یہ جمیل کی عبدالحق سے گفتگو کے دو دن بعد کی بات ہے کہ رات کو کھانا کم پڑ گیا۔
مسعود صاحب کو پتا چلا تو تڑپ کر اپنے دفتر سے نکل آئے۔ عملی صورتِ حال سمجھنے میں انہیں ذرا دیر نہیں لگی۔ اس وقت تک کھانا ختم ہو چکا تھا اور چوتھائی کیمپ کھانے سے محروم تھا۔
انہوں نے جمیل اور شمشاد کو طلب کر لیا۔ ”یہ کیسے ہوا؟“ انہوں نے کڑے لہجے میں ان دونوں سے پوچھا۔
عبدالحق نے پہلی بار انہیں اس لہجے میں گفتگو کرتے دیکھا تھا۔ ورنہ وہ تو ظرافت کی چاشنی کے بغیر بات کرنے کے قائل ہی نہیں تھے۔
”میں کیا کہہ سکتا ہوں جناب۔“ شمشاد نے بڑی عاجزی سے کہا۔ ”میں نے تو ہمیشہ کی طرح پرچا بنایا اور جمیل صاحب کو دے دیا۔ سامان مجھے ملا، اور میں نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے آگے تو مجھے کچھ معلوم نہیں جناب۔“
”اور تم کیا کہتے ہو؟‘ مسعود صاحب جمیل کی طرف مڑے۔
”مجھ سے کیا پوچھتے ہیں سر، ذمے داری تو آپ کی ہے۔“ جمیل نے بے حد بے خوفی سے کہا۔
”کیمپ کے انچارج تم ہو۔ جواب دہی بھی تمہیں کرنی ہے۔“ مسعود صاحب کے لہجے میں غصہ تھا۔
”میں تو نام کا انچارج ہوں۔ آپ کسی کی سنتے ہی کب ہیں۔“
مسعود صاحب کا لہجہ اچانک نرم ہو گیا۔ ”تمہارا مطلب ہے کہ یہ میری ذمہ داری ہے؟“
”جی سر۔“ جمیل اب بھی ان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
مسعود صاحب مسکرائے۔ ”تمہاری بات وضاحت طلب ہے جمیل۔“ وہ بے حد نرم لہجے میں بولے۔ ”لیکن پہلے ہمیں اصل مسئلے سے نمٹنا ہے۔ تم سے بات میں ذرا دیر بعد کروں گا۔“ وہ شمشاد کی طرف مڑے۔ ”شمشاد، فوری طور پر کھانے کا بندوبست کرنا ہے۔“
”جو حکم جناب۔ آپ سامان نکلوا دیں۔ میں تیاری کرتا ہوں۔“
”نہیں شمشاد، اس میں دیر لگے گی۔ کھانا باہر سے منگوانا ہو گا۔“
”ایک گھنٹے میں تیار ہو جائے گا جناب....“
مسعود صاحب نے جیب سے چند نوٹ نکال کر شمشاد کی طرف بڑھائے۔ ”فوری طور پر باہر سے کھانا منگوا کر لوگوں کو کھلاﺅ۔“
شمشاد ایک لمحے کو ہچکچایا۔ مگر پھر اس نے نوٹ لے لئے اور کچن کی طرف چلا گیا۔
اب مسعود صاحب جمیل کی طرف مڑے۔ ”ہاں، اب ذرا اپنی بات کی وضاحت بھی کر دو۔“
”دیکھیں نا سر، میں ہمیشہ آپ سے کہتا ہوں کہ کھانا ذرا زیادہ پکوایا کریں۔ کم پڑنے کا احتمال نہ رہے۔“
”شمشاد جو پرچا بناتا ہے، اس کے مطابق اسٹور سے سامان تم خود نکالتے ہو۔“
”مگر آپ کی نگرانی میں۔“ جمیل نے بے ساختہ کہا۔
”اوہ.... تو تمہیں اس پر اعتراض ہے۔“ مسعود صاحب کا لہجہ اور نرم ہو گیا۔
”جی نہیں۔ اس میں اعتراض کی کیا بات ہے۔“ جمیل گڑبڑا گیا۔ ”میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اس صورت میں کمی کا ذمہ دار شمشاد ہے۔ میں یہاں اسسٹنٹ انچارج ہوں۔ مگر میری سنتا کون ہے۔“
”یعنی تم یہاں وزیر بے قلم دان ہو۔“ مسعود صاحب کی روایتی ظرافت اور شگفتگی لوٹ آئی۔ مگر عبدالحق کو نجانے کیوں اس کی تہہ میں سنگینی چھپی نظر آرہی تھی۔
اس شگفتگی نے جمیل کو اور شیر کر دیا۔ ”آپ خود ہی دیکھ لیں سر۔ پرچا تو شمشاد بناتا ہے نا۔“
”ہاں.... لیکن باہر سے آنے والے کھانے کو ذہن میں رکھ کر۔“
”اس میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔“
