جھجکتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔
”کچھ بھی ہو۔ میں یہ سب کتابیں ضرور لے کر جاﺅں گا۔“
”منجھلی بی بی ٹھیک کہہ رہی ہیں مالک۔“ زبیر بولا۔
عبدالحق چند لمحے سوچتا رہا۔ ”انہیں کپڑوں میں لپیٹ کر رکھ لیں۔ میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔“
نور بانو نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا۔ ”جیسی آپ کی مرضی۔“
”ایک ذاتی بات پوچھ سکتا ہوں آپ سے؟“ عبدالحق نے اس سے کہا۔
نور بانو پھر جھجکی۔ ”جی ضرور۔“
”آپ کا نام کیا ہے؟“
نور بانو کا چہرہ تمتما اٹھا۔ چند لمحے جھجکنے کے بعد اس نے کہا۔ ”نور بانو۔“
اوتار سنگھ نے اپنی خوشی چھپانے کے لئے سر جھکا لیا۔ کیسا خوب صورت نام ہے۔ اس نے دل میں سوچا۔
جے پور جانے کے لئے وہ گاڑی میں بیٹھے۔ سفر شروع ہو گیا۔
مگر دہلی شہر سے نکلتے ہی مسلح ہندوﺅں اور سکھوں کے ایک جتھے نے گاڑی رکوا دی۔ انہوں نے تمام مسافروں کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ وہ لوگ بھی گاڑی سے اتر آئے۔
سوال جواب ہونے لگے۔ کہاں جارہے ہو؟ کیوں جارہے ہو؟ کون ہو؟ نام کیا ہے؟ وہ پوچھتے اور جس سے مطمئن ہوتے، اسے گاڑی میں بھیج دیتے۔ نور بانو نے گھونگھٹ کاڑھ رکھا تھا۔ لباس بھی ایسا تھا، جیسے نئی نئی شادی ہوئی ہو۔
”میرا نام ٹھاکر اوتار سنگھ ہے۔“
”میں رگھو ہوں.... رگھبیر.... چھوٹے ٹھاکر کا سیوک۔ اور یہ میری پتنی ہے.... رنجنا۔“
”اور یہ کون ہے؟“
سوال نور بانو کے بارے میں تھا۔ اور عبدالحق جانتا تھا کہ ایک لمحے کی ہچکچاہٹ بھی نقصان دہ ثابت ہو گی۔ چنانچہ اس نے سوچے سمجھے بغیر بے ساختہ جواب دیا۔ ”یہ میری پتنی ہے.... لاجونتی۔“
گھونگھٹ کے اندر نور بانو کے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی۔ دل یوں ھڑکا، جیسے سینے سے نکل آئے گا۔
”اس کا گھونگھٹ تو اٹھاﺅ مہاراج۔“
عبدالحق کے تیور بدلنے لگے۔ لاٹھی کی مٹھ پر اس کی گرفت مضبوط ہو گئی۔ گھونگھٹ کی آڑ میں اس کی طرف دیکھتی ہوئی نور بانو نے بھانپ لیا کہ معاملہ بگڑنے والا ہے۔ اس نے جلدی سے گھونگھٹ اٹھا دیا۔
عبدالحق سخت جواب دینے ہی والا تھا کہ نور بانو نے اسے حیران کر دیا۔ وہ نور بانو کو دیکھتا رہ گیا۔
نور بانو نے گھونگھٹ تو اٹھا دیا تھا۔ لیکن اتنے سارے مردوں کے سامنے پہلی بار بے حجاب ہوئی تھی۔ اس کی نظریں جھک گئیں۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھر آئے۔
”سچ مچ لاج والی ہے مترو۔“ روکنے والوں میں سے ایک نے دوسروں سے کہا۔
اب عبدالحق برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ”اپنی حد میں رہو۔“ اس نے سخت لہجے میں کہا۔ ”ہم ٹھاکر لوگ جان لیتے زیادہ ہیں، دیتے کم ہیں۔“ بولنے والا کچھ کہنا چاہتا تھا۔ لیکن دوسرے نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ ”ہم اپنے لوگوں کو ستانے کے لئے نہیں نکلے ہیں۔“ وہ بولا۔
”ضروری نہیں کہ یہ اپنے ہی لوگ ہوں۔“
”کیا مطلب؟“
