اس نے پوٹلیاں کھول کر دیکھا۔ ایک میں نقدی تھی اور دوسری میں سونا اور زیورات۔ رقم بھی بھاری تھی اور سونا بھی کم نہیں تھا۔ وہ تو اچھا خاسا خزانہ تھا۔
”اماں“ اس میں نقدی اور زیورات ہیں.... بہت سارے۔“
”یہ سب تمہارا ہے پتر۔ تمہاری امانت تھی میرے پاس۔ رب سے دعا کرتی تھی کہ امانت لوٹائے بغیر مجھے مرنے نہ دینا“
عبدالحق نے اس کے ہاتھ تھام لئے۔ ”ایسی باتیں نہ کرو اماں۔ اب تمہارے سوا میرا کون ہے۔“ پھر وہ بولا۔ ”لیکن اماں، چاچا نے یہ سب میرے نام کیوں کیا؟ انہیں تو ویر جی کے نام کرنا چاہئے تھا۔“
”اس لئے کہ یہ سب کچھ تمہارا ہی تھا۔ ہمارا اس پر کوئی حق نہیں تھا۔“
”کیسے اماں۔ سمجھاﺅ تو۔“
تب حمیدہ نے اسے سب کچھ بتایا۔ کیسے بڑے ٹھاکر نے دودھ کے صلے میں اپنی زمین اور ہر چیز کا نصف انہیں دیا تھا۔ ”ہم ٹھاکر جی کو انکار تو نہیں کرسکتے تھے نا۔ وصال دین کے ابا نے کہا .... یہ سب کچھ چھوٹے ٹھاکر کا ہے حمیدہ۔ ہم چپکے سے سب کچھ اس کے نام کردیں گے۔ یاد رکھنا حمیدہ یہ سب کچھ چھوٹے ٹھاکر کی امانت ہے میرے پاس۔“
عبدالحق کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ”لیکن پتا جی نے سب کچھ خوشی سے دیا تھا.... آپ کے احسان کے صلے میں۔“
”ہم نے کوئی احسان نہیں کیا تھا پتر۔ تمہیں پہلی بار دیکھا تو دل میں تمہیں دودھ پلانے کی آرزو پیدا ہوئی تھی۔ اس میں تو میری خوشی تھی۔ اور اسے بھی بھول جاﺅ تو بھی وہ بڑے ٹھاکر کے احسان کا صلہ تھا، احسان نہیں۔“
”آپ کس احسان کی بات کررہی ہیں اماں؟“
مجھے تو نہیں معلوم۔ وصال دین کے ابا نے بتایا تھا۔“ حمیدہ نے کہا اور پھر اسے بتایا کہ کیسے وہ لوگ دوسرے گاﺅں میں رہتے تھے اور زمین دارکی نظر جمال دین کی بہن پر تھی۔ اس نے مہاجن کے ذریعے چکر چلایا۔ اور کیسے بڑے ٹھاکر نے وہ قرضہ چکا کر ان کی جان چھڑائی۔ عزت بچائی۔ پھر اپنے گاﺅں میں انہیں زمین دی، عزت اور مرتبہ دیا۔
یہ کیسے احسان ماننے والے لوگ ہیں۔ عبدالحق نے سوچا۔ ”مگراماں،مجھے یہ سب لینا اچھا نہیں لگے گا۔“
”کیوں اچھا نہیں لگے گا؟“ حمیدہ نے خفگی سے کہا۔
”پتا جی کی دی ہوئی چیزیں واپس لے رہا ہوں۔ یہ کوئی اچھی بات ہے۔“
”تم واپس کہاں لے رہے ہو۔ یہ تو وصال دین کے ابا نے تمہیں دیا ہے۔ اور وہ تمہیں اپنے بیٹے سے زیادہ چاہتے تھے۔ تم انکار کیسے کرسکتے ہو۔“ عبدالحق کی کیفیت عجیب تھی۔ اس سے کچھ بولا ہی نہیں جارہا تھا۔
”پھر مان لو کہ یہ سب میرا ہے۔ اب یہ بتاﺅ تمہارے سوا میراکون ہے۔ تم نہ ہوتے تو میں تو موت کی دعا مانگتی۔ اور پتر، موت تو یہاں بن مانگے مل رہی تھی۔ اللہ نے مجھے بچایا۔ صرف تمہارے لئے۔“
عبدالحق کو دل میں تسلیم کرنا پڑا کہ یہ سب سچ ہے۔ اماں کا بچ جانا معجزے سے کم نہیں۔ جہاں گاﺅں کے گاﺅں مٹ گئے، اماں کیسے بچیں۔ اور پھر آنکھوں سے محروم ہونے کے بعد اتنے برسوں کیسے جیتی رہیں۔ یہ کھجور کے درخت کہاں سے آئے۔ گھڑے میں پانی کبھی ختم نہیں ہوتا تھا۔ کیوں ؟ اور اسے یاد تھا، آنے کے بعد تین دن تک اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ گھڑا بھرا ہی رہتا تھا۔ پھر گھڑا خالی ہونے لگا۔ اور اب پانی مسئلہ بن گیا تھا۔
” ٹھیک کہتی ہو اماں۔ میرا بھی تمہارے سوا کون ہے۔“