”ہاں، یہ تو ہے۔“ مسعود صاحب نے پرخیال لہجے میں کہا۔ پھر جمیل کو بہت غور سے دیکھا۔ ”تو یہاں کھانے کے سلسلے میں ذمہ دار دو افراد ہیں۔ ایک میں اور دوسرا شمشاد۔“ ان کے لہجے میں تاسف تھا۔
”جی ہاں۔“
”اس کا مطلب ہے کہ یہاں اسسٹنٹ انچارج کی ضرورت ہی نہیں۔ یعنی تم غیر ضروری ہو۔“
”بظاہر تو یہی لگتا ہے جناب۔ لیکن بہرحال میں سرکاری ملازم ہوں۔“
”ارے ہاں، یاد آیا۔“ مسعود صاحب کو اچانک جیسے کچھ یاد آگیا۔ ”ایسے بے کار بھی نہیں ہو تم۔ کام تو بہت کرتے ہو تم۔“
”آپ ہی جانیں سر۔“ جمیل نے بے پروائی سے کہا۔
”باہر سے آنے والا کھانا تو تمہاری ہی ذمہ داری ہے۔“ مسعود صاحب نے بے حد سرسری انداز میں کہا۔
اچانک جمیل بہت چوکنا نظر آنے لگا۔ ”جی.... جی ہاں۔“
”اس میں تو میں دخل بھی نہیں دیتا۔ وہ تو مکمل طور پر تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس معاملے میں تم پوری طرح بااختیار ہو۔ یعنی تم کیمپ کے انچارج ہو۔ نام کے نہیں، سچ مچ کے۔“
”جی ہاں۔ لیکن میں باہر جاکر مخیر لوگوں سے اپیل تو نہیں کرتا۔“
”تھوڑی دیر پہلے تم نے معترضانہ انداز میں کہا تھا کہ پرچا شمشاد بناتا ہے۔ اس پرچے کے مطابق سامان تم نکالتے ہو۔ لیکن میری نگرانی میں۔ گویا میری نگرانی کے بغیر تم آزادانہ سامان نکالو تو کمی نہیں پڑے گی۔ شاید میری نگرانی بے برکتی کا سبب ہے۔“
”یہ تو نہیں کہا میں نے۔“ جمیل نے جلدی سے کہا۔
”مگر مطلب تو یہی تھا۔ خیر.... ایک بات ذہن میں آتی ہے۔ ممکن ہے، آج باہر سے کھانا کم آیا ہو۔“
”جی.... جی ہاں، ممکن ہے۔“ اب جمیل پریشان نظر آرہا تھا۔
مسعود صاحب نے ادھر ادھر دیکھا، پھر آواز لگائی۔ ”عابد.... نسیم.... ذرا یہاں آﺅ۔“
کچن میں کام کرنے والوں میں سے دو افراد ان کی طرف چلے آئے۔ ”کیا حکم ہے صاحب جی؟“
”نسیم، تم ذرا باہر سے آنے والی دیگیں گن کر مجھے بتاﺅ۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”اور عابد، تم ذرا اخلاق صاحب کو بلا کر لاﺅ۔“
عبدالحق نے دیکھا کہ جمیل بری طرح مضطرب ہو گیا ہے۔ وہ بار بار پہلو بدلتا تھا، کچھ کہنے کے لئے منہ کھولتا تھا، مگر فوراً ہی سختی سے ہونٹ بھینچ لیتا تھا۔ مگر مسعود صاحب جیسے اس سے بے تعلق ہو گئے تھے۔
”آپ نے مجھے یاد فرمایا سر؟“
اخلاق کی آواز سن کر مسعود صاحب چونکے اور انہوں نے سر اٹھایا۔ ”ہاں اخلاق، اپنے رجسٹر میں چیک کر کے مجھے بتاﺅ کہ آج باہر سے کتنا کھانا آیا تھا۔“
”میں رجسٹر چیک کئے بغیر بھی بتا سکتا ہوں سر۔ چاول کی 25 دیگیں....“
مسعود صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”مجھے یقین ہے کہ تمہارا زبانی حساب بھی درست ہو گا۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ تم رجسٹر سے چیک کر کے تحریری طور پر مجھے بتاﺅ۔“
”جی بہت بہتر۔“ اخلاق نے جمیل کو ایک نظر دیکھا اور پلٹ کر چلا گیا۔
مجھے نہیں معلوم تھا کہ اخلاق یہ کام بھی کرتا ہے“ جمیل نے کہا، اس کے لہجے میں احتجاج تھا۔ ”اس کی ذمہ داری تو صرف کیمپ میں آنے اور رخصت ہونے والوں کا ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔“
”جی نہیں۔ کیمپ میں آنے والی اور کیمپ سے باہر جانے والی ہر چیز کا ریکارڈ وہ مرتب کرتا ہے ....
