اور وہ خود کیسے بچا تھا۔ لال آندھی آئی تو وہ خود بھی تو اس کی حدوں میں تھا۔ ایک وقت ایسا لگتا تھا کہ وہ بھی ریت میں زندہ دفن ہوجائے گا۔ اس کے جسم میں ہلنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ ریت اس پر برس رہی تھی اور وہ اب بھی زندہ تھا۔
اتنا کچھ دیکھنے کے بعد ہی وہ امکان کی بات کرتا ہے! سچ ہے انسان پر جب کوئی بحران آتا ہے، وہ اللہ کی پچھلی مہربانیاں اور نشانیاں بھول جاتا ہے۔ وہ مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ کو پکارنے کے بجائے امکان کی جستجو میں ادھر ادھر سر ٹکراتا رہتا ہے۔
عبدالحق پہلے تو شرمندہ ہوا۔ پھر اس کے اندر ایک یقین ابھرا۔ اللہ کے حکم سے گاﺅں ریت میں دفن ہوا تو اللہ کی مرضی ہے تو وہ ریت سے نکلے گا بھی اور آباد بھی ہوگا اور اگر اللہ کی یہ مرضی نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ پریشان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اس رات عشا کے بعد وہ ٹہلتا ہوا حویلی کی طرف چلاگیا۔ وہاں وہ اس منڈیر پر بیٹھ گیا۔ دعا میں اس نے اللہ سے گاﺅں کےلئے مدد مانگی تھی اور اس کا دل مطمئن ہوگیا تھا۔ جیسے اب یہ معاملہ اس کا نہیں رہا ہو۔
حویلی کی چھت کی اس منڈیر پر بیٹھے بیٹھے وہ حویلی کے بارے میں سوچنے لگا۔ کبھی وہاں کیسی رونق ہوتی تھی۔ اس کی نگاہوں میں بچپن کے منظر پھرنے لگے۔ پتاجی گھوڑا بنے ہوئے ہیں اور وہ ان کی پیٹھ پر سواری کررہا ہے۔ ماتا جی پتاجی کا پسینے میں نہایا ہوا جسم تولیے سے خشک کررہی ہیں۔ اماں اسے دودھ کا پیالہ دے رہی ہیں۔ وہ پتا جی سے ضد کررہا ہے کہ اب ویر جی کی باری ہے۔
پھر اس نے جمال دین کو دیکھا۔ اسے یاد آیا کہ گھوڑا بننے کی ذمہ داری چاچا جمال دین نے سنبھال لی تھی۔ اسے اپنا لکڑی کا گھوڑا یاد آیا۔ چاچا جمال دین نے کیسے اسے سمجھایا تھا کہ اس نے لکڑی کے گھوڑے کو چھوڑ دیا ہے۔ اس لئے اب وہ اداس رہنے لگا ہے۔
اور اسے اپنا کمرہ یاد آیا۔ حویلی کا سب سے روشن اور ہوادار کمرہ! سچ یہ ہے کہ وہ کمرہ اسے بہت عزیز تھا۔ رہنے کی کوئی جگہ کبھی اسے اتنی اچھی نہیں لگی، جتنا وہ کمرہ لگتا تھا۔ اس کمرے میں کوئی بات تھی۔ اس میں عجیب سا سکون تھا اور وہاں کسی کی موجودگی کا احساس ہوتا تھا۔ کسی بہت محبت کرنے والی مہربان ہستی کی موجودگی کا احساس!