”بس .... اب تم شادی کرلو۔“
”ارے اماں ....“
”سچ کہتی ہوں پتر۔ یہ نور بانو بہت پیاری لڑکی ہے....“
”تم نے تو اماں اسے دیکھا ہی نہیں....“
”کیوں نہیں دیکھا۔ من کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لیتی ہوں۔ اور وہ تجھ سے پیار بھی کرتی ہے۔“
ایک لمحے کو عبدالحق کا دل جیسے دھڑکنا بھول گیا۔ پھر اس نے افسردگی سے سوچا، اماں تو میری محبت میں کہہ رہی ہیں۔ ورنہ یہ کہاں ممکن ہے .... اس وقت باہر سے زبیر کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔ ”مالک .... جلدی آئیں۔ پانی نکل آیا۔ مالک پانی ....“
عبدالحق نے وہ سب کچھ حمیدہ کے پاس چھوڑا اور باہر لپکا....
XXX
عبدالحق نے جب پہلی بار کنویں کی بات کی تو راج نے کہا۔ ”صاحب.... یہاں پانی کہاں سے آیا۔ یہاں تو ریت ہی ریت ہے۔ مگر عبدالحق کو گاﺅں کی ندی یاد تھی اس نے کہا۔ ”جہاں میں کہوں، وہاں کھدائی کرکے دیکھو۔“
ہر پرانی جگہ کا اندازہ لگانے کےلئے اس کے پاس ایک ہی حوالہ تھا .... حویلی ۔ وہ حویلی کے آثار کے پاس کھڑا ہوکر اندازہ کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ اس کی مطلوبہ جگہ کہاں ہوگی۔ اسی طرح اس نے اماں کے گھر کا اندازہ لگایا تھا۔ وہ اپنے لئے مکان وہیں بنانا چاہتا تھا، جہاں کبھی اماں کا گھر تھا جہاں اس کے چاچا جمال دین اور اس کے ویر جی رہتے تھے۔ اس کے اندر اس بات پر اصرار تھا کہ مکان وہیں بنے۔
لیکن وہیں کیوں، اس نے خود حیرت سے سوچا۔ اصولاً تو اسے ریت میں دفن حویلی پر اپنے نئے گھرکی بنیاد رکھنی چاہئے تھی۔
مگر جواب بھی اسے اپنے اندر سے فوراً ہی ملا تھا۔ اس لئے کہ گاﺅں میں وہی ایک جگہ تو تھی جہاں نماز پڑھی جاتی تھی، قرآن پڑھا جاتا تھا۔اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا۔ اور اس کا دل مطمئن ہوگیا تھا۔
اس طرح اس نے کنویں کی جگہ کا تعین کیا تھا۔ اور اب وہاں سے پانی نکل آیا تھا۔
جہاں کنواں کھودا گیا تھا، وہاں جشن کا سماں تھا۔ تمام مزدور خوشی سے ناچ رہے تھے۔ پانی نکلنے کی خوشی کو صحرا کے باشندوں سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے۔
”آپ نے ٹھیک کہا تھا صاحب“ راج نے اس سے کہا۔ ”پانی نکلا ہے اور وہ بھی میٹھا پانی۔“
عبدالحق نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور بولا۔ ”اللہ کا شکر ہے۔“
”بہت مبارک ہو صاحب۔“
”تمہیں بھی مبارک ہو، محنت تو تم لوگوں کی ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”اب یہاں چرخی بھی لگادینا۔“
راج اور مزدور کام مکمل کرکے رخصت ہونے لگے۔ عبدالحق نے انہیں طے شدہ اجرت سے زیادہ دیا۔ ”میں تو چاہتا ہوں کہ ابھی تم لوگ یہاں اور رکو۔ کام بہت ہے یہاں۔“
راج نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ ”کام کہاں ہے صاحب؟“
”مجھے یہاں اور مکان بنوانے ہیں۔“
”لوگ توہیں نہیں۔ مکان کس کےلئے بنوائیں گے؟“
”لوگ آئیں گے۔ یہ گاﺅں آباد ہوگا۔ تھوڑے ہی دن کی بات ہے۔“
راج اس کی فیاضی اور حسن اخلاق سے بہت متاثر ہوا تھا۔ وہ بولا: ”جب ضرورت ہو صاحب، بلالیجئے گا۔“
”اچھا ہے، ابھی کام کرجاﺅ۔“