’لیکن سر....“
”میں اس کیمپ کا انچارج ہوں اسسٹنٹ انچارج صاحب یہاں کی ہربات سے باخبر رہنا چاہتا ہوں میں۔ تمہاری طرح نام کا انچارج بننا مجھے گوارا نہیں۔“
”اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں....“
”بات اعتماد کی نہیں، اپنی ذمہ داری کی ہے جمیل“ مسعود صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔“ امانت بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، اور اس معاملے میں، میں اپنا بار دوسروں پر ڈالنا پسند نہیں کرتا۔ ورنہ پرچون فروش بنیوں کی طرح خود اپنے سامنے راشن نہ تلواتا۔ یہی شکایت ہے نا تمہیں؟“
”نہیں سر، یہ بات نہیں....“
اتنی دیر میں نسیم آگیا۔ ”سر جی، یہاں سولہ خالی دیگیں موجود ہیں بارہ چاول کی اور چارسالن کی۔“
”دیکھا آپ نے۔ آج باہر سے کھانا آیا ہی کم تھا۔“ جمیل نے کہا۔
”ہُم.... ذرا اخلاق آجائے، پھر دیکھتے ہیں“۔ مسعود صاحب نے ہنکارا بھرتے ہوئے کہا۔
اخلاق اس بار پتلے سے ایک رجسٹر کے ساتھ آیا۔ ”جی سر، چاول کی 25 دیگیں، سالن کی پندرہ دیگیں آئی تھیں آج۔“
”کچھ خالی دیگیں میں نے پہلے ہی واپس بھجوادی تھیں۔“ جمیل نے مدافعانہ انداز میں کہا۔
”ابھی دو منٹ پہلے تو تم کہہ رہے تھے کہ کھانا ہی کم آیا تھا۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”تمہیں یاد ہے کہ کتنی دیگیں آئی تھیں اورکتنی خالی دیگیں تم نے واپس بھجوائیں۔“
”اب میں گنتا تو نہیں ہوں۔“
”حالانکہ حساب رکھنا چاہئے تمہیں.... “ مسعود صاحب نے کہا۔ پھر اضافہ کیا۔ ”میری طرح۔ آخر یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔“ پھر وہ اخلاق کی طرف مڑے۔ ”تم کیا کہتے ہو اس سلسلے میں؟“
”جی سر۔ 40 دیگیں آئی تھیں۔ ان میں سے 24 دیگیں واپس بھجوائی جاچکی ہیں۔لیکن وہ خالی نہیں تھیں۔ جیسی بھری ہوئی آئی تھیں، ویسی ہی بھری ہوئی گئیں۔“ اخلاق نے کہا۔ ”اور یہ تو ہر روز ہوتا ہے۔ بس آج تعداد بڑھ گئی تھی۔“
”یہ بات تمہارے علم میں تھی؟“ مسعود صاحب نے جمیل سے پوچھا۔
”نہیں جناب“
”اخلاق تو کہتا ہے کہ یہ روز کا معمول ہے“
”جی، وہ کھانا زیادہ ہوتا ہے تو میں دربار بھجوادیتا ہوں، یہ سوچ کر کہ کھانا ضائع نہ ہو۔“
”بہت اچھی سوچ ہے تمہاری۔“ مسعود صاحب بولے۔ ”لیکن میں نے کہا نا کہ میں اپنے کیمپ کے بارے میں بے خبر رہنا پسند نہیں کرتا۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ دیگیں درباری لنگر کی دکانوں پر سجادی جاتی ہیں اور تم ان کے پیسے وصول کرتے ہو۔ میں جانتا تھا، لیکن چشم پوشی کرتا رہا۔ مگر آج تم حد سے گزرگئے۔ کیمپ میں کھانا کم پڑگیا۔ اس کیلئے میں تمہیں معاف نہیں کروں گا۔“
”جانے دیجئے سر۔“ جمیل نے بڑی ڈھٹائی سے کہا۔ ”پہلی بار یہ غلطی ہوئی کہ کیمپ کو نمٹانے سے پہلے دیگیں دربار بھجوادیں۔ اب آدمی سے غلطی تو ہوجاتی ہے سر“
”یہ غلطی نہیں، بددیانتی ہے۔ اب میں تمہیں برداشت نہیں کرسکتا....“
