Google
 

:: 13 عشق کا شین
انہوں نے پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ ان کی ضرورت شہر میں ہی پوری ہوسکتی ہے اور شہر زیادہ دور بھی نہیں ہے اور وہ قریب ترین شہر صادق آباد تھا!
٭ ٭ ٭
پہلا دن تو صرف جھونپڑیاں کھڑی کرنے میں گزر گیا۔ دو جھونپڑیاں ان کے اپنے لئے تھیں اور دو راج مزدوروں کےلئے۔ عبدالحق نے حمیدہ سے اس کی جھونپڑی خالی کرنے کی اجازت لے لی تھی۔
اگلے روز عبدالحق نے راج کو تفصیل سے بتایا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ مسجد کےلئے اس نے اماں کی جھونپڑی والا مقام منتخب کیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے اندازے کے مطابق وہ گاﺅں کا وسطی مقام تھا لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ اللہ نے ایک بہت بڑی آفت کے دوران اس مقام پر اماں کےلئے اپنی رحمت کا دامن پھیلایا تھا۔
”صاحب.... یہاں مسجد کی ضرورت کہاں ہے؟“ راج نے اعتراض کیا۔
عبدالحق نے اسے یوں دیکھا، جیسے اس کی ناسمجھی پر حیران ہو رہا ہو۔ ”کیوں؟ یہاں مسلمان نہیں رہتے؟“
”آپ دو ہی تو آدمی ہیں یہاں۔“
”مگر نماز تو پڑھیں گے۔“
راج شرمندہ ہوگیا۔ ”پر اتنی بڑی مسجد!“
”دیکھو.... انشاءاللہ یہ گاﺅں آباد ہوگا۔ میں چاہتا ہوں، یہاں پہلی بنیاد ایک مسجد کی رکھی جائے اور میں بڑی مسجد کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ میں اس کےلئے اتنی جگہ چھوڑنا چاہتا ہوں کہ بعد میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی جاسکے۔“
”ٹھیک ہے صاحب۔ مگر مال دور سے آئے گا۔ خرچا بہت ہوگا۔“
”خرچے کی تم پروا مت کرو۔ بس عید سے پہلے کام مکمل ہوجائے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”اب تم مکان کےلئے جگہ دیکھ لو۔“
راج پیمائش میں مصروف ہوگیا۔ کچھ مزدوروں کو مال کےلئے شہر بھیج دیا گیا۔
اذان کی آواز تو ان کی آمد کے ساتھ ہی گونج چکی تھی۔ اب وہاں باجماعت نماز ہونے لگی۔ اگلے روز سے تعمیر کا کام بھی شروع ہوگیا۔
٭ ٭ ٭
نور بانو کےلئے وہ بالکل نئی اور مختلف زندگی تھی۔ اس نے خواب میں بھی اس زندگی کا تصور نہیں کیا تھا۔ وہ ایک عجیب عالم حیرت میں جی رہی تھی۔ پہلی رات تو اسے لگتا تھا کہ وہ سو ہی نہیں سکے گی۔ نیچے فرش پر وہ کبھی سوئی ہی نہیں تھی۔ اب سونا تھا اور وہ بھی اونٹ پر طویل اور تکلیف دہ سفر کے بعد، جس میں تھکن اور درد اس کی ہڈیوں میں سرایت کر گیا تھا اور اسے لگتا تھا کہ اس کے جسم کا ایک ایک جوڑا الگ ہوگیا ہے۔
لیکن سونے کےلئے لیٹنا تو تھا اور عجیب بات یہ ہوئی کہ لیٹتے ہی وہ سو گئی اور وہ ایسی بے خبر نیند تھی .... ایسی لذت والی نیند کہ رابعہ کے جھنجھوڑنے پر بھی سحری میں اس کی آنکھ نہیں کھل رہی تھی۔
اس کےلئے وہ تبدیلی بہت بڑی، بالکل مکمل اور یکسر تھی۔ اس نے آنکھ کھولنے کے بعد بس گھر کی چار دیواری دیکھی تھی۔ گھر سے باہر کی دنیا کا اس کے پاس بے حد محدود سا تصور تھا۔ پہلے تو اس سفر نے ہی اس کی آنکھیں کھول دیں۔ یہ احساس الگ تھا کہ وہ ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلی آئی ہے۔ اللہ کی زمین اتنی بڑی ہے۔ اتنی وسیع، یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
اگلے روز سویرے ہی عبدالحق اور زبیر کہیں چلے گئے۔ وہ رابعہ کو قرآن پڑھانے بیٹھ گئی۔ اماں بھی اس کے پاس بیٹھی سن رہی تھیں۔
