پندرہ دن بعد میں نے مولوی صاحب سے اوتار سنگھ کی پروگریس پوچھی۔ وہ خود حیران تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں زندگی میں ایسا لائق اور محنتی شاگرد کبھی نہیں ملا۔ وہ اتنا تیز چلتا ہے کہ وہ بھی تھک جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس کی علم کی لگن غیرمعمولی تھی۔
میں نے یہ بات بہت پہلے سمجھ لی تھی کہ اوتار سنگھ کو کبھی کسی بات سے روکنا نہیں ہے۔ مجھے اس کی محبت پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس کی خوشی کیلئے میں کوئی قربانی بھی دے سکتا تھا۔ مجھے پریشانی بس اس بات کی تھی کہ دھرم کے فرق نے اس معاملے کو پیچیدہ بنادیا تھا۔ مگر مجھے یہ بھی یقین تھا کہ اس کا خودبخود کوئی حل نکل آئے گا۔ ویسے یہ بات تو میرے لاشعور میں کہیں پہلے سے موجود تھی کہ مسلمان عورت کے دودھ کی ضد کرنے والے اوتار سنگھ کو محبت بھی کسی مسلمان لڑکی سے ہی ہوگی....“
نوربانو نے ڈائری بند کردی اس کے جسم میں سنسنی سی دوڑ رہی تھی۔ یہ اسے وہ بات معلوم ہوئی تھی، جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی وہ سمجھ گئی کہ باجی کی محبت یک طرفہ نہیں تھی۔ چھوٹا ٹھاکر بھی ان سے محبت کرتا تھا۔ آج باجی زندہ ہوتیں اور یہ بات انہیں معلوم ہوتی تو وہ کیسی خوش ہوتیں۔
اس کی سمجھ میں سب کچھ آگیا تھا۔ اسے اپنے گھر کا پرانا معمول یاد تھا۔ عصر کی نماز کے بعد تینوں بہنیں قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں....
مغرب کی اذان تک۔ اور پھر مغرب کی نماز پڑھتی تھیں۔ اور اسے یاد تھا کہ ابتدائی دنوں میں اس کی نگاہوں میں ہر وقت چھوٹے ٹھاکر کی صورت پھرتی تھی اور اس بات پر وہ خود سے چڑنے لگی تھی۔ بس قرآن پڑھتے ہوئے اسے چھوٹے ٹھاکر کے تصور سے چھٹکارا ملتا تھا۔ تو ان دنوں وہ اس ضرورت کے تحت بھی قرآن کی تلاوت کرتی تھی.... اور تلاوت کے دوران اس کی کیفیت عجیب ہوتی تھی۔ اسے گردوپیش کا ہوش نہیں رہتا تھا اور ایک تبدیلی یہ آئی تھی کہ وہ بلند آواز میں تلاوت کرنے لگی تھی۔ دو ایک بار اماں نے اسے اس پر ٹوکا بھی تھا۔ حالانکہ پہلے صرف باجی ہی بلند آواز میں قرا_؟ت کرتی تھیں۔
اسے یاد تھا کہ جس عرصے میں اس کا تلاوت کا رجحان بڑھا تھا، اس عرصے میں باجی تلاوت سے دور ہوگئی تھیں۔ وجہ تو وہ نہیں سمجھ سکتی تھی، مگر یہ حقیقت تھی کہ وہ قرآن پڑھنے سے جی چرانے لگی تھیں۔ عصر اور مغرب کے درمیان وہ وضو کا حیلہ کرکے دالان میں وقت گزارنے کی کوشش کرتی تھیں۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ اس معاملے میں اس نکتے کی کوئی خاص اہمیت ہے، جسے وہ سمجھ نہیں پارہی ہے۔ کوئی اہم بات ہے، جو اس کے شعور کی گرفت میں آتے آتے پھسل جاتی ہے۔
بہرحال ٹھاکر پرتاپ سنگھ کی وہ ڈائری اس کیلئے چشم کشا ثابت ہوئی تھی۔ اس کے ذریعے کئی حیرت انگیز انکشافات ہوئے تھے۔ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ ٹھاکر کو باجی کیلئے اپنے بیٹے کی محبت کا ادراک ہوگیا تھا اور وہ اسے قبول کرنے کیلئے تیار بھی تھا۔ اب وہ بس یہی سوچ سکتی تھی کہ کاش اللہ نے اس کے حصے کی زندگی باجی کو اور باجی کے حصے کی موت اسے دے دی ہوتی تو آج محبت کی اس عجیب کہانی کو ایک خوش گوار انجام مل چکا ہوتا۔
وہ اس ڈائری کو پڑھتی گئی۔ وہ حیران تھی۔ اس ڈائری میں انکشافات ہی انکشافات تھے۔ وہ ڈائری ایک انسان کی عظیم باطنی تبدیلی کی گواہ تھی۔ یقینی طورپر وہ بہت ذاتی دستاویز تھی۔ اسے شرمندگی تھی کہ اس نے بلااجازت اسے پڑھا۔ مگر اب کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔ یہ بات بھی اس نے سمجھ لی کہ درحقیقت وہ ڈائری عبدالحق کی امانت تھی....اس کے باپ کا ترکہ تھی۔ اور اسے پڑھ کر عبدالحق کو ایک بہت بڑی بات معلوم ہوتی اور ایک بہت بڑی خوشی حاصل ہوتی۔ اب اسے یہ بات عبدالحق کو بتانی تھی۔
ڈائری کے آخری چند اندرا جات بے حد سنسنی خیز تھے اور عبدالحق سے ان کا بہت گہرا تعلق تھا۔ وہ اس یقینی تبدیلی کا اعلان کررہے تھے، جو آچکی تھی۔ لیکن آخری اندراج نامکمل تھا اور اس کا براہ راست عبدالحق سے تعلق تھا۔
اس آخری اندراج میں ٹھاکر نے لکھا تھا ....
