Google
 

:: 16 عشق کا شین
”خطرہ سب کےلئے برابر ہے....“
”نہیں مالک، زبیر کو آگے جانے دیں۔ خدا کےلئے“۔ عقب سے رابعہ نے مداخلت کی۔
عبدالحق اس کی طرف متوجہ ہوا۔ اتنی دیر میں زبیر اس خلا میں اترگیا۔
لیکن زبیر عقل مند تھا۔ وہ ایک دم سے نیچے نہیں اترا اور اس نے ایک دم سے گہری سانس بھی نہیں لی۔ چند لمحوں بعد اسے احساس ہوگیا کہ
افضال صاحب پھر مصروف ہوگئے۔ عبدالحق گرد و پیش کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہاں چند دکانیں تھیں، جن کے باہر دیگیں رکھی تھیں۔ عبدالحق کو جمیل کا خیال آگیا۔ ”تو جمیل کھانے کی دیگیں ان لوگوں کو بیچتا تھا؟“ اس نے افضال صاحب سے پوچھا۔
”ہاں میاں۔“
”آﺅ باﺅ جی، آﺅ لنگر کرو گے؟“
عبدالحق کی سمجھ میں بات تو نہیں آئی۔ تاہم وہ اس کی طرف بڑھ گیا۔ ”کیا ریٹ ہے تمہارا؟“
”اوجی بریانی کی دیگر پانچ روپے کی، زردے کی چھ روپے کی اور سو روٹیاں دال کے ساتھ تین روپے کی۔“
”کوئی سالن نہیں ہے گوشت کا؟“
”نیئں باﺅجی۔“
”ابھی کچھ دن پہلے تو میں کھایا تھا یہاں۔“
”اونیئں باﺅجی۔“ دکان دار نظریں چرانے لگا۔ ”کوئی بھول ہوئی ہے تم کو۔“
عبدالحق کی سمجھ میں بات آگئی۔ وہ سپلائی تو منقطع ہوگئی تھی۔ اتنے میں افضال صاحب نے اسے آواز دی۔ ”ارے میاں، کہاں پھنس گئے۔ آﺅنا۔“
وہ افضال صاحب کی طرف بڑھا۔ ”دیکھو نا، ہم تو خالی ہوگئے۔“ افضال صاحب نے کہا۔
”تو اب؟“
”اب دربار چلیں گے۔ فاتحہ پڑھیں گے۔“
”مجھے تو فاتحہ پڑھنی آتی ہی نہیں۔“
”یہ کون سا مشکل ہے۔ الحمدشریف پڑھو اور تین بار قل ھو اللہ پڑھ لو، بس۔“
واہ .... یہ تو بڑا آسان ہے۔ عبدالحق نے دل میں سوچا۔
وہ دربار میں داخل ہوئے۔ مزار تک تو جانا ممکن نہیں تھا۔ بہت بڑا ہجوم تھا وہاں۔ وہ دونوں پیچھے ہی کھڑے ہوگئے اور فاتحہ کےلئے ہاتھ اٹھا لئے۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد عبدالحق نے اِدھر ا_±دھر کا جائزہ لیا۔ یہ دیکھ کر اسے حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ مزار پر سجدہ بھی کررہے تھے۔
اس کی طبیعت مکدر ہوگئی۔ ”یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟“ اس نے افضال صاحب سے پوچھا۔
”ماتھا ٹیک رہے ہیں۔“ انہوں نے سادگی سے کہا۔
”ماتھا ٹیکنے کو سجدہ کہا جاتا ہے۔“ عبدالحق کے لہجے میں تلخی تھی۔
”سنو میاں، یہ عقیدت سے بھرے لوگ ہیں، اور یہ ان کا اظہار عقیدت ہے۔“
”سجدہ عقیدت کا نہیں، بندگی کا اظہار ہوتا ہے اور بندگی صرف اللہ کی ہوتی ہے۔“
