Google
 

:: 8 عشق کا شین
پھاٹک سے گزر کر وہ احاطہ میں داخل ہوئی۔ احاطہ لاشوں سے اس طرح پٹا ہوا تھا کہ آگے بڑھنا ممکن نہیں تھا۔ اس کا دل گھبرانے لگا۔ اتنے خون، اتنی لاشیں اس نے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ لیکن کچھ فاصلے پر اس کی نظر ایک جانی پہچانی قمیض پر پڑی۔ وہ گرتی پڑتی اس کی طرف بڑھی۔ وہ وصال دین تھا۔ اس کے سینے میں بہت بڑا گھاﺅ تھا۔ خون جم کر سیاہ ہوچکا تھا۔ لیکن چہرے پر نور اور سکون تھا۔ حمیدہ نے اس کا سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھ لیا، پھر جھک کر اس کی پیشانی چوم لی۔ ”اللہ تمہیں قبول فرمائے پتر۔“ وہ اٹھی اور پلٹ کر دیکھے بغیر پھاٹک کی طرف چل دی۔ اور آگے جانے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔ ویسے بھی وہاں لاشوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
وہ واپس اپنے دروازے پر آکھڑی ہوئی۔ لیکن اب اس کا یقین متزلزل ہوچکا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی، کون جانے چھوٹا ٹھاکر بھی ....؟ اب اپنے دل کی بات پر بھی اسے یقین نہیں رہا تھا۔ وہ تو بس ایک موہوم آس کی ڈور تھامے کھڑی تھی۔
پھر ایک دم ہوا جیسے بند ہوگئی اور فضا پر ایک گہرا، غیر فطری سا سکوت طاری ہوگیا۔ سکوت تو پہلے بھی تھا۔ لیکن یہ سکوت تو ایسا تھا کہ اسے اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ اس نے سراٹھا کر آسمان کو دیکھا، جو گہرا سرخ ہورہا تھا۔ لال آندھی ! اس کے اندر سے کوئی سہمی ہوئی آواز ابھری۔ اب سب کچھ ختم ہوجائے گا کچھ بھی نہیں بچے گا!
مگر وہ چھوٹے ٹھاکر کا انتظار کرنے پر مجبور تھی۔ وہ پوٹلی ہاتھ میں لئے دروازے پر کھڑی رہی۔ وہ انتظار امید سے ایسا محروم تھا کہ جب اس نے چھوٹے ٹھاکر کو آتے دیکھا تو لگا کہ وہ اس کا فریب نظر ہے۔
مگر جب وہ آکر اسے سے لپٹا تو ثابت ہوگیا کہ وہ حقیقت ہے۔
”لیکن مغلوں کو باغوں سے بڑی محبت تھی، اور ان کا ذوق بھی بہت اعلیٰ تھا۔ یہ باغ مغلوں کی روایت سے ہٹ کر ہے۔ اس میں انگریزوں کا مزاج جھلکتا ہے“ افضال صاحب کسی محقق کی طرح بول رہے تھے۔
” وہ کیسے ؟“
”میں نے اس باغ کو پوری طرح دیکھا ہے۔ اس میں گوشہ ہائے خلوت بڑی کثرت سے ہیں۔ شاید اسی لئے اسے بڑے رقبے پر بنایا گیا ہے“
عبدالحق نے باغ کو دیکھا نہیں تھا، اس لئے وہ اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا تھا۔ پھر اس کی ذہنی رو ان سوالات کی طرف مڑگئی، جو اس کے ذہن میں سرسرارہے تھے۔ اس نے افضال صاحب سے کہا۔ ”آپ برا نہ مانیں تو آپ سے ایک بات پوچھوں؟“
ایک لمحے میں افضال صاحب کا چہرہ بدل گیا۔ وہ وحشت زدہ نظر آنے لگے۔ ”ہندوستان سے یہاں آنے کے دوران جو گزری ہے، اس پر میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا۔“ انہوں نے درشت لہجے میں کہا۔