قرآن پڑھنے کے بعد رابعہ نے کہا۔ ”آﺅ منجھلی بی بی، ذرا باہر چل کر دیکھیں۔“
نور بانو ہچکچارہی تھی۔ دل تو چاہ رہا تھا باہر جانے کا۔
”یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں دیکھنے والا۔ چلیں چادر لپیٹ لیں اچھی طرح۔“
وہ رابعہ کے ساتھ باہر نکل آئی۔
باہر آکر پہلا ردعمل یہ ہوا کہ اس کا دل گھبرانے لگا۔ اپنا وجود اسے بہت چھوٹا، بہت حقیر لگنے لگا۔ کھجور کے درختوں کے جھنڈ سے باہر حد نظر تک ریت اور آسمان کے سوا کچھ بھی نہیں تھا اور وہ منظر اتنا بڑا، اتنا وسیع تھا کہ انسان کی بے بضاعتی کا احساس دلاتا تھا۔
پھر اسے ڈر لگنے لگا۔ وہاں وہ بس تین عورتیں ہی تو ہیں۔ کوئی آجائے تو۔ اس نے یہ بات رابعہ سے کہہ دی۔
”کوئی نہیں آتا منجھلی بی بی۔ آئیں....“
نوربانو کو ایسا لگ رہا تھا کہ اب اسے از سر نو زندگی گزارنا سیکھنا ہوگا۔ وہ دیکھتی رہی۔ رابعہ نے درختوں کے جھنڈ میں ہوا کے رخ سے ہٹ کر مٹی کا بہت خوبصورت چولہا بنایا۔ اسے بہت اچھا لگا۔
عبدالحق اور زبیر واپس آئے تو ان کے ساتھ راج مزدور تھے۔ اس کے علاوہ وہ کھانے پینے کا سامان اور جلانے کےلئے لکڑی بھی لائے تھے۔ ان کے آتے ہی نور بانو جھونپڑی میں جا گھسی۔ رابعہ باہر کام میں مصروف رہی۔
ذرا دیر بعد حمیدہ نے پکارا۔ ”نوربانو .... دھیئے.... ذرا عبدالحق کو تو بلالا“
”میں کیسے جاﺅں اماں۔ باہر مرد ہیں۔“ نوربانو نے کہا۔ ”سن دھیئے، میں کوئی پڑھی لکھی نہیں ہوں، دین کا بھی کچھ علم نہیں ہے مجھے۔ پر زندگی کی سمجھ ہے مجھے۔ دین پردے کے نام پر عورت کو قید نہیں کرتا۔ دین میں آسانی ہے، مشکل نہیں۔ عورت کے باہر نکلنے پر پابندی نہیں۔ پابندی ہے تو بس نفس کےلئے۔ عورت کےلئے باہر نکلنے کی پابندی نہیں بس وہ اپنی نمائش نہ کرے۔“
نوربانو یہ سب کچھ جانتی تھی مگر وہ جس ماحول میں رہی تھی، اس میں یہ پابندیاں تھیں۔ وہ دین کا علم حاصل کرتی رہی تھی۔ اس کو علم تھا کہ اسلام کے ابتدائی دور کی عورتیں علم حدیث حاصل بھی کرتی تھیں اور ا س کی تعلیم بھی دیتی تھیں .... اور وہ بھی صرف عورتوں کو نہیں۔ مرد بھی ان سے علم حاصل کرنے آتے تھے اور ان سے سند لے کر جاتے تھے لیکن وہ جس معاشرت میں رہی تھی، اس کے یہی تقاضے تھے اور وہ اس کی عادت بن چکے تھے۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”لیکن اماں، مجھے اچھا نہیں لگتا۔“
”دیکھ بیٹی۔ تو شہر میں رہتی تھی نا۔ یہاں گاﺅں کی زندگی کا تجھے کچھ پتا نہیں۔ یہاں عورت کی ذمے داری صرف گھر سنبھالنا نہیں۔ یہاں کبھی اسے کھیتوں میں بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ ڈنگر بھی چرانے پڑتے ہیں۔ اب مجھے نہیں معلوم، تجھے یہاں رہنا ہے یا نہیں۔ لیکن آدمی پر خدانخواستہ وقت تو کہیں بھی پڑ سکتا ہے.... گاﺅں میں بھی اور شہر میں بھی۔ میں چاہتی ہوں ، تو اس کےلئے خود کو بدل لے۔ بس چادر میں خود کو اچھی طرح چھپالے۔ پھر بھی دل نہ مانے تو اسی چادر سے آدھے چہرے کو بھی چھپالے۔ جا .... جاکر عبدالحق کو بلالا۔“
نور بانو نے خود کو چادر میں پہلے ہی لپیٹا ہوا تھا، اسی چادر کا نقاب بناکر وہ باہر نکلی۔ مگر اس کی ٹانگیں لرز رہی تھیں۔ وہ تو دہلی سے یہاں تک کے سفر نے اس کی جھجھک قدرے کم کردی تھی ورنہ شاید وہ بے ہوش ہی ہو جاتی۔