”اس الجھن میں کیوں پڑے ہو میاں اب چلو۔“
”لیکن افضال صاحب، یہ شرک ہے۔ اور مجھے بتایا گیا ہے کہ شرک اللہ کبھی معاف نہیں کرتا۔“
”تو تم کیاں کررہے ہو۔ دیکھو نا، میں بھی نہیں کررہا ہوں۔“ افضال صاحب نے بڑی معصومیت سے کہا۔ آﺅ اب چلیں۔
وہ مزار سے نکلے۔ عبدالحق کے ذہن میں بڑی الجھنیں تھیں۔ وہ انہی پر غور کرتا رہا۔ افضال صاحب نے یہ بات بھانپ لی تھی۔ وہ بھی خاموشی سے چلتے رہے۔ پھر اچانک انہوں نے نعرہ لگایا۔ ”لو، ہم پہنچ گئے۔ اب کھانا کھائیں گے۔“
عبدالحق نے چونک کر دیکھا۔ وہ ایک ٹھیلا تھا ۔ چاروں طرف کچھ بنچیں تھیں، جن پر لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔
”بھئی ہم تو سمجھتے تھے کہ چھولے بس چاٹ کے لئے ہوتے ہیں۔“ افضال صاحب نے کہا۔ ”لیکن یہاں تو اس کا سا لن بھی بنایا جاتا ہے۔ اور یہ پہلوان صاحب تو اےسے مزے کا سالن بناتے ہیں کہ بس انگلیاں چاٹتے رہ جاﺅ۔“
ٹھیلے پر ایک بہت بڑا دیگچا رکھا تھا۔ ساتھ ہی تین چار چھوٹی دیگچیاں بھی تھیں۔ بھاری جسم کا ایک شخص بڑی پھرتی سے بڑے دیگچے سے پلیٹ میں سالن نکالتا، پھر کسی جادوگر کی طرح چھوٹی دیگچیوں میں سے کچھ نکال کر اس پلیٹ میں شامل کرتا اور پکارتا .... یو لوجی، کوفتہ چھولے۔ اور نان چاہئے جناب؟ پانی ادھر گھڑے میں سے لے لیں۔ وہ ایک مشین کی طرح سے ہاتھ چلا رہا تھا۔ اور یہی صورتحال زبان کی بھی تھی۔
اور اسے دیکھ کر ذہن میں لفظ پہلوان گونجتا تھا۔
پہلوان کی نظر افضال صاحب پر پڑی تو اس نے آواز لگائی۔ ”آگئے ہو بزرگو .... بھاگاں والیو۔ آج کچھ دیر نہیں کردی۔“ پھر اسے انداز ہوا کہ ان کے ساتھ عبدالحق بھی ہے تو وہ کام چھوڑ، لپک کر ان کی طرف آیا۔ عبدالحق کا ہاتھ تھام کر اس نے بڑے زور کا مصافحہ کیا۔ ”تسی کد وں آئے اوجی؟ جم جم آﺅ جی، جم جم آﺅ۔ اللہ کی رحمت ہو جی آپ تو ۔ میرے نصیب ....“
عبدالحق اس کے تپاک پر حیران ہورہا تھا۔ اس کا انداز ایسا تھا، جیسے برسوں سے اسے جانتا ہو۔
”اوپولے، کپڑا مار اس بنچ تے، اور پانی کا جگ لا کر رکھ۔“ پہلوان نے ایک دس بارہ سال کے لڑکے کو پکارا، جو وہاں ویٹر کا کام کررہا تھا۔
”بﺅ جی تسی آرام نال۔“ یہ کہہ کر پہلوان واپس چلا گیا۔
وہ دونوں بنچ پر بیٹھ گئے۔ عبدالحق نے سوالیہ نظروں سے افضال صاحب کو دیکھا .... مگر وہ وضاحت کے موڈ میں نہیں تھے۔
”آہوجی بزرگو، کی دیواں توانوں ۔ آج پائے چھولے وڈے چنگے نیں۔ کھاﺅگے تو ساد آجائے گا۔“
”نہیں پہلوان جی۔ آپ ہمیں سادہ چھولے ہی دے دیں۔“ افضال صاحب نے کہا۔