بات عبدالحق کی سمجھ میں آگئی۔ افضال صاحب اس سلسلے میں بس اتنا بتاتے تھے کہ سب شہید ہوگئے۔ انہوں نے یہ کبھی نہیں بتایا کہ ان کے ساتھ کون کون تھا، کتنے لوگ تھے۔ اور کس پر کیا گزری، یہ تفصیل بھی انہوں نے کبھی نہیں بتائی تھی۔ شاید وہ تفصیل ہی تھی، جس کی وجہ سے وہ نیند سے محروم ہوگئے تھے۔ اور شاید اس کی وجہ سے وہ کسی کو ڈھونڈتے پھرتے تھے۔ جبکہ خود ان کے بقول ان کا کوئی بچا ہی نہیں تھا۔
”میں اس سلسلے میں کچھ نہیں پوچھ رہا ہوں“ عبدالحق نے کہا۔
افضال صاحب کے چہرے کی وحشت دور ہوگئی اور اس کی جگہ نرمی نے لے لی۔ ”تو پوچھونا؟“
”آپ ہندوستان سے کچھ لے کر آئے تھے؟“
”صرف ایک بے قیمت، بے وقعت چیز بچاکر لاسکاتھا۔“ افضال صاحب نے کہا۔ ”اور وہ ہے یہ جسم۔ مگر تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو میاں؟“
”آپ کے پاس پیسے نہیں ہوتے....“
”یہ تم نے کیسے سمجھا؟“
”شربت پینے کو دل چاہ رہا تھا آپ کا۔ اور پتا نہیں، کب سے چاہ رہا ہوگا۔“
”تو پیسے تو تھے میرے پاس“
”ہاں، آج تو تھے۔“
”آج نہیں، ہر روز ہوتے ہیں“
”جب آپ ساتھ کچھ لائے نہیں تو پھر یہ پیسے کہاں سے آتے ہیں؟“
افضال صاحب کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ ”پہلے کبھی کسی نے پوچھا نہیں۔ میں نے بتایا بھی نہیں۔ تم نے پوچھا ہے تو بتادیتا ہوں“ وہ رازدارانہ انداز میں اس کے قریب ہوگئے اور سرگوشی میں بولے۔ ”ہر صبح بڑے صاحب مجھے ایک روپیہ دیتے ہیں۔ کبھی دوروپے بھی دے دیتے ہیں“ پھر اچانک ان کے لہجے میں بے نیازی آگئی۔ ”سچ تو یہ ہے کہ مجھے ضرورت بھی نہیں۔ لیکن میں لے لیتا ہوں“
”اس پر بھی ایک سوال ہے میرے ذہن میں۔ لیکن وہ میں بعد میں پوچھوں گا۔ پہلے یہ بتائیں کہ جب آپ کے پاس پیسے بھی ہوتے ہیں تو پھر آپ کھانے کیلئے پہلوان کے پاس ہی کیوں آتے ہیں۔ جبکہ آپ کو معلوم ہے کہ وہ پیسے نہیں لے گا۔“
افضال صاحب نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا اور دیر تک دیکھتے رہے۔ پھر سرہلاتے ہوئے بولے۔ ”میاں، میں تمہاری بات پوری طرح سمجھ گیا ہوں، تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں خوددار اور عزت والا نہیں ہوں....“
”یقین کریں، ایسی کوئی بات میں نے نہیں سوچی“ عبدالحق نے جلدی سے کہا۔ سچ تو یہ ہے کہ اسے صدمہ بھی ہوا تھا اور شرمندگی۔ صدمہ اس لئے کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا۔ اس نے خود دیکھا تھا کہ افضال صاحب نے اس روپے کا ایک ایک پیسہ بھکاریوں کو دے دیا تھا۔ اور شرمندگی اس لئے کہ جس انداز میں اس نے پوچھا تھا، اس کا یہی مطلب نکالا جاسکتا تھا۔
”میں نے برا نہیں مانا میاں۔ نجانے کیوں، تم مجھے اپنے بیٹے کی طرح لگتے ہو۔ اب میں تمہیں جو کچھ بتاﺅں گا، اس میں تمہارے ہر سوال کا جواب موجود ہے۔ غور سے سننا“وہ چند لمحوں کیلئے رکے، پھر ایک گہری سانس لے کر گویا ہوئے۔ ”ہندوستان میں بہت زمین تھی ہماری۔ بہت بڑی جاگیر تھی۔ بلامبالغہ بیسیوں مزارعے کام کرتے تھے ہماری زمین پر۔ اور ہم بڑے مغرور تھے میاں۔ اللہ کی دی ہوئی عزت، دولت اور حاکمیت پر جی بھر کر اکڑتے تھے۔ بہت برس پہلے جب میرا بیٹا چھوٹا تھا تو ایک مزارعے کے بیٹے نے کھیل کھیل میں اسے ماردیا۔ مجھے پتا چلا تو میں نے اس لڑکے کے کپڑے اترواکر، اسے درخت سے لٹکواکر اتنے بید لگوائے کہ اس کا جسم سوج گیا۔ ہفتوں اس کا ہلدی چونا ہوتا رہا۔ اور جس دوران اس بچے کی مرمت ہورہی تھی، اس کا باپ میرے پاﺅں پکڑے زاروقطار رورہا تھا۔ معافی مانگ رہا تھا۔ مگر میں ٹس سے مس نہ ہوا۔ آخر وہ ہماری عزت اور آن کا مسئلہ تھا۔ یہ بتانے کامقصدیہ ہے کہ ہم اپنے عہدکے فرعون تھے۔