”اب تو عید سر پر ہے صاحب۔ سب لوگ عید گھر پر کرنا چاہیں گے۔ میری مانو تو صاحب، آپ لوگ بھی شہر چلو۔ عید کرکے آجانا۔“
عبدالحق نے ایک لمحے کو سوچا۔ پھر نفی میں سر ہلادیا۔ ”تم نے خود ہی تو کہا ہے کہ لوگ عید گھر میں کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہمارا گھر ہے۔“
پر صاحب عید کی نماز کےلئے تو آپ کو شہر ہی آنا ہوگا۔ یہاں تو نہیں ہوسکتی نا۔“
ان کے جانے کے بعد عبدالحق حمیدہ کے پاس گیا۔ اتفاق سے حمیدہ نے بھی وہی بات کہی۔ ”آج کون سا روزہ ہے پتر“۔
”پچیسواں اماں“۔
”اللہ کا شکر ہے۔ اس نے تمہیں عید سے پہلے اپنے کو گھر بھی دے دیا۔ اب کچھ عید کی فکر بھی کرو۔“
”مجھے بتائیں اماں کیا کرنا ہے۔“
”اللہ دے تو عید کے دن بندہ نئے کپڑے پہنے، اچھا کھائے پئے، اللہ کا شکر ادا کرے۔“
”ٹھیک ہے اماں۔ وہ میں کرلوں گا۔“ عبدالحق نے کہا۔ پھر اس نے عید کی نماز کے بارے میں پوچھا۔
”اماں نے بھی وہی کہا جو راج نے کہا تھا۔
اگلا دن یہ حساب لگاتے گزرا کہ انہیں گھر کےلئے کن چیزوں کی ضرورت ہے۔ تیسرے دن عبدالحق شہر گیا۔ وہاں ہر زبان پر ایک ہی بات تھی۔
پاکستان بن گیا ہے، گزشتہ رات ریڈیو پر اناﺅنس ہوا تھا.... اور وہ ریڈیو پاکستان تھا۔
عبدالحق کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ پاکستان ایک خواب تھا، جو جہد مسلسل کے نتیجے میں حقیقت میں تبدیل ہوگیا تھا۔
xxx
حمیدہ ایک ایک چیز کو ٹٹول کر دیکھ رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ عبدالحق نے ہر چیز پر خیال رکھا ہے۔ کپڑے تو سامنے کی بات تھے۔ وہ چوڑیاں، مہندی، رابعہ کےلئے پائل، اور سب کےلئے زیور بھی لایا تھا۔
”تمہیں ان سب چیزوں کا کیسے خیال آیا پتر؟“ اس نے پوچھا۔
عبدالحق نے شرماتے ہوئے کہا۔ ”مجھے تو کچھ بھی نہیں پتا تھا اماں۔ دکاندار سے پوچھا تھا۔“ پھر بولا۔ ”پر تمہارے لئے چوڑیاں نہیں لایا ہوں۔“
”اب اس عمر میں سب کچھ کھو کر چوڑیاں میں کیا پہنوں گی۔“
”ایک بیٹا تو تمہارا زندہ ہے اماں“۔
”اللہ بڑی عمر دے۔ تیرے ہی لئے تو جی رہی ہوں پتر“۔
”تو اماں تمہارے لئے میں کڑے لایا ہوں۔“
”اس کی ضرورت نہیں....“
عبدالحق نے اپنے ہاتھ سے سونے کے وہ کڑے اسے پہنادیئے۔ ”اب اماں، سب لوگوں کو ان کی چیزیں تم دے دینا۔“
اچانک حمیدہ کو خیال آگیا۔ ”پتر، اپنے کپڑے اور جوتے تو تم نے دکھائے نہیں۔“
عبدالحق نے چپ سادھ لی۔
”بولتے کیوں نہیں۔“ حمیدہ نے ذرا خفگی سے کہا۔
”وہ.... یاد ہی نہیں رہا اماں“۔
”یاد نہیں رہا یا جان بوجھ کر....“
عبدالحق نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے جلدی سے کہا۔ ”نہیں اماں، سچ مچ یاد نہیں رہا۔“
”تمہیں یاد نہیں رہا۔ زبیر کےلئے لیتے ہوئے....“
”سب سے پہلے تو اسی کی چیزیں خریدی تھیں اماں۔ میں نے سوچا، سب کے بعد اپنے لئے لوں گا۔ پھر پاکستان بننے کی خوشی میں سب کچھ بھول گیا۔“
”کل جا کر لانا....“
”اب تو جانا مشکل ہے اماں....“
”تو پھر کوئی نئے کپڑے نہیں پہنے گا۔“
”اچھا اماں، دیکھوں گا“
مگر اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ حمیدہ نور بانو اور رابعہ کو ان کی چیزیں دے رہی تھی۔ دبی دبی سسکیوں کی آواز سے وہ چونکی۔ ”ارے.... یہ کون رو رہا ہے؟“
”منجھلی بی بی“۔ رابعہ نے جواب دیا۔