”مگر آپ میرا کچھ نہیں بگاڑسکتے۔ میں سرکاری ملازم ہوں“
”میں اپنے اختیارات سے واقف ہوں جمیل، فی الحال تمہیں معطل کررہا ہوں۔ انکوائری ہونے پر تم یقینا ڈسمس ہوجاﺅگے۔“
”دیکھ لیں گے سر“
”تم یہاں حاضر رہو گے۔ لیکن کسی کام میں دخل نہیں دوگے۔“
جمیل پاﺅں پٹختا ہوا چلا گیا۔ مسعود صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے۔
........x........
عبدالحق دنیا کی نیرنگی اور بوالعجبی کے بارے میں سوچتا رہا۔ اسے خوشی تھی کہ مسعود صاحب کھرے آدمی ثابت ہوئے۔ لیکن اسے افسوس تھا کہ جمیل جو خود اتنا خراب آدمی تھا، کیسے ان کی کردارکشی کرتا رہا۔ جو کچھ اس نے مسعود صاحب کے بارے میں اس سے کہا تھا، نجانے کس کس سے کہتا رہا ہوگا۔ اسے جمیل کے کردار پر افسوس تھا۔
رات تک کیمپ میں سب کو معلوم ہوگیا کہ جمیل کو معطل کردیا گیاہے۔ لیکن جمیل کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ وہ لوگوں سے یوں مذاق کرتا پھررہا تھا، جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔ بہرحال اس رات کیمپ میں اسی موضوع پر بات ہوتی رہی۔ لیکن جمیل کے سامنے کسی نے کچھ نہیں کہا۔
اس رات افضال صاحب جلدی سوگئے۔ نجانے کیوں وہ بہت اداس اور دل گرفتہ نظر آرہے تھے۔سونے سے پہلے دیر تک وہ اکیلے ایک گوشے میں دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے بیٹھے رہے تھے۔ رہ رہ کر وہ کچھ بڑبڑاتے اور اپنے سرپر زور سے ہاتھ مارتے، کوئی اندرونی اضطراب تھا، جو انہیں بے چین کئے ہوئے تھا۔
عبدالحق نے حمید سے کہا۔ ”افضال صاحب کی آج کچھ طبیعت خراب ہے۔“
”ہاں ....ایسا ہوتا رہتا ہے“
عبدالحق کا جی چاہ رہا تھا کہ جاکر ان کے پاس بیٹھے، ان کی دل جوئی کرے۔ لیکن کوئی غیر شعوری احساس اسے ایسا کرنے سے روک رہا تھا اسے محسوس ہوتا تھا کہ اس وقت افضال صاحب کو تنہائی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کی اپنی فطرت ایسی تھی کہ وہ کسی کو پریشانی میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ سو فطرت اسے بار بار اکساتی تھی کہ وہ ان کی طرف بڑھے۔ اسے اس پر بھی حیرت تھی کہ کسی اور کو افضال صاحب کی فکر نہیں ہوئی۔ حالانکہ وہ خود سبھی کی فکر کرتے تھے۔
عبدالحق کو افضال صاحب کی طرف بڑھنے کیلئے ایک بہانہ .... کسی کی تائید درکار تھی۔ اس نے حمید سے کہا۔ ”چلو.... کچھ دیر چل کر افضال صاحب کے پاس بیٹھیں“
”ایسا غضب نہ کرنا“ حمید نے جلدی کہا ”اس وقت انہیں ان کے حال پر چھوڑدینے ہی میں بہتری ہے۔“
”کیا مطلب؟“
”دیکھو، مہینے میں کم ازکم ایک بار ان کی یہ کیفیت ہوتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے حواسوں میں نہیں ہوتے۔“
”لیکن....“
”ایسے میں کوئی قریب جائے تو وہ جنونی ہوجاتے ہیں۔ کسی کو کوئی بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ان سے“
”تو پھر یہ ایسے ہی رہیں گے“۔
