Google
 

:: 12 عشق کا شین
اس کی طرف سے مایوس ہوکر وہ لوگ افضال صاحب کو تاکنے لگے۔
افضال صاحب کا پان کی اس دکان پر جانا بھی بے سبب نہیں تھا۔ پان کی یہ دکان اس بالاخانے پر جانے والے زینے کے ساتھ تھی، جس پر انہوں نے زرینہ کو دیکھا تھا۔ اور بگھی رکوانے کے بعد بھی وہ چند منٹ بگھی میں ہی بیٹھے رہے تھے۔ انداز ایسا تھا، جیسے گردوپیش کا جائزہ لے رہے ہوں، اور ہچکچارہے ہوں کہ وہاں اتریں یا نہ اتریں۔ مگر درحقیقت وہ کن انکھیوں سے اس کوٹھے کو دیکھ رہے تھے۔ اس وقت زرینہ تو وہاں موجود نہیں تھی۔ مگر دوسری لڑکیاں بگھی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ پھر انہوں نے ایک لڑکی کو اندر جاتے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے وہ ایک ادھیڑ عمر عورت کے ساتھ کوٹھے پر آئی۔ ادھیڑ عمر عورت نے ایک نظر انہیں اور بگھی کو دیکھا اور پلٹ کرچلی گئی۔ افضال صاحب سمجھ گئے کہ تیر کارگر ہوا ہے۔ تب وہ بگھی سے اترے۔
اس وقت بھی وہ پان بنانے کا کہنے کے بعد کن انکھیوں سے اس زینے کو دیکھ رہے تھے۔ ادھر ادھر سے آنے والے دلالوں کو وہ جھڑک رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ زرینہ کے کوٹھے سے کوئی ان کے پاس ضرور آئے گا۔
ان کا اندازہ درست ثابت ہوا۔ اس زینے سے ایک شخص اترا۔ مگر ان سے رابطہ کرنے کے بجائے وہ ذرا فاصلے پر کھڑا ہوگیا۔ افضال صاحب نے دیکھا، وہ روایتی دلال نہیں لگ رہا تھا۔ گویا انہیں توقع کے مطابق خصوصی اہمیت دی جارہی تھی۔ کوٹھے سے خاصے نستعلیق آدمی کو بھیجا گیا تھا۔
وہ پان لے کر پلٹے اور بگھی کی طرف بڑھے۔ اسی وقت کوٹھے سے اترنے والے شخص نے دھیمی آواز میں انہیں پکارا۔ ”حضرت، ذرا سنئے....“
افضال صاحب رکے اور اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ ”جی.... فرمائیے“
”اوپر، بائی جی آپ کو بلارہی ہیں“ اس نے آنکھ سے کوٹھے کی طرف اشارہ کیا۔
”ضروری تو نہیں کہ ہم جائیں بھی۔“ افضال صاحب نے ذرا تیکھے لہجے میں کہا۔
”ان کی التجا ہے۔ لیکن مرضی تو آپ کی ہی چلے گی۔ ویسے میں یہ عرض ضرور کروں گا کہ پورے بازار میں آپ کو بائی جی کے بالاخانے جیسا ماحول کہیں نہیں ملے گا۔“
”اچھا“ افضال صاحب نے لفظ کو ذرا کھینچتے ہوئے کہا۔ ”مگر ہم ایک بات بتادیں۔ ہم یہاں صرف اپنے سب سے چھوٹے بھائی کی خاطر آئے ہیں۔“ انہوں نے بگھی میں بیٹھے عبدالحق کی طرف اشارہ کیا۔ ”ورنہ ہم بازار آنا پسند نہیں کرتے۔ یہ لڑکا بہت شرمیلا ہے اور ہم اس کے شرمیلے پن سے عاجز آچکے ہیں۔ اس کی جھجک دور کرنے کی یہی ایک صورت سجھائی دی تھی۔ ورنہ تو میاں، ہم وہ پیاسے ہیں، جس کے پاس ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے خود چل کر آتے ہیں۔“
”ہماری بائی جی نے یہ بات سمجھ کر ہی مجھے بھیجا ہے آپ کی پیشوائی کیلئے۔“
”اور ہمیں عزت بہت عزیز ہے۔ اور انکار سننے کے بھی ہم عادی نہیں۔ اپنی بائی جی سے ایک بار جاکر پوچھ آﺅ“
”جو حکم سرکارکا“۔ اس شخص نے کہا اور الٹے پاﺅں کوٹھے کی طرف چلا گیا۔
افضال صاحب وہیں کھڑے رہے۔ دو منٹ بعد ہی وہ شخص واپس آگیا۔ ”بائی جی کہتی ہیں کہ آپ کی عزت وتکریم میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اور وہ کہتی ہیں کہ کنیزوں کو انکار کرنا زیب نہیں دیتا۔“
افضال صاحب نے عبدالحق کو آنے کا اشارہ کیا....
........x........