اسے حیرت ہوئی کہ اس کمرے کو وہ کیسے بھولا ہوا تھا۔ اس نے کبھی اسے یاد ہی نہیں کیا۔ اس وقت وہ کمرہ یاد آیا تو اس کا دل اس کمرے کےلئے مچلنے لگا۔ اس کا بس چلتا تو ریت ہٹا کر اس کمرے میں پہنچ جاتا۔
وہ خواہش بچگانہ حد تک شدید تھی۔ اس کے زیر اثر اس کا جسم کانپنے لگا۔ اس نے دھیان بٹانے کی کوشش کی۔
اسے حویلی کا آخری حوالہ یاد آیا۔
حویلی کا احاطہ لاشوں سے پٹا پڑا تھا۔ اکثریت اجنبی لاشوں کی تھی۔ پھر ان میں اسے ویر جی کی لاش نظر آئی تھی اور پھر چاچا جمال دین اور کئی جاننے والوں کی لاشیں ملی تھیں۔
اس آخری روز وہ حویلی کے ہال سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔ حویلی کے صدر دروازے پر دو لاشیں پڑی تھیں۔ اندر دیوار سے ٹک کر پتا جی بیٹھے تھے۔ وہ زندہ تھے۔ ان کے قریب ہی مولوی برکت علی اور کیدار ناتھ کی لاشیں پڑی تھیں۔
وہ اس منظر کو تازہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یادوں میں وہ سب کچھ دہرانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن ان یادوں سے دامن چھڑانا اس کے بس میں نہیں تھا۔ وہ تو جیسے کسی ٹرانس میں تھا۔
اور اب تو وہ جیسے جیتا جاگتا منظر تھا!
وہ پتا جی کو لپٹائے بیٹھا تھا۔ ان سے بولا نہیں جارہا تھا۔ لیکن انہیں بہت باتیں کرنی تھیں۔ وقت بہت کم تھا۔ لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے۔ کچھ سمجھ میں آرہا تھا اور بہت کچھ مبہم تھا۔ شاید اس لئے بھی کہ اس وقت اس کا ذہن ٹھیک سے سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ مگر اب بھی اسے پتا جی کا کہا ہوا ایک ایک لفظ یاد تھا۔ ایک بات طے تھی۔ گاﺅں پر جے پور والوں نے حملہ کیا تھا۔
اچانک اس کے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ پتاجی کی بات اسے یاد بھی آئی اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں نے جڑ کر جیسے مفہوم بھی پالیا۔
پتاجی نے کہا تھا.... تہہ خانے میں جو کچھ ہے، سب تمہارا ہے۔ تم دہلی جا کر پڑھو۔ یہاں نہیں رکنا۔
تہہ خانہ! سب کچھ!!
اچانک اس کا ذہن جیسے روشن ہوگیا۔ سب کچھ اس کی سمجھ میں آنے لگا۔ تہہ خانے میں تجوری تھی۔ زمین کے کاغذات کے علاوہ وہاں بھاری نقد رقم بھی ہوگی اور شاید سونا بھی اور وہ سب کچھ اس کا تھا۔
یادوں کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ اس کا ذہن بہت تیز رفتاری سے کام کررہا تھا۔ اس کے پاس کھدائی کراکے گاﺅں کو برآمد کرانے کے وسائل نہیں تھے۔ لیکن وہ وسائل حاصل ہوسکتے تھے۔ وہ وسائل موجود تھے۔ بس انہیں پانے کی کوشش کرنی تھی۔
بس اسے حویلی کے تہہ خانے تک رسائی حاصل کرنی تھی اور اس کےلئے اس کے پاس وسائل موجود تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ اگر وہ حویلی کو برآمد کرانے میں کامیاب ہوگیا تو گاﺅں بھی برآمد ہوجائے گا۔