”کیوں، کیا بات ہے؟ حمیدہ نے نور بانو کا ہاتھ تھاما اور اسے محبت سے سہلانے لگی۔
محبت کا لمس پا کر نور بانو پھٹ پڑی۔ وہ اس طرح روئی کہ اس کی ہچکیاں بندھ ہوگئیں۔ حمیدہ اور رابعہ اسے چمکارتی، دلاسے دیتی رہیں۔ نہ رو دھیے، کچھ تو بول۔ کیا بات ہے؟“
ذرا دیر میں نور بانو کا بوجھ ہلکا ہوا۔ ”اماں.... باجی.... سب لوگ یاد آگئے تھے اماں۔ اس نے کہا۔ ”اماں ہمیشہ عید کا اہتمام کرتی تھیں۔ میں نئے کپڑے کیسے پہنوں گی اماں....“
”یہ سوچ کر کہ یہ تمہارے لئے وہ لایا ہے، جو تم سے پہلے ماں باپ سے محروم ہوچکا ہے۔ اس میں اس کی خوشی ہے۔“
نور بانو کی کیفیت ایک دم بدل گئی۔ حیا سے اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔ کچھ دیر تو اس سے بولا ہی نہیں گیا۔ ”یہ.... یہ.... یہ وہ لائے ہیں۔“
”ہاں اور ہر چیز کا خیال رکھا اس نے۔ بس اپنے لئے کچھ نہیں لایا۔ کہتا ہے، بھول گیا۔ پر میں سمجھتی ہوں۔ اس کا دل چاہتا ہوگا کہ کوئی اور محبت سے اس کی فکر کرے۔ خود اپنے لئے کچھ کرنے میں اتنا مزہ کہاں۔“
نور بانو کو اچانک اس کے وہ کپڑے یاد آگئے جو اماں نے بڑے اہتمام سے تیار کئے تھے۔ اللہ.... یہ کیسی بات ہے۔ وہ انہیں عید کے موقع پر ملنے تھے۔ اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ ”آپ ان کی فکر نہ کریں اماں۔ میں ابھی آئی“
نور بانو نے بکس کھولا اور وہ کرتے پاجامے نکالے۔ وہ گیارہ جوڑے تھے۔ باجی کا کاڑھا ہوا کرتہ کم تھا۔ اس نے اپنا کاڑھا ہوا کرتہ صندوق میں ہی رہنے دیا اور اماں کے تیار کئے ہوئے دس جوڑے نکال کر حمیدہ کے پاس لے گئی۔
حمیدہ نے ٹٹول کر کپڑوں کو دیکھا اور بولی۔ ”اتنے کپڑے؟“
”یہ.... یہ اماں نے ان کےلئے بڑی محنت سے سیئے تھے۔ اس لئے میں انہیں چھوڑ نہ سکی“۔
”چلو.... وہ خوش ہوجائے گا۔ اسے بن مانگے مل گیا۔ اللہ کا شکر ہے۔“
تھوڑی دیر بعد حمیدہ نے عبدالحق کو بلا کر وہ کپڑے اسے دیئے تو وہ حیران ہوگیا۔ ”یہ اماں جی نے سیے.... میرے لئے“ اس نے بے ساختہ کہا اور کپڑوں کو چومنے لگا۔
اگلی صبح فجر کے بعد عبدالحق زبیر کے ساتھ مدفون حویلی کی چھت کی منڈیر پر کھڑا تھا کہ دور سے اسے غبار سا اٹھتا دکھائی دیا۔ دیکھتے رہنے پر احساس ہوا کہ غبار آگے کی سمت متحرک ہے۔
وہ پاکستان بننے کے بعد کی پہلی صبح تھی۔ انہیں ٹھیک طرح سے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کی زمین پاکستان میں شامل ہے بھی یا نہیں۔ بس وہ یہ جانتے تھے کہ بابا نے بتایا تھا کہ وہ پاکستان میں ہے۔
اور اب وہ غبار گواہی دیتا تھا کہ اونٹ پر سوار کچھ لوگ اس طرف آرہے ہیں۔ اتنے فاصلے سے یہ اندازہ نہیں کیا جاسکتا تھا کہ ان کی تعداد کیا ہے۔ اور یہ شناخت تو ممکن ہی نہیں تھی کہ وہ دوست ہیں یا دشمن۔
عبدالحق نے زبیر سے کہا۔ ”لاٹھیاں لے آﺅ۔“
زبیر لپکتے قدموں سے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو لاٹھیاں تھیں۔ اس نے ایک لاٹھی عبدالحق کی طرف بڑھادی جو اب بھی غبار پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ ”یہ جو لوگ بھی ہیں، تین اونٹوں پر سوار ہیں“ عبدالحق نے تبصرہ کرنے والے انداز میں کہا۔
زبیر نے غبار کی سمت دیکھا۔ اسے تو ایسا کچھ دکھائی نہیں دیا۔