”آج میں وقت سے پہلے ڈائری لکھ رہا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے پتر پر قربان ہونے کا وقت آگیا ہے۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اس کے بعد میں کبھی ڈائری نہیں لکھ سکوں گا۔
ابھی کچھ دیر پہلے کیدارناتھ کے دومتر مجھ سے ملنے آئے۔ وہ جے پور سے آئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ چھوٹے ٹھاکر کی جان کو خطرہ ہے۔ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے وجہ بتائی۔ اور وہ وجہ سن کر میرا دل خوش ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اوتار سنگھ نے جے پور کے بڑے مندر کے تمام بت توڑ ڈالے ہیں۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی قسم کے شک وشبہے کی گنجائش نہیں۔ تب میرا جی چاہا کہ میں ہنسوں، بڑی مشکل سے میں اپنی مسکراہٹ دباتا رہا۔ اب مجھے یقین ہوگیا تھا کہ ہم دونوں کو منزل ملنے والی ہے۔
”میں نے انہیں بتایا کہ اوتار سنگھ تو ابھی واپس ہی نہیں آیا ہے۔ میں نے دیکھا، انہیں میری بات پر یقین نہیں آیا تھا۔ مگر مجھے اس کی پروا نہیں تھی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ جے پور سے مشتعل لوگ بڑی تعداد میں ٹھاکروں کی گڑھی پر حملہ کرنے کیلئے آرہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم ان سے مقابلے کی تیاری کریں گے اور لڑیں گے۔
میں نے گاﺅں کے تمام لوگوں کو بلوابھیجا۔ مجھے لگ رہا ہے کہ یہ میری آخری آزمائش ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ گاﺅں والوں سے کچھ نہیں چھپاﺅں گا۔ انہیں بتادوں گا کہ اوتار سنگھ پر کیا الزام ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ میرا ساتھ چھوڑدیں گے۔ لیکن ضرورت پڑی تو میں تنہا لڑوں گا اور آخری سانس تک لڑوں گا۔
مجھے ایک بات کا افسوس ہے۔ میں نے اپنے بارے میں جو سوچا تھا اور فیصلہ کیا تھا، اب مجھے اس پر عمل کرنے کی مہلت نہیں مل سکے گی۔ صرف اس لئے کہ اوتار سنگھ واپس نہیں آسکا۔ مگر ساتھ ہی مجھے اس بات کی خوشی بھی ہے کہ اوتار سنگھ واپس نہیں آیا۔ اب میری نسل آگے بڑھ سکے گی۔
جس دن اوتار سنگھ پیدا ہوا تھا، مجذوب نے مجھ سے ایک بات کہی تھی۔ آج وہ بات مجھے رہ رہ کر یاد آرہی ہے۔ مجذوب نے کہا تھا....
”جان دے دینا اس کیلئے۔ پھر تیرا کھوٹا سکہ بھی اشرفی کے مول چل جائے گا۔“ آج مجھے لگ رہا ہے کہ وہ بات پوری ہوگی۔ اور یہ تو میں جانتا ہوں کہ میرا کھوٹا سکہ اشرفی کے مول چل چکاہے۔
اب گاﺅں کے لوگ جمع ہورہے ہیں۔ میں ڈائری بند کرتا ہوں۔
اس کے بعد ڈائری کے تمام ورق سادہ تھے!
وہ آخری اندراج پڑھتے ہوئے نور بانو کو کچھ ہونے لگا۔ چھوٹے ٹھاکر نے جے پور کے بڑے مندر میں بت توڑے تھے۔ اس کے نتیجے میں اس کے گاﺅں پر حملہ ہوا تھا۔ لیکن اس کا گاﺅں تو سرخ آندھی کی لپیٹ میں آکر صفحہ_؟ ہستی سے مٹ گیا تھا۔ کچھ بھی ہو اور کچھ بھی ہوا ہو، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت تھی کہ چھوٹے ٹھاکر نے سنت ابراہیم علیہ السلام کو تازہ کیا تھا۔ اور یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اس پر شروع ہی سے اللہ کی رحمت ہے۔ اس کے بغیر وہ یہ سب کچھ نہیں کرسکتا تھا۔
اس بار وہ اس سے پوری طرح مرعوب ہوگئی۔
اب اسے بے تابی ہورہی تھی کہ وہ عبدالحق کو ڈائری دے اور پڑھنے کیلئے اصرار کرے۔ عبدالحق کو تو اندازہ بھی نہیں ہوگا کہ اس ڈائری کے صفحات میں اس کیلئے کتنی بڑی خوشی چھپی ہے۔ وہ اسے وہ خوشی دینا چاہتی تھی۔
........x........