xxx
عبدالحق کے پاس جو کچھ بھی تھا، اس نے وہ سب حویلی میں جھونکنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس کا مقصد کم سے کم وقت میں حویلی کے تہہ خانے تک پہنچنا تھا۔ اس کےلئے وہ شہر سے مزدور بھی لایا اور دو ٹریکٹر بھی۔
گاﺅں کے لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے آباﺅاجداد کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گاﺅں میں جو کاشت کار گھرانے تھے، وہ پانی کے امکان کی طرف سے مایوس ہوچکے تھے۔ انہیں عبدالحق سے موہوم سی امید تھی کہ وہ ریت ہٹوائے گا تو نہری نظام بحال ہوگا۔ حالانکہ یہ بہت مشکل کام تھا۔ لیکن انسان جبلی طور پر پر امید ہوتا ہے۔ انہیں یقین تھا کہ یہ معجزہ رونما ہوگا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ وہ صرف حویلی کو برآمد کرانے کےلئے کھدائی کررہا ہے تو وہ مایوس ہوگئے۔
وہ سب عبدالحق کے احسان مند تھے۔ بے سرو سامانی اور غریب الوطنی کے عالم میں اس نے انہیں وہ سب کچھ دیا تھا، جو کوئی انہیں دے سکتا تھا۔ جبکہ اسے ان سے کوئی لالچ، کوئی غرض نہیں تھی۔
تواب وہ اس سے بے مروتی نہیں کرسکتے تھے۔ وہ اس سے منہ پھیر کر تو نہیں جاسکتے تھے۔ لیکن ان کےلئے اس نئی مملکت میں اپنے مستقبل کو تلاش کرنا بہت ضروری تھا۔ کیونکہ گاﺅں میں پانی نہیں تو کچھ بھی نہیں تھا اور پانی کا کوئی امکان نہیں رہا تھا۔
چنانچہ اپنے گھر والوں کو گاﺅں میں چھوڑ کر وہ نئے امکانات کی تلاش میں شہر کی طرف چل دیئے۔
گاﺅں میں مٹی ہٹانے کا کام بہت تیزی سے شروع ہوا۔ عبدالحق نے بڑے پیمانے پر کام شروع کرایا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے بھی لوگوں کی مایوسی محسوس کرلی تھی اور وہ جلد از جلد گاﺅں کےلئے پانی کی فراہمی شروع کرانا چاہتا تھا۔
کام شروع ہوا تو عبدالحق کو ایک اور اہم کام کےلئے فرصت مل گئی۔ وہ اہم کام تھا اماں کی آنکھوں کا علاج۔ شہر میں ایک بڑے ڈاکٹر سے اس نے بات کی تھی۔ بس اب اسے اماں کو وہاں لے جانا تھا۔
حویلی برآمد کرانے کے کام کی دیکھ بھال زبیر بخوبی کرسکتا تھا۔ کیونکہ وہ حویلی کے چپے چپے سے واقف تھا۔ عبدالحق نے اس عرصے میں اماں کو لے کر شہر جانے کا فیصلہ کرلیا۔
ڈاکٹر نے حمیدہ کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس کا تجزیہ بے حد حوصلہ افزا تھا۔
”ڈاکٹر صاحب، اماں کی آنکھیں ٹھیک ہوسکتی ہیں نا؟“ عبدالحق نے پوچھا۔ وہ نروس ہورہا تھا۔ اس کےلئے اماں کی آنکھوں کی بڑی اہمیت تھی۔
”انشاللہ، ٹھیک ہوجائیں گی۔“ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”دراصل ابتدا میں کوتاہی نہ ہوتی تو یہ مسئلہ نہ ہوتا۔ انہیں آنکھوں کو خوب اچھی طرح دھوتے رہنا چاہئے تھا۔ آنکھیں آپ ہی دھل کر صاف ہوجاتیں۔“