لیکن چند منٹ بعد عبدالحق کی بات کی تصدیق ہوگئی۔
آنے والوں نے انہیں دیکھا تو ان کے چہروں سے خوف جھلکنے لگا۔ تاہم وہ وہاں رکے بغیر نہ رہ سکے۔ عبدالحق اس کی وجہ سمجھ سکتا تھا۔ ان لوگوں کے چہرے ریت سے اٹے تھے اور وہ نڈھال لگ رہے تھے۔ یہ بات طے تھی کہ انہوں نے رات بھر سفر کیا تھا۔ رات کے وقت صحرا کا سفر بہت ہی خطرناک ہوتا ہے۔ وہاں سمتوں کا پتا تو دن میں بھی نہیں چلتا۔ رات میں تو یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ آدمی ایک چھوٹے سے دائرے میں سفر کررہا ہے اور درحقیقت جہاں تھا، وہیں ہے۔
اب رات بھر سفر کرنے والوں نے صبح ہونے پر دیکھا ہوگا تو چاروں طرف بے نشاں ریت کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا ہوگا۔ اور بھوک پیاس سے ان کا برا حال ہوگا۔ ایسے میں انہیں وہ مکان اور جھونپڑیاں نظر آئی ہوں گی تو ان کے دل میں امید جاگی ہوگی۔ لیکن انہیں ڈر بھی ہوگا۔ بہرحال صحرا میں امید خوف سے بڑی ہوتی ہے۔ کیونکہ صحرا میں بھٹکنے کا مطلب یقینی موت ہوتا ہے۔
وہ لوگ رک تو گئے تھے۔ لیکن انداز ایسا تھا کہ کسی بھی لمحے بھاگ کھڑے ہوں گے۔
”السلام علیکم۔“ عبدالحق نے پرتپاک لہجے میں کہا۔
یہ سنتے ہی ان کے چہروں پر جو سکون نظر آیا، وہ حیران کن بالکل نہیں تھا۔ ”وعلیکم السلام“ انہوں نے کہا۔ ”یہ جگہ پاکستان میں ہے نا؟“
”الحمدللہ“
”اللہ کا شکر ہے“ سب سے بڑے نے کہا۔ ”ہم لوگ یہاں کچھ دیر رک سکتے ہیں۔؟“
”کچھ دیر کیا، آپ جب تک چاہیں، یہاں رہیں“
”چلو نواز.... اترو۔“
وہ تین مرد تھے اور ان کے ساتھ پانچ عورتیں تھیں۔ جس نے بات کی تھی، اس کے ساتھ ایک بوڑھی عورت تھی، جو یقینا اس کی ماں تھی۔ دوسرے دو مردوں کے ساتھ دو عورتیں تھیں۔ ان میں ایک جوان لڑکی تھی.... سولہ سترہ سال کی۔
بات کرنے والے نے اپنی گود میں اٹھاکر بوڑھی عورت کو اتارا۔ لیکن بوڑھی عورت کی ٹانگیں جواب دے گئیں۔ وہ ریت پر ڈھیر ہوگئی۔ اس کا حال بہت برا تھا۔ بیٹے نے ریت پر بیٹھتے ہوئے ماں کو سہارا دیا۔ دوسرے لوگ بھی اترآئے تھے۔
”زبیر.... پانی لاﺅ ان لوگوں کیلئے“ عبدالحق نے زبیر سے کہا۔ زبیر کے جانے کے بعد وہ بڑے لڑکے کی طرف مڑا۔ ”خواتین کو وہاں بھیج دیں۔ وہاں میری اماں اور بھابھی موجود ہیں۔“ اس نے مکان کی طرف اشارہ کیا۔
اس نے تشکر آمیز نظروں سے عبدالحق کو دیکھا، پھر عورتوں سے بولا۔ ”جاﺅ.... تم لوگ وہاں چلی جاﺅ۔
عورتیں چلی گئیں۔ زبیر پانی لے آیا تھا۔ بوڑھی عورت کو دو گھونٹ پانی دیا گیا۔ اس کے چہرے پر بحالی نظر آنے لگی۔
ایک گھنٹے بعد عبدالحق ان کے بارے میں سب جان چکا تھا۔ وہ تینوں بھائی تھے۔ سب سے بڑا نیاز تھا۔ اس کے ساتھ اس کی ماں تھی۔ پھر نواز تھا اور سب سے چھوٹا ریاض۔ تینوں شادی شدہ تھے اور ان کی بیویاں بھی ساتھ تھیں۔ سب سے کم عمر لڑکی ان کی بہن تھی۔
ان لوگوں کا تعلق ادے پور سے تھا۔ وہ وہاں کے خوشحال لوگوں میں سے تھے۔ لیکن پاکستان کی خاطر اپنا سب کچھ وہیں چھوڑ آئے تھے۔ اپنے بھرے پرے گھر سے پاکستان کیلئے نکلتے ہوئے انہوں نے صرف تن کے کپڑے لئے تھے۔
”بھائی بھائی کیلئے بوجھ نہیں ہوتا“ عبدالحق نے سادگی سے کہا۔ ”آپ چاہیں تو یہاں زندگی بھررہیں۔“