عبدالحق کے دن اتنی مصروفیت میں گزر رہے تھے کہ اس کے پاس سوچنے کی مہلت ہی نہیں تھی۔ رہ گئیں راتیں تو رات کو وہ قرآن پاک پڑھنے میں مصروف رہتا۔ اس معاملے میں اسے احساس ہوتا کہ وہ دس سال پیچھے ہے اور اسے اس زیاں کی تلافی کرنی ہے۔
قرآن پاک وہ ترجمے کے ساتھ پڑھتا تھا.... اور ٹھہر ٹھہر کے، خوب غور کرکے پڑھتا تھا۔ قرآن میں اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں پڑھا تو اس کیلئے سوچ کے نئے دروازے کھل گئے۔ ویسے تو اس میں عاجزی بہت تھی۔ لیکن قرآن پڑھنے کے بعد اسے یہ احساس ہونے لگا کہ اس میں عاجزی کم.... بہت کم ہے۔
پہلی بار اس نے حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں پڑھا تو حیران رہ گیا۔ اس نے بھی تو اسی انداز میں سوچا تھا۔ اس کے بعد ہی تو اس کی تلاش حق کا آغاز ہوا تھا۔ ورنہ وہ اسی گم راہی میں پڑا رہتا، جس میں وہ پیدا ہوا تھا۔ اس نے بھی بے جان بتوں کو اس دلیل سے مسترد کیا تھا کہ وہ نہ کسی کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور نہ ہی ضرر پہنچانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ بلکہ وہ تو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے۔ پھر ان کی پرستش کیوں کی جائے۔ پھر جب اس نے قرآن پاک میں وہ واقعہ پڑھا، جہاں ابراہیم علیہ السلام نے بت توڑے تھے، تو اس کے رونگٹھے کھڑے ہوگئے۔ وہ فوراً ہی چوکنا ہوگیا۔ حالانکہ اس کی سمجھ میں وجہ نہیں آئی تھی۔ مگر اسے احساس ہوگیا تھا کہ یہ وہ مقام ہے، جہاں ایک لمحے میں وہ سب کچھ کھوسکتا ہے.... جہاں اس کے گم راہ ہوجانے کا قوی امکان ہے۔
وہاں رک کر اس نے غور کیا۔ وہ واقعہ پڑھتے ہوئے ایک ثانیے کو اسے ابراہیم علیہ السلام سے اپنی مماثلت پر فخر کا احساس ہوا تھا۔ مگر اس کے چوکنے پن نے فوراً ہی اسے دبادیا۔ چند لمحے غور کرنے کے بعد بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ اس مماثلت میں فخر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ بلکہ مزید غور کرنے پر اس کے کئی دبے ہوئے واہمے بھی دور ہوگئے۔ ان واہموں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ برسوں وہ تلاش حق میں بھٹکا ہے اور بالآخر اسے منزل مل گئی۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ خیال، اس کی یہ سوچ ہی گم راہ کن ہے۔ اللہ کے بندے، اللہ سے ڈرنے والے اس انداز میں نہیں سوچا کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مشرک گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ یہ صرف اللہ کی ہدایت ہے کہ اس کے دل میں یہ سوچ پیدا ہوئی۔ اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اسے منزل ملی۔ ورنہ وہ عمر بھر تلاش حق میں بھٹکتا رہتا اور ناکام ہی رہتا۔
مسعود صاحب مسکرائے۔ ”تم ان سے بات کرلو۔ میرے پاس فرصت سے آنا۔“
وہ دونوں باہر نکل آئے۔ زبیر نے سکون کی سانس لی۔ وہ صحیح معنوں میں بڑی مشکل میں تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مسعود صاحب اس کی موجودگی میں اس کے صاحب سے اس کی بہن کے بارے میں بات کریں، اور صاحب کو شرمندگی ہو۔ دوسری طرف وہ صاحب سے بھی اس سلسلے میں کچھ پوچھ نہیں سکتا تھا۔ وہ خود ہی بتائیں تو بتائیں۔
وہ ایک تنہا گوشے میں جا بیٹھے۔ عبدالحق کو اس پر حیرت تھی کہ زبیر بہت بدلا بدلا لگ رہا ہے۔ جس انداز میں اس نے مسعود صاحب سے معذرت کی تھی، وہ اس کی پرانی شخصیت سے متصادم تھا۔
”صاحب، اماں نے کہا ہے کہ آپ اب گھر واپس آجائیں۔“ زبیر نے کہا۔