”تو اب آپ کیا تجویز کریں گے؟“
”میں ایک دوا لکھ رہا ہون۔ تین دن تک یہ آنکھوں میں ڈالیں۔ اس کے بعد معائنہ کرکے ہی میں کچھ کہہ سکوں گا۔“
عبدالحق نے اماں کو گاﺅں واپس لے جانا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو وہ انہیں بار بار سفر کی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ دوسرے وہ اس مسئلے کو حل کرکے ہی واپس جانا چاہتا تھا۔ وہ وہیں مقیم ہوگیا۔
ڈاکٹر نے دن میں تین بار آنکھوں میں دوا ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔ لیکن عبدالحق نے پہلی بار ہی دوا ڈالی تو حمیدہ تڑپ کر رہ گئی۔ صابر عورت تھی۔ اس نے شکایت تو نہیں کی۔ بس اتنا ہی ”پتر.... تم مل گئے ہو تو مجھے آنکھوں کی کیا ضرورت اور بینائی چلی جائے تو واپس نہیں آتی۔“
”ایسی بات نہیں ہے اماں“ عبدالحق بولا۔ ”ڈاکٹر نے کہا ہے کہ انشاللہ تم دیکھ سکو گی۔ بس تین دن برداشت کرلو۔“
مگر حمیدہ کی آنکھوں میں تو جیسے آگ لگ گئی تھی۔ آنکھوں کے ڈھیلوں میں درد بھی بہت شدید ہوگیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا، جیسے انہیں کھرچا جارہا ہو۔ لیکن عبدالحق کی محبت میں وہ برداشت کررہی تھی۔ پھر بھی آنکھوں کو ملے بغیر نہ رہ سکی۔
اس کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ عبدالحق نے رومال سے اس کی آنکھیں پونچھیں۔ وہ مٹیالے رنگ کا پانی تھا۔
ہر بار دوا ڈالنے پر آنکھوں سے جو پانی نکلتا تھا، وہ پہلے سے زیادہ مٹیالا اور زیادہ گاڑھا ہوتا تھا۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ ہر بار تکلیف پہلے سے کم ہوجاتی تھی۔ دوسرے دن تو کیچڑ سی لگنے لگی۔
تیسری صبح ایک عجیب بات ہوئی۔ عبدالحق حمیدہ کی طرف پانی کا گلاس بڑھا رہا تھا کہ حمیدہ نے ہاتھ بڑھا کر گلاس سے ذرا پیچھے روکا اور لرزتی ہوئی ہیجانی آواز میں بولی۔ ”پتر.... یہ گلاس ہے نا“۔
”ہاں اماں“۔
حمیدہ نے گلاس کو چھوا۔ اس کی انگلیاں لرز رہی تھیں۔ گلاس تھامنے کے بجائے اس نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ اس کے چہرے کی طرف بڑھایا اور بولی ”یہ.... یہ تمہاری ناک.... یہ ہونٹ.... یہ آنکھیں ہیں“۔
عبدالحق کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ ”تم دیکھ رہی ہو اماں۔ تمہیں نظر آرہا ہے نا؟“ اس کے لہجے میں یقین اور بے یقینی کا امتزاج تھا۔
”ہاں پتر۔ دھندلا دھندلا سا نظر آرہا ہے مجھے۔“
اب تو یہ کھیل ہوگیا۔ حمیدہ کسی چیز کو چھوتی، اس کا نام بتاتی۔ پھر وہ دونوں خوش ہوتے۔ پھر حمیدہ نے آنکھوں پر زور دیتے ہوئے عبدالحق کو بہت غور سے دیکھا۔ ”ارے پتر.... تو کتنا بڑا ہوگیا۔ کتنا خوبصورت نکلا ہے تو۔ ارے تو تو پورا مرد بن گیا رے“ اور اس نے عبدالحق کو چمٹالیا۔