نیاز نے بہت غور سے اسے دیکھا۔ پھر اس کی نگاہوں سے تشکر جھلکنے لگا۔ ”آپ کے خلوص اور محبت نے مجھے خرید لیا ہے۔ لیکن یہاں ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ہم لوگ نہ کاشتکار ہیں، نہ گلہ بان۔ ہم تاجر ہیں۔ ہمارے لئے شہر ہی مناسب رہے گا۔“
”لیکن ابھی شہر میں آپ کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ عورتوں کو لے کر کہاں پھرتے رہیں گے۔ میری مانیں تو عید یہیں کریں۔ پھر آپ شہر جاکر حالات دیکھیں۔ بات بن جائے تو آکر سب کو لے جائیں۔“
”بات تو آپ کی ٹھیک ہے۔ لیکن ....“
”دیکھیں، یہاں جگہ کی کمی نہیں۔ اللہ کے فضل سے ضرورت کی ہرچیز موجود ہے۔ دو مکان ہیں۔ دو جھونپڑیاں بھی ہیں۔ ایک مکان میں آپ لوگ رہ سکتے ہیں“
”ہم آپ کا یہ احسان....“
”اس میں احسان کی کوئی بات نہیں“ عبدالحق نے اس کی بات کاٹ دی۔
........x........
عید کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے گاﺅں تیزی سے آباد ہونے لگا۔ عبدالحق نے شہر جاکر پٹواری سے بات کی۔ کاغذات دکھائے۔ لیکن وہ آدھی زمین کے کاغذات تھے۔ اس زمین کے جو اس کے پتا جی نے چاچا جمال دین کے نام کی تھی۔ باقی کاغذات حویلی میں ہوں گے، جو ریت کے تلے دفن تھی۔
”بابا....اس وقت کاغذات کی ضرورت نہیں۔ جہاں تک زمین پر کسی کا دعوا نہیں، آپ قبضہ کرسکتے ہو۔“ پٹواری نے کہا۔
”لیکن میں قبضہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف اپنا حق لینا چاہتا ہوں۔“
”تم عجیب آدمی ہو۔ میں بولتا ہوں، جہاں تک چاہو، زمین لے لو۔ تم حساب کتاب میں پڑرہے ہو۔“
عبدالحق کے اصرار پر پٹواری گاﺅں آیا۔ گاﺅں میں وہ لوگوں سے ملا تو اور متاثر ہوا۔ لوگ تو اس نوجوان کی پرستش کرتے تھے۔ اس نے ان لوگوں کو گھر بنواکر دئے تھے۔ غیرمشروط طورپر انہیں زمین دی تھی اور ہر طرح سے ان کی مدد کی تھی۔
”تم بابا اپنے لئے تو زمین لے نہیں رہے ہو۔ پھر میری بات کیوں نہیں مانتے۔“ پٹواری نے عبدالحق سے کہا۔
”میں چاہتا ہوں کہ آپ حد بندی کردیں۔ اور پہلے ہمارے گاﺅں کو نہری پانی بھی ملتا تھا۔ لال آندھی کے بعد وہ رک گیا۔“
”حد بندی میں کردیتا ہوں۔ پر پانی کیلئے بابا تم کو محکمہ_؟ زراعت والوں سے بات کرنی ہوگی۔“
پٹواری نے بہت کھلے دل سے حد بندی کی۔ اس نے وہ زمین بھی شامل کردی، جس کے کاغذات حویلی میں دفن تھے۔ اس کے علاوہ اس نے ادھر ادھر کی اور زمینیں بھی اس گاﺅں میں شامل کردیں، جن کا کوئی دعوے دار نہیں تھا۔
”اب بابا اس گاﺅں کا کوئی نام بھی رکھ دو۔“
”نام؟“ عبدالحق نے حیرت سے کہا۔ پھر اسے خیال آیا کہ پرانا نام تو اب مناسب نہیں۔ ”نام کی کیا ضرورت ہے“ اس نے کہا۔
نیاز آگے بڑھ آیا۔ وہاں اس وقت گاﺅں کے سبھی لوگ موجود تھے۔ ”نام میں بتاتا ہوں“
”بولو بابا“
”اس گاﺅں کا نام ہے حق نگر“
عبدالحق کو احتجاج کا موقع بھی نہیں ملا۔ سب لوگ اس نام کی تائید میں بولنے لگے۔
”ٹھیک ہے بابا۔ آج سے یہ حق نگر ہے“پٹواری بولا، پھر وہ عبدالحق کی طرف مڑا۔ ”تم بابا کسی دن میرے پاس آجاﺅ۔ میں تمہیں محکمہ_؟ زراعت کے ایک افسر سے ملوادوں گا۔ پانی کی بات کرلینا۔“
”میں آجاﺅں گا۔‘’‘ عبدالحق نے کہا۔
........x........
