Google
 

:: 7 عشق کا شین
عبدالحق پہلے تو اسٹاف سے ملا۔ ان میں جمیل تھا.... مسعود صاحب کا اسسٹنٹ۔ پھر باورچی شمشاد تھا اور اس کے بے شمار معاونین تھے۔ ڈسپنسری تھی۔ وہاں ڈاکٹر اور دیگر اسٹاف تھا۔
بنیادی طور پر کیمپ خیموں کی چھوٹی سی بستی تھی۔ کیمپ میں داخل ہوتے ہی خیمے ہی خیمے نظر آتے تھے۔ لیکن صاف پتا چلتا تھا کہ کیمپ قائم کرنے والوں کا اندازہ بری طرح پٹ گیا ہے۔ پناہ گزینوں کی تعداد ان کے اندازے اور توقع سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیمپ کو جس حد تک بھی بڑھایا جا سکتا تھا، بڑھا دیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ خیموں کے آگے کیمپ کے کئی رنگ تھے۔ کہیں چٹائیوں کی جھونپڑی تھی تو کہیں چادروں کی مدد سے چار دیواری بنالی گئی تھی اور چھت بھی چادر ہی کی ڈال لی گئی تھی۔ درمیان میں ایسے لوگ بھی تھے، جو محض ایک دری بچھائے بیٹھے تھے۔ وہ اکیلے مرد تھے، جن کے ساتھ عورتیں نہیں تھیں۔ لہٰذا انہیں نہ چھت کی ضرورت تھی نہ دیواروں کی۔
مجموعی طور پر وہ کیمپ ایک بہت بڑا گھر تھا اور وہاں رہنے والا ایک بہت بڑا کنبہ۔ ایسا کنبہ جس میں بھانت بھانت کے لوگ تھے۔
عبدالحق ایسا مسحور ہوا کہ کچھ دیر کے لئے تو یہ بھی بھول گیا کہ وہ وہاں کیوں آیا ہے۔ یہ تو اسے وہاں کچھ عرصہ گزارنے پر پتا چلا کہ اس کیمپ کو دیکھ کر وہ پاکستان کو سمجھ سکتا ہے۔
وہ دوبارہ مسعود صاحب کے پاس پہنچا تو مسعود صاحب اسے اپنے کمرے کے برابر ایک بڑے خیمے میں لے گئے۔ وہ کیمپ کا ریکارڈ آفس تھا۔ وہاں پھلوں کی خالی پیٹیاں ہی میز کے طور پر استعمال ہورہی تھیں اور وہی کرسی بھی تھیں۔ ”یہ ہے ہمارا ریکارڈ آفس۔“
عبدالحق کو ریکارڈ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ وہ ایسے کاغذوں پر مشتمل تھا، جو تقسیم سے پہلے ایک طرف سے استعمال کر لئے گئے تھے۔ یہاں ان کے پیچھے کا حصہ استعمال کیا گیا تھا۔ کیمپ میں جو بھی کبھی آیا تھا، خواہ چند گھنٹوں کے لئے آیا ہو، اس کے کوائف وہاں درج تھے۔ اس کا نام، کہاں سے آیا، ساتھ میں کون کون ہے، عمر کتنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر اگر وہ رخصت ہوا تو اس کی تفصیل بھی تھی۔ کس تاریخ کو گیا، کہاں گیا، نیا پتا کیا ہے۔ کیا کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
عبدالحق بہت متاثر ہوا۔ ”یہ تو بہت بڑا کام کیا ہے آپ لوگوں نے۔“ اس نے ہیڈ کلرک اخلاق سے کہا۔
اخلاق ایسا سنجیدہ طبع جوان تھا، جس کی آنکھوں سے گہری اداسی جھانکتی نظر آتی تھی۔ ”بڑا کام تو نہیں کہا جا سکتا اسے۔“ اس نے عاجزی سے کہا۔ ”ہاں.... ایک مخلصانہ کوشش کہہ لو۔“
”کیا مطلب؟“
”میں چاہتا تھا کہ یہ ریکارڈ ہر اعتبار سے مکمل ہو۔“
”مجھے تو یہ مکمل ہی لگتا ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔

عبدالحق کی نظر حمید پر پڑی۔ اسے محسوس ہوا کہ حمید کی نگاہوں میں تنبیہہ ہے، جیسے وہ اسے اس موضوع پر گفتگو سے منع کررہا ہو۔ وہ خاموش ہوگیا ویسے بھی اس گفتگو نے اس کے ذہن میں کئی سوالوں کو جنم دیا تھا، جن پر اسے سوچنا تھا۔
