نور بانو خواب دیکھ رہی تھی!
یہی گھر تھا۔ مگر بڑی گہما گہمی تھی۔ اماں بھی موجود تھیں، دونوں بہنیں بھی اور چھمن بوا بھی۔ اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ وہ یقینا کوئی تقریب تھی.... بڑی تقریب! مگر اس کی سمجھ میں تقریب کی نوعیت نہیں آرہی تھی۔
چھمن بوا ادھر سے ادھر بھاگتی پھر رہی تھیں۔ کام بہت تھے اور سب انہی کو نمٹانے تھے۔ نور بانو مہمانوں کو دیکھ رہی تھی۔ مگر ان میں اسے ایک بھی جانا پہچانا چہرہ نظر نہیں آیا۔ ہاں.... یہ ضرور تھا کہ تمام مہمانوں کے چہرے غیر معمولی طور پر روشن تھے۔
چھمن بوا اس کے پاس سے گزریں تو اس نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ ”چھمن بوا.... میری بات تو سنیں۔“
”کیا ہے بیٹا۔ جلدی سے کہو۔ دیکھتی نہیں ہو، کتنا کام ہے۔“
”مجھے یہ تو بتا دیں کہ یہ تقریب کیسی ہے؟“
چھمن بوا نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا۔ اتنی مصروفیت میں مذاق اچھا نہیں لگتا بیٹا۔ تم ہم سے پوچھ رہی ہو کہ یہ تقریب کیسی ہے۔“
”مذاق نہیں کررہی ہوں۔ مجھے سچ مچ پتا نہیں ہے۔“
”بس بنو مت۔“ یہ کہہ کر بوا نے ہاتھ چھڑایا اور آگے بڑھ گئیں۔
نور بانو حیرت سے انہیں جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ یہ کیسی بات کررہی ہیں بوا۔ ان کا انداز تو ایسا ہے جیسے مجھے معلوم ہونا چاہئے۔
اتنے میں اماں اس کی طرف چلی آئیں۔ ”ارے نور بانو.... تم یونہی بیٹھی ہو۔ تیار ہو جاﺅ نا۔“
”مگر یہ تو بتائیں اماں کہ یہ کیسی تقریب ہے؟“
اماں نے بھی اسے شکایتی نظروں سے دیکھا۔ ”لو.... ہم اتنی دور سے تمہاری تقریب میں شرکت کےلئے آئے ہیں اور تم ہم سے تقریب کے متعلق پوچھ رہی ہو۔“
نور بانو تقریب کو بھول گئی اور اتنی دور سے آنے کے بیان میں الجھ گئی۔ ”کتنی دور سے آئی ہیں آپ؟“ اس نے معترضانہ لہجے میں کہا۔ ”آپ تو یہیں رہتی ہیں اماں۔“
”تم بھول گئیں۔ ہم اب یہاں نہیں رہتے۔ ہم سب تو یہاں سے چلے گئے تھے۔“
خواب میں نور بانو کو اس سانحے کی یاد آئی اور اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ ”مجھے یاد آگیا اماں۔ ظالموں نے آپ سب کو مار دیا تھا۔“
”نہیں.... مارا نہیں تھا۔“ اماں مسکرا دیں۔ ”ہم مرے تھوڑا ہی ہیں۔ ہم تو زندہ ہیں۔ شہید کبھی نہیں مرتے۔“
”شہید!“ نور بانو نے حیرت سے دہرایا۔
”ہاں۔ ہم نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اللہ اپنی رحمت سے ہمیں یہ مرتبہ عطا فرمائیں گے۔ ہم اس قابل کہاں تھے۔ بس اللہ نے ہم سب کو نواز دیا۔ ”اماں نے کہا۔ ”اسی لئے تو ہم سب تمہیں اتنے خوش نظر آرہے ہیں۔ یہ تو ہم تمہاری محبت میں یہاں آگئے۔ ورنہ ہم تو اتنی خوب صورت جگہ رہتے ہیں کہ اسے چھوڑنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔ اتنی نعمتیں ہیں وہاں اللہ کی۔ اور ایسی عزت اور ایسا سکون ہے کہ ہم نے کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا تھا۔“