سب کچھ منصوبے کے عین مطابق ہورہا تھا۔ بائی جی تو ان لوگوں کے آگے بچھی جارہی تھیں۔ ان کی تواضع تو افضال صاحب نے ردکردی تھی۔ ”تمہارے پاس پان موجود ہیں۔“ انہوں نے بڑی بے نیازی سے کہا تھا۔
”تو لڑکیوں کو بلواﺅں۔“
”ایسے نہیں۔ ہمارے نزدیک ان لڑکیوں کی بھی عزت ہے۔“ افضال صاحب نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔ ”انہیں بکاﺅ مال سمجھ کر ہم ان کی عزت کم کریں گے تو ان سے خوشی بھی نہیں پاسکیں گے۔ اور ہم یہاں خوشی کیلئے آئے ہیں۔“
”سبحان اللہ“ بائی جی نے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ”ایک عمر ہوگئی کوٹھے پر۔ آپ جیسا وضع دار آدمی آج تک نہیں دیکھا۔ تو پھر آپ ہی بتائیے۔“
”آپ ہمیں لڑکیاں ایسے دکھائیں کہ لڑکیوں کو پتا نہ چلے۔ پھر منتخب ہم کرلیں گے۔“ افضال صاحب نے کہا۔ اب وہ نروس ہورہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ زرینہ نے انہیں دیکھ اور پہچان لیا تو ان سے لپٹ جائے گی اور معاملہ خراب ہوجائے گا۔ حالانکہ موجودہ وضع قطع میں اس بات کا امکان بہت کم تھا۔ وہ تو آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر خود کو بھی نہیں پہچان سکے تھے۔ مگر وہ ذرا سا خطرہ بھی مول لینا نہیں چاہتے تھے۔
بائی جی نے اس کا اہتمام بھی کردیا۔ افضال صاحب اور عبدالحق نے بغیر کسی دشواری کے زرینہ کو منتخب کرلیا۔
”اب آپ ان لڑکیوں کو واپس بھیج دیجئے۔“ افضال صاحب نے کہا۔ پھر بائی جی کو ایک الگ گوشے میں لے گئے اور سرگوشیوں میں اسے سمجھایا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
”یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ اہتمام صرف لڑکیوں کی خواب گاہوں میں ہی ممکن ہے۔ اور ویسے بھی آپ لوگوں کے شایان شان وہی کمرے ہیں۔ لیکن نواب صاحب، آپ نے اپنے لئے کچھ پسند نہیں فرمایا۔“
”ہم تو یہاں صرف بھائی کی خاطر آئے ہیں۔ ورنہ ہم تو اپنا شوق اپنے گھر میں ہی پورا کرنے کے قائل ہیں۔“
”تو کبھی دل چاہے تو ہمیں پکارلیجئے گا“ بائی جی نے بڑی لگاوٹ سے کہا۔
”کہاں کچھ کررہے ہو تم؟ یہاں اس کیمپ میں بے کار زندگی گزار رہے ہو، جہاں سے فرسٹریشن کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ مایویسی اور تھکن کا شکار ہوجاﺅ گے“ ”کچھ ذاتی قرض بھی تو ادا کرنے ہوتے ہیں۔“ عبدالحق نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔
”قومی فرض کے سامنے ذاتی قرض کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ خیر .... کچھ دن بعد میں تمہیں ایک بہت بڑی خوش خبری سناﺅں گا۔ پھر بات کریں گے۔“
عبدالحق وہاں سے اٹھ آیا۔ اس رات وہ دیر تک اس بارے میں سوچتا رہا۔ تعلیم تو اسے ویسے بھی مکمل کرنا تھی۔ اور مسعود صاحب کی باتیں بھی ایسی نہیں تھیں کہ انہیں نظر انداز کیا جاتا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ وہ نور بانو کو کیا منہ دکھائے گا۔ کیا جواب دے گا۔ اتنی بڑی شرمندگی تو وہ نہیں اٹھا سکتا۔
............٭٭٭................
دو دن بعد مسعود صاحب کی ہر بات ثابت ہوگئی۔ جمیل کا ٹرانسفر ہوگیا۔ مسعود صاحب کی کامیابی گو مکمل نہیں تھی۔ لیکن ان کی اہمیت بہرحال ثابت ہوگئی۔ وہ جمیل کو نکلوا نہیں سکے۔ لیکن اس تبادلے میں جمیل کی بڑی خفت ہوئی۔ دو دن سے وہ مسعود صاحب کے خلاف ڈینگیں مارتا پھر رہاتھا۔ لیکن بالآخر اسے کیمپ سے رخصت ہونا پڑا۔
عبدالحق کی سمجھ میں اب مسعود صاحب کی ہر بات آگئی تھی۔ کرپٹ لوگوں کی تعداد بہرحال زیادہ تھی، اور جمیل والے معاملے سے ثابت ہوتا تھا کہ ایماندار افسران پر ان کا پلّہ کچھ بھاری ہے۔ اس کے باوجود مسعود صاحب جیسوں کا دم غنیمت تھا۔ ورنہ جمیل نے کہا تھا کہ اس کے اتنے بڑے افسروں سے تعلقات ہیں، جن کے سامنے مسعود صاحب کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس کے باوجود مسعود صاحب نے جمیل کو اپنے کیمپ میں نہیں رہنے دیا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ مسعود صاحب اپنے سے بڑوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔ ان کے پاس بے غرضی اور ایمان داری کی قوت تھی۔