نوربانو نے رابعہ سے اس خونی رات کی پوری کہانی، پوری تفصیل کے ساتھ سن لی تھی۔ سنتے ہوئے چند ایک باتیں تو اسے دھندلی دھندلی سی یاد آئیں، جیسے وہ پہلے بھی سن چکی ہو۔ پھر رابعہ نے بھی کہا کہ یہ باتیں تو وہ پہلے بھی بتاچکی ہے۔ اس سے نوربانو کی سمجھ میں آیا کہ وہ اس وقت کس کیفیت میں ہوگی۔ صورتحال ہی ایسی تھی کہ وہ بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئی تھی۔
بہرحال اب سب کچھ شعور میں آگیا تھا۔ اب کوئی بات خود سے چھپی نہیں تھی۔ اس سے پہلے اسے آخری بات جو یاد تھی، وہ اپنی بہنوں کی خون میں نہائی ہوئی بے لباس لاشیں دیکھنا تھا۔ اس کے بعد وہ گھبرا کر بستروں کے بکس میں جا گھسی تھی۔ پھر کوئی آواز سنائی دی تھی اور بکس کھولا گیا تھا۔ اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں تھا۔
رابعہ سے سن کر اس نے کڑیاں ملائیں اور واقعات کو مربوط کرلیا۔ تصویر کچھ اس طرح بنی۔ حملہ آوروں نے گلی کے تمام گھروں کے دروازے باہر سے بند کردیئے تھے۔ زبیر بھائی بھی بے بس تھے۔ ان کی اور رابعہ کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا تھا۔ گھر کے اندر سے ایسی دردناک اور فلک شگاف چیخیں سنائی دے رہی تھیں کہ یقیناً پورا محلہ جاگ اٹھا ہوگا لیکن کسی کو باہر نکل کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی ہوگی۔ کسی نے کوشش بھی کی ہوگی تو بند دروازوں کی وجہ سے کچھ نہیں کرسکا ہوگا۔
پھر جب نیچے سکوت طاری ہوئے کچھ دیر ہوگئی تو عبدالحق کی واپسی ہوئی، گھروں کے دروازے دیکھ کر اسے گڑ بڑ کا احساس ہوا ہوگا۔ اپنے گھر کے بالائی حصے کا دروازہ بھی اسے باہر سے بند ملا۔ البتہ نچلے حصے کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا۔
یہ طے تھا کہ تباہی کے بعد اس گھر میں سب سے پہلے گھسنے والا عبدالحق تھا۔ اندر اسے صرف لاشیں ملیں اور بھنچی بھنچی سسکیوں کی آواز اسے صندوق تک لے گئی۔ پھر وہ وہاں سے نور بانو کو اٹھا کر اوپر لے گیا۔
عبدالحق نے سختی سے کہہ دیا تھا کہ اس لڑکی کی موجودگی کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتایا جائے۔ اس کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے گھر میں یہ لڑکی غیر محفوظ ہوگی اور اگر مسلمانوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ ہمارے ہاں ہے تو وہ اسے یہاں رہنے نہیں دیں گے۔ وہ بہت شرمندہ تھا۔ اس نے ماں جی سے وعدہ کیا تھا کہ جان دے کر بھی ان سب کی حفاظت کرے گا اور وہ اپنا وعدہ پورا نہ کرسکا۔ اب نور بانو اس کےلئے بہت قیمتی تھی۔ وہ محفوظ رہتی تو اس کی شرمندگی کسی حد تک کم ہوتی۔
یہ ہے میری اہمیت۔ چلو، کچھ تو ہے۔ نور بانو نے حسرت سے سوچا۔ پھر اس نے رابعہ سے کہا۔ ”وہاں سب لوگ میرے بارے میں جانتے تھے۔ انہوں نے سوچا تو ہوگا کہ میں کہاں گئی۔“
”ہاں.... عورتوں میں یہ باتیں ہوئی تھیں۔“ رابعہ نے بتایا۔”ایک عورت بولی، اٹھا کے لے گئے ہوں گے موئے اس کو اور یہ بات سب کی سمجھ میں آگئی۔“ یہ سب کچھ سننے کے بعد نور بانو بہت روئی.... دو دن تک روتی رہی۔ وہ تو جانے والوں کا ماتم بھی نہیں کرسکی تھی، سو اب کر رہی تھی۔