عبدالحق کو وہ دوسری حیرت ہوئی.... صاحب! اس نے بات جیسے سنی ہی نہیں۔“ میں دیکھ رہا ہوں زبیر کہ آپ بہت بدل گئے ہیں۔ جس طرح آپ نے میرے ساتھ علیحدگی میں بات کرنے کے لئے مسعود صاحب سے بات کی اور اب آپ مجھے صاحب کہہ رہے ہیں۔“
”بس سیکھ رہا ہوں صاحب۔ اب دیکھیں نا، مالک تو بس اللہ کی ذات ہے۔ میری عادت تھی آپ کو مالک کہنے کی۔ کسی سے میں نے یہ لفظ سنا اور آپ کےلئے پسند کر لیا۔ آپ کو برا تو نہیں لگا۔“
”مجھے تو یہی اچھا لگے گا کہ آپ میرا نام لیں۔“
”یہ تو میرے لئے ممکن نہیں صاحب۔“ زبیر گڑگڑانے لگا۔ ”اور صاحب! اب آپ رابعہ کو سنیں گے تو بھی حیرت ہو گی۔ ہم لوگوں نے منجھلی بی بی سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھ رہے ہیں۔“
نور بانو کے تذکرے پر عبدالحق کے چہرے پر رنگ سا دوڑ گیا۔ ”کیسی ہیں وہ؟“ اس نے بے ساختہ پوچھا۔
”جی ٹھیک ہیں۔“
”اور سب لوگ؟“ عبدالحق نے جلدی سے اپنے پچھلے سوال کی اہمیت زائل کرنے کی کوشش کی۔
زبیر اسے گاﺅں کی خبریں سنانے لگا۔ اس نے پانی کے.... پنچایت کے قیام کے اور نئے آنے والوں کے بارے میں بتایا۔ پھر جھجکتا ہوئے بولا۔ ”صاحب، ایک بڑی خوش خبری بھی ہے۔“ پھر اس نے اٹک اٹک کے بتایا کہ رابعہ ماں بننے والی ہے۔
عبدالحق نے گرم جوشی سے اسے لپٹا لیا۔ ”اللہ کا شکر ہے۔ یہ پاکستان کی برکت ہے۔ انشااللہ ہمارے علاقے میں پیدا ہونے والا پہلا خالص پاکستانی تمہارا بچہ ہو گا۔“ اس نے کہا۔ پھر اسے خیال آیا تو اس نے پوچھا۔ ”میرے مینو کا کیا حال ہے؟“
”ارے صاحب، وہ تو بس بچ ہی گیا اللہ کی رحمت سے۔ ورنہ تو وہ مر ہی جاتا۔“
عبدالحق گھبرا گیا۔ ”ہوا کیا تھا؟“
”ارے صاحب، آپ نے اس کی عادتیں بگاڑ دی تھیں۔ وہ چارہ آپ کے ہاتھ سے کھانے کا عادی تھا۔ پھر ہر وقت آپ کے آگے پیچھے گھومتا رہتا تھا۔ آپ چلے آئے تو اس نے کھانا پینا، دوڑنا کھیلنا چھوڑ دیا۔ پیٹ پیٹھ سے لگ گیا۔ میں تو پریشان تھا کہ آپ کو کیا منہ دکھاﺅں گا۔ پھر پتا نہیں کیسے، منجھلی بی بی نے اسے رام کر لیا۔ اب وہ سارے لاڈ ان سے کرتا ہے۔ وہ پہلے جیسا ہو گیا ہے صاحب۔“
عبدالحق کو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ خود پر افسوس بھی ہوا کہ اسے بے سوچے سمجھے اس طرح چھوڑ آیا۔ اگر وہ مر جاتا تو....؟
اس کے بعد زبیر نے مطلب کی بات چھیڑی۔
”زبیر بھائی، آپ جانتے ہیں کہ میں ابھی واپس نہیں آسکتا۔ میں یہاں ایک کام سے آیا ہوں اور وہ کر کے ہی جاﺅں گا۔“
”مگر وہاں آپ کی ضرورت ہے صاحب۔“
”وہاں آپ موجود ہیں زبیر بھائی، اب آپ کو ہی سب کچھ سنبھالنا ہو گا۔“
”لیکن صاحب، یہ میرے بس کا نہیں۔ میں نوکر آدمی....“
”یہ ذہن سے نکال دیجیے زبیر بھائی۔ آپ اب کسی کے نوکر نہیں، آزاد اور خودمختار آدمی ہیں۔ فیصلے کر سکتے ہیں۔“
”فیصلے کرنے مجھے کہاں آتے ہیں۔“ زبیر نے بے بسی سے کہا۔
”کریں گے تو آجائیں گے۔ دیکھیں زبیر بھائی، اس وقت سب کو پاکستان کے استحکام کےلئے بڑھ چڑھ کر کام کرنا ہے۔ یہ بات عرفان صاحب اور مسعود صاحب جیسے لوگ مجھ سے کہتے ہیں، اور بات میرے دل کو لگتی بھی ہے۔ اب آپ کو میں ترکیب بتاتا ہوں۔ میرے پتاجی یاد ہیں نا آپ کو۔“
”ان کو کیسے بھو سکتا ہوں صاحب۔“
”انہیں بہت زیادہ دیکھا تھا آپ نے، اور بہت غور سے دیکھا تھا۔“
”جی ہاں صاحب۔“
”بس تو زمین کے معاملات میں آپ اسی طرح بات کریں، عمل کریں، فیصلے کریں، جیسے وہ کرتے تھے۔“
زبیر دونوں رخسار ہاتھوں سے پیٹنے لگا۔ ”میں کہاںصاحب ....“
عبدالحق نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”منجھلی بی بی سے اتنا اچھا بولنا سیکھ لیا آپ نے۔ حالانکہ انہیں اتنا دیکھا بھی نہیں۔ پتاجی کے ساتھ اور قریب تو آپ نے برسوں گزارے تھے۔ آپ کو نہیں پتا، لیکن آپ وہ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اور سن لیں، یہ میرا حکم ہے۔“