پہلوان نے شک آمیز نظروں سے انہیں دیکھا۔ ”اوجی تسی تکلف شکلف تو نہیں کردے اور میرے نال۔ میں تو جی پترہوں تواڈا۔“
”آپ جانتے ہو پہلوان کہ مجھے کیا اچھا لگتا ہے۔ تکلف کروں تو پھر یہاں آﺅں ہی کیوں۔“
”اے گل تواڈی سولہ آنے سچی ہے۔“ پہلوان نے کہا اور جلدی جلدی پلیٹوں میں چھولے نکال کر لڑکے کو پکارا۔ ”اوپولے .... انہیں گرم نان دینا۔ لے .... یہ لے جا چھیتی نال۔“
وہ کھانا عبدالحق کے لئے بڑی نعمت تھا۔ ایک تو بھوک بہت زور کی لگ رہی تھی۔ اس پر چھولے اتنے مزے دار تھے کہ لطف آگیا۔ مگر یہ وی آئی پی ٹریٹ مینٹ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ سب لوگ خود اٹھ کر مٹکے سے پانی نکال کرپیتے ہیں۔ مگر ان کی بنچ پر جگ اور گلاس رکھے تھے۔ نان انہیں صرف دو دیئے گئے تھے۔ وہ ختم ہوئے تو لڑکا بڑی مستعدی سے دو اور گرم نان ان کے لئے لے آیا۔
وہ کھانا کھا کر اٹھ رہے تھے کہ پہلوان نے ہانک لگائی۔ ”اوپولے، ہاتھ دھلا اناں دے۔“
پولا اس سے پہلے ہی حرکت میں آچکا تھا۔ اس نے ان کے ہاتھ دھلوائے، پھر انہیں ہاتھ خشک کرنے کے لئے تولیا پیش کیا، جو ذرا میلا تو تھا، لیکن ان کے سوا کسی کو پیش نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی وہ ایک اعزاز تھا، جو خاص گاہکوں کے لئے مخصوص تھا۔
یہ بات طے تھی کہ افضال صاحب پہلوان کے خاص گاہک ہیں۔
افضال صاحب نے سرگوشی میں عبدالحق سے کہا۔ ”اب میاں یہ تمہارا امتحان ہے۔ کوشش کرو پیسے دینے کی۔ ورنہ تمہیں سکون نہیں ملے گا۔“
”کیا مطلب ؟“ََ عبدالحق نے حیرت سے دیکھا۔
”زیادہ بحث نہ کرنا۔ دلوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ یہ بڑے نازک ہوتے ہیں۔ لفظوں کو سننے سے زیادہ ان کی روح کو محسوس کرنا۔ ورنہ کچھ بھی نہیں سمجھ سکو گے۔“
عبدالحق دل ہی دل میں الجھتا پہلوان کی طرف بڑھ گیا۔ ”کتنے پیسے ہوئے پہلوان جی۔“
پہلوان کے چہرے پر صدے کا حقیقی تاثر ابھرا۔ ”ناباﺅجی نا۔ تسی تے ساڈے میمان ہو.... اللہ دی رحمت ہو۔“
”دیکھو پہلوان جی، یہ تمہارا روزگار ہے۔“
پہلوان ایک دم سے جیسے چرمرا کر رہ گیا۔ چہرے پر خفت برسنے لگی۔ وہ ٹھیٹھ پنجابی بولنے والا تھا۔ مگر اردو پر آگیا۔ ”آپ ٹھیک کہتے ہو باﺅجی۔ یہ میرا ٹھیا ہے روزی کا۔ پر جی مہمانوں کےلئے یہ گھر ہے میرا۔ گھر آئے مہمان سے میں پیسے لوں گا۔“ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ لئے۔
عبدالحق نے شرمساری سے ادھر ادھر دیکھا۔ لیکن ان کی طرف کوئی متوجہ نہیں تھا۔ ”لیکن پہلوان ....“