سب سونے کے لئے لیٹ گئے اور سو بھی گئے۔ مگر عبدالحق دیر تک جاگتا رہا اور ان سوالات پر سوچتا رہا۔ بڑے افسروں کو جمیل سے کیا غرض ہوسکتی ہے؟ کیا دے سکتا ہے وہ انہیں؟ بڑے افسروں کو کھانے کی ضرورت تو نہیں ہوسکتی۔ مگر اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ شاید حمید اس سوال کا جواب دے سکے۔ تبھی تو اس نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔
پھر وہ ان گروہ بندیوں پر غور کرنے لگا، جو اسے وہاں نظر آتی تھیں۔ نذیر، مجید اور نعمان ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ لیکن جمیل کے مسئلے پر ان کا رد عمل مختلف تھا۔ مجید جمیل کا حامی معلوم ہوتا تھا اور نعمان مخالف۔ جبکہ نذیر غیر جانب دار تھا۔ یہاں بھی غرض کی .... ضرورتوں کی کار فرمائی ہوگی مگر یہاں وہ سمجھ سکتا تھا۔ ہاں .... یہاں تو غرض موجود تھی۔
وہ پھر سوچنے لگا کہ جمیل جیسے عام آدمی سے بہت بڑے افسروں کو کیا ضرورت ہوسکتی ہے۔ اس کے مشاہدے کے مطابق جمیل کی اہلیت بس اتنی تھی کہ وہ کسی بھوکے کو کھانا کھلا سکتا تھا۔ لیکن بڑے سرکاری افسروں کو یہ حاجت تو نہیں ہوسکتی۔
یہ سب کچھ سوچتے سوچتے نجانے کب کس کی آنکھ لگ گئی۔
حمیدہ عبدالحق کے لئے بہت پریشان، بہت فکر مند تھی۔ عبدالحق سے وہ اس کے زمانہ_¿ شیر خواری سے واقف تھی۔ نور بانو نے اسے بتایا تھا کہ وہ کیا کہہ کر گیا ہے.... یہ کہ وہ اس کا کام کرکے ہی آئے گا۔ اور کام نا ممکن تھا۔ ایک ایسے شخص کو انسانوں کے جنگل میں تلاش کرنا، جسے آپ نے دیکھا بھی نہ ہو، جسے آپ صرف نام سے جانتے ہوں، نا ممکن ہی کہلائے گا۔ ارے بڑے شہر میں تو ایک نام کے دسیوں آدمی ہوسکتے ہیں۔ اور پھر سوال یہ تھا کہ وہ انہیں ڈھونڈے گا کہاں۔ کوئی پتا، کوئی نشان، کوئی سراغ نہیں اس کے پاس۔ تو کیا نور بانو کا خدشہ درست ہے اس ضدی لڑکے کو نور بانو کا چچا نہیں ملے گا .... اور وہ اپنے عہد کے مطابق یہ کام کئے بغیر واپس نہیں آئے گا۔ یہ تو وہ جانتی تھی کہ عبدالحق وعدے کا پکا ہے۔
مگر حمیدہ زیادہ دیر مایوس رہنے والی بہن تھی۔ اس نے زندگی ہی ایسی گزاری تھی۔ اتنا کچھ دیکھ چکی تھی وہ کہ مایوسی سے اس کا تعلق زیادہ دیر کا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے تو اللہ کی رحمت کے عقل کو عاجز کردینے والے مظاہرے دیکھے تھے۔ اللہ نے اس لال آندھی سے اس کو بچا لیا تھا، جس نے ارد گرد کے کئی گاﺅں نگل لئے تھے اور ان میں کوئی متنفس بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ اور وہ بچی بھی کیسے کہ آنکھوں سے محروم ہوگئی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ دنیا میں اکیلی ہے۔ تب اللہ کی رحمت نے اسے سہارا دیا، سر چھپانے کا ٹھکانہ فراہم کیا، کھانے کو کھجوریں اور پینے کو پانی عطا فرمایا .... اس رزاق نے جو پتھر میں بھی کیڑے کو رزق عطا کرتا ہے۔ وہ اگر ایسی بھیانک تنہائی میں زندہ رہی تو صرف اللہ کے فضل و کرم سے۔ اس نے کبھی انسانی آواز تو کجا، کسی جان دار کے قدموں کی چاپ بھی نہیں سنی، یہاں تک کہ چھوٹا ٹھاکر عبدالحق بن کر چلا آیا۔ وہ تو معجزہ تھا۔ ورنہ اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ اسے کبھی مل سکے گا۔ وہ تو اپنی دانست میں زندگی کے باقی دن پورے کررہی تھی۔ مگر اللہ نے اسے کتنا کچھ دے دیا۔ عبدالحق مل گیا، آنکھوں کی کھوئی ہوئی روشنی مل گئی اور وہ اب بھی زندہ ہے.... زندہ اور صحت مند!