”مسلمان بچ نکلنے کے لئے ہندوﺅں کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔“
”تو اب یہ کیسے پتا چلے گا؟“
”یہ کون سی مشکل بات ہے۔ الگ لے چل کر دیکھ لیتے ہیں۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔“ اس نے شیطنت بھرے لہجے میں کہا۔
بات عبدالحق کی سمجھ میں نہیں آئی۔ لیکن زبیر سمجھ گیا۔ تاہم عبدالحق کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ کوئی ایسی بری بات ہے، جسے قبول کرنے پر وہ مر جانے کو ترجیح دے گا۔ لاٹھی کی مٹھ پر اس کی گرفت اور مضبوط ہو گئی۔
زبیر نے دوسرے شخص سے کہا۔ ”مہاشے.... آپ ذرا الگ چل کر میری ایک بات سن لیں۔“
”سننا سنانا کیا ہے۔ ہمیں تو دیکھنا ہے۔ کہو تو یہیں دیکھ لیں.... سب کے سامنے۔“ پہلے والے نے پھر مداخلت کی۔
زبیر نے اسے نظرانداز کر دیا۔ ”میں دھرم کے نام پر بنتی کررہا ہوں مہاشے۔“
دوسرے شخص نے زبیر کا ہاتھ تھاما اور اسے ایک طرف لے گیا۔ ”اب بولو، کیا بات ہے؟“
”میرا مالک سوریہ ونشی راجپوت ہے۔ آن کے لئے جان لینا بھی جانتا ہے اور جان دینا بھی۔ آپ کا متر ان کا اپمان کئے جارہا ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ یہاں خون خرابہ ہو جائے گا۔“
”خون خرابہ!“ وہ مضحکانہ لہجے میں بولا۔ ”تمہارے پاس ہے کیا؟ خون بھی تمہارا ہو گا اور خرابہ بھی۔“
”تم غلط سمجھ رہے ہو مہاشے۔ چھوٹے ٹھاکر کو لٹھیا کا ہنر آتا ہے۔ چالیس پچاس آدمی تو ان کے سامنے ٹھہر بھی نہیں سکتے۔“
اس کو یقین تو نہیں آیا۔ لیکن بہرحال وہ متاثر ہوا۔ ”تو تم کیا چاہتے ہو؟“
”مجھے جس طرح چاہو، دیکھ لو۔ لیکن چھوٹے ٹھاکر یہ اپمان برداشت نہیں کریں گے۔“
”چلو .... ٹھیک ہے۔“
اس دوران وہ شر پسند بھی ان کے پاس آگیا تھا۔ جس کی وہ تجویز تھی۔ اس کے ساتھی نے کہا۔ ”لالو.... تو اسے دیکھ لے۔“
لالو زبیر کی طرف مڑا۔
چند لمحے بعد لالو نے اپنے ساتھی سے کہا۔ ”یہ ہندو ہی ہے۔“
”جاﺅ مہاشے، گاڑی میں بیٹھ جاﺅ۔“
یوں یہ مشکل مرحلہ آسان ہو گیا۔ زبیر کو پتا ہی نہیں تھا کہ اس نے اپنے مالک کو بہت بڑی مشکل سے بچا لیا ہے۔ خود عبدالحق کو بھی علم نہیں تھا کہ وہ مرحلہ کتنا دشوار تھا۔
٭٭٭
جے پور سے ان کے اصل سفر کا آغاز ہوا۔ انہوں نے چار اونٹ لئے تھے۔ ایک پر سامان تھا۔ دوسرے پر رابعہ اور نور بانو تھیں۔ عبدالحق اور زبیر باقی دونوں اونٹوں پر تھے۔ عبدالحق کو احساس تھا کہ نور بانو کےلئے وہ بہت تکلیف دہ سفر ہے۔ اس نے حتی الامکان اسے آسان کرنے کی کوشش کی تھی۔ رابعہ کو اونٹ کا تجربہ تھا۔ اس لئے نور بانو اس کے ساتھ تھی۔
صحرا کا سفر اور وہ بھی دن میں.... بہت ہی دشوار ہوتا ہے۔ دھوپ ایسی ہوتی ہے کہ جسم کا پانی ختم ہو جاتا ہے۔ اور وہ سب تو روزے سے تھے۔ ریت دیکھ دیکھ کر ان کے جی اوب گئے۔
وہ سمت پوچھ کر چلے تھے۔ عبدالحق اپنے گاﺅں کا حوالہ تو نہیں دے سکتا تھا۔ تاہم اس نے سندر پور کے حوالے سے راستہ پوچھا تھا۔ یہ قریب کا وہ گاﺅں تھا، جو اس کی معلومات کے مطابق تباہی سے بچ گیا تھا۔