”تو جب پاکستان بنا تو ہم پاکستان کیلئے روانہ ہوئے۔ میں نے کچھ بھی نہیں لیا تھا.... سوائے زمینوں کے کاغذات کے۔ مگر ہوا یہ کہ میں اکیلا ہی پاکستان پہنچا۔ میرے چاروں بیٹے میری آنکھوں کے سامنے قتل کردئے گئے۔ کچھ بھی نہیں بچا۔ میری دنیا اندھیر ہوگئی۔ میں زندہ تھا، مگر زندہ نہیں تھا۔
”پھر ایک دن اس کیمپ میں ایک شناسا سے ملاقات ہوگئی۔ جانتے ہو، وہ کون تھا؟ اس مزارعے کا بیٹا، جسے میں نے ننگا کرکے پٹوایا تھا۔ میرا بس چلتا تو اسے پہچاننے سے انکار کردیتا۔ مگر وہ تو میرے پاﺅں پکڑ کر بیٹھ گیا.... سرکار، آپ یہاں.... اس حال میں؟ قصہ مختصر اس نے بڑے صاحب کو میرے بارے میں بتادیا۔ بڑے صاحب نے مجھے بلوالیا۔ بس اس دن سے میں مجبور ہوگیا۔ ان سے وعدے کے مطابق ہرصبح میں ان کے پاس جاتا ہوں، اور وہ مجھے کبھی ایک اور کبھی دوروپے دے دیتے ہیں۔
”اب تم سوچو گے کہ میں مجبور کیسے ہوگیا۔ ایک تو بڑے صاحب نے مجھے میرے شہیدوں کی قسم دی تھی۔ مگر اندر کی وجہ اور تھی۔ میں شریف سے ملا تو مجھے احساس ہوا کہ میں کیسا آدمی تھا۔ میں نے اپنی حاکمیت کے زعم میں لڑکپن میں شریف کے ساتھ کیسا غیرانسانی سلوک کرایا تھا۔ اب وہی شریف مجھے کیمپ میں ملا تو میں اور وہ برابر تھے۔ بلکہ اسے مجھ پر فوقیت حاصل تھی۔ پناہ گزین اور مہاجر تو ہم دونوں ہی تھے۔ لیکن اب میں بوڑھا تھا اور وہ جوان۔ میں کمزور تھا اور وہ طاقت ور۔ وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا تھا۔ لیکن اس نے مجھے وہی پرانا والا مرتبہ اور مقام دیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ بحیثیت انسان وہ کتنا بلند ہے اور میں کتنا پست ہوں۔ میں نے سمجھ لیا کہ میں جس غرور میں مبتلا تھا، وہ بے جا تھا۔ میری آن جھوٹی تھی۔ مجھے اس کا حق نہیں تھا۔ کیونکہ وہ سب کچھ تو اللہ کا دیا ہوا تھا۔ اللہ نے واپس لے لیا تو سب کچھ ختم ہوگیا نا۔ گھربار، مال جائیداد، اولاد.... کچھ بھی تو نہیں رہا۔
”تو میں نے اپنی انا کو ذلیل کرنے کیلئے بڑے صاحب سے پیسے لینا گوارا کرلیا۔ گوکہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر میں خود کو اپنی اوقات یاددلانا چاہتا تھا اور پچھلے غرور کی سزا دینا چاہتا تھا۔
”پھر ایک دن پہلوان سے واسطہ پڑگیا۔ اس کا رویہ تو تم نے بھی دیکھ لیا ہے۔ اس کے سچے خلوص کے سامنے مزاحمت ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود خودداری کا تقاضا تھا کہ آئندہ میں وہاں کھانا ہی نہیں کھاﺅں۔ لیکن اس نے بھی مجھے میرے شہیدوں کی قسم دے دی۔ پھر بھی میں اس کے پاس آتا ہوں تو خالی ہاتھ نہیں آتا، اور ہربار پیسے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسی لئے تو آج فقیروں کو تمام پیسے دینے سے پہلے میں نے تم سے پوچھ لیا تھا کہ تمہارے پاس پیسے ہیں نا۔ بس یہ ہے ساری بات۔“