”کچھ دیر ایسے ہی رہیں گے۔ پھر سوجائیں گے.... بے خبر، گہری نیند۔ اور ہوسکتا ہے کہ کل دوپہر کو بلکہ شام کو سوکر اٹھیں۔“
عبدالحق بہت ملول ہوا۔ اس سے ان کا حال دیکھا نہیں جارہا تھا۔
”تم بے کار کڑھ رہے ہو۔“ حمید نے اسے تسلی دی۔ ”یہ کیفیت ان کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ کی رحمت ہے“
”وہ کیسے؟“
”اس کیفیت کے بعد وہ گہری طویل نیند سوجاتے ہیں۔ نیند ان کیلئے نعمت ہے۔ جانتے ہو کیوں؟“
عبدالحق نے نفی میں سر ہلایا۔
”ایسے کہ وہ کبھی سوتے بھی نہیں ہیں۔“
”مگر میں نے تو ہر رات انہیں سوتے ہوئے دیکھا ہے۔“ عبدالحق نے اعتراض کیا۔
”سوتے نہیں ہیں، بس آنکھیں بند کئے پڑے رہتے ہیں۔ تاکہ دوسروں کی نیند خراب نہ ہو۔ شروع میں یہ سوتے تھے۔ مگر ذرا دیر میں ہی چیختے ہوئے اٹھ جاتے تھے۔ شاید کوئی ڈراﺅنا خواب دیکھتے تھے۔ اور اٹھتے تو زور زور سے چیختے تھے.... مجھ پر لعنت ہو.... لعنت ہو مجھ پر۔ موت نے بھی مجھ پر لعنت بھیج دی ہے۔“
عبدالحق سوچ میں پڑگیا۔ یہ تو نفسیاتی معاملہ ہوا۔ کچھ ایسی گزری ہے ان پر، جو ان کے ضمیر کےلئے بوجھ ہے۔ ”کبھی ان سے پوچھا کہ پاکستان آتے ہوئے ان پر کیا گزری تھی۔“
”وہ بس اتنا کہتے ہیں کہ کچھ نہیں بچا.... کچھ بھی نہیں بچا.... اور جو بچا، وہ زمین کا بوجھ ہے۔“
”اپنے بیوی بچوں، اپنے رشتہ داروں کے بارے میں نہیں بتاتے۔“
”بس اتنا کہتے ہیں کہ سب شہید ہوگئے۔ اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ میں کہیں کھوگیا، ضائع ہوگیا۔“
عبدالحق کو افضال صاحب سے اپنی گفتگو یاد آگئی۔ اس سے بھی انہوں نے یہی کچھ کہا تھا۔ وہ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ افضال صاحب کا نہ سونا بھی فطری تھا۔ یہ نہیں کہ انہیں نیند نہیں آتی ہوگی۔ بات یہ ہے کہ وہ نیند سے لڑتے تھے، سونا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ڈراﺅنے خواب سے گھبراتے تھے۔ ڈراﺅنے خواب دیکھنے والے بھی نیند سے نہیں لڑتے۔ نیند بہت بڑی آسائش ہے، اللہ کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے، تھکن اور اضمحلال کو زائل کرکے آدمی کو تازہ دم کرنے کا قدرتی عمل۔ کوئی شخص اگر دو رات نہ سوئے تو اس کی تھکن اور اضمحلال کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ نڈھال ہوجاتا ہے آدمی، اس لئے ڈراﺅنے خواب کا خوف بھی اسے نیند سے دور نہیں رکھ سکتا۔ افضال صاحب دوسروں کا خیال رکھنے والے آدمی تھے۔ وہ کسی کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھ لیا کہ سونے کے بعد وہ چیختے ہوئے اٹھتے ہیں اور دوسروں کی نیند خراب ہوتی ہے تو انہوں نے ارادہ کرلیا کہ وہ سوئیں گے ہی نہیں۔ اپنے خوابوں پر تو ان کا قابو نہیں تھا، اپنی نیند سے تو وہ لڑسکتے تھے۔