اب دھوپ کی تیزی ختم ہورہی تھی اور وہ بتدریج پھیکی ہوتی جارہی تھی۔ عبدالحق کو تشویش ہونے لگی۔ مسافت کا اسے خوب اندازہ تھا۔ اس کے خیال میں اب تک انہیں گاﺅں پہنچ جانا چاہئے تھا۔ لیکن وہاں تو کوئی آثار ہی نہیں تھے۔
صحرا میں سورج بہت تیزی سے غروب ہوتا ہے۔ ابھی نظر آرہا ہے اور ابھی غائب۔ اور ان کی تو زندگی ہی اس صحرا میں گزری تھی۔ زبیر نے
”بس۔“ زبیر کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
”ہاں۔ استاد عبدالقادر کے ہاتھ کا کام اس سے زیادہ وقت نہیں مانگتا۔“ جراح زبیر کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ پھر اچانک اس نے کہا۔ ”یہ اوپر جو اُڑی ہے، چڑیا تو نہیں ہوسکتی، چمگادڑ ہوگی۔“
زبیر نے بے ساختہ سر اٹھا کر دیکھا۔ ”کہاں؟“ اسی لمحے اسے ہلکی سی چبھن کا احساس ہوا۔
”اڑ بھی گئی۔“ جراح نے فاتحانہ لہجے میں کہا۔ تب زبیر کو پتہ چلا کہ اس کا کام ہوگیا تھا۔
اور جراح کی بات سچی ثابت ہوئی۔ تین دن میں وہ بھلا چنگا ہوگیا لیکن ان تین دنوں میں عبدالحق نے اسے ایک لمحے کےلئے بھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ طبیعت ذرا سنبھلی اور زبیر کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تو اس کی سمجھ میں وہ بات آئی۔ دہلی سے نکلتے ہوئے ہندو انتہا پسندوں نے اگر اس کی بات نہ مانی ہوتی اور مالک کو چیک کیا ہوتا تو، چیک کرنے والا نعرہ لگاتا.... ہے پربھو، یہ تو مُسلا ہے مُسلا، جے بجرنگ بلی لیکن پھر اسے خیال آیا کہ مالک کے جیتے جی تو یہ ہو نہیں سکتا۔
وہ پہلا موقع تھا کہ اس نے مذہب کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا۔ یہ تو واقعی اللہ کی رحمت تھی۔ تو چھوٹے ٹھاکر اسی حالت میں پیدا ہوئے تھے۔ اس نے دیکھا تھا کہ وہ شروع ہی سے مختلف تھے۔ لال آندھی کے بعد وہ جس حال میں آئے تھے، وہ اسے یاد تھا۔ وہ کئی دن تک سوچتا رہا کہ جس آندھی میں گیارہ گاﺅں ریت میں دفن ہوگئے، چھوٹے ٹھاکر وہاں سے کیسے بچ آئے۔ ویسے ہی جیسے بعد میں وہ دہلی سے نکل آئے جبکہ ان کے سامان میں قرآن پاک کے کئی نسخے بھی موجود تھے اور چھوٹے ٹھاکر کی جانچ ہو جاتی تو وہ سب مارے جاتے۔
اس کی سمجھ میں آنے لگا کہ وہ سب سے مہان شکتی ہے۔ ہوتا وہی ہے جو وہ چاہتا ہے۔ کتنا کچھ دیکھ لیا تھا اس نے۔ پورے گیارہ گاﺅں اس نے ریت میں سے برآمد ہوتے دیکھے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔
اس رات وہ سونے کےلئے لیٹا۔ زمینوں کے کاغذات اس نے رابعہ کو احتیاط سے رکھنے کےلئے دے دیئے تھے۔ اپنے کاغذات کو اس نے علاوہ رکھوایا تھا۔ وہ اس کے پاس عبدالحق کی امانت تھے۔
اسے احساس ہوا کہ رابعہ اسے بار بار دیکھتی ہے اور نظریں جھکالیتی ہے، جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو۔ ”کیا بات ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”ایک بڑی خبر ہے جی۔ میں ماں بننے والی ہوں۔“
زبیر ایک دم سے اٹھ بیٹھا۔ ”کیا کہتی ہو؟ یہ کیسے....؟