مگر تیسرے دن اسے احساس ہوا کہ اس کے سینے پر سے کوئی چٹان سا بوجھ ہٹ گیا ہے۔ کبھی اس نے خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس نہیں کیا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اب باجی کے بارے میں اس کے سوچنے کا انداز مختلف تھا۔ وہ اس کی مظلوم، شہید بہن تھی، رقیب نہیں۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں رہی کہ عبدالحق نے باجی کو دیکھا تھا یا نہیں۔ اور پہلی بار اس نے بغیر کسی اندرونی مزاحمت کے تسلیم کیا کہ عبدالحق کے اس پر بڑے احسانات ہیں۔
وہ دو دن اس کے ایسے گزرے تھے کہ وہ ماضی میں زندہ رہی تھی۔ سچ پوچھو تو اسے اپنا خیال بھی نہیں تھا۔ ایسے میں بس ایک مینو تھا، جو وقتاً فوقتاً اسے ماضی سے حال میں کھینچ لاتا تھا۔ وہ باہر نہیں نکلی تو وہ اس کے کمرے میں چلا آیا اور اس کے پیروں پر سر رگڑنے لگا۔ اس نے چونک کر دیکھا تو اسے بے زبان جانور پر بڑا ترس آیا۔ ارے.... یہ تو بھوکا ہوگا۔ اس نے سوچا۔ اور کسی کے ہاتھ سے تو یہ کچھ کھائے گا بھی نہیں۔ تب وہ اٹھی اور اس نے مینو کو کھلایا مگر پھر مینو اس سے چپک ہی گیا۔ شاید وہ بے زبان جانور کا خوف تھا۔ ایک مالک کو تو وہ کھوچکا تھا۔ اب دوسرے مالک کو نہیں کھونا چاہتا تھا۔ اس لئے اسے نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔
نوربانو نے جو یہ صورتحال دیکھی تو محبت بھرے لہجے میں اسے ڈپٹا۔ ”اے مینو.... یہاں گندگی نہ کرنا۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔“
جواب میں مینو نے میں میں کرکے گویا اسے یقین دلایا کہ ایسا نہیں ہوگا اور واقعی ایسا ہوا بھی نہیں۔
اب اسے احساس ہوا کہ پچھلے دو دن سے اس نے اماں کی خبر بھی نہیں لی، انہیں پوچھا بھی نہیں۔ اس نے چادر اوڑھی اور اماں کے کمرے کی طرف چل دی۔ مینوبھی اس کے پیچھے لگ لیا۔ ”اب تم کیا میرے پیچھے ہی لگے رہو گے؟“ اس نے کہا۔
مینو نے ہلکی سی میں میں کردی، جیسے شرمندہ ہو رہا ہو۔
حمیدہ بہت بے چین اور مضطرب تھی۔ اب تو وہ بس ایک ہی بات سوچتی تھی، کسی طرح عبدالحق کی نوربانو سے شادی ہوجائے۔ وہ دونوں ہی اپنے اپنے دل کی بات اس پر کھول چکے تھے۔ یہ الگ بات کہ ایسا انجانے میں ہوا تھا۔ حمیدہ نے اپنا لائحہ_؟ عمل بھی طے کرلیا تھا۔ ایک طرف وہ عبدالحق کے جلد از جلد لوٹ کر آنے کی دعا کرتی تھی تو دوسری طرف اسے یہ فکر بھی تھی کہ اس کی آمد سے پہلے نور بانو کو ہموار کرلے۔
آنکھیں تو اس کی بالکل ٹھیک ہوگئی تھیں۔ بس کبھی کبھی کھٹک سی ہوتی تھی۔ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ عرق گلاب باقاعدگی سے ڈالتی رہیں تو کچھ دن بعد سب ٹھیک ہوجائےگا۔
نوربانو باقاعدگی سے اس کے پاس آتی تھی۔ وہ اس کی آنکھوں میں عرق گلاب ڈالتی اور پھر دیر تک اس کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سنتی، خود وہ بہت کم بولتی تھی۔ البتہ عبدالحق کا تذکرہ نکلتا تو اس کی آنکھیں چمکنے لگتیں۔
ادھر حمیدہ نے نوربانو سے بات چھیڑنے کا فیصلہ کیا اور ادھر وہ غائب ہوگئی۔ پورا دن ہوگیا اور وہ نہیں آئی۔ دوسری صبح بھی دن چڑھے تک اس کی صورت نظر نہیں آئی تو وہ پریشان ہوگئی۔ اس نے سوچا کہ رابعہ کو آواز دے کر بلائے اور اس سے کہہ کر نوربانو کو بلوائے مگر یہ سوچ کر رہ گئی کہ نجانے کیا بات ہو.... بلوانا مناسب بھی ہو یا نہ ہو۔
دوپہر کو رابعہ خود اس کے پاس چلی آئی۔ ”کیسی ہو اماں؟“
”بس اب دل نہیں لگتا، عبدالحق کے بنا۔“ حمیدہ نے کہا۔ ”خیر تو سنا، کیسی ہے تو؟“