اب عبدالحق سمجھ سکتا تھا کہ افضال صاحب کی یہ کیفیت اللہ کی طرف سے بہت بڑی رحمت ہے۔ اس طرح اللہ انہیں ایک طویل نیند عطافرماکے تازہ دم کردیتا ہے۔ ورنہ جاگنے کی وہ تھکن اور بے آرامی ان کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ جائے۔ یہ سب کچھ سوچتے ہوئے عبدالحق کو افضال صاحب پر ترس آنے لگا۔ ایک ایسا شخص جو زندہ رہنے کا ہرجواز کھوچکا ہو، مگر اللہ کا حکم آنے تک اسے جینا ہو، کیسا قابل رحم ہوتا ہے۔ افضال صاحب نے بظاہر جینے کے کئی جواز بنالئے تھے۔ لیکن اندر سے وہ موت کے آرزو مند تھے، ورنہ وہ چیخ کر یہ کیوں کہتے کہ موت نے بھی ان پر لعنت بھیج دی ہے۔ افضال صاحب کے بارے میں عبدالحق کا تجسس اور بڑھ گیا۔ اسے یقین ہوگیا کہ پس منظر میں کوئی بڑی کہانی ہے۔ اسے شرمندگی بھی ہوئی۔ عام حالات میں وہ غیر ضروری تجسس سے بچتا تھا کہ اللہ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
”وہ دیکھو، وہ سوگئے۔“
حمید کی آواز نے عبدالحق کو چونکا دیا۔ اس نے سرگھماکر دیکھا۔ افضال صاحب جہاں بیٹھے ہوئے تھے، وہیں ڈھے گئے تھے۔ ان کا جسم بے ترتیب اور نہایت بے آرامی کی حالت میں تھا۔ ایسی بے آرامی میں کوئی سو نہیں سکتا۔ لیکن افضال صاحب گہری نیند سورہے تھے۔ اور ان کے چہرے پر ایسا سکون تھا کہ وہ کسی معصوم بچے کا چہرہ لگ رہا تھا۔
کچھ دیر تو عبدالحق یہ سوچ کر بیٹھا رہا کہ کہیں ان کی نیند خراب نہ ہوجائے۔ پھر وہ اٹھا اور اس نے انہیں سیدھا کرکے لٹایا اور کمبل اڑھادیا۔ افضال صاحب اتنی گہری نیند میں تھے کہ اس دوران کسمسائے بھی نہیں۔
عبدالحق کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا۔ اس دوران نذیر، نعمان اور مجید بھی سونے کیلئے وہاں آگئے تھے۔ ان کے درمیان گفتگو ہونے لگی جمیل کا نام سن کر عبدالحق چونکا، اور ان کی طرف متوجہ ہوگیا۔
”اب جمیل کا کیا بنے گا؟“ مجید نے پوچھا۔ اس کے لہجے میں فکر مندی تھی۔
”بڑے صاحب اصول کے پکے ہیں۔ اسے چھوڑیں گے نہیں۔“ نعمان نے کہا۔ ” لیکن تجھے اتنی فکر کیوں ہورہی ہے جمیل صاحب کی“
”یہ مجید کسی کی فکر نہیں کرتا۔ یہ صرف اپنی فکر کرتا ہے۔“ نذیر نے ہنستے ہوئے کہا۔
”کیوں نہ کروں۔ میری فکر کرنے والا کوئی ہے ہی نہیں۔ میں بھی اپنی فکر نہ کروں تو کیا بنے گا میرا۔“ مجید نے جھنجھلاکر کہا۔
”ارے، تین وقت کی روٹی کے سوا فکر کی بات کیا ہے۔ اور وہ بھی فکر کے بغیر مل جاتی ہے۔“ نذیر نے کہا۔
”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“ نعمان چھیڑنے والے انداز میں گنگنانے لگا۔
”تو اور کیا.... آگے پوری زندگی پڑی ہے۔ اس کیمپ میں تو نہیں گزرے گی نا۔“ مجید بولا۔
”ابھی تو شادی کرنی ہے، گھربسانا ہے۔ بچے ہوں گے۔ ان کے مستقبل کا بھی سوچنا ہے۔“ نذیر نے ٹکڑا لگایا۔
حمید ابھی تک اس گفتگو میں شامل نہیں ہوا تھا۔ اور عبدالحق اس رمزیہ گفتگو کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ تینوں جوان تھے۔ تیس سے کچھ کم ہی عمر ہوگی ان کی۔ لیکن جو کچھ وہ دیکھ کر آئے تھے، اس کے نتیجے میں اپنی عمرسے بڑے لگتے تھے۔