عید سے پہلے جو اور گھرانے آئے تھے، وہ کاشت کار تھے۔ عبدالحق نے انہیں وہاں رکنے کو کہا تو وہ ہچکچائے۔ ”یہاں پانی تو ہے نہیں۔“
”ہمارے گاﺅں میں پانی تھا۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”یہاں فصلیں ہوتی تھیں۔ انشاءاللہ اب بھی ہوں گی۔ انشاءاللہ ہمیں پانی ملے گا۔
اس کے لہجے میں ایسا یقین تھا کہ وہ لوگ ماننے پر مجبور ہوگئے۔ ویسے بھی وہ انہیں تمام سہولتیں فراہم کررہا تھا اور وہ بھی بغیر کسی لالچ کے۔ سر چھپانے کو ٹھکانہ اور پیٹ بھرنے کو کھانا۔ اس ابتری کے عرصے میں یہ بہت بڑی نعمت تھی۔ وہ جانتے تھے کہ در در پھرنے میں بڑی کٹھنائیاں ہیں۔
عبدالحق شہر گیا اور پٹواری کی وساطت سے محکمہ_؟ زراعت وآب پاشی کے افسر سے ملا۔ افسر نے اس کی بات بڑی توجہ اور ہمدردی سے سنی۔ وہ اس سے متاثر بھی نظر آرہا تھا۔ ”آپ تو پڑھے لکھے آدمی ہیں عبدالحق صاحب“۔
”جی.... میں گریجویشن نہیں کرسکا۔ اےف اے پاس ہوں۔“ عبدالحق نے بڑی عاجزی سے کہا۔
”آپ جیسے لوگوں کی تو سرکاری محکموں میں ضرورت ہے۔“
”فی الحال تو مجھے اپنے گاﺅں کی فکر ہے جناب۔“
”بات یہ ہے عبدالحق صاحب کہ اس وقت ہمارے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے میں ہجرت کرکے آنے والوں کے بوجھ نے مسائل میں بہت اضافہ کردیا ہے۔ آپ کا کیس میں سمجھ گیا ہوں۔ لال آندھی نے نہ صرف نہری رابطہ منقطع کردیا۔ بلکہ زرعی اراضی کو صحرا میں تبدیل کردیا ہے۔“
”نہری رابطہ بحال کیسے ہوگا؟“
”موجودہ صورت حال میں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ پانی بلندی سے نشیب کی طرف جاتا ہے۔ نشیب سے بلندی کی طرف نہیں۔ اور آپ کا گاﺅں پورے علاقے سے کم از کم بارہ پندرہ فٹ بلند ہوگیا ہے۔ میری بات سمجھ رہے ہیں نا آپ۔“
عبدالحق کی سمجھ میں بات آرہی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”اب ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم ریت میں دبے ہوئے گاﺅں کو نکال سکیں اور اس کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔“
”اگر میں یہ کام کرلوں تو؟“
”پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ لیکن یہ آپ کریں گے کیسے؟“
”کوشش کروں گا۔ اللہ سے امید ہے کہ کامیابی ہوگی۔“
وہ رخصت ہونے لگا تو افسر نے کہا۔ ”میری بات پر غور کیجئے گا۔ ہمار املک تعمیر کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اسے آپ جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ملک کےلئے کچھ کرنے کا ارادہ ہو تو مجھ سے مل لیجئے گا۔“
عبدالحق وہاں سے چلا آیا۔
xxx
وہ اس پر سوچتا رہا۔ بظاہر یہ کام ناممکن تھا۔ ہزاروں ایکڑ زمین پر سے بارہ پندرہ فٹ ریت ہٹانا کوئی بچوں کو کھیل نہیں تھا۔ اس کےلئے مشینوں اور آلات کی ضرورت تھی اور اس پر بھی اس میں وقت لگتا اور مشینوں اور آلات کی اس میں استطاعت نہیں تھی۔