وہ پہلا دن تھا کہ حمیدہ نے شوق سے آنکھوں میں دوا ڈلوائی۔ ویسے تو اب تکلیف پہلے جیسی تھی بھی نہیں۔ لیکن اب اسے یقین تھا کہ اللہ اسے اس کی بینائی واپس دے رہا ہے۔
تین دن پورے ہونے پر عبدالحق اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ ڈاکٹر بہت خوش ہوا۔ ”مجھے یقین تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ آپریشن کی نوبت نہیں آئے گی۔“ ڈاکٹر نے کہا۔
”شروع میں بہت تکلیف ہوئی تھی ڈاکٹر صاحب“۔
”وہ تو ہونی ہی تھی۔ دراصل آپ کی اماں کی آنکھوں میں جو ریت بھرگئی تھی، وہ صاف نہ ہونے کی وجہ سے جم کر سخت ہوگئی۔ ابتدا میں دوا نے اسے نرم کرنے کا کام کیا تو تکلیف ہوئی۔ نرم ہونے کے بعد وہ ریت اکھڑ کر بہنے لگی۔ ہر بار دوا ڈالنے پر مرحلہ آسان ہوا ہوگا“۔
”جی ہاں“۔
”مگر مجھے بس دھندلا دھندلا سا دکھائی دیتا ہے، صاف نہیں۔“ حمیدہ نے کہا۔
ڈاکٹر ہنسنے لگا۔ ”برسوں کی جمی ہوئی ریت ہے اماں۔ آنکھ صاف ہونے میں وقت تو لگے گا۔ بس دوا ڈالتی رہیں اور ہاں عرق گلاب بھی ڈالتی رہیں۔ اس سے دکھن کم ہوگی اور آنکھوں کو آرام ملے گا۔“
”آپ معائنہ تو کرلیں ڈاکٹر صاحب۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”دیکھ لیں، کیا پتا، آپریشن کی ضرورت ہو۔“
ڈاکٹر نے حمیدہ کی آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔ ”نہیں.... آپریشن کی ضرورت نہیں۔ سیدھا سا معاملہ ہے۔ بس یہ دوا اور عرق گلاب ڈالتے رہیں“۔
”ہمیں یہیں رکنا ہوگا؟“ عبدالحق نے پوچھا۔
”نہیں، اس کی ضرورت نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو بعد میں بھی یہاں آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ البتہ احتیاط کرنا ہوگی۔ ایک تو یاد رکھیں کہ دوا مسلسل سات دن سے زیادہ نہ ڈالیں۔ سات دن ہوجائیں تو تین چار دن کا وقفہ کردیں۔ عرق گلاب مگر باقاعدہ ڈالتے رہیں۔ اس کے علاوہ آنکھوں کو تیز چمک سے بچانا ہوگا۔ اس کےلئے رنگین شیشوں کا چشمہ لگائیں۔ ورنہ آنکھوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے“۔
عبدالحق اور حمیدہ گاﺅں واپس آئے تو بہت خوش تھے۔
عبدالحق حویلی کے کام کی نگرانی میں بری طرح مصروف ہوگیا تھا۔ اسے کھانے پینے کا ہوش بھی نہیں رہا تھا۔ بس ایک بات وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ یاد رکھتا تھا۔ حمیدہ کی آنکھوں میں دوا ڈالنا۔
اس شام وہ تھکا ہارا حمیدہ کے پاس پہنچا۔ دوا کی طرف ہاتھ بڑھایا تو حمیدہ نے کہا۔ ”دوا تو میں ڈال چکی ہوں۔“
”خود ڈال لی دوا؟“ عبدالحق کے لہجے میں حیرت تھی۔
”میرے بس کا یہ کہاں ہے۔ نور بانو نے ڈال دی تھی۔ وہ بہت خیال رکھتی ہے میرا“۔