حمیدہ کبھی اس پر غور کرتی تو سوچتی کہ اس نے تین زندگیاں گزاری ہیں۔ ایک زندگی تو جمال دین کی بیوی، وصال دین کی ماں اور اوتار سنگھ کی اماں کی حیثیت سے۔ دوسری وہ تنہا زندگی، جہاں نہ کوئی آدم تھا نہ آدم زاد اور جہاں دونوں کا شمار بھی ممکن نہیں تھا، اور تیسری یہ جو وہ اب گزار رہی ہے۔ پیچھے پلٹ کر دیکھتی تو وہ پہلی زندگی اسے اپنی نہیں لگتی تھی۔ وہ جمال دین کی بیوی اور وصال دین کی ماں حمیدہ کوئی اور عورت تھی، بس وہ اس کی زندگی کی عینی شاہد تھی۔ وہ، وہ نہیں تھی اور دوسری زندگی اب محض ایک ڈراﺅنا خواب لگتی تھی۔ جیسے خواب دیکھا اور آنکھ کھل گئی۔ ہاں اب جو وہ زندگی گزار رہی تھی، وہ حقیقی لگتی تھی۔
تو حمیدہ نے خود کو جھڑکا اور مایوسی اور پریشانی کو ذہن سے جھٹک دیا۔ وہ رب جس نے عبدالحق کو اس تک پہنچا دیا، وہ انشا اللہ عبدالحق کو نور بانو کے چچا تک پہنچا دے گا۔ پھر عبدالحق سرخ رو واپس آئے گا۔
مگر اس خیال سے حمیدہ کو گبھراہٹ ہونے لگی۔ اگر نور بانو کے چچا مل گئے تو نور بانو ان کے پاس چلی جائے گی۔ اس کے بعد ضروری نہیں کہ وہ ان سے عبدالحق کے لئے نور بانو کا رشتہ مانگیں اور وہ ہاں کردیں۔ کیا پتا، ان کا اپنا کوئی بیٹا ہو اور وہ اس سے نور بانو کی شادی کرنا چاہیں۔ اس صورت میں عبدالحق تو رہ جائے گا۔
لیکن اس نے فوراً ہی لاحول پڑھی اور اس خیال کو بھی ذہن سے جھٹک دیا۔ آدمی اندیشے پالنا شروع کردے تو ان کی کوئی حد ہی نہیں ہوتی۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ آدمی کر ہی کیا سکتا ہے۔ اس نے سوچا کہ اللہ کا اتنا فضل وکرم دیکھنے کے بعد اس کے خوف کا یہ حال ہے۔ یہ تو اللہ کو ناراض کرنے والی بات ہے۔ اس طرح سے سوچے گی تو وہ تو دعا بھی نہیں کرسکے گی۔ اگر نور بانو کے چچا کے مل جانے کی دعا کرتی ہے تو نور بانو کے ہاتھ سے نکلنے کا ڈر ہے۔ اور اگر ان کے نہ ملنے کی دعا کرتی ہے تو وعدے کا سچا عبدالحق واپس ہی نہیں آئے گا۔ یہ تو بند گلی ہے۔
اس نے دل میں اللہ سے توبہ کی۔ جن لوگوں کو اللہ کی طرف سے معجزے جیسی عطا نصیب ہو، ان کا تو ایمان پختہ ہونا چاہئے۔ انہیں تو کبھی کسی خوف اور اندیشے کا شکار ہونا ہی نہیں چاہئے۔
اس نے اللہ سے دعا کی کہ ایسا کچھ کردیں، جس میں سب کےلئے بہتری ہو۔
پھر اس نے کچھ اچھا، کچھ ایسا سوچنے کی کوشش کی، جو مایوسی اور خوف سے پاک ہو، اور جس میں دل خوش ہو۔ اور ایسا سوچنے کے لئے اس کے پاس عبدالحق اور نور بانو کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
