”مینو، میں تمہاری نسبت زیادہ محبت کرتی ہوں ان سے....‘
اسی لمحے باہر سے قدموں کی چاپ سنائی دی۔
”تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہوں۔“ نور بانو نے جلدی سے کہا۔ ”لیکن دیکھ لو۔ میں نے کھانا نہیں چھوڑا۔ یہ تو حماقت ہے۔ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو....“
رابعہ شیڈ میں داخل ہوئی۔ یہ منظر دیکھ کر وہ بولی۔ ”اوہو.... باتیں ہورہی ہیں مینو سے۔ لگتا ہے، دوستی ہو گئی۔“
نور بانو اب محتاط ہو گئی تھی۔ لیکن اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ ”تمہیں کھانا پڑے گا میری خاطر....“
مینو نے میں میں کر کے کچھ کہا۔
نور بانو وہاں سے ہٹی۔ اس نے دانے کے ڈھیر سے مٹھی بھردانہ اٹھایا۔ اور مینو کے سامنے دانے والا ہاتھ پھیلا دیا۔
مینو نے گہری سانس لی۔ وہ ایسا تھا، جیسے اس نے زور سے پھونک ماری ہو۔ سارا دانہ اڑ گیا۔ چند دانے نور بانو کی ہتھیلی پر رہ گئے۔
”چلو، دانے کو دل نہیں چاہتا تو نہ سہی۔ گھاس کھالو۔“ نور بانو نے اس کی طرف سوکھی گھاس بڑھائی۔ دوسرے ہاتھ سے وہ اس کی گردن سہلا رہی تھی۔ ”چلو جلدی سے کھالو ننھے بچے.... شاباش۔ ضد نہیں کرتے۔“
لیکن مینو نے منہ پھیر لیا۔ وہ گھاس کو منہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔
”اچھا چلو۔ میں تمہارے نخرے اٹھاتی ہوں۔ گھاس کاٹتی ہوں تمہارے لئے۔“
نور بانو نے چارہ کاٹنے کی مشین میں تھوڑی سی سوکھی گھاس کاٹی اور ہتھیلی پر رکھ کر مینو کی طرف بڑھا دی۔ ”لو.... اب تو کھالو۔ دیکھو میں نے یہ گھاس صرف تمہارے لئے کاٹی ہے۔“
مینو چند لمحے سر اٹھا کر اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے سر جھکایا اور بے دلی سے سہی، مگر کٹی ہوئی گھاس کھانے لگا۔ لیکن اس نے زیادہ نہیں کھایا۔ لگتا تھا کہ معصوم جانور زندہ رہنے کےلئے کھانا سیکھ رہا ہے۔
”آپ نے تو کمال کر دیا منجھلی بی بی۔“ رابعہ نے خوش ہو کر کہا۔
میرا نہیں، یہ محبت کا کمال ہے۔ نور بانو نے دل میں سوچا۔
٭٭٭
پناہ گزینوں کا کیمپ ایسا تھا کہ عبدالحق نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہاں اس نے وہ مناظر دیکھے، جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اور جو کچھ اس نے وہاں سنا اور جانا وہ اس سے بھی سوا تھا۔ اسے تو ایسا لگا کہ وہ زندگی کی تعلیم حاصل کرنے یہاں آیا ہے۔
وہ رحیم یار خان سے عرفان احمد کا تعارفی سفارشی خط اپنے ساتھ لایا تھا۔ کیمپ کے انچارج مسعود احمد خان عرفان احمد کے کلاس فیلو تھے اور دونوں میں بہت اچھی دوستی رہی تھی۔ ”مسعود تمہاری ہرممکن مدد کرے گا۔“ عرفان احمد نے کہا تھا۔