رات کو حمید کے پاس بیٹھا تھا افضال صاحب کیمپ میں اِدھر ا_±دھر گھوم رہے تھے۔ حمید نے کہا۔ ”بڑے صاحب نے تو کمال کردیا۔“
عبدالحق جانتا تھا کہ مسعود صاحب کو بڑے صاحب کہا جاتاہے۔ ”کیا کمال کردیا انہوں نے ؟“ اس تجاہلِ عارفانہ سے کام لیا۔
”ارے .... تمہیں نہیں پتا؟ جمیل کا تبادلہ ہوگیا!“
”تو اس میں کمال کیا ہے۔ اصولاً تو اسے برخواست ہونا چاہئے تھا“
”اس کا تبادلہ بھی معمولی بات نہیں۔ اب دیکھو بابوجی، بحال تووہ ہوگیا تھا نا۔ اس کے تعلقات ہی ایسے ہیں۔ لیکن بڑے صاحب نے پھر بھی اسے اس کی اوقات یاد دلا دی۔“
عبدالحق کو مجید، نعمان اور نذیر کی گفتگو یاد تھی۔ بلکہ وہ ان سے پوچھنا چاہتا تھا کہ جمیل کے اتنے بڑے افسروں سے تعلقات کیوں اور کیسے ہیں، لیکن حمید نے ہی آنکھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا۔ اس نے حمید کو یاد دلاتے ہوئے کہا۔ ”اس رات تم نے مجھے پوچھنے سے کیوں روکا تھا“؟
”وہ مجید ہے نا، وہ جمیل کا ہی آدمی ہے۔“
”تو پھر؟“
”اس وقت مناسب نہیں تھا۔“ حمید نے اسے ایسے سمجھایا، جیسے وہ چھوٹا سا بچہ ہو۔ ”اس وقت جمیل یہاں موجود تھا۔ میں تمہارا مزاج سمجھتا ہوں بابو صاحب۔ تم ضرور اس کے راستے میں رکاوٹ بنتے، اور نقصان تمہارا ہی ہوتا۔“
”تو تمہیں معلوم ہے کہ جمیل کے اتنے بڑے افسروں کے ساتھ تعلقات کس بنیاد پر تھے؟“
”ہاں۔ مگر عافیت اسی میں تھی کہ انجان بنا رہوں۔“
”تو اب تو مجھے بتا دو۔“
حمید اس کے بہت قریب ہوگیا، پھر اِدھر ا_±دھر دیکھتے ہوئے سرگوشی میں بولا۔ ”جمیل بڑے بڑے افسروں کو لڑکیاں سپلائی کرتا تھا۔“
عبدالحق کا تو دماغ بھک سے اڑگیا۔ لڑکیاں سپلائی! اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ کالج کے ہوسٹل میں رہنے والے لڑکے کبھی اس طرح کی بات کرتے تھے .... یار، آج وہ انڈے سپلائی کرنے والا نہیں آیا۔ ناشتہ بھی ڈھنگ کا نصیب نہیں ہوا۔ مگر لڑکیاں .... لڑکیاں بھی سپلائی کی جاسکتی ہیں؟ کیا وہ کوئی جنس ہیں، جو دکانوں سے ملتی ہو، یا بیکری میں بنتی ہو۔ یہ بات اس نے حمید سے بھی کہہ دی۔
”ابھی بچے ہو بابو صاحب۔ ارے لڑکیوں کی یہاں کیا کمی۔ ہر طرف کئی پتنگوں کی طرح اڑتی ہوئی مل جاتی ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں تو اپنے اس کیمپ میں ہی ہیں۔“
”لیکن بھائی، لڑکیوں کی سپلائی۔“ عبدالحق کی سمجھ میں اب بھی کچھ نہیں آرہا تھا۔ ”کیا اچار ڈالا جاتا ہے لڑکیوں کا۔“ اچانک اسے خیال آیا کہ ممکن ہے، گھروں میں کام کرنے کے لئے لڑکیوں کی ضرورت پڑتی ہو۔ یہاں لڑکیوں کی کمی نہیں۔ بڑے افسر جمیل سے کہتے ہوں گے اپنی ضرورت، اور جمیل یہاں سے ان کو لڑکیاں فراہم کردیتا ہوگا۔ اب وہ احسان مند تو ہوتے ہوں گے جمیل کے۔
مگر پھر ایک اور الجھن سامنے آئی۔ حمید تو ایسے بات کررہا تھا جیسے گالی دے رہا ہو .... جیسے لڑکیاں سپلائی کرنا بری بات ہو۔ اور اگر یہ بری بات ہے تو اخلاق جو ہر چیز پر نظر رکھتا ہے، اس نے مسعود صاحب کو یہ اطلاع کیوں نہ دی۔
حمید اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ کہاں پہنچ گئے بابو صاحب ؟“
”میں یہ سوچ رہا ہوں کہ مسعود صاحب نے اس کی روک تھام کیوں نہیں کی؟“
”انہیں پتا ہی کب ہے اس بات کااور کیسے پتا چلتا انہیں؟“
”اخلاق سے۔ اخلاق کو تو سب معلوم ہوتا ہے۔“
”لیکن اخلاق آدمی کا بچہ ہے۔ رات کو سوتا بھی ہے۔“
”تو جمیل یہ کام رات کو کرتا تھا۔“
”تو اور کیا دن میں کرے گا۔ تم بھی کام کرتے ہو بابو صاحب۔“
”لیکن رات کو تو گھروں میں کام نہیں ہوتے۔ رات کو لڑکیاں کیا کرتی ہوں گی۔“
اب حمید کی الجھنے کی باری تھی۔ ”تم کسِ کام کی بات کررہے ہو بابوجی؟“
”یہی گھر کے اوپر کے کام .... جھاڑو دے دی، برتن دھو دیئے ....“