”اچھی ہوں اماں۔ اللہ کا شکر ہے۔“ رابعہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔ اس کی نظریں جھک گئی تھیں۔ چہرہ تمتمانے لگا۔ پھر وہ جھجکتے جھجکتے ہوئے بولی۔ ”اماں، ایک خوش خبری ہے۔“
”تو سنا دے نا۔ خوش خبری سنانے میں کنجوسی نہیںکرتے۔ میں تو کب سے انتظار کر رہی ہوں۔“
رابعہ نے چونک کر سر اٹھایا اور اسے دیکھا۔ وہ مسکرا رہی تھی اور وہ مسکراہٹ بڑی معنی خیز تھی۔ رابعہ نے پھر نظریں جھکالیں۔ ”اماں.... میں ماں بننے والی ہوں۔“
”اللہ مبارک کرے.... نیک اور نصیب والی اولاد عطا فرمائے۔“ حمیدہ نے کہا۔ ”دیکھ تو میں بھی رہی تھی۔ اب اندھی تو نہیں ہوں میں“ پھر اس کے لہجے میں شکایت در آئی۔ ”میں تو یہ سوچ رہی تھی کہ کوئی اپنا سمجھے تو بتائے گا نا۔“
رابعہ تڑپ گئی۔ ”ایسا نہ کہو اماں۔ اب تمہارے اور مالک کے سوا ہمارا ہے کون۔“
”تو پھر خوش خبری سنانے میں اتنی دیر کیوں؟“
بس اماں، شرم آتی تھی مجھے۔“ رابعہ نے نظریں جھکائے جھکائے کہا۔
اس لمحے حمیدہ ایک بیٹی کی تجربہ کار ماں بن گئی۔ حالانکہ وہ سمجھتی تھی کہ اسے وہ سب کچھ یاد ہی نہیں ہے، جو وصال دین کی دادی نے اسے سمجھایا تھا مگر وہ تو کہیں گہرائی میں محفوظ تھا۔ وہ رابعہ کو سمجھانے لگی کہ اسے کیا کرنا چاہئے، کیسے کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے۔ کون کون سا وقت زیادہ نازک ہوتا ہے۔ کن کن حالات معاملات میں احتیاط کرنی ہے۔
رابعہ بڑی توجہ سے سنتی رہی۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
”یہ آنسو کیسے؟“ حمیدہ نے پوچھا۔
”کچھ نہیں اماں، ماتا جی یاد آگئی تھیں۔ وہ ہوتیں تو ایسے ہی سمجھاتیں مجھے۔“
”تمہیں بھی مبارک ہو، محنت تو تم لوگوں کی ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”اب یہاں چرخی بھی لگادینا۔“
راج اور مزدور کام مکمل کرکے رخصت ہونے لگے۔ عبدالحق نے انہیں طے شدہ اجرت سے زیادہ دیا۔ ”میں تو چاہتا ہوں کہ ابھی تم لوگ یہاں اور رکو۔ کام بہت ہے یہاں۔“
راج نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ ”کام کہاں ہے صاحب؟“
”مجھے یہاں اور مکان بنوانے ہیں۔“
”لوگ توہیں نہیں۔ مکان کس کےلئے بنوائیں گے؟“
”لوگ آئیں گے۔ یہ گاﺅں آباد ہوگا۔ تھوڑے ہی دن کی بات ہے۔“
راج اس کی فیاضی اور حسن اخلاق سے بہت متاثر ہوا تھا۔ وہ بولا: ”جب ضرورت ہو صاحب، بلالیجئے گا۔“
”اچھا ہے، ابھی کام کرجاﺅ۔“
”اب تو عید سر پر ہے صاحب۔ سب لوگ عید گھر پر کرنا چاہیں گے۔ میری مانو تو صاحب، آپ لوگ بھی شہر چلو۔ عید کرکے آجانا۔“
عبدالحق نے ایک لمحے کو سوچا۔ پھر نفی میں سر ہلادیا۔ ”تم نے خود ہی تو کہا ہے کہ لوگ عید گھر میں کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہمارا گھر ہے۔“
پر صاحب عید کی نماز کےلئے تو آپ کو شہر ہی آنا ہوگا۔ یہاں تو نہیں ہوسکتی نا۔“
ان کے جانے کے بعد عبدالحق حمیدہ کے پاس گیا۔ اتفاق سے حمیدہ نے بھی وہی بات کہی۔ ”آج کون سا روزہ ہے پتر“۔
”پچیسواں اماں“۔
”اللہ کا شکر ہے۔ اس نے تمہیں عید سے پہلے اپنے کو گھر بھی دے دیا۔ اب کچھ عید کی فکر بھی کرو۔“
”مجھے بتائیں اماں کیا کرنا ہے۔“
”اللہ دے تو عید کے دن بندہ نئے کپڑے پہنے، اچھا کھائے پئے، اللہ کا شکر ادا کرے۔“
”ٹھیک ہے اماں۔ وہ میں کرلوں گا۔“ عبدالحق نے کہا۔ پھر اس نے عید کی نماز کے بارے میں پوچھا۔
”اماں نے بھی وہی کہا جو راج نے کہا تھا۔
