عبدالحق کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اب وہ افضال صاحب کے نفسیاتی مسائل کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ حیران تھا کہ آدمی کتنے بڑے بڑے بوجھ اٹھائے پھرتا ہے .... ایسے بوجھ، جن کے بارے میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا۔
”تو آپ کو زمین کا کلیم تو بھرنا چاہئے تھا۔ وہ سب کچھ تو آپ کو اب بھی مل سکتا ہے۔“
”جوان اولاد آنکھوں کے سامنے ختم ہوگئی تو سمجھ میں آیا کہ کسی چیز کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم بلاوجہ اہمیت دے کر ان کی قدروقیمت بڑھادیتے ہیں۔“
”تو پھر آپ نے ان کاغذات کا کیا کیا؟“
”کچھ بھی نہیں۔ میں تو انہیں بھول ہی گیا تھا۔ مجھے تو صرف تلافی کی فکر تھی۔ کیمپ میں شریف مجھے ملا تو کاغذات یاد آئے۔ میں نے سوچا، کم ازکم شریف کے ساتھ زیادتی کی تلاٹی تو کردوں۔ میں نے کاغذات بڑے صاحب کو دیئے اور کہہ دیا کہ اب شریف میرا وارث ہے۔ وہ نہیں مان رہے تھے۔ لیکن میں نے انہیں مجبور کردیا۔ اس معاملے کو میں نے تحریری اور قانونی شکل دےدی“
”تو تلافی ہو تو گئی۔ اب آپ کیوں پریشان ہیں؟“
”تم نہیں سمجھ سکتے میاں۔ میں نے کہا نا کہ تلافی تو صرف شریف کے ساتھ زیادتی کی ہوئی ہے۔ میرے گناہوں کی فہرست تو بہت طویل ہے۔ اور گناہ بھی بہت بڑے ہیں۔ میں تو بس موقع ڈھونڈتا پھرتا ہوں تلافی کا۔ خیر، چھوڑو اب اس بات کو“
دونوں دیر تک اپنی اپنی سوچوں میں گم بیٹھے رہے۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ باغ میں قمقمے روشن ہونے لگے۔
”آﺅ، اب چلیں۔“ افضال صاحب نے کہا۔
دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور باغ سے نکل آئے۔
........x........
سیکریٹری وزارت داخلہ شفاعت بھی ڈرائنگ روم میں اکیلا بیٹھا تھا۔ وہ کوٹھی اس کی ملکیت نہیں تھی، اور وہ وہاں رہتا بھی نہیں تھا۔ وہ ایک ہندو بنئے کی کوٹھی تھی، جو اسے جوں کا توں چھوڑبھاگا تھا۔ ڈرائنگ روم کے فرنیچر ہی کی بات نہیں، جس وقت اس ہندو فیملی نے ہندوستان کیلئے رخت سفر باندھا تھا تو ساتھ کچھ بھی نہیں لے کر گیا تھا.... سوائے نقدی کے۔ حد یہ ہے کہ بجھے ہوئے چولہے پر دودھ کی دیگچی بھی رکھی رہ گئی تھی، اور کھانا بھی تیار تھا۔ بس کھایا نہیں جاسکا تھا۔ اور یہ کہانی صرف اس کوٹھی کی نہیں تھی۔ بے شمار گھر ایسے ہی تھے، جہاں گھر چھوڑ کر بھاگنے والوں کا پورا سامان یونہی رکھا تھا، جیسے وہاں گھر کے لوگ موجود ہوں۔ صندوقوں اور الماریوں میں زیورات تک موجود تھے۔ لوٹ مار کرنے والوں کے گھر بھرگئے تھے۔ کچھ لوگ تو ایسے مکانات پر قابض بھی ہوگئے تھے۔
گزشتہ اقساط کا خلاصہ
ٹھاکروں والی گڑھی کے جاگیردار ٹھاکر پرتاب سنگھ لاولد ہونے کی وجہ سے بہت دکھی اور پریشان تھے، بہت منتیں مرادیں مانیں مگر گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا، ایک روز پیپل کے درخت پر چڑھاوے چڑھا کر منت مانگ رہے تھے کہ ایک مجذوب نے انہیں بشارت دی کہ اس درخت کے خالق نے تمہیں بیٹا بخشنے کا فیصلہ کیا ہے، تم اس بچے کی اچھی تعلیم و تربیت کرنا اور کبھی اس کو کوئی دکھ نہ دینا اور نہ اس کی بات رد کرنا وہ بچہ اللہ کو بہت عزیز ہو گا۔ ٹھاکر کے ہاں مجذوب کی پیشن گوئی کے عین مطابق بیٹا پیدا ہوا اس کا نام اوتار سنگھ رکھا گیا۔ بچہ ابتدا ہی سے غیر معمولی ثابت ہورہا تھا، اس نے اپنی ماں کا دودھ پینے سے منہ موڑ لیا، مجبوری میں ٹھاکرائین نے اپنے مزارع جمال دین کی بیوی حمیدہ کو دودھ پلانے کی اجازت دے دی جو ان ہی دنوں ماں بنی تھی، ننھے ٹھاکر نے مسلمان عورت کا دودھ بہت رغبت سے پیا اور پھر اس کی ابتدائی نشو نما میں جمال دین اور اس کی بیوی حمیدہ نے والدین ہی کی طرح کا کردار ادا کیا، ان کے بیٹے وصال دین کی صورت میں ننھے ٹھاکر کو بھائی بھی میسر آگیا تھا۔ اوتار سنگھ بچپن سے ہی غیر معمولی طور پر ذہین ثابت ہورہا تھا، اس کا ننھا دماغ ہر وقت کائنات کے مظاہر پر غور کرتا رہتا، وہ آتے جاتے موسموں، طلوع و غروب ہوتے سورج، چاند، تاروں کو حیرت سے دیکھتا اور سوچتا کہ ان کو کس نے بنایا اور کون یہ نظام چلا رہا ہے، ان گنت دیوی دیوتاﺅں کا فلسفہ اس کے ذہن میں نہیں اترتا تھا۔ اس عمر سے ہی اسے اصلی پالن ہار کی تلاش تھی، ماسٹر کانتی پرشاد نامی ایک غیر متعصب سائنس ٹیچر کی تعلیم نے اس کے تجسس کو مزید ہوا دی، انہیں ٹھاکر پرتاب نے اپنے بیٹے کی ابتدائی تعلیم کے لئے مقرر کیا تھا۔ کالج کی تعلیم کے لئے اوتار اور وصال دین کو دہلی روانہ کیا گیا، وہاں جس کرائے کے گھر میں وہ اپنے پشتینی خادم رگھو اور اس کی بیوی رنجنا کے ساتھ مقیم ہوئے وہ ایک مسلمان بیوہ سرفراز بیگم کا تھا جو اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ مکان کے دوسرے حصے میں رہائش پذیر تھیں۔ ایک روز اوتار کے کانوں میں قرآن مجید کی تلاوت کی آواز آئی کوئی لڑکی تھی جو تلاوت کررہی تھی، اوتار سنگھ عربی سے ناواقف ہونے کے باوجود الفاظ کی اثرپذیری اور غنائیت سے مسحور ہو گیا، پوچھنے پر وصال دین نے صرف اتنا بتایا کہ یہ عربی زبان ہے، اوتار سنگھ پڑھنے والی کی آواز سے تو متاثر ہوا تھا، عربی زبان سے بھی اسے محبت ہو گئی، اس نے ایک مولوی صاحب سے عربی زبان سیکھنی شروع کر دی، اس کے ذوق و شوق کی وجہ سے یہ عمل بہت تیز ہورہا تھا۔ مسلمان کلاس فیلوز سے دوستی کی وجہ سے وہ دین اسلام سے بھی متعارف ہوا، منطقی ذہن رکھنے کی وجہ سے اسے خدائے واحد کا نظریہ بہت حقیقی لگا، مولوی صاحب سے بھی وہ کرید کرید کر اسلام کے بارے میں پوچھتا گیا، دھیرے دھیرے وہ اسلام کی حقانیت کا قائل ہورہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر ایک تبدیلی کے عمل کی طرف بڑھ رہا تھا، تحریک پاکستان زور پکڑ چکی تھی، متعصب ہندو اس بات کو ہضم کرنے پر تیار نہیں تھے، مگر مسلمانان ہند کی قربانیوں کے نتیجے میں تقسیم ہند کا اعلان ہو گیا۔ پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے، ٹھاکر پرتاب سنگھ بھی اپنے غیر متعصب رویے اور مسلمانوں سے دوستی اور ان کی پشت پناہی کی وجہ سے متعصب ہندوﺅں کے عتاب کا شکار ہو گئے۔ اوتار سنگھ اپنے گاﺅں پہنچا تو سب تباہ ہو چکا تھا اس کا باپ، جمال دین اور بھائیوں جیسا وصال دین سب کو ہندوﺅں نے قتل کر دیا تھا، رضاعی ماں حمیدہ زخمی حالت میں زندہ تھی اس نے اوتار کو حویلی اور جاگیر کے کاغذات اور نقدی و خاندانی زیورات حوالے کئے اور وہاں سے چلے جانے کا کہا۔ ادھر دہلی میں بھی قیامت برپا تھی، ہندو بلوائیوں نے بیگم سرفراز کے گھر پر حملہ کیا، وفادار رگھو انہیں بچانے کے لئے جان پر کھیل گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس گھرانے نے مالک کو بیٹے جیسا پیار دیا ہے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بیگم سرفراز اور ان کی دو بیٹیوں کو بلوائیوں نے بے دردی سے قتل کر دیا، ایک بیٹی معجزانہ طور پر بچ گئی یہ حور بانو تھی جس کی تلاوت اوتار کی پوری زندگی پر اثرانداز ہوئی تھی۔ اب اوتار سنگھ کا مشن حور بانو کو پاکستان اس کے عزیزوں تک پہنچانا تھا۔ اسی دوران ایک روز نور بانو تلاوت کررہی تھی کہ وہ آواز اوتار کے کانوں میں پڑی آواز کی دلکشی کا اسیر تو تھا ہی مگر اب کلام الٰہی کی حقانیت اس کے دل پر اثر کررہی تھی کیونکہ وہ عربی میں کافی مہارت حاصل کر چکا تھا۔ آیات ربانی سے اس کی حق کی متلاشی بے چین روح کو قرار آرہا تھا، یہی وہ بابرکت لمحہ تھا جب اس کا اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر شروع ہوا۔ وہ باآواز بلند کلمہ طیبہ پڑھ رہا تھا، اپنے رب کی کبریائی کا اعلان کررہا تھا۔ اب وہ عبدالحق تھا اور اس کی منزل پاکستان تھی، عالم اسلام کی امیدوں کا محور، نوزائیدہ مملکت پاکستان۔