عبدالحق کا دل بری طرح دھڑکنے لگا۔ ”چلو ٹھیک ہے اماں۔ بس آج کل بہت مصروف ہوتا ہوں۔ تم ان سے ہی دوا ڈلوالیا کرو۔“
حمیدہ نے اس وقت چشمہ اتارا ہوا تھا۔ ”یہ تم نے اپنا حال کیا کرلیا ہے پتر“۔
”بس اماں، دو چار دن کی بات ہے۔ پھر فرصت مل جائے گی“۔
”تم نے تو خود کو بہت مصروف کرلیا ہے پتر، اور میں کہتی ہوں کہ حویلی کو نکالنا اچھا نہیں ہے“۔
عبدالحق بری طرح چونکا۔ ”کیوں اماں؟“
”وہ آندھی اللہ کا قہر تھی اور جہاں اللہ کا قہر آئے، اس جگہ سے دور رہنا اچھا ہوتا ہے۔ میں تو کہتی ہوں، دبا رہنے دو وہ سب کچھ۔“
عبدالحق چند لمحے سوچتا رہا۔ مگر اس کا دل نہیں مانا۔ ”دیکھو اماں، اب یہ جگہ پاکستان میں ہے اور جب تک ریت نہیں ہٹتی، بے کار ہے۔ جبکہ ہندوستان سے لوگ پاکستان اور اسلام کی محبت میں اپنے گھر، زمین، جائیداد چھوڑ کر بے سرو سامان چلے آرہے ہیں۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اس پر ان کا حق ہے۔ وہ یہاں آباد ہوں، انہیں زمین ملے، وہ کاشت کاری کریں، اچھی زندگی گزاریں۔ میں یہ سب ان لوگوں کےلئے کررہا ہو“۔
”تو اس کےلئے تو دبے ہوئے گاﺅں نکالنے ہوں گے“۔
”ہاں اماں۔ اور اس کےلئے بہت پیسہ چاہئے۔ اسی لئے تو میں پہلے حویلی نکال رہا ہوں۔ وہاں سے مجھے پیسہ بھی ملے گا اور زمین کے کاغذات بھی۔ پھر میں یہ دوسرا کام شروع کرواﺅں گا“۔
”بات تو اچھی ہے پتر۔ پر کام بہت بڑا اور مشکل ہے“۔
”اللہ سے دعا کرتی رہو اماں، انشااللہ ہوجائے گا۔“
”مجھے تو اب بس تیری شادی کی فکر ہے پتر۔ تو اتنے لمبے بکھیڑوں میں نہ پڑ“۔
”اماں میں تو بس اللہ کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ شادی کا کیا ہے۔ وہ بھی ہوجائے گی“۔
”کوئی لڑکی پسند ہے تجھے؟“
عبدالحق گڑبڑاگیا۔ ”ارے نہیں اماں۔ وقت آنے پر تم ہی دیکھ لینا کوئی کڑی“۔
”میں نے پہلے ہی دیکھی ہوئی ہے۔ بس یہ نور بانو مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ تجھے کیسی لگتی ہے؟“
”اچھا برا لگنے کی بات نہیں اماں، وہ تو ہیں ہی اچھی“۔ عبدالحق نے گہری سانس لے کر کہا۔ ”لیکن اماں، تم ان کے بارے میں ایسا نہ سوچا کرو۔ میں انہیں اس وعدے پر ساتھ لایا ہوں کہ ان کے رشتے داروں کو تلاش کروں گا اور انہیں ان تک پہنچاﺅں گا۔ وہ بس ہمارے ہاں مہمان ہیں“۔
یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں ایسی اداسی تھی کہ حمیدہ کا دل کٹنے لگا۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ یہ دونوں ہی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن اپنی اپنی محبت میں گم ہیں.... دوسرے کے دل سے بے خبر۔ دونوں اپنی اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوسرے کی محبت کے قابل نہیں۔ اس نے سوچ لیا کہ انہیں ملانا اس کا کام ہے۔
xxx