”ہاں، جو ہونا تھا، وہ تو ہوچکا“ مجید نے آہ بھر کے کہا ۔ ”مستقبل کی تو فکر کرنی ہوگی“
”کوئی بات نہیں۔ اگر چھن گیا اک نشیمن تو کیا غم۔ مقامات آہ وفغاں اور بھی ہیں“ نعمان پھرگنگنایا۔
”لیکن ایک بات بتاﺅں، جمیل صاحب کا کچھ نہیں بگڑے گا“ مجید نے جیسے چڑ کر کہا۔
”تیل دیکھو اور تیل کی دھار دیکھو“ نذیر کے انداز میں چیلنج تھا۔
”دیکھ لینا“
”مجید ٹھیک کہتا ہے۔“ نعمان نے پہلی بار سنجیدگی سے کہا۔ اس کے لہجے میں تاسف تھا۔ ”بڑے صاحب جمیل کا کچھ نہیں بگاڑسکیں گے۔“
عبدالحق عام طورپر خاموشی سے سنتا تھا، دوسروں کی گفتگو میں مداخلت نہیں کرتا تھا۔ مگر اس وقت اس سے رہا نہیں گیا۔ اس نے تیز لہجے میں کہا۔ ”میں سمجھتا ہوں کہ جمیل کو سزا ملنی چاہئے، اور ملے گی بھی۔ مسعود صاحب نے اسے معطل تو کرہی دیا ہے۔ اس کے خلاف تمام ثبوت موجود ہیں۔ انکوائری کے نتیجے میں وہ برطرف بھی ہوگا۔“
”بابو صاحب، آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔“ نذیر نے کہا۔ ”جمیل صاحب بڑی چیز ہیں....“
”لیکن مسعود صاحب....“ عبدالحق نے کچھ کہنا چاہا۔
”بڑے صاحب سے بھی بڑی چیز“ نذیر نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات پوری کی۔
”اور جمیل صاحب زیادہ دیر معطل بھی نہیں رہیں گے۔“ مجید نے فخریہ لہجے میں کہا۔
”مگر کیوں۔ یہاں تو اللہ کا قانون ہے۔ مجرم کو سزا تو ملے گی۔“ عبدالحق کا لہجہ تلخ ہوگیا۔
”ابھی تو یہاں انگریز کا قانون ہے اور نجانے کب تک چلے گا۔“ نعمان کے لہجے میں بھی تلخی تھی۔
”میری سمجھ میں تو نہیں آتا....“
”آپ نہیں سمجھ سکتے۔ جمیل صاحب کے بڑے صاحب سے بھی بڑے افسروں سے تعلقات ہیں“
”تو تعلقات سے کیا ہوتا ہے۔ تعلقات سے جرم کرنے کا لائسنس مل جاتا ہے کیا؟“
”جی ہاں بابو صاحب، اب تک یہاں ہم نے یہی دیکھا ہے۔“ حمید نے پہلی بار زبان کھولی۔
”میری سمجھ میں نہیں آتا، جمیل میں ایسی کیا خصوصیت ہے کہ مسعود صاحب سے بڑے افسروں سے اس کے تعلقات ہیں۔ جبکہ وہ تو مسعود صاحب کی نظروں میں بھی عزت حاصل نہیں کرسکا۔“
”آدمی آدمی کا فرق ہوتا ہے بابو صاحب“ نعمان نے کہا۔ ”یہاں بنیادی رشتہ غرض کا ہے۔ غرض سے دوستی ہے، غرض سے تعلق ہے، جو غرض نہیں رکھتا، اسے جیتا بھی نہیں جاسکتا، جیسے اپنے بڑے صاحب“
میرے کہنے پر وہ اوپر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں بھی دبے پاﺅں زینے کی طرف بڑھ گیا۔ میں اس کے سامنے نہیں گیا بلکہ چھپ کر اسے دیکھتا رہا۔ اس نے کتاب نہیں کھولی تھی۔ مگر وہ ادھر ادھر بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ تو بس سرجھکائے بیٹھا تھا۔ خاصی دیر ہوگئی۔ اس نے سراٹھاکر ایک بار بھی کسی کی جستجو میں نظر نہیں دوڑائی۔ مجھے شرمندگی ہونے لگی کہ میں نے اس پر شک کیا .... اسے غلط سمجھا۔ لیکن پھر مجھے یہ خیال بھی آیا کہ بظاہر وہ پڑھنے کیلئے کوٹھے پر آیا ہے جبکہ اب تک اس نے ایک بار بھی کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔ کوئی بات تو ہے۔