”میں نے بھی یہی سوچا تھا۔ دو مہینے ہو گئے ہیں۔ میں نے سوچا، ایسا ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔ یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری گود بھر سکتی ہے لیکن آج نیاز بھائی کی اماں نے مجھے ٹوک دیا۔ کہنے لگیں، تمہیں پتہ بھی ہے یا نہیں۔ اب سنبھل کر قدم اٹھایا کرو۔ میں تو کچھ سمجھی ہی نہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا۔ یہ تمہارا پہلا بچہ ہے؟ تب مجھے سمجھ آئی۔“
”بوڑھی عورت ہے، اسے کیا پتہ۔“ زبیر پھر دراز ہوگیا۔
”نہیں جی۔ انہوں نے دیکھا کہ مجھے یقین نہیں آیا ہے تو انہوں نے شاداں کو بلوالیا....“
کون شاداں؟“
”دائی ہے اور وہ آئی تو اس نے بھی یہی بات کہی۔ اس نے کہا، یہ تیسرا مہینہ ہے۔“
زبیر پھر اٹھ بیٹھا۔ ”مجھے تو یقین نہیں آتا۔“
”مجھے بھی۔ لیکن من میں کچھ کچھ ہوتا ہے اور مجھے بھاری بھاری سا بھی لگتا ہے۔“
”اللہ کرے، یہ سچ ہو۔“ زبیر نے بڑے خلوص سے کہا۔
”پر مجھے تو یقین اس وقت آئے گا، جب ہوگا۔“
”اللہ پر یقین رکھ پگلی۔ سب کچھ اسی کے حکم سے ہوتا ہے۔“
اس لمحے نے زبیر کو پوری طرح بدل دیا۔ اس نے بڑے فخر سے سوچا، ہمارا بچہ خالص مسلمان ہوگا، یہی تو کہا تھا مولوی مہر علی نے۔ مسلمانی کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ اب تمہارا اور رابعہ کا نکاح بھی ضروری ہے۔ اس نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے ہی سے شادی شدہ ہیں۔ تب مولوی مہر علی نے کہا تھا کہ نکاح حرام کو حلال کردیتا ہے۔ اس نکاح کے بعد جو اللہ تمہیں اولاد دے گا، وہ انشا اللہ نیک اور صالح ہوگی۔ زبیر نہ چاہتے ہوئے بھی مان گیا تھا۔ اعتراض تو اسے کوئی نہیں تھا لیکن لگتا تھا کہ وہ اور رابعہ تماشا بن رہے ہیں۔
مگر سچی بات یہ تھی کہ اس نکاح کے بعد رابعہ اسے نئی نئی لگی تھی۔ بعد میں رابعہ نے بھی یہی بات کہی۔
ان دونوں کی شادی کو بارہ سال ہوچکے تھے۔ عمربھی ان کی زیادہ نہیں تھی۔ زبیر اب بہ مشکل تیس کا ہوگا اور اولاد کی آرزو تو سبھی کو ہوتی ہے۔ زبیر کے ماں باپ کو اس سے بھی زیادہ خواہش تھی پوتے کی۔ انہوں نے کوئی در نہیں چھوڑا تھا۔ منتیں مان مان کر ہار گئے تھے۔ کوئی وید طبیب نہیں چھوڑا تھا مگر جواب یہی ملا تھا کہ ان کے نصیب میں اولاد ہے ہی نہیں۔
اور اب زبیر سوچ رہا تھا کہ نکاح کی برکت سے یہ ان ہونی بھی ہوگئی۔ ان کے نکاح کو ابھی چار مہینے ہی تو ہوئے تھے۔ اس وقت عبدالحق اسے بڑی شدت سے یاد آیا۔ مالک یہاں ہوتے تو کتنا خوش ہوتے اور وہ اس سے وہی بات کہتے، جو ہر خوشی کے موقع پر کہاکرتے تھے.... اللہ کا شکر ادا کرو زبیر۔ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔
زبیر نے سر اٹھا کر چھت کی طرف دیکھا اور زیر لب بولا.... اللہ تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے رابعہ سے کہا۔ ”اللہ کا شکر ادا کر رابعہ۔“
”وہ تو میں نے کہا تھا۔“
”مالک کہتے ہیں، شکر کا اچھا اور آسان طریقہ دو نفل ہیں۔ چل اٹھ، وضو کریں اور شکر ادا کریں۔“
....o....o....o....
