Google
 

:: 6 عشق کا شین
عبدالحق کیمپ پہنچ کر مسعود صاحب سے ملا اور انہیں عرفان احمد کا خط دیا۔ مسعود صاحب نے وہ خط پڑھا، سرسری انداز میں عبدالحق کو دیکھا اور بولے۔ ”اندر بلاﺅنا انہیں۔“
عبدالحق نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ ”کسے بلاﺅں جناب؟“
”ارے بھئی اسی کو، جس کے بارے میں عفی نے یہ خط لکھا ہے۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ پھر دوبارہ خط کا جائزہ لیا اور نام پڑھنے کے بعد بولے۔ ”عبدالحق صاحب کو۔“
”عبدالحق میرا ہی نام ہے جناب۔“
مسعود صاحب نے اسے یوں دیکھا، جیسے وہ کوئی عجوبہ ہو۔ ”جس عبدالحق کے بارے میں عفی نے خط میں لکھا ہے، وہ تم ہو!‘
”جی جناب۔“
مسعود صاحب چند لمحے خاموش رہ کر کچھ سوچتے رہے۔ ”عفی کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“ انہوں نے پرتشویش لہجے میں پوچھا۔
”اگر آپ محکمہ زراعت کے سیکشن آفیسر عرفان احمد صاحب کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو الحمدللہ وہ خیریت سے ہیں۔“
مسعود صاحب ہنسنے لگے۔ ”میں اسی کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ ہم اسے پیار سے عفی کہتے تھے اور وہ مجھے مچھو کہتا تھا۔“ وہ ہنستے ہنستے اچانک سنجیدہ ہو گئے۔ ”وہ اپنی ڈیوٹی تو کررہا ہے نا؟“ انہوں نے پوچھا۔
”جی باقاعدگی سے۔ مگر آپ اتنے پریشان کیوں ہورہے ہیں ان کےلئے؟“
”تمہاری وجہ سے پریشان ہورہا ہوں برخوردار۔ اچھا یہ بتاﺅ، تمہاری عمر کیا ہے؟“
”جی .... میں 22 سال کا ہوں۔“ خلاف عادت عبدالحق نے عمر بڑھا کر بتائی۔
”لگتی تو نہیں اتنی۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”مگر خیر، عفی نے خط میں جو کچھ لکھا ہے، اس کے مطابق تو تمہیں بہت بڑا ہونا چاہئے۔ اتنی سی عمر میں کوئی اتنا کچھ کیسے کر سکتا ہے۔“
عبدالحق شرمندہ ہو گیا۔ ”مجھے نہیں معلوم کہ عرفان صاحب نے محبت میں میرے بارے میں کیا کچھ لکھ دیا ہے۔ لیکن....“
”میں عفی کو بچپن سے جانتا ہوں۔ وہ بلاوجہ کسی کی تعریف نہیں کرتا۔ ارے.... میں نے تمہیں بیٹھنے کو بھی نہیں کہا۔ بیٹھونا۔“
عبدالحق نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں بیٹھنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔ پہلی بار اس نے کمرے کا جائزہ لیا۔ اسے دیکھ کر اسے اپنے مینو کا شیڈ یاد آگیا۔ جس میز کے پیچھے مسعود صاحب بیٹھے تھے، اس کا بھی ایک پایا ندارد تھا۔ پائے کی کمی پوری کرنے کے لئے میز کے نیچے اوپر تلے چند اینٹیں رکھ دی گئی تھیں۔ کمرے میں موجود واحد کرسی پر مسعود صاحب بیٹھے تھے۔ ان کے دائیں بائیں سبزی اور فروٹ کی متعدد پیٹیاں اور ٹوکرے رکھے تھے۔ ان میں سے کچھ تو بھرے ہوئے لگ رہے تھے۔ بلکہ ٹٹولے بغیر تو یہ کہنا بھی مشکل تھا کہ ان میں سے کون سا خالی ہے۔
’جی.... میں یہیں ٹھیک ہوں۔“ اس نے گڑبڑا کر کہا۔
”ارے نہیں بھئی، یہاں تکلف کی کوئی گنجائش نہیں۔“ مسعود صاحب اس کی کیفیت بھانپ کر مسکراتے ہوئے بولے۔ ”یہاں خال پیٹیاں رکھی ہیں۔ یہ لے لو بیٹھنے کےلئے۔“ انہوں نے اپنے بائیں جانب اشارہ کیا۔
عبدالحق اس طرف بڑھا۔ تب اس کی نظر مسعود صاحب کی کرسی پر پڑی۔ وہ ان کی میز سے بھی آگے کی چیز تھی۔ وہ دو پایوں سے محروم تھی اور اینٹوں پر ٹکی ہوئی تھی۔ عبدالحق پیٹی اٹھا کر لایا اور میز کے سامنے رکھی۔
”اس سے کام نہیں چلے گا میاں۔ میں تم سے غائبانہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔“ مسعود صاحب نے کہا۔
عبدالحق کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے انہیں تکتا رہا۔
”نہیں سمجھے۔ چلو بیٹھ کر دیکھو۔ سمجھ جاﺅ گے۔“
وہ پیٹی پر بیٹھا اور بات فوراً ہی اس کی سمجھ میں آگئی۔ پیٹی پر بیٹھ کر نہ تو وہ مسعود صاحب کو دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی وہ انہیں نظر آسکتا تھا۔ غائبانہ گفتگو کے تصور پر وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔
وہ ایک اور پیٹی اٹھا لایا۔ دو پیٹیاں اوپر تلے رکھ کر وہ بیٹھ گیا۔
”ہاں بھئی عبدالحق میاں، اب ہو گی بات۔ یہ تو میں سمجھ گیا ہوں کہ تم بھی کسی کی تلاش میں آئے ہو۔“
عبدالحق نے تمام کوائف بیان کر دیئے۔
”یہ کام تو مشکل معلوم ہوتا ہے۔“ مسعود صاحب نے تفصیل سن کر کہا۔ ”وہ لوگ پاکستان بننے سے ایک ماہ پہلے ہی یہاں آگئے۔ اس وقت تو یہاں کوئی کیمپ تھا نہیں۔ اور جو لوگ پہلے آئے، عام طور پر یہاں ان کی پہلے سے کوئی سیٹنگ تھی۔ کوئی دوست، کوئی رشتے دار، جس نے انہیں یہاں بلایا۔ ان کےلئے کچھ بندوبست کیا۔ اب ایسے لوگوں کا کیمپ سے تو پتا چلنا میرے خیال میں ممکن نہیں۔“
عبدالحق مایوس نظر آنے لگا۔ مسعود صاحب کی بات معقول تھی۔
”مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔“ مسعود صاحب نے جلدی سے کہا۔ ”یہ وقت ہی معجزوں کا ہے۔ میں نے تو یہاں ایسے ایسے لوگوں کو ملتے دیکھا ہے کہ جو ایک دوسرے کو رو بیٹھے تھے۔ تم فکر نہ کرو۔ انشااللہ وہ لوگ تمہیں مل جائیں گے۔“
اسی وقت ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں آیا۔ اس نے ایک کاغذ کا ٹکڑا مسعود صاحب کے سامنے رکھ دیا۔ مسعود صاحب نے غور سے اس کا جائزہ لیا اور پھر اس پر دستخط کر دیئے۔ ”لو بھئی جمیل میاں۔ اب سامان نکال دو۔“ انہوں نے کاغذ کا ٹکڑا میز کی دراز میں رکھ لیا۔
جمیل باہر چلا گیا۔ چند منٹ بعد اس کے ساتھ تین آدمی آئے، جو حلئے سے مزدور لگتے تھے۔ وہ چاروں مسعود صاحب کی میز کے پیچھے گئے۔ وہاں عقبی دیوار میں ایک دروازہ تھا۔ انہوں نے دروازہ کھولا اور اندر چلے گئے۔
”میں معذرت چاہتا ہوں۔ بس ایک منٹ میں آیا۔“ مسعود صاحب بھی اٹھ کر اندر چلے گئے۔ عبدالحق اپنی جگہ بیٹھا رہا۔
تب پتا چلا کہ وہ عقبی کمرا اجناس کا گودام تھا۔ اس وقت کیمپ میں دوپہر کے کھانے کا سامان ہورہا تھا ایک مزدور آٹے کی ایک بڑی بوری لے کر نکلا۔ دوسرے دو مزدوروں نے بھی سامان اٹھایا ہوا تھا۔ اور جمیل کے ہاتھوں میں دو کنستر تھے۔
وہ لوگ چلے گئے اور مسعود صاحب اپنی کرسی پر آبیٹھے۔ ”ہاں بھئی عبدالحق، کیا کہہ رہے تھے ہم؟“
”آپ کہہ رہے تھے کہ رضوان صاحب کو تلاش کرنا آسان نہیں۔ لیکن انشااللہ وہ مل جائیں گے۔“
”ہاں۔ میں احتیاطاً ریکارڈز میں ان کی فیملی کو چیک کروں گا اور میں تمہیں افضال صاحب سے ملواﺅں گا۔ ان سے بڑھ کر کوئی تمہاری مدد نہیں کر سکتا۔“
”یہ افضال صاحب کوئی افسر ہیں؟“
مسعود صاحب ہنسنے لگے۔ ”افسر سے بھی بڑے ہیں وہ۔ وہ اس کیمپ کے سب سے سینئر اور مستقل باسی ہیں۔“
”میں اب بھی نہیں سمجھا۔“
”جیسے اسکولوں میں کوئی کیریکٹر ہوتا ہے نا۔ وہ لڑکا جو کئی برس سے ایک کلاس میں فیل ہوتا آرہا ہو۔ یہ افضال صاحب بھی ویسا ہی کیریکٹر ہیں۔ اس کیمپ کو، اس کی تاریخ اور جغرافیے کو، یہاں رہنے والوں کو، یہاں سے رخصت ہو جانے والوں کو افضال صاحب سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ مگر تم اس وقت ان سے نہیں مل سکو گے۔ وہ شام کو گھر واپس آتے ہیں۔“
”گھر؟“
”ہاں۔ کیمپ ان کا گھر ہی تو ہے۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”اچھا چلو، میں تمہیں اسٹاف سے ملوا دوں۔ پھر میں ریکارڈز میں تمہارے رضوان صاحب کو چیک کروں گا۔“ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
٭٭٭
کیمپ اپنی جگہ ایک بڑی دنیا تھی۔ ایسی دنیا جس کا رقبہ تو بہت زیادہ نہیں تھا، لیکن آبادی بہت زیادہ تھی۔ اور اس دنیا میں ہر طرف کہانیاں ہی کہانیاں بکھری ہوئی تھیں۔
کیمپ کے پناہ گزینوں کو جس زاویے سے بھی دیکھا جاتا، کئی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ البتہ ایک قدر ان میں مشترک تھی۔ وہ سب پاکستان کی محبت میں مبتلا تھے اور پاکستان کےلئے اپنے پرکھوں کی زمین چھوڑ آئے تھے۔
Updated on 15 May 08 at 10:15 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.