”جی.... جی صاحب۔“ زبیر نے مرے مرے لہجے میں کہا۔
”ابھی میرے ساتھ کچہری چلیں، میں آپ کے نام مختار نامہ بنوا دیتا ہوں۔ پھر میرے تمام اختیارات قانونی طور پر آپ کے ہوں گے۔“
”مجھے لگتا ہے کہ آپ یہاں رکنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ تو کیا آپ....“
”نہیں، نہیں۔ میں واپس گاﺅں آﺅں گا یہ کام کر کے۔“ عبدالحق نے جلدی سے کہا۔ اس نے سمجھ لیا کہ زبیر کو اس وقت لٹکانے کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ وہ معاملات سنبھالے گا تو اس میں اعتماد آجائے گا۔ لیکن ابھی ڈر گیا تو کچھ بھی نہیں کر سکے گا۔ اس لئے اس نے اسے یہ نہیں بتایا کہ مسعود صاحب کی بات اس کے ذہن نے قبول کی ہے۔ اور کچھ نہیں تو اس نے تعلیم مکمل کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔ ”بس آپ اس وقت تک میرے حکم کی تعمیل کریں۔“
”ٹھیک ہے صاحب۔“ زبیر نے مرے مرے لہجے میں کہا۔
وہ دونوں کچہری جانے کے لئے کیمپ سے نکل آئے۔
٭٭٭
کچہری سے مختار نامہ بنوا کر انہوں نے باہر ہی کھانا کھایا، اور پھر کیمپ واپس آئے۔ انہیں وہاں بیٹھے ذرا دیر ہی ہوئی ہو گی کہ مجید ہانپتا کانپتا کیمپ میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر عبدالحق کو کسی سنگین گڑبڑ کا احساس ہونے لگا۔ اس نے متلاشی نظروں سے ادھر ادھر دیکھا۔ پھر وہ اپنے دوستوں نذیر اور نعمان کو دیکھ کر ان کی طرف لپکا۔
درمیانی فاصلہ خاصا تھا۔ عبدالحق کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ لیکن اتنا اس نے دیکھا کہ مجید ہیجانی انداز میں اپنے دوستوں کو کچھ بتا رہا ہے۔ ہیجان اس کے ایک ایک عضو کی حرکت سے جھلک رہا تھا۔ نذیر اور نعمان کا ردعمل اتنی دور سے بھی واضح تھا۔ ان کے منہ کھلے ہوئے تھے اور چہروں پر بے یقینی کا تاثر تھا۔ پھر وہ کچھ بولے بھی....
ذرا سی دیر میں وہ خبر پورے کیمپ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ عبدالحق کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ افضال صاحب.... افضال صاحب جیسا آدمی.... یہ.... یہ کیسے ممکن ہے۔
وہ خود مجید کے پاس گیا۔ ”کیا یہ سچ ہے؟“
”میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سب۔ افضال چچا نے جمیل بھائی کو قتل کر دیا۔“ اس کی آواز میں اب بھی ہیجان تھا۔
”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“
”میں وہاں موجود تھا، اور جمیل بھائی سے بات کررہا تھا کہ اچانک افضال چچا آئے۔ جمیل بھائی نے انہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو بولے، آپ یہاں کیسے؟ افضال چچا نے کہا.... میں تیرے لئے ہی آیا ہوں کمینے افضال، آج میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ یہ کام تو مجھے پاکستان آنے سے پہلے ہی کر دینا چاہئے تھا۔ بس پھر انہوں نے ایک چاقو نکالا جیب سے اور جمیل بھائی پر وار کرنے شروع کر دیئے....“
عبدالحق کو کسی گڑبڑ کا احساس ہورہا تھا۔ پھر بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ ”افضال صاحب نے جمیل کو افضال تو نہیں کہا ہو گا۔“
”ارے.... وہ تو اب بھی انہیں افضال کہہ رہے ہیں، اور گالیاں بھی دے رہے ہیں۔ مارتے وقت بھی وہ انہیں افضال ہی کہہ رہے تھے۔“
بات کچھ سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ”جمیل اسپتال میں ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”میں بتا رہا ہوں، وہ مر چکے ہیں۔ اسپتال لے جانے کی تو نوبت ہی نہیں آئی۔ افضال چچا نے انہیں بری طرح کاٹ ڈالا تھا۔ اور آخر میں تو ذبح ہی کر دیا انہیں۔“