انکوائری کا فیصلہ آگیا تھا۔ انکوائری آفیسر نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ جمیل کو بدعنوانی کا مرتکب پایا گیا لیکن کیونکہ یہ اس کی پہلی غلطی تھی اور بدعنوانی سنگین نوعیت کی نہیں تھی۔ پھر جمیل نے تحریری طور پر معافی بھی مانگ لی تھی۔ اس لئے اسے بحال کردیا گیا تھا۔
بحال ہونے کے بعد جمیل پورے کیمپ میں دندناتا پھرا تھا۔ وہ مسعود صاحب کا مذاق اڑا رہا تھا۔ ”بڑے افسر بنے پھرتے ہیں۔ ارے افسروں والے اعمال بھی تو ہوں۔ راشن تولتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ یہ چپراسی کا کام ہے۔ ایسے افسروں کو کون پوچھتا ہے۔“
”لیکن یہ ہوا کیسے؟ عبدالحق نے اس سے پوچھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس فیصلے سے اسے شاک پہنچا تھا۔ ”تمہارے خلاف ثبوت تو سارے پکے تھے۔“
”ثبوتوں سے کیا ہوتا ہے۔ جس کے پاس پوا ہو، اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“
”اور یہ پوا کیا ہوتا ہے؟“
”تعلقات کو کہتے ہیں۔“ جمیل نے اسے بچوں کی طرح سمجھایا۔ ”میرا پوا بہت بھاری ہے۔“
”وہ کیسے؟“
”جن افسروں سے میرے تعلقات ہیں، وہ مسعود صاحب جیسوں کو اپنی جیب میں ڈالے پھرتے ہیں۔“
”اتنے بڑے افسروں سے تمہارا کیا تعلق؟“
جمیل نے بائیں آنکھ دباتے ہوئے لچر پن سے کہا۔ ”اب گر کی باتیں تو نہیں بتائی جا سکتیں۔ بس اتنا سمجھ لو کہ یہ دنیا ضرورت کی ہے۔ تم میری ضرورت پوری کروگے تو میں تمہارا خیال تو رکھوں گا نا۔ یہ دنیا مطلب کی ہے۔“
عبدالحق کی سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا مگر وہ اندر سے بہت زخمی ہوا۔ یہ کیسا اسلامی ملک ہے اور یہ کیسے مسلمان ہیں۔ کیا اسلام یہ سکھاتا ہے۔ کیا اس ملک میں باطل حق پر غالب آسکتا ہے۔؟ اسے کالج میں ہونے والی بحثیں یاد آگئیں۔ وہاں تو کچھ اور ہی باتیں ہوتی تھیں۔ پھر اسے پتہ چلا کہ اسی سلسلے میں مسعود صاحب کی انکوائری افسر صدیق صاحب سے خاصی تلخی ہوئی ہے۔ ان کا مو_¿قف تھا کہ جمیل کا جرم معمول نہیں، بلکہ سنگین تھا اور بے شک پکڑا وہ پہلی بار گیا تھا لیکن یہ اس کی پہلی غلطی بہرحال نہیں تھی۔ انداز سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عادی مجرم ہے اور اسے ڈسمس ہونا چاہئے تھا۔ اس پر صدیق صاحب نے معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ مجبور تھے۔ جمیل کےلئے سفارش بہت اوپر سے آئی تھی۔ عبدالحق اسی روز مسعود صاحب سے ملنے گیا۔ انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ ”آﺅ میاں عبدالحق، کیسے ہو؟“
”جی، اللہ کا شکر ہے۔“
”اور تمہارا کام بھی کچھ بنا؟“
”ابھی تک تو ناکام ہی ہوں۔“
”چند روز افضال صاحب کے ساتھ باہر جا کر دیکھو۔ اللہ مسبب الاسباب ہے اور حرکت میں برکت ہے۔“
عبدالحق کو وہ تجویز اچھی لگی۔ ”واقعی، یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔ کل سے یہی کروں گا۔“
”اور ملازمت کے بارے میں بھی کچھ سوچا تم نے؟“
”جی نہیں، اور اب تو سوچنے کی گنجائش بھی نہیں۔“ عبدالحق کا لہجہ تلخ ہوگیا۔ میں نے یہاں بے ایمانی کو ایمانداری پر غالب ہوتے دیکھا ہے۔“
”ارے وہ ....ان باتوں کو اتنی اہمیت نہ دو۔“ مسعود صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”بلکہ اس صورتحال میں تو تم جیسے لوگوں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے اور ایک بات یاد رکھو۔ یہ حق و باطل کی جنگ تو ازل سے جاری ہے۔ اس میں دل چھوٹا کرنے کی گنجائش نہیں۔ ہم دست بردار ہوگئے تو باطل جیت جائے گا۔ یہ تو ہر مسلمان پر اس کی حیثیت اور استطاعت کے مطابق فرض ہے۔“