”جانتا ہوں باﺅجی، جانتا ہوں “ پہلوان کو اردو بولنے میں خاص دشواری ہورہی تھی۔ ”تیس سال سے اوپر ہوگئے بیچ بجار میں اس ٹھیے پر بیٹھے۔ آدمی کی پہچان ہے مجھے۔ جانتا ہوں، آپ بڑے آدمی ہو، حاکم ہو۔ مجھے بھی خرید سکتے ہو۔ پر بڑا آدمی ہی تو چھوٹے کی عزت رکھتا ہے نا۔ دیکھو باوءجی، اس میں تمہاری بے عزتی نہیں، پر میری عزت ہے۔ آپ عزت نہیں دوگے مجھے؟“
”کیا مطلب؟ تمہاری عزت کیسے ہے اس میں۔“
”میں ان پڑھ جاہل ہوں باﺅجی، پرسمجھتا سب کچھ ہوں۔ صبح سویر جب میں اٹھتا ہوں تو خود سے کہتا ہوں، اوئے ماجھے، اب تو ہندوﺅں کا غلام نہیں، آزاد ہے۔ اپنے سوہنے پاکستان میں ہے۔ پر تو نے کچھ نہیں کیا پاکستان کے لئے اوئے تو تو سویا تھا ہندوستان میں اور جاگا پاکستان میں۔ تو اپنے گھر میں تھا، اپنے گھر میں ہے۔ تیرے بچے خیر سے ہیں۔ تیرے کسی پتر کو سکھوں نے نیئں مارا۔ تیری کسی دھی کو ہندو نئیں اٹھاکے لے گئے۔ ”یہ کہتے کہتے پہلوان کی آواز رندھ گئی۔ ”جو وہاں سے آئے ہیں، انہیں دیکھ کر میرا دل روتا ہے۔ سوہنے رب دی سوں، میرا دل کرتا ہے کہ اپنا گھر ادھر سے آنے والے کسی کنبے کو دے دوں اور اپنے بچوں کو لے کر کیمپ میں چلا جاﺅں۔ پر جانتا ہوں، بچے کہیں گے، پیو پاگل ہوگیا ہے۔ ،،اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔“ جو میں آپ لوگوں کی مہمانی کرلوں تو آپ بے عزتی سمجھتے ہو۔“اس نے پھر ہاتھ جوڑ لئے۔ ”میں تو اور کچھ کر بھی نہیں سکتا۔“
عبدالحق تو سن ہوکر رہ گیا تھا۔ پہلے شربت والا اور اب یہ پہلوان۔ اوروہ دونوں کو سمجھنے میں ناکام رہا تھا۔ وہ جذبے اس کے لئے بے حد انوکھے طاقت ور اور پاکیزہ تھے۔ اس کے دل میں کسی نے کہا .... پاکستان انشاءاللہ قائم رہے گا۔ جہاں لوگوں میں ایسا ایثار، ایسی محبتیں ہیں، ان زمینوں پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔
”کچھ بولونا باﺅجی۔“ پہلوان نے اسے چونکا دیا۔
”کیا بولوں۔ میں آپ سے شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کردیں۔“
”ناجی، ایسے نئیں کہتے باﺅجی۔“ پہلوان نے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ ”بس ایک وعدہ کرو۔ اس طرف جب بھی آﺅ گے تو میرے پاس ضرور آﺅ گے۔ آپ آﺅ گے تو میرے لئے مبارک ہوگا۔ رب سوھنا میرے رزق میں برکت دے گا۔“
وہ وہاں سے چل دیئے۔ ”اب میاں، میں تو کھانے کے بعد قیلولہ کرتا ہوں۔“ افضال صاحب نے کہا۔
”میں تو بس آپ کے ساتھ ہوں۔ جہاں چاہیں، لے چلیں“