عبدالحق جھرجھری لے کر رہ گیا۔ اس کے لئے یہ تصور بھی محال تھا.... اور وہ بھی افضال صاحب کے لئے۔
مسعود صاحب کو اس واقعے کا علم ہوا تو وہ بھی باہر آگئے۔ مجید کہانی پھر دہرانے لگا۔
”میرے حلق سے نہیں اتر رہی ہے یہ بات۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ وہ عبدالحق سے مخاطب تھے۔ ”چلو.... تھانے چل کر معلوم کرتے ہیں۔“
عبدالحق نے زبیر کو وہیں رکنے کو کہا اور مسعود صاحب کے ساتھ کیمپ سے نکل آیا۔ مسعود صاحب کی فیاٹ میں وہ تھانے پہنچے تو تھانے دار مسعود صاحب کے آگے بچھ گیا۔ وہ انہیں جانتا تھا۔
’ہم کیمپ میں ہونے والے قتل کے سلسلے میں آئے ہیں۔“ مسعود صاحب نے اس سے کہا۔
وہاں مجید کی ہر بات کی تصدیق ہو گئی۔ افضال صاحب نے جمیل کو بڑی بے رحمی سے قتل کیا تھا۔
”ہم افضال صاحب سے ملنا چاہتے ہیں۔“ مسعود صاحب نے کہا۔
”ضرور سر۔ پر پہلے چائے پی لیں۔“
مسعود صاحب کچھ ہچکچائے۔ مگرپھر شاید افضال صاحب کی بہتری کی خاطر چائے پینے پر آمادہ ہو گئے۔
عبدالحق اس دوران بہت تیزی سے سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ افضال صاحب جیسا آدمی، اور ایسا بے رحمانہ قتل! پھر سوال یہ تھا کہ انہوں نے اس دوسرے کیمپ جاکر بالارادہ جمیل کو قتل کیوں کیا۔ اور وہ بالارادہ قتل تھا، کیونکہ چاقو وہ اپنے ساتھ لے کر گئے تھے۔
جمیل کے بارے میں عبدالحق کو ایک بات یاد آئی.... وہ بڑے بڑے افسران کو لڑکیاں سپلائی کرتا تھا۔ اس خیال کے ساتھ ہی کڑیاں ملنے لگیں۔ اگر جمیل کا یہ دھندا تھا تو وہ کسی لڑکی کو ہیرا منڈی لے جاکر بھی بیچ سکتا تھا۔ تو ممکن ہے، زرینہ کو بھی اس نے ہی بیچا ہو۔
اب عبدالحق نے کوٹھے پر زرینہ سے ہونے والی ملاقات کو ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے وہاں افضال صاحب سے پوچھا تھا کہ زرینہ کو کون دھوکا دے کر لایا اور بیچ گیا تو وہ جھنجلا گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرینہ نے انہیں نہیں بتایا، اور یہ کہ اس سے پوچھنا بھی نہیں چاہئے۔ عبدالحق نے دلیل بھی دی تھی کہ آدمی دھوکہ کسی پہچان والے سے ہی کھاتا ہے۔
اب کہانی عبدالحق کی سمجھ میں آنے لگی۔ زرینہ نے افضال صاحب کو یقینا بتایا ہو گا کہ جمیل اسے دھوکہ دے کر وہاں لے آیا تھا۔ اور وہ کیوں نہ بتاتی۔ یہ کوئی چھپانے والی بات تھی ہی نہیں۔ تو افضال صاحب نے اسی وقت جمیل کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسے موذی کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے۔اس لئے صبح افضال صاحب اس کے ساتھ کیمپ نہیں آئے۔ اس نے انہیں دس روپے دیئے تھے۔ لہٰذا چاقو خریدنے میں انہیں کوئی دشواری نہیں ہوئی ہو گی۔ پھر وہ دوسرے کیمپ گئے اور انہوں نے جمیل کو ختم کر دیا۔
اب سوال یہ تھا کہ وہ جمیل کو افضال کیوں کہہ رہے تھے۔ عبدالحق کی سمجھ میں ایک ہی بات آتی تھی۔ افضال صاحب اس معاملے میں زرینہ کا نام آنے سے بچانے کےلئے، اسے رسوائی سے بچانے کےلئے ایسا کررہے ہیں۔ وہ پاگل بن رہے ہیں تاکہ ان سے تفتیش ہی نہ کی جائے۔ یقینا یہی بات ہے۔
مگر اس کے ساتھ ہی وہ تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ یہ صورتحال زرینہ کےلئے بہت خطرناک تھی۔ مشتری بائی کو بھی کسی طرح اس واقعے کا علم ہو سکتا تھا۔ پھر وہ افضال صاحب کو پہچان لیتی۔ اور یہ بھی ممکن تھا کہ کسی وقت افضال صاحب کی زبان سے زرینہ کا نام پھسل جاتا۔ اس لحاظ سے زرینہ کو فوری طور پر گاﺅں بھجوانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔ افضال صاحب کب تک پاگل بنے رہ سکتے تھے اور زرینہ اب اس کی بہن تھی.... اس کی عزت....