”لیکن جو کچھ ہوا، اس میں آپ کی بے عزتی ہوئی ہے۔“
”ایک بات اور یاد رکھو۔ عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم خاک کے پتلے عزت کے مستحق تو نہیں۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے۔ اپنا تو موٹو ہے کہ سیدھی راہ پر چلو اور بے عزتی سے مت ڈرو۔ اب میں اس دکھ کا ازالہ کرنے کی کوشش کروں، جو تمہیں میری بے عزتی سے ہوا ہے۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا اور لفظ بے عزتی پر خاص طور پر زور دیا۔ ”تو میاں، میں نے اوپر والوں کو لکھ بھیجا ہے کہ یہ ملازمت میں ملک و قوم کی خدمت کےلئے کر رہا ہوں ورنہ اللہ کے فضل و کرم سے مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے کیمپ میں کسی کرپٹ آدمی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ اگر جمیل بحال ہوتا ہے کہ تو میں احتجاجاً استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں گا۔“
”یعنی آپ ہار مان لیں گے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”اور آپ مجھے سرکاری ملازمت کا مشورہ دے رہے ہیں۔“
”ابھی بچے ہو نا میاں۔“ مسعود صاحب ہنسنے لگے۔ ”سول سروس کے بھی کچھ گہرے رموز ہوتے ہیں۔ احتجاج کے تحت دیئے جانے والا استعفیٰ کوئی قبول نہیں کرتا کیونکہ اس طرح وجہ_¿ احتجاج ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔ آدمی کو سروس رولز میں پکا ہونا چاہئے بس اور دوسری مضبوطی یہ ہو کہ آدمی کو اس ملازمت کی ضرورت نہ ہو تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔ خوش قسمتی سے یہ مضبوطی مجھے بھی حاصل ہے اور تمہیں بھی۔“
”آپ مجھے باربار کیوں گھسیٹتے ہیں اس میں۔“
”ملک و قوم کی ضرورت کی خاطر۔ اور سنو عبدالحق، میں تو اپنے کل کی بھی فکر نہیں کرتا لیکن ملک اور قوم کی خاطر بہت دور تک دیکھتا ہوں۔ آج بہت سوچ سمجھ کر تمہیں مشورہ دے رہا ہوں۔ تم نے ایف اے کیا ہے نا؟“
”جی ہاں۔“
”تم بی اے کرو اور سروس جوائن کرلو۔ میں تمہیں کتابیں دوں گا۔ تم سول سروس کے مسابقتی امتحان کی تیاری کرتے رہو۔ یہاں اس سلسلے میں کام ہو رہا ہے۔ جیسے ہی پہلے امتحان کا اعلان ہو، اس میں شریک ہوجاﺅ۔ سی ایس پی افسر کی حیثیت سے بہت کچھ کر سکوگے۔“
”اس کی اتنی اہمیت کیا ہے جناب؟“
”یہی تو رونا ہے۔ کسی چیز کی اہمیت کو سمجھنے میں ہماری قوم بہت دیر کردیتی ہے۔“ مسعود صاحب نے افسردگی سے کہا۔ ”سر سید کی بات بھی لوگوںکی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ ہندوﺅں نے بہ کثرت آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا۔ ان کے پاس قابل افسروں کی کمی نہیں اور یہاں نرے اندھوں میں لاٹھی والے اندھے راجا بنے بیٹھے ہیں۔ اسی لئے تو جمیل جیسوں کی اتنی اہمیت ہے۔“
”میں آپ سے سی ایس پی آفیسر کی اہمیت کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔“ عبدالحق نے انہیں ٹوکا۔
”دیکھو، میں اللہ کی دی ہوئی عقل کی روشنی میں دور تک دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔“ مسعود صاحب نے پر خیال لہجے میں کہا۔“ اس خطے پر انگریزوں کے چھوڑے ہوئے اثرات شاید پوری طرح کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ میرا دعوا ہے کہ کم از کم سو سال تک تو اس انتظامی ڈھانچے میں اور انگریزوں کے بنائے ہوئے قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔“
