہ نہ کرے۔“ اُس نے جلدی سے کہا۔ ”انشااللہ کچھ نہیں ہو گا مینو کو۔ چلو آپا۔“
دونوں باہر نکل آئیں۔ ”مینو ہے کہاں؟“ نور بانو نے پوچھا۔
”اپنے شیڈ میں ہے۔“
”یہ غلطی ہوئی ہے نا۔ اسے کھول دینا چاہئے تھا۔ خود ہی کھا لیتا کہیں نہ کہیں۔“
”کھولا تھا منجھلی بی بی۔ کھایا تو اُس نے کچھ نہیں۔ پاگلوں کی طرح پورے گاﺅں میں، میں میں کرتا پھرا۔ صاف پتا چل رہا تھا کہ مالک کو ڈھونڈ رہا ہے۔ سچ منجھلی بی بی، مجھے تو رونا آنے لگا۔ تبھی تو شیڈ میں لاکر باندھا ہے اُسے۔“
نور بانو نے سوچا، واقعی یہ تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ یوں تو اسے کھولنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ کھولیں گے تو وہ ہر طرف عبدالحق کو ہی تلاش کرتا پھرے گا۔ مسئلہ کافی ٹیڑھا تھا۔
وہ دونوں شیڈ میں پہنچ گئیں۔ مینو سر جھکائے بیٹھا تھا۔ اُسے دیکھ کر نور بانو کو کچھ ہونے لگا۔ اس کا پیٹ بالکل پچک گیا تھا اور ابھی سے وہ بہت کمزور لگ رہا تھا۔
مینو نے ایک بار بڑی بے زاری سے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔ مگر فوراً ہی سر جھکا لیا۔ اُس نے منہ سے کوئی آواز نہیں نکالی۔
نور بانو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کر سکتی ہے۔ زبیر اور رابعہ تو شروع ہی سے مویشی پالنے والے تھے۔ اگر وہ مینو کو کچھ نہیں کھلا سکے تو وہ کیسے کھلا سکتی ہے۔ وہ سوچتی رہی۔ مگر اس مسئلے کا کوئی حل اُسے سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
”کچھ کرونا منجھلی بی بی۔“ رابعہ نے اسے ٹہوکا دیا۔
”سوچنے تو دو آپا۔“
نور بانو نے شیڈ کا جائزہ لیا۔ وہ صرف مینو کے لئے بنایا گیا تھا۔ اسے حیرت ہوئی کہ اتنے بڑے شیڈ میں صرف مینو بندھا ہے۔ لیکن پھر اسے اندازہ ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ شیڈ کا ایک اور مقصد بھی تھا۔ وہاں بھوسے اور کھل کی بوریاں بھی موجود تھیں۔ یعنی اسے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں چارہ کاٹنے کی مشین بھی لگی تھی۔ ایک طرف گھاس کا ڈھیر تھا۔ یہ سردی کا موسم تھا۔ اس لئے وہاں سوکھی گھاس تھی۔