”چائے پی لو برخوردار۔“
مسعود صاحب نے اسے چونکا دیا۔ اس نے جلدی سے چائے پی لی۔
لیکن شفاعت بھٹی کا یہ معاملہ نہیں تھا۔ ہندو بنیے نے وہ کوٹھی خود اسے سونپی تھی اور ہاتھ جوڑ کر بنتی کی تھی کہ اسے اور اس کے بچوں کو بہ حفاظت سرحد پار کرادے۔ وزارت داخلہ کا سیکریٹری ہونے کے ناتے یہ شفاعت بھٹی کیلئے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اس نے اس کا بندوبست کردیا تھا۔ کس کی مجال تھی کہ اس کے حکم سے انکار کرتا۔
ہندو بنیا رام داس خوش تھا کہ جان بچ رہی ہے۔ بھٹی کے اصرار کے باوجود اس نے تجوری میں رکھے زیورات کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ ”ان داتا، ان کی وجہ سے جان خطرے میں پڑسکتی ہے۔“ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا۔ لیکن اس وقت رام داس کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایک ہار.... انسانی ہار جو وہ ساتھ لئے جارہا ہے، وہ بھی اسے چھوڑنا پڑے گا.... اور وہ انسانی ہار تھا، اس کی بے حد حسین بیٹی شوبھا، جو شفاعت بھٹی کو اتنا پسند آگیا تھا کہ اسے اپنے گلے میں ڈالنے کیلئے تڑپ رہا تھا۔
بھٹی نے ایک چھوٹے افسر کو رام داس کے سامنے حکم دیا تھا کہ وہ سرکاری جیپ میں خود اس فیملی کو سرحد پار کراکے آئے۔ لیکن ایک حکم ایسا تھا، جو اس نے اس افسر کو تنہائی میں دیا تھا۔
اس حکم کے نتیجے میں شوبھا واپس آگئی اور روتا پیٹتا رام داس سرحد پار کرگیا۔
شفاعت بھٹی نے انگریزوں کے ساتھ بہت وقت گزارا تھا اور ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ حکومت کرنے والوں کو کبھی انکار نہ کیا جائے تو پھر آپ خود حکمراں بن جاتے ہیں، یہ وہ دیکھ چکا تھا۔ اصل حکمراں محض چند سو یا ہزار دوہزار افسروں پر حکومت کرتے ہیں۔ اور ان افسروں میں سے جو عقل مند ہوتے ہیں، وہ لاکھوں پر حکمراں ہوتے ہیں۔ سو وہ لاکھوں پر حکومت کرنے والا تھا۔ اسے دو ہی شوق تھے.... ایک ولایتی شراب اور دوسرا دیسی شباب۔
اور شفاعت بھٹی دوست بھی سوچ سمجھ کر بناتا تھا۔ دو دوست تو اس کے ہم پلہ افسر تھے۔ پھر ایک بہت بڑے زمین دار تھے، جن کے پاس دولت کی فراوانی تھی۔ بھٹی دولت کی اہمیت کو بھی خوب سمجھتا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے افسروں کے ساتھ بھی وہ بالادستی کے ساتھ شفقت اور مروت کا تعلق رکھا تھا۔ وہ سب ایسے ہوتے تھے کہ کسی نہ کسی معاملے میں اس کے کام آسکتے تھے۔
کچھ دن تو شوبھا اس کی ذاتی خوشی بنی رہی۔ پھر اس نے اس خوشی میں دوستوں کو بھی شریک کرلیا۔ لیکن کھیلنے والوں کے دل کھلونوں سے بہت جلدی بھرجاتے ہیں۔ شوبھا بھی ان کے دل سے اترگئی۔
ایسے میں ایک چھوٹے افسر نے اس کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اسے ایک راستہ دکھادیا۔ ”سر.... اس وقت تو کیمپوں میں بہار آئی ہوئی ہے“ اس چھوٹے افسر نے کہا۔ ”اور سیکریٹری داخلہ ہونے کی حیثیت سے آپ ان کیمپوں کے بادشاہ ہیں“
اس کے نتیجے میں جمیل کی کیمپ میں تعیناتی ہوگئی۔ اور یوں یہ سلسلہ شروع ہوگیا۔ بہت تھوڑے وقت میں جمیل، بھٹی کیلئے ناک کا بال بن گیا۔ اس سے پہلے بھٹی نے اس لیول کے کسی آدمی کو منہ نہیں لگایا تھا۔ لیکن جمیل کی بات اور تھی۔ وہ بہت تیز وطرار تھا، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کی ضرورت بخوبی پوری کررہا تھا۔
شوبھا کی اہمیت اب محض ایک ساقی کی سی رہ گئی تھی۔ پھر ایک دن جمیل نے بھٹی سے شوبھا کو مانگ لیا۔
بھٹی کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ ”تمہیں یہ جرا_؟ت کیسے ہوئی؟“
”آپ کے درکا کتا ہوں سرکار“ جمیل نے بڑی ڈھٹائی سے کہا۔ ”گوشت نہیں مانگتا۔ چھوڑی ہوئی ہڈی کی اوقات ہے میری۔ اسی لئے اسے مانگ رہا ہوں۔ اب یہ تو آپ کو شراب پلانے کے لائق بھی نہیں رہی۔ میں تو کہتا ہوں سرکار، ساقی بھی بدلتے رہا کیجئے۔ نشہ اور بڑھ جاتا ہے“
بھٹی کو اس کی بات بھاگئی اور اس نے شوبھا کو جمیل کے حوالے کردیا....