حمید نے بہت زور سے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔ ”ابے بابو صاحب، تم بے وقوف ہو یا مجھے بے وقوف بنا رہے ہو۔ جوان آدمی ہو۔ ارے یہ جو پاکستان بنا ہے تو وہاں سے تو آنے ولے بچے بھی بالغ ہوگئے ہیں۔ کیا کیا کچھ دیکھا ہے معصوم آنکھوں نے تمہیں کچھ بھی نہیں پتا۔ تمہیں نہیں معلوم کہ رات کے اندھیرے میں لڑکیاں کس لئے سپلائی کی جاتی ہیں۔“ اب حمید کو غصہ آرہا تھا۔ ”ارے تم نے کچھ نہیں دیکھا کیا؟ کیا ماں کے پیٹ سے سیدھے یہاں چلے آئے ہو۔ ارے یہاں تو ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ بھی اس دکھ کو سمجھتا ہے۔“ بالکل اچانک ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
عبدالحق بوکھلا گیا اور اسے سینے سے لپٹا کر چپ کرانے لگا۔ ”مجھ سے خفا کیوں ہوتے ہو حمید بھائی۔ میں واقعی بے وقوف ہوں۔“
”تم سے کہاں خفا ہوں۔ خود سے خفا ہوں۔ زندگی سے خفا ہوں۔ ساری دنیا سے خفا ہوں۔“ حمید روئے جارہا تھا۔ ”میری بہن تھی.... بہت پیاری تھی مجھے۔ پاکستان آتے ہوئے ٹرین پر حملہ ہوا۔ ظالموں نے میری آنکھوں کے سامنے....“ اس سے جملہ پورا نہیں کیا گیا۔ ”بہنیں تو غیرت ہوتی ہیں بھائیوں کی۔ میں نہتا ہی ان سے بھڑگیا۔ کسی نے میرے پیٹ کو چیر دیا۔ میں گرگیا، اور میری آنکھوں کے سامنے میری بہن لٹ گئی۔ میں لاشوں میں دبنے کی وجہ سے بچ گیا۔ اسپتال میں انہیں میرے ہاتھ باندھنے پڑے۔ کیونکہ میں اپنے زخم کو نوچ کر خراب کرلیتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ زخم ٹھیک ہو۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ میں زندہ رہوں۔ آج بھی بہن یاد آتی ہے تو میں اس زخم کو نوچتا ہوں .... یہ دیکھو۔“ اس نے پیٹ پر سے قمیض اٹھائی۔ وہ کوئی دس گیارہ انچ لمبا زخم کا نشان تھا۔ زخم مندمل ہوچکا تھا۔ لیکن اس کے ارد گرد کئی کھرنڈتھے .... کچھ کچے، کچھ پکے۔ ’تم نہیں جانتے بابو صاحب یہ لڑکیاں کیا ہوتی ہیں۔ تمہاری کوئی بہن ہے؟“
”نہیں۔“ عبدالحق کی آواز رندھ گئی۔
” تو پھر تم کیسے سمجھ سکتے ہو۔ میں سمجھاتا ہوں۔ یہ معصوم چڑیاں ہوتی ہیں .... ایک آنگن میں رہنے والی .... بہت نازک .... ننھے ننھے سے دل، جو ذرا سی بات پر بری طرح دھڑکنے لگتے ہیں۔ باپ کے پاﺅں دبانے والی، ماں کا ہاتھ بٹانے والی، بھائی کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھنے والی۔ جن کے ماں باپ اور بھائی ان کے لئے اچھے گھر میں وداع ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ یہ آنگن میں پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں، یہ معصوم بہنیں، جنہیں باپ اور بھائی کے سوا کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ وہ نہیں جانتیں کہ باہر کی دنیا کیسی ہے۔ دو ٹانکوں پر چلنے والے درندے کیسے ہوتے ہیں۔ پاکستان بنا تو ہماری بہنوں نے وہ وحشی درندے بھی دیکھ لئے، جنہیں انسان نہیں کہا جاسکتا۔ میں نے اپنی بہن کو جس طرح لٹتے اور مرتے دیکھا، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ مجھے بہت غم تھا، بہت دکھ تھا اس کا۔ مگر میں دوسروں کی بہنوں کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا کہ چلو ہم تو لٹ گئے، لیکن یہ تو خیریت سے پاکستان آگئیں .... درندوں اور درندگی سے دور۔ میں سوچتا، میری بہن معصوم تھی، معصوم ہی مری۔ اچھا ہوا، مرگئی۔ انشااللہ شہید کا مرتبہ پائے گی اللہ کے ہاں۔ اس کا جسم توڑ پھوڑ دیا۔ کاٹ پیٹ دیا ظالموں نے۔ لیکن اس کی معصومیت تو سلامت رہی۔ مگر پھر میں نے یہاں جو کچھ دیکھا تو اپنی بہن کا غم بھول گیا۔ یہاں جو ہورہا ہے، وہ اس سے بہت براہے یہاں تو اپنے مسلمان بھائی ہیں۔ لیکن نہیں، یہ مسلمان کیسے ہوسکتے ہیں۔ صرف کلمہ پڑھنے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا۔ بابو صاحب، تم یہ بھی نہیں جانتے ہوگے کہ یہ کیسے ہوتے ہیں۔ میں بتاتا ہوں، جو اپنے کسی بھی فائدے کی خاطر کسی کی بیٹی، کسی کی بہن، کسی کی بہو کو لے جاکر کسی درندے کے سامنے ڈال دے، اور یقین کرو بابو صاحب، ان سے بری کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں ہوسکتی۔ یہ تو ان مشرک درندوں سے بھی برے ہیں جنہوں نے مسلمان عورتوں کی عزتیں لوٹیں۔ کیونکہ وہ مسلمان عورتوں کی معصومیت نہیں لوٹ سکے، انہیں گناہ گار نہیں کرسکے۔ جبکہ یہ ۔ یہ کام بھی کرتے ہیں۔ جمیل یہاں سے معصوم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر، کوئی فریب دے کر، کوئی لالچ دے کر رات کو کسی افسر کی خواب گاہ میں پہنچا دیتا تھا۔ پھر میں صبح کو، دن میں، ان لڑکیوں کو روتے دیکھتا تھاتو خوش ہوتا تھا کہ معصومیت محفوظ ہے۔ مگر پھر وہ دوبارہ بھی چلی جاتی تھیں۔ پھر واپس آتی تھیں تو نہ آنسو ہوتے تھے، نہ افسردگی۔ اور بعد میں تو وہ جمیل کی خوشامدیں کرنے لگتی تھیں۔ تو صاحب، آنگن کی بھولی بھالی چڑیوں کو میں نے لہو لہان بھی دیکھا اور پھر انڈے ڈبل روٹی کی طرح ان کی سپلائی ہوتے بھی دیکھی .... یہاں، اسی پاکستان میں۔“
عبدالق اس کی آواز بھی سنتا رہا تھا۔ لیکن وہ دہلی والے گھر میں تھا، جہاں اس نے ماں جی کی، بوا کی، اور دو معصوم لڑکیوں کی برہنہ، خون میں نہائی ہوئی لاشیں دیکھی تھیں۔ اور اس کی سمجھ میں سب کچھ آگیا تھا۔ اسے بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔ یہ پاکستان ہے .... اور یہ مسلمان ہیں واقعی حمید نے سچ کہا، یہ تو مشرکوں سے بھی بدتر ہیں۔ جمیل جیسے بھی اور ان افسروں جیسے بھی، جو معصوم اور بے سہارا لڑکیوں کو اپنی ہوس کے لئے استعمال کررہے ہیں اسے نہیں معلوم تھا کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر عبدالحق نے کہا۔ ”یہ بات تمہیں مسعود صاحب کو بتا دینی چاہئے تھی۔“
”مجھے ابھی چند روز پہلے ہی تو معلوم ہوا ہے۔ پھر میں سوچتا رہا کہ بتاﺅں یا نہ بتاﺅں۔ اپنے بڑے صاحب جیسے لوگ اس پاکستان میں بڑی نعمت ہیں۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے شکایت کی تو ہم ان سے بھی محروم ہوجائیں گے۔ یہ جمیل جیسے لوگ بہت گھٹیا، بہت خطرناک ہوتے ہیں۔ اور پھر اس کے تعلقات بھی بہت بڑے لوگوں سے ہیں۔ اب دیکھ لو کہ بڑے صاحب اسے برخواست نہیں کراسکے۔ بس تبادلے پر بات ٹلی اور پھر یہاں ایک جمیل ہی تو نہیں، اور بھی بہت ہوں گے اس جیسے۔“
”لیکن ایسے لوگوں کو کم نہیں کیا گیا تو یہ بڑھتے رہیں گے۔“
”میرے خیال میں اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی طاقت کم نہ ہو۔“
اسی وقت افضال صاحب آگئے۔ ان کی گفتگو رک گئی۔
”افضال صاحب کل سے میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔“ عبدالحق نے افضال صاحب سے کہا۔
”کیوں بھئی؟“
”مجھے بھی کسی کی تلاش ہے۔“
”ضرور چلنا۔ مگر ٹانگوں کی تھکن کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ کھوئے ہوئے تو بس اللہ کے حکم سے ملتے ہیں۔“
”آپ کو بھی تو آپ کے بچھڑے ہوﺅں میں سے کوئی نہیں ملا۔ پھر بھی آپ ہر روز کوشش کرتے ہیں۔“
”کوشش کرنا تو ہمارا کام ہے نا۔ آگے اللہ کی مرضی۔“
زبیر نے عبدالحق سے کہا۔ ”مالک ....سانجھ ہوگئی ہے۔ ہمیں روزہ بھی کھولنا ہے۔“
”ابھی کچھ وقت ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”دیکھو.... شاید کوئی مناسب جگہ نظر آجائے۔“
وہ چلتے رہے۔ کوئی پندرہ منٹ بعد انہیں کچھ فاصلے پر کھجوروں کے درختوں کا ایک چھوٹا سا جھنڈ نظر آیا۔ ”چلو.... یہاں افطار کریں گے۔“ عبدالحق نے خوش ہو کر کہا۔
سب سے زیادہ خوشی نور بانو کو ہوئی تھی۔ اس سفر نے اس کا برا حال کردیا تھا۔ اس کے انجر پنجر ڈھیلے ہوگئے تھے۔ جسم پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ اترنے کے بعد وہ اپنے پیروں پر بھی کھڑی ہوسکے گی۔
وہ درختوں کے قریب پہنچے تو انہیں درختوں کے درمیان ایک جھونپڑی نظر آئی۔ ”لگتا ہے، ہم یہاں رات بھی گزار سکیں گے۔“ عبدالحق نے کہا۔
انہوں نے وہاں پڑاﺅ ڈالا۔ اونٹوں کو درختوں سے باندھ دیا گیا۔ نور بانو ریت پر بیٹھ گئی تھی۔ رابعہ سامان اتروانے میں زبیر کی مدد کر رہی تھی۔ عبدالحق یہ دیکھنے کی غرض سے جھونپڑی کی طرف بڑھا کہ وہ آباد ہے یا نہیں۔