عبدالحق کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ کیسے کیسے لوگ ہیں اس دنیا میں۔ اسے اَن دیکھے شریف پر بہت پیار آیا۔ ویسے انسانوں کی اس قسم سے تو وہ پہلے ہی خوب واقف تھا۔ اسے اس وقت زبیر بڑی شدت سے یاد آیا۔ اور زبیر کے ساتھ دوسرے تمام لوگ.... اور نوربانو بھی۔ اس نے جلدی سے اپنی سوچ کا رخ بدلا۔
افضال صاحب کا معاملہ وہ پوری طرح سمجھ گیا تھا، اور ان کے بارے میں اپنی بدگمانی پر شرمندہ تھا۔ وہ خود کو سزا دے رہے تھے۔ حالانکہ اب اس کی ضرورت نہیں تھی۔ تلافی تو وہ کرچکے تھے۔
”آپ بے کار کے احساس جرم میں مبتلا ہیں“ اس نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔ ”آپ اپنی دولت، جائیداد، گھربار اور اپنی حاکمیت چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں چلے آئے۔ اور اس کوشش میں آپ کے تمام لوگ شہید ہوگئے۔ اللہ قبول کرنے والا ہے....“
”تم کچھ بھی نہیں جانتے میاں عبدالحق، کچھ جان بھی نہیں سکتے۔“ افضال صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”کوئی انسان کبھی نہیں سمجھ سکتا کہ کس کی گٹھڑی میں گناہوں کا کتنا بوجھ ہے، صرف اللہ جانتا ہے یا پھر کسی حد تک خود وہ آدمی“
عبدالحق نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ لیکن بولا کچھ نہیں۔
”نجانے کیوں، تمہیں اتنا کچھ بتادیا، جو میں کسی کو بھی نہیں بتانا چاہتا۔ سب کچھ تو تمہیں بھی نہیں بتاسکتا۔ میاں، میں بہت گھٹیا، بہت برا آدمی ہوں۔ دل میں ہر وقت توبہ کرتا رہتا ہوں۔ مگر میرا دل کہتا ہے، صرف توبہ سے کچھ نہیں ہوگا۔ تلافی بہت ضروری ہے۔ سو میں ہروقت تلافی کے موقع کی تلاش میں پھرتا ہوں۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ کبھی کامیاب ہوسکوں گا۔ اور میاں، اگر تلافی کی شدید آرزو نہ ہوتی تو شاید میں خودکشی کرلیتا۔ خود سے اتنی شدید نفرت ہے مجھے“
”لیکن کیوں؟“
”اب میں تمہیں سب کچھ تو نہیں بتاسکتا“ افضال صاحب نے بے بسی سے کہا۔ ”میں بہت خودغرض، موقع پرست اور خودپسند آدمی ہوں۔ سنو میاں، مجھے پاکستان سے کوئی محبت نہیں تھی۔ پاکستان آنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا میں نے۔ میں جانتا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں ہندوﺅں کا رویہ کیسا ہوگا۔ وہاں میری حاکمیت، میرا اقتدار قائم رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ سب کچھ چھن جاتا۔ اور میں نے غلط کہا کہ میں زمینوں کے کاغذات کے سوا کچھ نہیں لایا۔ میرے ہاں بہت بھاری نقد رقم بھی تھی اور کثیر قیمتی زیورات بھی۔ میں نے سوچا تھا کہ پاکستان میں ہم ہندوستان سے بھی زیادہ طاقتور ہوں گے۔ لیکن راستے میں سب کچھ لٹ گیا، ختم ہوگیا۔ کاغذات بھی صرف اس لئے محفوظ رہے کہ میرے سینے پر بندھے ہوئے تھے۔“
Updated on 15 May 08 at 10:17 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.