بالآخر حویلی یوں نمودار ہوئی، جیسے چند برس پہلے وہ سطح زمین پر تھی۔
عبدالحق کو پہلی بار مٹی کی طاقت کا اندازہ ہوا۔ پہلے وہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ مٹی پتھر کو بھی چاٹ جاتی ہے۔ وسیع وعریض حویلی کی تعمیر بڑی مضبوط تھی۔ اپنے زمانے میں اسے دیکھ کر اس کے ناقابل تسخیر ہونے کا احساس ہوتا تھا۔ مگر اب وہ ایک کھنڈر میں تبدیل ہوچکی تھی۔ چھتیں تو تمام بیٹھ چکی تھیں۔ بیشتر دیواروں کا یہ حال تھا کہ ہاتھ سے دھکیلو تو ڈھے جائیں۔ یہ بڑی بات تھی کہ چند کمرے اچھی حالت میں تھے۔ ان میں ٹھاکر پرتاب سنگھ کی خواب گاہ اور عبدالحق کا کمرا شامل تھا جو اسے بہت پسند تھا۔ لیکن چھتوں سے وہ بھی محروم ہوگئے تھے۔
وہاں پہلا سب سے بڑا کام ان سینکڑوں ڈھانچوں سے نمٹنا تھا، جو ریت کے نیچے سے برآمد ہوئے تھے۔ انہیں دیکھ کر عبدالحق تھرّاگیا۔ یہ ہے زندگی اور یہ ہے زندگی کا انجام۔ اس نے سوچا۔ ان ڈھانچوں کی کوئی شناخت نہیں تھی۔ وہ خود اپنے باپ کو نہیں پہچان سکتا تھا۔
ان ڈھانچوں کو اجتماعی طور پر زمین میں دبادیا گیا۔
عبدالحق نے مزدوروں اور ٹریکٹروں کو واپس نہیں جانے دیا۔ بلکہ انہیں آگے کے کام پر لگادیا۔ اب تو اسے مزدوروں اور ٹریکٹروں کی تعداد میں اور اضافہ کرنا تھا۔ اپنے گاﺅں کو دوبارہ آباد کرنا اس کا خواب بن گیا تھا۔
اس شام کو وہ بہت خوش خوش حمیدہ کے پاس پہنچا۔ ”اماں.... حویلی پوری طرح نکل آئی ہے“۔
”مبارک ہو پتر۔ اور مجھے لگ رہا ہے اب میں سب کچھ پوری طرح دیکھ سکتی ہوں“۔ حمیدہ نے کہا۔
”اماں.... دیکھنے نہیں چلوگی؟“ اس کے لہجے میں دبا دبا ہیجان تھا۔
نور بانو کچھ فاصلے پر بیٹھی یہ گفتگو سن رہی تھی۔
حمیدہ اللہ کے قہر کے حوالے سے خوف زدہ تھی۔ لیکن بیٹا خوش تھا تو وہ انکار کیسے کرسکتی تھی۔ بس اسے ڈھارس یہ تھی کہ عبدالحق نے یہ سب کچھ ایک بہت بڑے اور نیک مقصد کےلئے کیا ہے۔ ”کیوں نہیں پتر، ضرور چلوں گی“۔
”تو آﺅنا اماں“۔
حمیدہ اٹھ کر اس کے ساتھ چلی۔ نور بانو پر نظر پڑی تو اس نے کہا۔ چل دھیے، تو بھی آجا“۔
نور بانو کچھ جھجکی، کچھ شرمائی، مگر حویلی دیکھنے کی اسے آرزو تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ حویلی کو دیکھ کر عبدالحق کے بارے میں کچھ اور جاننے کا موقع ملے گا۔ اس نے حمیدہ کا ہاتھ تھام لیا۔
”رابعہ کہاں ہے؟“ باہر نکل کر عبدالحق نے کہا۔
”ہاں پتر، ان دونوں کا بھی حق ہے۔ ساتھ لے لے انہیں“۔
”زبیر کو تو میں وہاں چھوڑ کر آیا ہوں۔ رابعہ کو لینا ہے“۔
رابعہ جانوروں کے باڑے سے نکلتی دکھائی دی۔ عبدالحق نے اسے بھی ساتھ لے لیا۔
وہ سب حویلی کے کھنڈر کی طرف بڑھ گئے۔
xxx
سیف کھلا تو عبدالحق نے زبیر سے پیٹرومیکس لے کر سیف کا جائزہ لیا۔ اسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سیف میں کتابیں تھیں۔ اس نے کتابوں کو باہر نکالا اور مسہری پر رکھنے لگا۔