اسی وقت جھونپڑی کے اندر سے لرزتی تڑپتی ہوئی آواز ابھری۔ ”ارے.... یہ تو میرے چھوٹے ٹھاکر کے قدموں کی چاپ ہے۔ ارے.... کیا میرا چھوٹا ٹھاکر آگیا.... میرا چھوٹا ٹھاکر.... اے اللہ....“
عبدالحق کے پاﺅں جیسے زمین نے پکڑ لئے۔ وہ قدم اٹھانا بھول گیا۔ اس کی نظریں جھونپڑی کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں۔ وہ آواز سب نے سنی تھی۔ نور بانو اپنی بے آرامی اور تھکن بھول گئی۔ وہ بھی اٹھ کر جھونپڑی کی سمت چلی۔
اسی لمحے دروازے سے ایک بوڑھی عورت تیز مگر لڑکھڑا تے قدموں سے نکلی۔ اس کے استخوانی وجود میں ہڈیوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ”اے اللہ، تیرا شکر ہے۔ میرا چھوٹا ٹھاکر آگیا۔ کہاں ہو تم چھوٹے ٹھاکر؟“
عبدالحق اپنی جگہ بت بنا کھڑا تھا۔ وہ سب اس کےلئے اتنا اچانک اور غیر متوقع تھا کہ وہ سانس لینا بھی بھول گیا۔ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ مگر کوئی آواز نہیں تھی۔
بوڑھی عورت ہاتھوں سے ادھر ادھر ٹٹول رہی تھی۔ ”نہیں.... مجھے دھوکہ نہیں ہوسکتا۔ میرا چھوٹا ٹھاکر یہیں کہیں ہے۔ چھوٹے ٹھاکر، تم بولتے کیوں نہیں۔“
عبدالحق کے ہونٹ پھر لرزنے لگے.... مگر بے آواز۔ نور بانو بھی وہیں کھڑی تھی۔
بوڑھی عورت ایک طرف لپکی اور کھجور کے ایک درخت سے ٹکرا کر گر گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ زمین نے جیسے عبدالحق کے پیروں کو اپنی گرفت سے آزاد کردیا۔ وہ بوڑھی عورت کی طرف جھپٹا جو کھڑی ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے اسے اٹھایا اور لپٹالیا۔ پھر وہ دیوانہ وار اس کی پیشانی چومنے لگا۔ ”ہاں اماں، یہ میں ہی ہوں۔ اماں .... چوٹ تو نہیں لگی تمہیں؟“
بوڑھی عورت بڑی بے یقینی سے اس کے چہرے کو اپنی کانپتی انگلیوں سے چھو رہی تھی۔ ”چوٹ .... کون سی چوٹ؟ میں تو ہر دکھ بھول گئی اپنا، چھوٹے ٹھاکر، تم آگئے تو سب کچھ دھل گیا، میرے چھوٹے ٹھاکر۔“
”اب تو مجھے ایسے نہ پکارو اماں۔ اب میں عبدالحق ہوں۔“ عبدالحق نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
اور حمیدہ ایک دم ساکت ہوگئی۔ عبدالحق کے چہرے پر اس کا ہاتھ جہاں تھا، وہی رہ گیا۔ اس نے یوں سر اٹھایا، جیسے اس کا چہرہ تک رہی ہو.... یا جیسے اس کے کہے ہوئے لفظوں کی بازگشت سننے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر اس نے لرزتی آواز میں کہا۔ ”کیا کہا تم نے؟ ذرا پھر سے کہنا پتر“
”اماں، اب مجھے کبھی ٹھاکر نہ کہنا۔ اب میرا نام عبدالحق ہے۔“
”تم ....تم مسلمان ہوگئے....؟
”ہاں اماں۔ الحمد للہ۔ اللہ کا شکر ہے۔“
حمیدہ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور آنچل پھیلا کر بکھرتی ہوئی آواز میں بولی۔ ”اے اللہ، شکر ہے تیرا۔ اے اللہ تو نے میرے دودھ کی لاج رکھ لی۔“ پھر وہ عبدالحق سے لپٹ گئی اور ایسے رونے لگی، جیسے اب کبھی چپ نہیں ہوگی۔
نور بانو بوڑھی عورت کی بات سن کر حیرت سے سن ہو کر رہ گئی تھی۔ حالانکہ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ بوڑھی عورت نے وہ الفاظ کہے ہیں۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اس کی سماعت کا وہم ہے۔ وہ پاگلوں کی طرح ایک بات سوچے جارہی تھی .... کیا چھوٹے ٹھاکر نے اس مسلمان عورت کا دودھ پیا تھا۔
زبیر کی پکار نے اس منظر کو تبدیل کردیا۔ ”مالک.... سورج ڈوب گیا ہے۔“
حمیدہ چونکی۔”اے.... یہ تو رگھو کی آواز ہے۔“
”رگھو نہیں اماں، اب وہ زبیر ہے اور رنجنا کا نام اب رابعہ ہے۔“ عبدالحق نے کہا اور نرمی سے حمیدہ کو خود سے الگ کیا۔ ”تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں اماں۔ مگر افطار کا وقت ہوگیا ہے اور مجھے اذان بھی دینی ہے۔“
چند لمحے بعد اس مردہ گاﺅں کی فضا میں اذان کی آواز گونج رہی تھی، جہاں پہلے کبھی مسجد بھی نہیں تھی۔ جہاں صرف تین مسلمان رہتے تھے اور وہاں اذان دینے کا اعزاز ٹھاکر پرتاپ سنگھ کے بیٹے عبدالحق کو حاصل ہورہا تھا جبکہ اسے اسلام قبول کئے صرف تین دن ہوئے تھے۔
٭ ٭ ٭