”لیکن اماں، میں تو یہاں اکیلی رہ گئی۔“ نور بانو نے اداس ہو کر کہا۔ ”مجھے بھی ساتھ لے چلیں ۔“
”بھئی اللہ کی مشیت یہی ہے۔ اس میں بندے کی مرضی تو نہیں چلتی۔“
”آپ وہاں خوش ہیں۔ اور میں یہاں ناخوش بھی ہوں اور اکیلی بھی۔“ نور بانو کے لہجے میں شکایت در آئی۔
”تم یہ ناشکراپن چھوڑ دو.... یہ ہر وقت ہر بات پر شکایت۔“ اماں کے لہجے میں فہمائش تھی۔ ”اللہ اتنا مہربان ہے تم پر۔ رحمت فرماتا ہے، نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ اور اب تم نہ اکیلی رہو گی نہ ناخوش۔ ہم اسی لئے تو آئے ہیں یہاں۔“
نور بانو کا ذہن پھر الجھنے لگا۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ ”کس لئے؟“
”ارے اس تقریب کےلئے.... اور کس لئے۔“ اماں نے جھنجھلا کر کہا۔
بات پھر وہیں آکر رک گئی۔ ”اور یہ تقریب کیسی ہے، یہ آپ بتا نہیں رہیں؟“ نور بانو بھی جھنجھلا گئی۔
”ارے تمہیں یہ بھی نہیں معلوم۔ آج تمہاری شادی ہورہی ہے۔“ اماں نے کہا۔ ”پھر دوسری طرف رخ کر کے پکارا۔ ”اے حور بانو.... گلنار.... کہاں ہو بھئی۔ کیا کررہی ہو جلدی سے آﺅنا۔“ وہ پھر نور بانو کی طرف مڑیں۔ ”بس یہ غیر ذمے داری اور سستی ان کی مجھے بہت بری لگتی ہے۔“
نور بانو نے ان کی بات نہیں سنی۔ اس کا دماغ جیسے سن ہو گیا تھا۔ اس کی شادی ہورہی ہے! مگر کس سے؟
اتنی دیر میں دونوں بہنیں بھی اس کے پاس آکھڑی ہوئیں۔ ”جی اماں؟“
”کتنی غیر ذمے داری کی بات ہے۔“ اماں نے انہیں ڈانٹا۔ ”اب یہ کیا خود دلہن بنے گی؟ تم لوگوں کی کوئی ذمے داری نہیں ہے؟“
”تو اماں، اسی کی تو فکر کررہے تھے ہم۔“ حور بانو نے کہا۔ ”یہ جوڑا مل ہی نہیں رہا تھا۔ بڑی مشکل سے ملا ہے.... انہی محترمہ کے صندوق میں سے۔“
نور بانو شرمندہ ہوئی، کھسیا گئی۔ ”مجھے اچھا لگا تھا باجی۔ میں نے سوچا، اب تم تو پہنو گی نہیں۔ اس لئے میں نے رکھ لیا۔“
”اچھا کیا نور۔ یہی تو تمہارا شادی کا جوڑا ہے۔ چلو، اب تمہیں تیار کرا دیں۔“ حور بانو نے خوش دلی سے کہا۔
”تم لوگ جلدی کرو۔ میں ذرا مہمانوں کو دیکھ لوں۔“ اماں نے کہا اور کمرے سے چلی گئیں۔
اسی لمحے باہر کسی نے کہا۔ ”ارے.... برات نہیں آئی اب تک؟“
”آگئی ہے۔ دولہا میاں مسجد گئے ہیں.... شکر کے نفل ادا کرنے۔“
نور بانو اداس ہو گئی۔ تو آج چھوٹے ٹھاکر کا کانٹا ہمیشہ کے لئے نکل رہا ہے۔ اس نے سوچا۔ پھر حسرت سے سوچا، کانٹا نکلنے میں اداسی کیسی۔ مگر اسے رونا آنے لگا۔
”چلو نور، اب کپڑے بدل لو۔“ حور بانو نے اس سے کہا۔ ”پھر ہم تمہیں تیار کر دیں تمہارے دولہا کے لئے۔“
”مجھے یہ تو بتا دو کہ میری شادی کس سے ہورہی ہے؟“ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں فریاد تھی۔
”ارے.... تمہیں نہیں معلوم۔ تمہاری شادی عبدالحق سے ہورہی ہے۔“
”کون عبدالحق؟“
”وہی عبدالحق جنہیں ہم پہلے چھوٹا ٹھاکر کہتے تھے۔“
نور بانو حیران رہ گئی۔ مگر وہ بے حد خوش گوار حیرت تھی۔ پھر اچانک اسے باجی پر ترس آنے لگا۔ ”لیکن باجی.... تم تو ان سے....“