”کیوں نہیں ہوگی۔ کم از کم پاکستان میں تو اسلامی نظام قائم ہوگا۔“
”نعروں پر مت جاﺅ۔ نعرے محض کوئی مقصد حاصل کرنے کےلئے ہوتے ہیں۔ اب میں وجہ بھی بتا دوں۔ اب اس ملک میں وکیلوں کی تعداد کتنی ہوگی اور وہ سب تعزیرات ہند کے تحت تعلیم حاصل کرکے وکیل بنے ہیں۔ یہ قانون نہ رہا تو وہ وکیل بھی نہیں رہیں گے اور یہ مسئلہ اور بھی بہت سارے پیشوں کے ساتھ ہے۔ تو یہ تبدیلی آئی بھی تو صدیوں میں آئے گی۔ اب میں تمہیں بتاﺅں کہ انگریز Direct governance کی بجائے Indirect governance کے قائل تھے۔ ان کے انتظامی ڈھانچے میں بیورو کریسی کی بڑی اہمیت تھیءاور میں اس کا حصہ رہا ہوں۔ پاکستان ہمیں جس پوزیشن میں ملا ہے، اس میں اس کا جیسے تیسے چلنا بھی آسان نہیں۔ اس وقت افراتفری کا یہ حال ہے کہ سمت کا نہ کسی کو خیال ہے، نہ ہوش۔ پہلی ترجیح ملک کے نظم و نسق کو نارمل انداز میں چلانا ہے۔ ہم اس وقت ایک نوزائیدہ قوم ہیں، شیر خوار بچے کی طرح۔ سب سے پہلے تو ہمیں Survive کرنا ہے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ انگریز اور ہندو دونوں یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان بہت جلد ایک ناکام ریاست ثابت ہوجائے گا لیکن مجھ جیسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ملک اللہ کے حکم سے بنا ہے۔ اس کا قیام کسی بڑے مقصد کے تحت ہے، اس لئے یہ قائم رہے گا۔ ہمیں یہ یقین ہے کہ یہاں سو سال تک حکمراں بیورو کریسی کے محتاج ہوں گے۔ اصل حکومت بیورو کریسی کی ہوگی۔ میری یہ بات آج لکھ لو کہ بیورو کریسی پاکستان سے مخلص اور ایماندار ہوئی تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔ دوسری صورت میں تم سمجھ سکتے ہو۔“ انہوں نے گہری سانس لی۔ ”اور میں یہاں اکیلا نہیں ہوں۔ میرے ہم خیال افسران کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے۔ ہم ہندوستان سے آنے والوں کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں اور ان میں سے اہل لوگوں کو چن رہے ہیں۔ اس ملک کو ایسے افسروں کی ضرورت ہے، جو یہاں تنظیم نو کا کام کرسکیں۔ ہم بے ایمان، خود غرض اور مفاد پرست لوگوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف وہ بھی ہم سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک جہاد ہے۔ ورنہ میں واقعی استعفیٰ دے دیتا۔ میں نے کہا نا کہ یہ ملازمت میری معاشی ضرورت نہیں لیکن اگر میں ہٹ جاﺅں اور میری جگہ کوئی کرپٹ آدمی آجائے تو یہ بڑا نقصان ہوگا اور میں اپنی انا کی خاطر یہ حماقت کروں تو مجھ سے بڑا خود غرض کوئی نہیں ہوگا۔“
عبدالحق کی آنکھیں کھل گئیں۔ یہ تو وہ جانتا تھا کہ حسن دین، عرفان احمد اور مسعود احمد خان بہت اچھے انسان ہیں لیکن اب اسے ان کی عظمت کا اندازہ ہو رہا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے قد سے بہت بڑے کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ وہ ایک ملک کی تعمیر نو کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور اس میں ان کا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا۔
”آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“
”صاف لفظوں میں تو کہہ چکا ہوں۔ تم یہاں آجاﺅ۔ تعلیم مکمل کرو۔ سرکاری ملازمت کرو۔ پھر مقابلے کے امتحان میں بیٹھ جاﺅ اور افسر بن کر ہمارے اس مشن پر کام کرو۔“
”اور واضح لفظوں میں بتایئے کہ آپ کا مشن کیا ہے؟“