باتیں کرنے کا موقع ملنا آسان نہیں تھا۔ وہ ایسا بے سرو سامانی کا عالم تھا کہ انہیں پہلے اس کی فکر کرنی تھی۔ جھونپڑی میں ایک چارپائی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر فی الوقت کچھ کیا بھی نہیں جاسکتا تھا۔
مغرب اور عشا کے درمیان زیادہ فاصلہ نہیں ہوتا۔ عبدالحق نے عشا کی اذان دی۔ نماز کے بعد انہیں سونے کی فکر ہوئی۔ سفری تھکن نے نور بانو کو ایسا نڈھال کردیا تھا کہ وہ بیٹھے بیٹھے جھوم رہی تھی۔
”منجھلی بی بی چارپائی پر سوجائیں گی۔“ رابعہ بولی۔
”ہاں، یہ ٹھیک ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔
”نہیں۔ یہ ناممکن ہے۔“ نوربانو نے کہا۔ ”ہم اندر سونے والے تو فرش پر بھی سو جائیں گے۔ چارپائی باہر والوں کو ملنی چاہئے۔“
ان کی خوش قسمتی تھی کہ رابعہ نے سامان میں بستر بھی رکھ لیا تھا۔ ان کے پاس ایک بڑا بستر بند تھا، جس میں گدے، لحاف، چادریں اور تکئے تھے۔ یوں ان کا بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔ چار پائی باہر لاکر بچھادی گئی۔ اندر حمیدہ، نوربانو اور رابعہ کے بستر بچھ گئے۔ زبیر نے اپنا بستر کھجور کے درخت کے پاس بچھالیا۔
تھوڑی ہی دیر میں عبدالحق اور حمیدہ کے سوا سب لوگ سوگئے۔
عبدالحق حمیدہ کو باہر لے آیا اور چارپائی پر بٹھادیا۔ وہ خود اس کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ ”اب ہم خوب باتیں کریں گے اماں۔“
لیکن حمیدہ دہل گئی۔ ”تم نیچے کیوں بیٹھے ہو چھوٹے....“ وہ کہتے کہتے رک گئی۔
”اچھا ہوا اماں کہ تم نے جملہ پورا نہیں کیا۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”اللہ کا شکر ہے اماں کہ ٹھاکری ختم ہوگئی۔ اب میں تمہارا بیٹا ہوں اور تم میری ماں ہو اور جہاں میں بیٹھا ہوں، وہی میرا مقام ہے۔“
دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں سے شروع کریں۔ ان کی گفتگو ترتیب سے محروم تھی۔ البتہ دونوں کےلئے نکتہ_؟ آغاز ایک ہی تھا۔ وہ لمحہ جب وہ آخری بار ملے تھے.... بچھڑنے کےلئے۔ جب پہلی بار حمیدہ نے ماں بن کر اسے وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا تھا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ پڑھائی مکمل کرکے واپس آئے گا، تو وہ اسے ملے گی۔ کس یقین سے کہا تھا اس نے .... اور اس وقت کے اوتار سنگھ نے اس پر ویسا ہی یقین کیا تھا۔
”تم پر کیا گزری اماں؟“ عبدالحق نے پوچھا۔
”مجھ پر کیا گزری؟ کچھ بھی نہیں۔ اللہ کی رحمت تھی۔ گاﺅں کے گاﺅں مٹ گئے مگر اللہ نے مجھے بچالیا اور تمہارے جانے کے ذرادیر بعد ہی آندھی آئی تھی۔ میں تمہاری طرف سے ڈرتی رہی مگر نجانے کیسے دل کو اطمینان ہوگیا کہ تم خیریت سے ہو۔“
”مجھے بھی بس اللہ نے بچالیا اماں۔ ورنہ میں ریت میں دب رہا تھا۔ سانس بھی نہیں لی جارہی تھی مجھ سے۔“ عبدالحق کو اب بھی وہ منظر یاد آیا تو اس کے جسم میں تھرتھری دوڑ گئی۔ ”پر اماں، تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا۔“
”رب کی امانت تھی پتر، جب تک رہی، اس کی مہربانی، جب اس کی مرضی ہوئی، واپس لے لی۔ مگر جان بخش دی اس نے.... تمہارے لئے۔ اور اس کا شکر ہے کہ آج اس نے یہ دن دکھایا۔ تمہیں مجھ سے ملایا۔“
”پر آنکھوں کو ہوا کیا اماں؟“
”ہونا کیا تھا۔ رب نے کرم کیا۔ جس ریت کے نیچے گاﺅں کے گاﺅں دب گئے، اس کے سامنے میری کیا بساط تھی۔ بس جیسے وہ ساری کی ساری میری آنکھوں میں بھر گئی۔ نظر تو کچھ نہیں آتا پر اب بھی کبھی کبھی آنکھوں میں کھٹک ہوتی ہے۔ اللہ کا شکر ہے پتر۔“
عبدالحق کو اس پر پیار آگیا۔ اس نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگالیا۔ کیسی شکر گزار تھیں اماں۔
”تم نے یہاں اکیلے اتنے برس کیسے گزار دیئے اماں؟“