اگلا دن یہ حساب لگاتے گزرا کہ انہیں گھر کےلئے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ تیسرے دن عبدالحق شہر گیا۔ وہاں ہر زبان پر ایک ہی بات تھی۔
پاکستان بن گیا ہے، گزشتہ رات ریڈیو پر اناﺅنس ہوا تھا.... اور وہ ریڈیو پاکستان تھا۔
عبدالحق کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ پاکستان ایک خواب تھا، جو جہد مسلسل کے نتیجے میں حقیقت میں تبدیل ہوگیا تھا۔
xxx
حمیدہ ایک ایک چیز کو ٹٹول کر دیکھ رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ عبدالحق نے ہر چیز پر خیال رکھا ہے۔ کپڑے تو سامنے کی بات تھے۔ وہ چوڑیاں، مہندی، رابعہ کےلئے پائل، اور سب کےلئے زیور بھی لایا تھا۔
”تمہیں ان سب چیزوں کا کیسے خیال آیا پتر؟“ اس نے پوچھا۔
عبدالحق نے شرماتے ہوئے کہا۔ ”مجھے تو کچھ بھی نہیں پتا تھا اماں۔ دکاندار سے پوچھا تھا۔“ پھر بولا۔ ”پر تمہارے لئے چوڑیاں نہیں لایا ہوں۔“
”اب اس عمر میں سب کچھ کھو کر چوڑیاں میں کیا پہنوں گی۔“
”ایک بیٹا تو تمہارا زندہ ہے اماں“۔
”اللہ بڑی عمر دے۔ تیرے ہی لئے تو جی رہی ہوں پتر“۔
”تو اماں تمہارے لئے میں کڑے لایا ہوں۔“
”اس کی ضرورت نہیں....“
عبدالحق نے اپنے ہاتھ سے سونے کے وہ کڑے اسے پہنادیئے۔ ”اب اماں، سب لوگوں کو ان کی چیزیں تم دے دینا۔“
اچانک حمیدہ کو خیال آگیا۔ ”پتر، اپنے کپڑے اور جوتے تو تم نے دکھائے نہیں۔“
عبدالحق نے چپ سادھ لی۔
”بولتے کیوں نہیں۔“ حمیدہ نے ذرا خفگی سے کہا۔
”وہ.... یاد ہی نہیں رہا اماں“۔
”یاد نہیں رہا یا جان بوجھ کر....“
عبدالحق نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے جلدی سے کہا۔ ”نہیں اماں، سچ مچ یاد نہیں رہا۔“
”تمہیں یاد نہیں رہا۔ زبیر کےلئے لیتے ہوئے....“
”سب سے پہلے تو اسی کی چیزیں خریدی تھیں اماں۔ میں نے سوچا، سب کے بعد اپنے لئے لوں گا۔ پھر پاکستان بننے کی خوشی میں سب کچھ بھول گیا۔“
”کل جا کر لانا....“
”اب تو جانا مشکل ہے اماں....“
”تو پھر کوئی نئے کپڑے نہیں پہنے گا۔“
”اچھا اماں، دیکھوں گا“
مگر اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ حمیدہ نور بانو اور رابعہ کو ان کی چیزیں دے رہی تھی۔ دبی دبی سسکیوں کی آواز سے وہ چونکی۔ ”ارے.... یہ کون رو رہا ہے؟“
”منجھلی بی بی“۔ رابعہ نے جواب دیا۔
”کیوں، کیا بات ہے؟ حمیدہ نے نور بانو کا ہاتھ تھاما اور اسے محبت سے سہلانے لگی۔
محبت کا لمس پا کر نور بانو پھٹ پڑی۔ وہ اس طرح روئی کہ اس کی ہچکیاں بندھ ہوگئیں۔ حمیدہ اور رابعہ اسے چمکارتی، دلاسے دیتی رہیں۔ نہ رو دھیے، کچھ تو بول۔ کیا بات ہے؟“
ذرا دیر میں نور بانو کا بوجھ ہلکا ہوا۔ ”اماں.... باجی.... سب لوگ یاد آگئے تھے اماں۔ اس نے کہا۔ ”اماں ہمیشہ عید کا اہتمام کرتی تھیں۔ میں نئے کپڑے کیسے پہنوں گی اماں....“
”یہ سوچ کر کہ یہ تمہارے لئے وہ لایا ہے، جو تم سے پہلے ماں باپ سے محروم ہوچکا ہے۔ اس میں اس کی خوشی ہے۔“
نور بانو کی کیفیت ایک دم بدل گئی۔ حیا سے اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ کچھ دیر تو اس سے بولا ہی نہیں گیا۔ ”یہ.... یہ.... یہ وہ لائے ہیں۔“
”ہاں اور ہر چیز کا خیال رکھا اس نے۔ بس اپنے لئے کچھ نہیں لایا۔ کہتا ہے، بھول گیا۔ پر میں سمجھتی ہوں۔ اس کا دل چاہتا ہوگا کہ کوئی اور محبت سے اس کی فکر کرے۔ خود اپنے لئے کچھ کرنے میں اتنا مزہ کہاں۔“