حور بانو نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسے جملہ پورا نہیں کرنے دیا۔ ”کچھ بھی نہیں کہنا۔ ہم جہاں ہیں، وہاں ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اسی لئے تو ہم یہاں تمہیں وداع کرنے آئے ہیں۔“
”لیکن باجی، تمہیں افسوس....“
”بالکل نہیں ہو گا۔“ حور بانو نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”ہم جہاں ہیں، وہاں ایسی نعمتیں ہیں، ایسی خوشیاں ہیں، جن کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے کہانا کہ اب میرے لئے ان باتوں کی کوئی اہمیت نہیں۔“
”اور یہ تمہارا جوڑا....“
”یہ ہم نے تمہیں سونپ دیا۔ یہ بھی اور اپنی محبت بھی۔“ حور بانو مسکرائی۔ وہ بہت خوبصورت مسکراہٹ تھی۔ اس میں سچی خوشی تھی۔ ”اب یہ تمہارا نکاح کا جوڑا ہے.... عروسی جوڑا۔“
”کیا میرے لئے نیا عروسی جوڑا نہیں بن سکتا تھا؟“ نور بانو کے لہجے میں شکایت تھی۔
”دیکھو.... ایک تو بالکل اچانک ہورہی ہے تمہاری شادی۔ تیاری کا کوئی موقع ہی نہیں ملا۔ دوسرے تمہیں یہ جوڑا بہت پسند ہے۔ تیسرے تمہیں معلوم نہیں کہ تم اس جوڑے میں کتنی حسین لگو گی۔“
”میں اور حسین!“ نور بانو نے حقارت سے کہا۔
”خود دیکھ لینا۔ بس اب کپڑے بدل لو۔“
نور بانو نے کپڑے بدلے۔ باجی اور گلنار اسے تیار کرنے لگیں۔ پھر حور بانو نے اسے قد آدم آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا۔ ”لو.... خود دیکھ لو۔“
نور بانو نے نظریں اٹھا کر آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا اور دیکھتی رہ گئی۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ وہ ہے۔ اسے تو جیسے جادو کے زور سے کسی نے تبدیل کر دیا تھا۔ چہرے کے نقوش تو وہی تھے۔ لیکن وہ بہت حسین لگ رہی تھی۔ اس نے پیچھے کھڑی دونوں بہنوں کے عکس کو بھی دیکھا۔ ان دونوں کے سامنے تو وہ ہمیشہ نوکرانی لگتی تھی۔ لیکن آج وہ دونوں بھی اس کے سامنے پھیکی لگ رہی تھیں۔
”دیکھا۔ آج تو ہم دونوں بھی تمہاری کنیز لگ رہی ہیں۔“ حور بانو نے ہنس کر کہا۔
اسی وقت باہر کسی نے خوشی سے پکار کر کہا۔ ”برات آگئی۔“
اماں کمرے میں آئیں۔ انہوں نے اسے دیکھا تو خوش ہو کر بلائیں لینے لگیں۔ ”میں ہمیشہ فکر کرتی تھی کہ میری یہ بیٹی بہت معمولی شکل و صورت کی ہے۔ اس کا کیا ہو گا۔ میں بہت دعائیں کرتی تھی تمہارے لئے۔ اللہ نے میری ہر دعا قبول کرلی۔ تم تو ان دونوں سے بڑھ کر حسین لگ رہی ہو۔ اور اللہ نے نصیب بھی اچھے کر دیئے۔“
اس نے شرما کر سر جھکا لیا۔
اماں نے اس کی پیشانی چوم لی۔ ”دیکھو نور بانو، میرے عبدالحق کا دل بھی کبھی میلا نہ ہونے دینا۔ اللہ نے تمہیں بڑی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس کی ہمیشہ قدر کرنا۔ اسے خوش رکھنا۔ اسے کبھی کسی شکایت کا موقع نہ دینا۔“
اسی وقت اسے نقاروں کی آواز سنائی دی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔
خواب ایسا تھا کہ اس کا ٹوٹنا اسے برا لگا۔ وہ چاہتی تھی کہ خواب کا سلسلہ وہیں سے جڑ جائے، جہاں سے ٹوٹا تھا۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔ مگر اس سے سوچا نہیں گیا۔
وہ لیٹی خواب کے بارے میں سوچتی رہی۔ اسے اپنا سراپا یاد آیا۔ مگر اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے بجائے اس نے اس کا احساس کمتری اور بڑھا دیا۔ اس نے سوچا، خواب میں تو کچھ بھی ہو جاتا ہے۔ اس کا حقیقت سے تو کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ خواب میں تو میری اس سے شادی بھی ہو گئی، جس سے میں محبت کرتی ہوں۔ جبکہ حقیقت میں یہ ناممکن ہے۔ مجھ جیسی لڑکیوں کےلئے تو خواب ہی ہوتے ہیں۔
لیکن اس خیال سے اسے خوشی ہورہی تھی کہ خواب میں باجی نے اپنے اس جوڑے کو اس کا عروسی جوڑا قرار دیا اور اپنی محبت بھی اسے سونپ دی۔
چند لمحے بعد وہ سحری بنانے کےلئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ یہ خیال آیا تو اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکنے لگا کہ آج وہ یہ گھر چھوڑ کر کسی اجنبی جگہ کےلئے روانہ ہورہی ہے۔ اور اسے ہندو عورت کے بھیس میں بے پردہ سفر کرنا ہے۔
٭٭٭
عبدالحق نے اس سفر کے بارے میں بہت سوچا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ آسان سفر نہیں ہے۔ متعصب ہندو اور سکھ سفر کرنے والوں پر خاص طور پر گھات لگاتے تھے۔ ان کے پاس اس کی معقول وجہ بھی تھی۔ جو علاقے ہندوستان میں تھے، وہاں سے ہجرت کرنے والے صرف مسلمان ہی تھے۔ اور وہ ان علاقوں کی طرف جارہے تھے، جو پاکستان میں شامل ہوئے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ وہ اپنے گاﺅں کا نام نہیں لے سکتا تھا۔ اس صورت میں وہ مشتبہ قرار پاتا۔ کیونکہ جس گاﺅں کا نام و نشان مٹ چکا ہو، وہاں کوئی کیوں جانا چاہے گا۔
رکاوٹیں اپنی جگہ، بہرحال انہیں تو وہاں جانا تھا۔ بابا نے کہا تھا کہ یہ حکم ہے۔ اب حکم ہے تو اسے تعمیل کرنی ہے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ پہلے وہ جے پور جائیں گے۔ وہاں سے وہ اونٹ خرید کر ان کے ذریعے سفر کریں گے۔ اسے احساس تھا کہ اپنا گاﺅں ڈھونڈنا بھی آسان نہیں ہو گا۔
سفر کی صبح ساتھ لے جانے والے سامان پر بھی بحث ہوئی۔ نور بانو کتابیں نکال کر الگ رکھ رہی تھی۔ وہ اس وقت ہندوانہ لباس میں تھی اور اس کی وجہ سے خاصی چڑچڑی ہورہی تھی۔
”یہ کیا ہے؟“ عبدالحق نے پوچھا۔
”قرآن پاک کے نسخے ہیں.... اور دینی کتابیں ہیں۔“ نور بانو نے جواب دیا۔
”تو یہ آپ الگ کیوں کررہی ہیں۔“
”ہم ہندوﺅں کے بھیس میں سفر کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ اپنے سامان میں کیسے رکھ سکتے ہیں۔“
”میں ان کا جائزہ لے سکتا ہوں؟“
”کیوں نہیں۔“
عبدالحق نے کتابوں کا جائزہ لیا اور خوش ہو گیا۔ ”یہ نعمت تو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ مجھے تو ان کی بہت ضرورت ہے۔“
”میں نے یہی سوچ کر نکالی تھیں۔ لیکن انہیں ساتھ رکھنا خطرناک ہو گا۔“ نور بانو نے کچھ