”میں کہاں گزار سکتی تھی۔ رب نے گزر وادیئے۔“ حمیدہ نے شکر گزاری سے کہا۔ ”میں تو پریشان تھی۔ آنکھوں سے محروم ہوگئی تھی۔ وقت کا بھی کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ پھر ایک اللہ کا بندہ میرے پاس آیا۔ بولا.... یہاں کیسے جیو گی۔ چلو تمہیں اللہ کی رحمت کے سائے میں لے چلوں۔ میں نے کہا.... مجھے کسی کا انتظار ہے....اور اس کی امانتیں بھی سنبھالے بیٹھی ہوں۔ وہ بولا.... امانتیں بھی محفوظ ہیں۔ بس تم چلو بہت اصرار سے وہ مجھے یہاں لے آیا۔ کہنے لگا.... سر چھپانے کو یہ چھت ہے۔ سونے کےلئے چارپائی، کھانے کےلئے کھجوریں اور یہ پانی کا گھڑا بھی رکھا ہے اور کیا چاہئے تمہیں۔ میں نے کہا .... پانی ختم ہوجائے گا تو میں اندھی کہاں پانی ڈھونڈتی پھروں گی۔ وہ ہنس کر بولا .... پانی کبھی ختم نہیں ہوگا۔ بس .... اس دن سے میں یہاں ہوں۔ بھوک لگتی ہے تو درختوں کے نیچے ٹپکی ہوئی کھجوریں کھاتی ہوں۔ گھڑے میں پانی کبھی کم نہیں ہوتا۔ اللہ کی مہربانی ہے۔ تمہارا انتظار تھا۔ تم بھی آگئے۔ اللہ کا شکر ہے۔“
”اور وہ آدمی کہاں گیا؟“
”اس دن کے بعد میں نے کبھی اس کی آواز بھی نہیں سنی۔“
”تم نے کتنی تکلیف اٹھائی ہے اماں۔“
”کوئی تکلیف نہیں تھی پتر۔ بس وقت کا پتا نہیں چلتا تھا۔ پرندوں کے شور سے صبح اور شام کا اندازہ ہوجاتا تھا۔ اندازے سے نماز پڑھتی تھی۔ پتا نہیں، کتنی غلط نمازیں پڑھی ہوں گی میں نے۔ اللہ معاف کرے اور مہینوں کا تو پتا ہی نہیں چلتا تھا۔ اب یہ دیکھ لو، مجھے نہیں معلوم تھا کہ رمضان آگئے ہیں۔ نجانے کتنے روزوں سے محروم رہی میں۔“ وہ رونے لگی۔ ”اور وقت کٹتا ہی نہیں تھا۔“
عبدالحق کا دل کٹنے لگا۔ واقعی، وہ کیسی روح فرسا تنہائی ہوگی، جس سے اماں گزری تھیں۔
”مجھے بتاﺅ تو، تمہیں گئے کتنے برس ہوگئے؟“
”دو سال ہوگئے اماں۔“
”صرف دو سال۔“ حمیدہ کے لہجے میں حیرت بھی تھی اور اذیت بھی۔“ مجھے تو وہ دس بیس سال پرانی بات لگتی ہے۔“
عبدالحق اس بات کو سمجھ سکتا تھا۔
”اچھا پتر، اب تم سوجاﺅ۔“ حمیدہ نے کہا اور اندر چلی گئی۔
عبدالحق لیٹ گیا۔ تھکن بہت زیادہ تھی۔ جسم کو آرام ملا۔ مگر نیند نہیں آئی۔ اس رات کلمہ پڑھنے کے بعد جو اسے نیند آئی تھی تو اس کے بعد اب تک وہ ایک لمحے کےلئے بھی نہیں سو سکا تھا۔ اور یہ بھی نہیں کہ اسے نیند کی کمی کا احساس ستاتا ہو۔ وہ تازہ دم ہی رہتا تھا۔ گھڑی اس کے پاس تھی۔ سحری کے وقت اس نے سب کو جگا دیا۔
٭ ٭ ٭
پہلا مرحلہ اس جگہ کو زندگی گزارنے کے قابل بنانا تھا۔ ضروری تھا کہ رہنے کےلئے ایک گھر بنایا جائے۔ مگر اس سے زیادہ ضروری اس بات کا خیال رکھنا تھا کہ وہ گھر اپنے گاﺅں کی .... اپنی زمین پر بنایا جائے۔
فجر کے بعد عبدالحق ،زبیر کے ساتھ اس جستجو میں نکلا۔ بظاہر تو وہاں کہیں کوئی نشانی نظر نہیںآرہی تھی مگر تلاش کرنے پر ایک اونچے ٹیلے کے پیچھے حویلی کے آثار نظر آگئے۔ آثار کیا، وہ ایک منڈیر سی تھی لیکن ان کی پہچان کےلئے کافی تھی اور وہ آثار بھی اس ٹیلے کی وجہ سے نمایاں ہوئے تھے۔ وہاں سے ریت نے اڑ اڑ کر ٹیلے کی شکل اختیار کی تھی اور جہاں سے ریت اڑی تھی، وہاں چھت کی منڈیر نمایاں تھی۔
اسے دیکھ کر عبدالحق کو ایسی بے قراری ہوئی کہ وہ خود بھی حیران رہ گیا۔ جی چاہتا تھا کہ ہاتھوں سے زمین کھود کر نیچے اتر جائے۔ مگر وہ جانتا تھا کہ اس طرح یہ ممکن نہیں۔
بہرحال حویلی کے حوالے سے پورے گاﺅں کا نقشہ ان دونوں کو یاد تھا۔ وہاں کھڑے ہو کر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا۔ وہ دونوں حیران رہ گئے۔ اماں کی جھونپڑی عین اس جگہ تھی جہاں ان کی یاد داشت کے مطابق گاﺅں کا مرکز تھا۔
عبدالحق نے یہ بات زبیر سے کہی۔ زبیر نے اس کی تائید کی۔ حیرت اس بات کی تھی کہ کھجوروں کا وہ جھنڈ اچانک کہاں سے آگیا۔ ”زبیر....یہ اللہ کی قدرت ہے۔ اس کی رحمت ہے ورنہ تو اماں کے بچنے کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں مالک۔“
”بس.... اب ہمیں شہر چلنا چاہئے۔“
اس بار وہ جے پور کی مخالف سمت میں گئے۔ راستے میں انہیں کئی چھوٹے چھوٹے گاﺅں ملے۔ وہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ہندو بڑی تعداد میں اپنے گھر چھوڑ گئے تھے اور جو موجود تھے، وہ عافیت میں رہ رہے تھے۔
Updated on 15 May 08 at 10:23 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.