وہ چلتے رہے۔ عبدالحق کسی گہری سوچ میں غلطاں تھا۔ افضال صاحب نے بھی اسے نہیں چھیڑا۔ عبدالحق کو پتا بھی نہیں چلا کہ وہ ایک باغ میں داخل ہوگئے ہیں۔ ”چلو .... یہاں گھاس پر بیٹھتے ہیں۔“ افضال صاحب نے کہا۔
عبدالحق نے سرگھا کردیکھا۔ وہ بہت بڑا باغ تھا۔ لہلہاتی ہوئی گھاس، جھومتے ہوئے درخت، پھولوں کی روشیں، جا بہ جا سلیقے اور ترتیب سے بچھی ہوئی بنچیں۔ اس کا دل خوش ہوگیا۔ اتنا بڑا باغ اور سلیقے کایہ حال۔ پھر اسے خیال آیا کہ ابھی تو اس نے اس باغ کو صرف ایک نظر دیکھا ہے۔ اسے پوری طرح دیکھنے میں تو اسے کئی گھنٹے لگیں گے۔
افضال صاحب گھاس پر نیم دراز ہوگئے تھے۔ ”آﺅ یہاں، بیٹھ جاﺅ۔“
عبدالحق ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ ”یہ کون سی جگہ ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”یہ لارنس گارڈن ہے۔“
”لارنس گارڈن ؟“
”ہاں میاں۔ انگریزوں نے یہاں جوکچھ بھی بنایا، اسے اپنے کسی نام کی یادگار بنا دیا لیکن ایک بات ہے یہ انگریز لوگ ہر کام بڑی سچائی، لگن اور سلیقے کے ساتھ کرتے ہیں۔“
عبدالحق ابتدا ہی سے سوچنے، سمجھنے، غوروفکر کرنے اور تجزیہ کرنے والا تھا۔ وہ اس بات پر بھی غور کرتا رہا۔ پہلا افسر جس سے اس کا واسطہ پڑا، حسن دین تھا۔ حسن دین جس نے بغیر کاغذات کے نہ صرف اس کا پورا گاﺅں بلکہ اردگرد کی زمینیں بھی اس کے نام کر دی تھیں۔ اور صلے میں اس سے کچھ بھی نہیں مانگا تھا۔ صرف اس لئے کہ وہ اس کے جذبے سے متاثر ہو گیا تھا.... اس بات سے کہ وہ اپنی زمینوں پر ہندستان سے لٹ پٹ کر آنے والوں کو بے غرض پناہ دے رہا تھا۔ پھر اس نے پانی کے سلسلے میں اسے محکمہ زراعت کے دوسرے افسر عرفان احمد سے ملوایا تھا۔ وہ بھی بے غرض، دردمند اور پاکستان سے محبت کرنے والے افسر تھے۔ یعنی یہاں کندہم جنس باہم جنس پرواز والا معاملہ کام کررہا تھا۔ اور عرفان احمد نے اسے مسعود احمد خان کے پاس بھیجا تھا۔ اس لحاظ سے مسعود صاحب کے بارے میں بدگمانی کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
اس نے اس بات کو ذہن سے جھٹک دیا۔ چند روز بعد بات خود ہی کھل گئی۔
مسعود صاحب کے لگے بندھے معمولات تھے۔ شام پانچ بجے وہ اپنے گھر چلے جاتے۔ جانے سے پہلے وہ رات کے کھانے کا راشن جمیل کو دے جاتے۔ پھر وہ رات آٹھ بجے دوبارہ کیمپ آتے اور رات کے کھانے کے معاملات دیکھتے۔ اس طرف سے مطمئن ہونے کے بعد ہی وہ گھر واپس جاتے۔
Updated on 15 May 08 at 10:28 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.