Google
 

:: عشق کا شین4
”تم پر جو گزر رہی ہے مینو، میں اسے سمجھ سکتی ہوں۔ میں تم سے کم تکلیف میں نہیں ہوں۔ لیکن تم اظہار تو کر سکتے ہو۔ کھانا پینا چھوڑ کر بیٹھ گئے نا۔مجھے بتاﺅ، میں کیا کروں؟ میں تو کچھ بھی نہیں کر سکتی۔“ اُس کے لہجے میں شکایت بھی تھی اور بے بسی بھی۔ ”میں تو کسی سے کچھ کہہ ہی نہیں سکتی۔ اب تم ہی کہو، میرا دکھ بڑا ہے نا؟ مگر میں تمہاری دل جوئی کررہی ہوں۔ اور تم ہو کہ نخرے کئے جارہے ہو۔ حالانکہ تمہیں میری دل جوئی کرنی چاہئے۔“
مینو اب بھی سر اٹھا کر معصومیت سے اُسے دیکھے جارہا تھا۔
نور بانو نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ شیڈ میں کوئی نہیں تھا۔ رابعہ ابھی واپس نہیں آئی تھی۔ ”دیکھونا مینو، تم تو بہت خوش نصیب ہو۔ ہر وقت ان کے ساتھ لگے پھرتے ہو۔ تمہارے سب کام وہی کرتے ہیں۔ تمہارے لاڈ کرتے ہیں، ناز اٹھاتے ہیں۔ تمہاری سیری نہیں ہوتی؟“ اس نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا، جیسے سچ مچ جواب کی توقع کررہی ہو۔ ”اور ایک میں ہوں۔ کبھی چلتے پھرتے ان کی ایک جھلک دیکھ لی تو دیکھ لی۔ اب میں اس سے بھی گئی۔“
مینو نے ہلکی سی آواز نکالی، جیسے تائید کررہا ہو۔
وہ مینو کا پہلا مثبت ردِّعمل تھا۔ یعنی مانوس ہونے کا عمل شروع ہورہا تھا۔ لیکن نور بانو کو پتا نہیں چلا۔ برسوں میں پہلی بار وہ اندر کی بات کسی سے کہہ رہی تھی اور اسے ڈر بھی نہیں تھا۔
”بظاہر تو تمہاری محرومی بڑی ہے۔ کیونکہ میرے پاس تو کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ اور تمہارے پاس سب کچھ تھا۔“ وہ کہتی رہی۔ ”لیکن غور کیا جائے تو میری محرومی تم سے بہت بڑی ہے۔ یہ تو برسوں کی محرومی ہے۔ اور پھر تم تو اس کا اظہار بھی کرتے ہو۔ میں تو نہیں کر سکتی۔ اور تم تو کچھ بھی نہیں جانتے جبکہ میں جانتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ ان کی واپسی آسان نہیں۔ نجانے کتنا وقت لگے انہیں واپس آنے میں۔ اور کون جانے....“ اس نے گہری سرد آہ بھری۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ ”میں بس دعا ہی کر سکتی ہوں۔ اور اب تو مجھے تمہاری بھی فکر ہے۔ تمہیں کچھ ہو نہ جائے۔“
اس بار مینو کی میں میں زیادہ طویل تھی۔
”سنو مینو، تم کچھ کھاﺅ گے نہیں تو خدانخواستہ مر جاﺅ گے۔ اور ایسا ہو گیا تو یہ میر ے لئے ایک اور شرمندگی ہو گی۔“ اس نے سر جھکا کر مینو کی چھوٹی سی تھوتھنی پر اپنا رخسار رکھ دیا۔ ”مجھ پر مہربانی کرو مینو، کچھ کھالو۔ مجھے شرمندگی سے بچا لو۔“ آنسو اب اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔
اچانک مینو کی کھردری زبان اس کے رخسار کو چاٹنے لگی۔ اسے ناگواری نہیں ہوئی۔ بلکہ اچھا لگا۔ چند لمحے اسے احساس ہوا کہ مینو اس کے آنسو چاٹ رہا ہے۔
Updated on 15 May 08 at 09:27 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.