”میں وہاں سے ہٹنے ہی والا تھا کہ اچانک نیچے سے کسی لڑکی کی آواز آئی۔ وہ کچھ پڑھ رہی تھی۔ میں نے دیکھا۔ وہ آواز سنتے ہی میرے اوتار سنگھ کے جسم میں جیسے کوئی برقی رو دوڑ گئی۔ اس نے سراٹھایا اور اپنے سامنے دیکھنے لگا۔ لیکن اگلے ہی پل مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ اس وقت کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ وہ تو صرف سن رہا تھا.... اور اس میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ میں اس کے سامنے بھی چلاجاتا تو وہ مجھے نہ دیکھ پاتا۔
”میں نے اوتار سنگھ سے دھیان ہٹایا اور لڑکی کی آواز پر توجہ کی۔ چند ہی لمحوں میں مجھے اندازہ ہوگیا کہ لڑکی قرآن پڑھ رہی ہے۔ میرا زمانہ تعلیم کا ساتھی امان اللہ اکثر میرے سامنے قرآن پڑھا کرتا تھا۔ اس لئے مجھے یہ بات معلوم تھی۔ مگر میرے خیال میں میرے پتر کو اس بات کا علم نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے تو یہ بھی مشکل سے ہی معلوم ہوا ہوگا کہ وہ عربی زبان ہے۔
بہرحال میری سمجھ میں یہ بات آگئی کہ وہ عربی کیوں سیکھنا چاہتا ہے۔
”میں نے اگلے دن بھی مشاہدہ کیا۔ بات میری سمجھ میں آگئی۔ اوتار سنگھ صرف وہ آواز سننے کیلئے کوٹھے پر جاتا تھا۔ وہ آواز رکتی تو وہ مشکل سے دوتین منٹ وہاں ٹھہرتا۔ آواز رکتے ہی اس کی محویت ٹوٹتی۔ وہ اس بچے کی طرح ادھر ادھر دیکھتا، جس سے اس کا من پسند کھلونا چھین لیا گیا ہو۔ پھر وہ نیچے کا رخ کرتا۔
اتنی بات تو سمجھ میں آگئی۔ مگر اس کے ساتھ الجھنیں بھی بڑھ گئیں۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیسی دلچسپی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اوتارسنگھ کھڑا ہوتا اور جالیوں کے پاس جاکر اس لڑکی کو دیکھتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا۔ وہ تو بس مبہوت ہوکر اس آواز کو سنتا تھا۔ میں نے ایک بار بھی اسے اپنی جگہ سے اٹھتے نہیں دیکھا۔ اب اسے محبت تو نہیں کہا جاسکتا۔
”تین دن دہلی میں گزارکر میں گاﺅں چلا آیا۔ ایک ہفتے بعد اوتار سنگھ کو بھی آنا تھا۔ میں اس معاملے پر سوچتا رہا۔ اگر اوتار سنگھ اس لڑکی کی خاطر عربی سیکھ رہا ہے تو پھر یہ تو محبت ہی ہوئی۔ لیکن وہ اسے دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ غیرمعمولی بات ہے۔
”گرمی کی چھٹیاں شروع ہوئیں اور وہ سب گاﺅں آگئے۔ ان کے ساتھ اوتار سنگھ کے نئے استاد مولوی صاحب بھی تھے۔ میں نے رگھو اور رنجنا سے الگ الگ بات کی۔ رنجنا سے باتوں ہی باتوں میں نیچے والوں کے بارے میں پوچھا۔ وہاں تین لڑکیاں تھیں۔ یہ پتا چلانا مشکل تھا کہ اوتار سنگھ ان میں سے کس میں دلچسپی لے رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نیچے والوں کے ہاں پردہ بہت سخت ہے۔