کتابوں کے ہٹنے کے بعد اسے نوٹ نظر آئے۔ اس نے نوٹ نکالے۔ خاصی موٹی گڈی تھی۔ ساتھ ہی چابیوں کا ایک گچھا بھی تھا۔ عبدالحق سمجھ گیا کہ یہ چابیاں تہہ خانے میں کام آئیں گی۔
وہ نوٹ اور چابیاں نکال ہی رہا تھا کہ نور بانوں کی استعجابیہ آواز نے اسے چونکا دیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔
”یہ.... یہ تو سب دینی کتابیں ہیں.... اسلامی کتابیں!“ نور بانو نے کہا۔
اس کی بات نے سب کو چونکا دیا۔ عبدالحق نے مسہری پر بکھری ہوئی کتابوں کو دیکھا۔ اس نے دیکھا اور حیران رہ گیا۔ سب سے اوپر سیرت پر ایک کتاب تھی۔ قرآن پاک کا ایک مترجم نسخہ بھی اسے نظر آرہا تھا۔
”کیا.... کیا آپ کے والد مسلمان تھے؟“ نور بانو نے سنسنی آمیز لہجے میں پوچھا۔ صورت حال ایسی تھی کہ وہ اپنا حجاب بھی بھول گئی تھی۔
”مم.... مجھے پتا نہیں“۔ عبدالحق نے گڑبڑا کر کہا۔ ان کتابوں کو دیکھ کر اسے حیرت بھی ہورہی تھی اور خوشی بھی۔
”میں نے تو ان میں بہت ساری باتیں بہت اچھے مسلمانوں والی دیکھی تھیں“۔ حمیدہ خوش ہو کر بولی۔
عبدالحق کو بہت خوشی ہوئی۔ کاش! ایسا ہی ہو۔ اس نے دل میں سوچا۔ پھر وہ بولا۔ ”اب تہہ خانہ اور دیکھنا ہے“۔
وہ دیوار کی طرف بڑھا اور دیوار کو ٹٹولنے لگا۔ اس کا ہاتھ دیوار سے تھوڑا سا باہر نکلتے ہوئے ایک ہینڈل سے ٹکرایا۔ اس نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ کھڑکھڑاہٹ سی ہوئی اور دیوار میں ایک خلا سا نمودار ہوا۔ اس خلا میں نیچے اترتی ہوئی سیڑھیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ عبدالحق نے خلا کی طرف قدم اٹھایا۔ مگر اسی لمحے زبیر چلّایا۔ ”نہیں مالک۔ رک جائیں“۔ ساتھ ہی وہ اس طرف لپکا۔
عبدالحق پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ زبیر اس کے پاس چلا آیا۔ ”کیا بات ہے زبیر؟“
”پہلے میں جاﺅں گا مالک“۔ زبیر نے کہا۔
”لیکن کیوں؟“
”برسوں سے بند پڑا تہہ خانہ ہے۔ حویلی تک ریت کے نیچے دفن تھی۔ اندر کی فضا زہریلی ہوگی“۔
”میرے لئے زہریلی ہے تو تمہارے لئے بھی ہوگی“۔
تو میں فوراً تھوڑا ہی اتروں گا مالک۔ گھٹن کم ہونے کا انتظار کروں گا“۔
عبدالحق کو وہ تاخیر بری لگ رہی تھی۔ مگر زبیر کی بات بھی معقول تھی۔
وہ کچھ دیر انتظار کرتے رہے۔ پھر زبیر پیٹرو میکس ہاتھ میں لئے خلا کی طرف بڑھا۔ عبدالحق نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا۔ ”نہیں زبیر.... زبیر.... پہلے میں ہی اتروں گا“۔
”میرے پاس روشنی ہے مالک۔ آگے تو مجھے ہی رہنا ہے“۔ زبیر نے دلیل دی۔
”تم ہنڈا مجھے دے دو“۔
حکم ماننے کا عادی زبیر جھجک رہا تھا۔ ”یہ مناسب نہیں مالک....“ اس کے لہجے میں احتجاج تھا۔