رقم تو وہ دہلی سے بھی خاصی لایا تھا۔ پھر اماں نے بھی دیئے تھے۔ لیکن وہ خرچ بھی تو کھلے دل سے کرتا رہا تھا۔ گاﺅں کو آباد کرنے کےلئے اس نے بہت خرچ کیا تھا۔ اب بھی اس کے پاس اچھی خاصی رقم تھی۔ لیکن جو مہم درپیش تھی۔ اس کےلئے تو وہ بہت ہی کم تھی۔ پھر یہ سوچ کر اس کا دل دکھ رہا تھا کہ اب تک کے کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ ریت کے نیچے سے گاﺅں کو نکالنے کا مطلب تھا کہ جو مکان اس نے بنوائے ہیں۔ وہ ختم ہوجائیں گے اور گاﺅں کے نکلنے کے بعد نئے سرے سے تعمیر ہوگی۔
وہ سوچتا رہا۔ لیکن کوئی حل سجھائی نہیں دے رہا تھا۔
اول تو وہ پریشان ہوتا ہی نہیں تھا۔ فکر مند ہوتا تو وہ قرآن پڑھنے بیٹھ جاتا۔ قرآن میں اس کےلئے یہ عجیب تاثیر تھی کہ وہ ہر پریشانی بھول جاتا تھا۔ ایک اور نعمت مسجد کے امام مہر علی تھے۔ وہ ان کے پاس جا بیٹھتا۔
مہر علی بہت سادہ طبع اور دین سے بہت محبت کرنے والے تھے۔ ان کی طبیعت میں بہت نرمی اور حلیمی تھی۔
عبدالحق مہر علی کے پاس چلاگیا۔
”کیا بات ہے پتر۔ کچھ پریشان لگ رہے ہو۔“ مہر علی نے پوچھا۔
عبدالحق نے انہیں پوری روداد سنائی۔ ”اور میں نے پانی کا وعدہ کرکے لوگوں کو روکا تھا۔“ اس نے آخر میں کہا۔
مہر علی چند لمحے سوچتے رہے۔ پھر بولے۔ ”دیکھو پتر، اللہ کے ہاں نیتیں چلتی ہیں۔ تمہاری نیت اچھی ہے۔ تم نے جو کچھ کیا اور کررہے ہو۔ بے لوثی کے ساتھ کررہے ہو۔ اس میں تمہاری اپنی کوئی غرض نہیں ہے۔ تو اللہ تمہاری مدد ضرور کرے گا۔“
”مگر کیسے؟ مجھے تو کوئی امکان نظر ہی نہیں آرہا ہے۔“
”یہ امکان تو ہم عقل والوں کی بات ہے۔ اللہ کے ہاں تو ہونی ہوتی ہے اور ہوجاتی ہے۔ چاہے بعد میں بھی بندوں کی سمجھ میں نہ آئے۔“
عبدالحق شرمندہ ہوگیا۔ عمر اس کی کم تھی۔ لیکن کتنا کچھ وہ دیکھ چکا تھا۔ اماں اس کی مثال تھیں۔ جہاں گاﺅں کے گاﺅں دفن ہوگئے۔ وہاں اماں زندہ رہیں۔ وہ ریت میں دفن نہیں ہوئیں اور وہ کیسے زندہ رہیں۔ کجھور کے وہ درخت اب بھی موجود ہیں۔ جن کے ذریعے اللہ نے اماں کو غذا فراہم کی۔ عبدالحق جانتا تھا کہ وہ درخت اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں۔ اس علاقے میں کھجور کم ہی ہوتا ہے۔ آگے سندھ کی طرف بہت ہے اور پھر کھجور کا درخت راتوں رات بڑا نہیں ہوتا۔ مگر اماں کو تو سب کچھ جیسے تیار ملا۔ پینے کےلئے پانی۔ وہ گڑھا جس میں پانی کم نہیں ہوتا تھا۔ تین دن تک تو اللہ کی اس قدرت کا ان سب نے مشاہدہ کیا تھا۔ اب سوچو، اماں کے بچنے کا کوئی امکان تھا۔ نہیں.... ہرگز نہیں۔ مگر اماں بچ گئیں اور موجود ہیں۔ یہ اللہ کی قدرت ہے۔ واقعی اللہ کے ہاں امکان نہیں ہوتا۔ ہونی ہوتی ہے اور ہو کر رہتی ہے۔