”بے ایمانی، رشوت ستانی اور ہر طرح کے کرپشن کو روکنا اور ختم کرنا، اس ٹوٹے پھوٹے ملک کو مستحکم کرنا اور زخموں سے چور، لٹی پٹی قوم کے زخموں پر مرہم رکھنا اور مظلوموں کی دادرسی کرنا۔“
”یہ کام تو میں ویسے بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔“
”مجھے معلوم ہے مگر وہ بہت چھوٹا کینوس ہے۔ میں تمہیں ایک بہت بڑے منظر کی طرف بلا رہا ہوں۔“
”لیکن میں اپنے گاﺅں کےلئے بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں....“
”میرے بارے میں!“ عبدالحق کے لہجے میں حیرت تھی۔
”ہاں میاں، آج تمہیں دیکھ کر اپنی جوانی یاد آگئی“ افضال صاحب نے آہ بھر کے کہا۔ ”خاندانی لگتے ہو۔ ضرور کسی بڑے گھر کے ہو۔“
”پیسے کی افراط دیکھ کر کہہ رہے ہیں؟“ عبدالحق نے آزردگی سے پوچھا۔
”نہیں میاں، پیسہ تو اب یہاں، ان لوگوں کے پاس بھی ہے، جنہیں بات کرنے کی تمیز نہیں۔“ افضال صاحب نے جلدی سے کہا۔ ”میں تو تمہارا انداز، تمہارے طور طریقے دیکھ کر رشک کررہا تھا۔ میں نے تم سے جو کردار ادا کرنے کو کہا، وہ تو تم واقعتاً ہو۔ تمہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم نواب زادے نہیں ہو۔ دہی سخاوت اور دریادلی، وہی وقار....“
”لیکن اس کے باوجود جو کچھ آگے مجھے کرنا ہے، وہ میرے لئے بہت مشکل ہے۔“
”یہ اضافی خوبیاں ہیں۔ یعنی نیک اور شریف بھی ہو۔“
ویٹر استری کئے ہوئے کپڑے لے آیا۔ ”آپ اب نہادھوکر تیار ہوجائیں“ عبدالحق نے افضال صاحب سے کہا۔ پھر وہ کھڑکی کے پاس گیا اور باہر جھانکا۔ خوب سجی ہوئی بگھی ان کیلئے تیار تھی۔
........x........
عبدالحق افضال صاحب کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ شیروانی پہن کر وہ بہت وجیہہ لگ رہے تھے۔ ایسی شخصیت تھی ان کی کہ آدمی کی بات کرنے کی بھی ہمت نہ ہو۔ وہ سوچنے لگا کہ لباس سے آدمی کی شخصیت پر کتنا اثرپڑتا ہے۔ اس نے نوٹوں کی خاصی موٹی گڈی ان کے حوالے کردی۔ افضال صاحب وہ لیتے ہوئے ایک لمحے کو جھجکے۔ وہ باہر نکلے اور بگھی میں جابیٹھے۔ کوچ بان اب بہت زیادہ مودب ہوگیا تھا۔ یقینا وہ افضال صاحب سے مرعوب ہوا تھا۔ ”اب بتاﺅ باﺅجی، کہاں جانا ہے؟ “ اس نے عبدالحق سے پوچھا۔
لیکن جواب افضال صاحب نے دیا۔ اب مرکزی کردار انہیں ادا کرنا تھا۔ ”شاہی بازار چلو میاں“
کوچ بان کو یہ اندازہ پہلے ہی سے تھا۔
افضال صاحب نے بگھی عین اس کوٹھے کے سامنے رکوائی، جہاں زرینہ کو دیکھا تھا۔ ”اب بس تمہیں میرے اشاروں پر چلنا ہوگا۔ ”انہوں نے سرگوشی میں عبدالحق سے کہا۔ ”تم یہیں بیٹھے رہو۔“ یہ کہہ کر وہ بگھی سے اترے اور پان کی دکان کی طرف چل دیئے۔
عبدالحق غور سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ پہلی بار ان کی چال ڈھال سے یہ اعتماد جھلکتا نظر آیا تھا۔ پھر اسے احساس ہوا کہ بازار میں تقریباً سبھی لوگ ان کی طرف متوجہ ہوگئے ہیں۔ ایک تو وہ سجی ہوئی خوبصورت بگھی، اس پر افضال صاحب کا لباس اور ان کی شخصیت، یہ سب کچھ ان کے منصوبے کے عین مطابق ہورہا تھا۔ اگلے چند منٹوں میں کئی لوگ اس کی طرف آئے۔ آﺅ باﺅجی.... تمہیں پرستان لے چلوں۔ باﺅجی نئی نئی کلیاں بھی ہیں۔ وہ سب اپنی اپنی ہانک رہے تھے، اور اس چکر میں تھے کہ اسے گھیر کر لے جائیں۔ عبدالحق نے جواب کسی کو نہیں دیا۔ بس منہ پھیرلیا۔ یہ اس منظرنامے کا وہ حصہ تھا، جس میں اسے اداکاری کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کا ردعمل قدرتی تھا۔