نور بانو کو اچانک اس کے وہ کپڑے یاد آگئے جو اماں نے بڑے اہتمام سے تیار کئے تھے۔ اللہ.... یہ کیسی بات ہے۔ وہ انہیں عید کے موقع پر ملنے تھے۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ ”آپ ان کی فکر نہ کریں اماں۔ میں ابھی آئی“
نور بانو نے بکس کھولا اور وہ کرتے پاجامے نکالے۔ وہ گیارہ جوڑے تھے۔ باجی کا کاڑھا ہوا کرتہ کم تھا۔ اس نے اپنا کاڑھا ہوا کرتہ صندوق میں ہی رہنے دیا اور اماں کے تیار کئے ہوئے دس جوڑے نکال کر حمیدہ کے پاس لے گئی۔
حمیدہ نے ٹٹول کر کپڑوں کو دیکھا اور بولی۔ ”اتنے کپڑے؟“
”یہ.... یہ اماں نے ان کےلئے بڑی محنت سے سیئے تھے۔ اس لئے میں انہیں چھوڑ نہ سکی“۔
”چلو.... وہ خوش ہوجائے گا۔ اسے بن مانگے مل گیا۔ اللہ کا شکر ہے۔“
تھوڑی دیر بعد حمیدہ نے عبدالحق کو بلا کر وہ کپڑے اسے دیئے تو وہ حیران ہوگیا۔ ”یہ اماں جی نے سیے.... میرے لئے“ اس نے بے ساختہ کہا اور کپڑوں کو چومنے لگا۔
خوش قسمتی سے مرد خاصے فاصلے پر زمین کا جائزہ لے رہے تھے۔رابعہ ایک اور چولہا بنانے میں مصروف تھی۔ نور بانو نے اس سے کہا۔ ”سنو .... عبدالحق سے کہو کہ اماں انہیں بلا رہی ہیں۔“
رابعہ اٹھ کر اس طرف چل دی۔
نور بانو سوچنے لگی۔ زندگی اس سے تبدیلیوں کا تقاضہ کررہی ہے۔ اوربنیادی چیز زندگی ہی ہے۔ مزاج اور معاشرت کی تبدیلی آسانی نہیں ہوتی۔ لیکن ناگزیر ہو تو زندگی کی خاطر کرنی پڑتی ہے۔ پھر یہاں تو تبدیلی اسے اچھی لگ رہی تھی۔ چند گھنٹوں میں ہی اسے احساس ہوگیا تھا کہ کھلی فضا میں سانس لینا کتنا خوبصورت ہے۔ ہر سانس کے ساتھ وجود جیسے روشن ہوا جارہا تھا۔
اس نے خود کو سمجھایاکہ حیا آنکھ میں ہوتی ہے، نیت میں ہوتی ہے اور دل کی بے غرضی میں ہوتی ہے اور مستور ہونے میں ہوتی ہے۔ حیا خود کو غائب کرلینے میں نہیں ہوتی۔ مستور ہونا دنیا سے کٹ جانا نہیں ہوتا۔ پردہ ایسا ہو کہ کسی کے لئے ترغیب کا سامان نہ ہو۔
مگر عبدالحق کے معاملے میں یہ ممکن نہیں تھا۔ وہاں اس کا دل بے غرض نہیں تھا۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ وہ بھی اس سے محبت کرے۔ لہٰذا اس کے سامنے جانے کے خیال سے اسے گھبراہٹ ہوتی تھی۔
شام سے پہلے وہ دوسری جھونپڑی میں منتقل ہوگئے۔ جہاں اماں کی جھونپڑی تھی، وہاں عبدالحق نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ نور بانو نے یہ سوچ کر سکون کی سانس لی کہ اب عبدالحق کو کھلے آسمان کے نیچے نہیں سونا پڑے گا۔
مزدوروں کو کام مکمل ہونے تک وہیں رہنا تھا۔ چنانچہ وہاں کھلے آسمان کے نیچے باجماعت نماز ہونے لگی۔ مزدوروں میں دو ایسے تھے، جن کی داڑھی تھی۔ ان میں سے ایک امامت کراتا تھا۔
حمیدہ کےلئے وہ بہت بڑی خوشی تھی۔ ساری عمر وہ اذان کی آواز سننے کو ترستی رہی تھی۔ اس نے ہمیشہ اندازے سے نماز پڑھی تھی۔ اب پانچوں وقت اذان کی آواز سننا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ اس کی آنکھیں بھیگ جاتیں۔ اور وہ اذان کے فوراً بعد نماز کے لئے کھڑی ہوجاتی۔ نمازیں اس کی طویل ہوگئی تھیں۔ سچ یہ تھا کہ پہلے ایسی نماز اس نے کبھی نہیں پڑھی تھی۔ پہلی بار اسے احساس ہورہا تھا کہ آزادی کے ساتھ نماز پڑھنے کا لطف ہی کچھ اور ہے۔
حمیدہ کو نور بانو کے بارے میں اندازہ ہوا کہ وہ باقاعدہ علم دین حاصل کرتی رہی ہے تو اس نے اسے اپنے قریب کرلیا۔ ویسے بھی اسے یہ لڑکی بہت اچھی لگی تھی۔ اسے احساس ہوتا تھا کہ عبدالحق اس لڑکی کو پسند کرتا ہے۔ اگرچہ بظاہر کوئی ایسی بات نہیں تھی۔ لیکن اس معاملے میں عورتوں کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔
XXX
اس روز حمیدہ نے عبدالحق کو اپنے پاس بلا لیا۔ پتر میں چاہتی ہوں کہ عید سے پہلے تمہاری امانتیں تمہارے سپرد کردوں۔“
عبدالحق متجسس ہوگیا۔ اسے یاد تھا، لال آندھی والے دن بھی اماں نے یہی کہا تھا کہ انہیں اس کی امانتوں کی فکر ہے۔ ”اب جلدی کیا ہے اماں۔“
اس نے کہا۔ ”میں آگیا ہوں نا۔“
”جلدی تو ہے پتر۔ کیا پتا، اب ضرورت پڑجائے۔“
عبدالحق کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
”تم مجھے کھجور کے اس درخت کے پاس لے چلو، جو سب سے اونچا ہے۔“
ذرا دیر بعد وہ اس درخت کے پاس کھڑے تھے۔ حمیدہ نے جھک کر درخت کے تنے کو نیچے سے چھوا۔ چند لمحے وہ ٹٹولتی رہی۔ پھر ذرا سا ہٹ کر اس نے زمین پر نشان لگایا۔ ”یہاں کھودنا ہوگا پتر۔ تمہاری امانت یہیں ہے۔“
”میں مزدور کو بلاتا ہوں۔“
”ناپتر.... کسی کو پتا نہ چلے۔ یہ کام تم لوگ .... زبیر سے لے سکتے ہو۔ پر خود ہی کرو تو اچھا ہے“
عبدالحق بحث کرنے والا آدمی نہیں تھا۔ وہ خود ہی اس کام میں لگ گیا۔ اور اسے زیادہ کھودنا نہیں پڑا۔ تھوڑی سی کھدائی کے بعد کدال کسی دھات کی چیز سے ٹکرایا۔ اس نے مٹی ہٹا کر دیکھا۔ وہ کافی بڑا ایک دیگچہ تھا، جس کے اوپر ڈھکن بھی تھا۔
وہ آوازسنتے ہی حمیدہ کے چہرے پر خوشی دوڑ گئی۔ اس سے پہلے اس کے جسم میں تناﺅ تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ چیز یہاں موجود بھی ہوگی یا نہیں۔ ”ہاں .... یہی ہے پتر۔ نکال لو اسے۔“ اس نے سنسنی آمیز لہجے میں کہا۔
دیگچہ نکالنے کے لئے اور ادھر ادھر کی مٹی ہٹانی پڑی۔ بالآخر اس نے دیگچہ نکال لیا۔ ”اب کیا کروں اماں؟“
”اسے کھول کر دیکھو۔ یہ سب تمہارا ہے۔“
”عبدالحق نے دھڑکتے دل کے ساتھ ڈھکنا ہٹایا۔ دیگچے میں ایک بڑی گٹھری تھی۔ ”اس میں گٹھری ہے اماں۔“
”ہاں .... یہ تمہاری امانت ہے۔ حمیدہ نے کہا اور آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہوئے بولی ”تیرا شکر ہے ربا۔ تو نے میرا بوجھ اتار دیا۔
عبدالحق نے گٹھری کو کھولا۔ گٹھری میں کچھ کاغذات تھے اور دو بڑی بڑی پوٹلیاں تھیں۔ اس نے کاغذات اٹھائے اور ان کا جائزہ لیا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ وہ عدالتی کاغذات تھے ان کی رو سے جمال دین نے اپنی تمام زمین، اپنا مکان، سب ٹھاکر اوتار سنگھ کے نام کردیا تھا۔
چند لمحے تو وہ ان کاغذات کو خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا۔ پھر کچھ خیال آیا تو اس نے تاریخ دیکھی۔ وہ اس کےلئے ایک اور مقام حیرت تھا۔ وہ دستاویزات 1932ءکی تھیں۔ یعنی بات یہ نہیں تھی کہ جمال دین نے اپنی موت سے کچھ پہلے وہ سب کچھ اس کے نام کیا تھا۔ یہ اس سے بہت پہلے کی بات تھی۔
”یہ .... یہ سب کیا ہے، ماں؟“ بڑی مشکل سے وہ بولا۔
”سب بتا دوں گی۔ پہلے سب چیزیں دیکھ لو اور مجھے بتا دو۔ مجھے تسلی ہوجائے کہ امانت پوری ہے اور تمہیں مل گئی۔“
عبدالحق نے پوٹلیاں کھولیں۔ مگر اس کا دماغ اب بھی کاغذات میں الجھا ہوا تھا۔ چاچا جمال دین نے یہ سب کچھ اس کے نام کیوں کیا۔ انہیں تو یہ سب کچھ ویرجی کے نام کرنا چاہئے تھا۔
Updated on 15 May 08 at 10:25 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.