کبھی وہ اپنے بیٹے وصال دین کے بارے میں سوچنے کی کوشش کرتی تو وہ اسے بھولی بسری بات لگتی۔ بلکہ کبھی تو اسے لگتا کہ وہ کسی اور حمیدہ کا بیٹا تھا،اس کا اپنا نہیں۔ ایسے میں ایک لمحے کے لئے اسے احساس جرم ہوتا .... ارے ، وہ کیسی ماں ہے کہ اپنے بیٹے کو ایسے بھول گئی ہے کہ اب اس کی صورت اسے یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آتی۔ مگر فوراً ہی اسے لال آندھی کا سماں یاد آجاتا۔ اس کی خوف ناکی کا یہ حال تھا کہ اس کا تصور کرنے پر بھی اس کے جسم میں تھرتھری دوڑنے لگتی۔
وہ دن اسے اچھی طرح یاد تھا۔ وہ اسے کبھی بھول ہی نہیں سکتی تھی۔ اس دن ٹھاکر جی نے گاﺅ ںکے تمام لوگوں کو طلب کیا تھا، جو ایک غیر معمولی بات تھی۔ جمال دین اور وصال دین بھی گئے تھے۔ تب اس نے ان دونوں کو آخری بار دیکھا تھا۔ پھر وہ پلٹ کر نہیں آئے۔ وہ اپنے دروازے پر کھڑی رہی۔ پھر اچانک گاﺅں میں بھگدڑ مچ گئی۔ لوگوں نے اپنے گھروں پر سفید جھنڈے لہرا دیئے۔ لیکن ساتھ ہی وہ گھر چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ سب لوگ گاﺅں سے باہر جارہے تھے۔
حمیدہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے گاﺅں کی عورتوں کو روک کر ان سے پوچھنے کی کوشش کی۔ لیکن پوری بات کسی نے بھی نہیں بتائی۔ وجہ یہ تھی کہ کوئی رک کر بات کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ دوسری بات یہ کہ بیشتر کا رویہ اس کے ساتھ معاندانہ تھا۔ گزرتی ہوئی عورتوں سے ایک ایک جملے کی معلومات حاصل ہوسکیں۔
”ہوا کیا ہے؟“ اس نے ایک عورت سے پوچھا۔
”کل جگ ہے کل جگ“ عورت نے جواب دیا۔
دوسری عورت نے کہا۔ ”جے پور والے حملہ کرنے آرہے ہیں۔“
”کیوں؟“ حمیدہ نے پوچھا تھا۔
مگر اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی وہ عورت آگے جاچکی تھی۔
پھر ایک اور عورت نے کہا۔ ”یہ سب کچھ اس اپرادھی چھوٹے ٹھاکر کی وجہ سے ہورہا ہے۔“
حمیدہ کو الجھن ہونے لگی۔ چھوٹا ٹھاکر تو دہلی میں ہے۔ اس نے ایسا کیا کردیا کہ جے پور والے ٹھاکروں کی گڑھی پر حملہ آور ہورہے ہیں۔
”دیکھ لینا، اب تو یہ گاﺅں مٹ کر رہے گا۔“ ایک عورت دوسری عورت سے کہتے ہوئے گزری۔
ایک گھنٹے میں اس نے دیکھ لیا کہ گاﺅں پوری طرح خالی ہو گیا ہے۔ عورتوں اور بچوں میں سے تو کوئی بھی نہیں رہا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ مردوں کی بھاری اکثریت بھی گاﺅں خالی کرگئی تھی۔ حمیدہ کا اندازہ تھا کہ بہت تھوڑے مرد گاﺅں میں رہ گئے ہیں۔
حمیدہ کو الجھن بھی تھی اور پریشانی بھی۔ ٹھاکر اتنا اچھا انسان تھا کہ گاﺅں کے تمام لوگ اس سے محبت کرتے تھے، پوجا کرتے تھے اس کی تو چھوٹے ٹھاکر نے ایسا کیا کردیا کہ وہ بڑے ٹھاکر کو اکیلا چھوڑ کر جارہے ہیں۔ لیکن اس کے سوال کا جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔
شام ہوگئی۔ حمیدہ وہیں کھڑی رہی۔ جمال دین اور وصال دین میں سے کوئی واپس نہیں آیا۔ پھر گاﺅں کی طرف سے ایسی دھول اٹھی کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ساتھ ہی نعرے بھی سنائی دینے لگے۔ لگتا تھا کہ حملہ ہوگیا ہے۔ حمیدہ اس طرف جانا چاہتی تھی۔ لیکن ایک خیال اسے روک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ چھوٹے ٹھاکر کو واپس آنا تھا۔ لیکن ابھی وہ واپس نہیں آیا ہے۔ واپس آتا تو وہ سب سے پہلے اسے ملنے آتا تھا۔ اور اسے یہ خیال تھا کہ یہ سب کچھ چھوٹے ٹھاکر کی وجہ سے ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ چھوٹے ٹھاکر کی جان کو خطرہ ہے۔ کاش، وہ اس راستے سے آئے تو وہ اسے گاﺅں جانے ہی نہیں دے گی۔ وہ اسے یہیں سے بھگا دے گی۔ مگر اس کےلئے کچھ کرنا بھی چاہئے۔
سورج غروب ہوا تو اس نے نماز پڑھی اور سب کے لئے ”خاص طور پر چھوٹے ٹھاکر کے لئے دعا کی۔ اس سے فارغ ہوئی تو وہ ٹھاکر جی کی امانتوں کی طرف متوجہ ہوئی۔ اس میں زر و جواہر اور نقد رقم کے علاوہ زمینوں کے کاغذات بھی تھے۔ اسے خیال تھا کہ یہاں گاﺅں میں بہت کچھ ختم ہونے والا ہے .... بلکہ شاید سب کچھ۔ تب چھوٹے ٹھاکر کو شہر میں زندگی گزارنی ہوگی۔ اسے یہاں سے خالی ہاتھ نہیں جانا چاہئے۔ اس نے خاصے زیورات اور رقم ایک طرف کرکے اس کو ایک پوٹلی میں باندھ دیا۔ اور باقی رقم اور زیورات اور زمین کے کاغذات کی ایک اور پوٹلی بنا دی۔ پھر وہ دوبارہ دروازے پر آکھڑی ہوئی۔
گاﺅں کی طرف سے چیخ پکار اور فائرنگ کی آوازوں میں شدت آگئی تھی۔ حمیدہ کا دل چاہتا تھا کہ وہاں جائے۔ مگر وہ جانتی تھی کہ چھوٹے ٹھاکر کےلئے اس کی ذمہ داری زیادہ اہم ہے۔ کبھی کبھی اسے یہ خیال ستاتا کہ کہیں چھوٹا ٹھاکر حویلی ہی میں نہ ہو۔ لیکن مطمئن دل ہر بار تردید کردیتا تھا۔ اور وہ جانتی تھی کہ اس کا دل سچا ہے۔
صبح کی نماز پڑھ کر اس نے پھر دعا کی۔ اس بار وہ باہر آئی تو گاﺅں میں سکوت تھا۔ کہیں کوئی آواز نہیں تھی۔ سورج طلوع ہوا تو پوٹلی کو گھر میں رکھ کر وہ گاﺅں کی طرف چل دی۔ راستے میں جگہ جگہ لاشیں پڑی تھیں۔ حویلی کے پھاٹک کے باہر لاشوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہیں اسے جمال دین کی لاش نظر آگئی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر چند لمحے وہ اس کے چہرے کو دیکھتی رہی، جس پر ابدی سکون تھا۔ ”رب راکھا۔ اللہ تمہیں اپنے بہت قریب جگہ عطا فرمائے۔ اس نے زیر لب کہا اور آگے بڑھ گئی
Updated on 15 May 08 at 10:16 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.