قدموں کی آہٹ سن کر بھٹی نے چونک کر دیکھا۔ چوہدری صاحب اپنے تین ملازموں کے ساتھ آئے تھے۔ ان کے ساتھ سامان ناﺅ خوش بھی تھا۔
”لوجی بھٹی صاحب، ہم تو آگئے۔ تم سناﺅ، کیا حال ہے؟“
ملازمین شراب کی بوتلوں کو برف میں لگانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ”سب ٹھیک ہے جی چوہدری صاحب۔“ بھٹی نے کہا۔
تھوڑی دیر میں اکبر صاحب اور چیمہ صاحب بھی آگئے۔ شراب کا دور شروع ہوگیا۔ ان دنوں زرینہ نام کی ایک لڑکی ان کی خدمت کرتی تھی۔
”اس زرینہ سے کب تک کام چلے گا بھٹی صاحب“ چوہدری نے کہا۔ ”لگتا ہے، مجھے پنڈ ہی جانا پڑے گا۔ تمہاری توبادشاہت ختم ہوگئی“
”میں نے جمیل کو بڑی سختی سے کہلوایا ہے چوہدری صاحب۔ آپ فکر نہ کریں“ بھٹی نے قدرے کھسیاکر کہا۔ اسے جمیل پر بڑی شدت سے غصہ آیا تھا۔ کچھ دیر بعد جمیل بھی آگیا۔ وہ اکیلا تھا۔
”اتنی دیر میں آئے اور وہ بھی اکیلے۔“ بھٹی نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
”کیا کروں سرکار۔ ہاتھ پاﺅں تو آپ نے ہی کٹوادئے ہیں۔“ جمیل نے جواب دیا۔ اس کے انداز میں بے خوفی تھی۔
”اس سے تو اچھا تھا، میں تمہیں ڈسمس ہی کرادیتا۔“ بھٹی نے بہت غصے سے کہا۔
جمیل ہرکام سوچ سمجھ کر کرتا تھا، بولنے سے پہلے ہرلفظ کو تولتا تھا۔ ”واقعی سرکار، یہی اچھا ہوتا۔“ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ ”نوکری کی تو مجھے ایسی کوئی ضرورت نہیں۔ اس سے زیادہ تو گھوم پھر کر کمالیتا ہوں۔ یہ تو بس آپ جیسوں کی خدمت کیلئے نوکری کررہا ہوں۔“
”تو پھر خدمت تو کرونا۔“ بھٹی نے نرم لہجے میں کہا۔
”وہی تو کہہ رہا ہوں سرکار اور اسی تبادلے سے ہاتھ پاﺅں کٹ گئے میرے۔ خزانہ تو اس کیمپ میں ہی تھا سرکار“
”تمہارا تبادلہ دفتر میں نہیں کیا گیا جمیل“ بھٹی کا لہجہ سرد ہوگیا۔ ”تمہیں دوسرے کیمپ میں بھیج دیا گیا ہے“
”اب وہاں جمنے میں وقت تو لگے گا صاب جی۔ اور پھر اس کیمپ جیسی بات کہاں۔“ جمیل نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ”پھر سرکار، آپ کی خدمت کرکے ہم نے عزت کے سوا کیا کمایا تھا۔ وہ بھی آپ کے ہوتے ہوئے لٹ گئی مسعود صاب کے ہاتھوں۔ سچ تو یہ ہے سرکار کہ اب تو میں ڈرگیا ہوں۔“
”میری بات غور سے سن جمیل۔ تیرے پاس دوگھنٹے ہیں۔ خالی ہاتھ آیا یا نہیں آیا، دونوں صورتوں میں تیری خیر نہیں۔ ہماری محفل خراب مت کر۔ جاجلدی سے آ“ بھٹی کا لہجہ نرم تھا۔ لیکن تیور بہت کڑے تھے۔
”آپ کا نمک خوار ہوں سرکار۔ آپ کیلئے کیا کچھ کیا ہے میں نے۔ اور آپ مجھے دھمکارہے ہیں“
”تو کیا احسان مانوں تیرا۔ اور میرے لئے کچھ نہیں کیا ہے تو نے، اپنے ہی لئے کیا ہے“
”اب تو کچھ بھی نہیں رہ گیا جناب۔ آپ نے بھی آنکھیں پھیرلیں۔ میں استعفا ہی دے دیتا ہوں۔“
بھٹی پہلی بار مسکرایا۔ لیکن وہ مضحکہ اڑانے والی مسکراہٹ تھی۔ ”ضرور دے دینا۔ مگر اس سے پہلے ہمارے لئے آج کا بندوبست کرنا ہوگا۔“
”میں کیسے کروں۔ بے بس ہوں سرکار۔ میں یہ نوکری ہی چھوڑرہا ہوں۔“ جمیل کے لہجے میں بے رخی آگئی۔
”تو ایک اور کام کر۔ شوبھا کو واپس لادے....“
”شوبھا؟“ جمیل کا انداز ایسا تھا، جیسے کچھ سمجھ ہی نہ پایا ہو۔
”ہاں شوبھا.... وہ ہڈی جو تو میرے دسترخوان سے مانگ کر لے گیا تھا۔
”وہ .... وہ ہندو لڑکی؟ وہ تو اب میرے پاس نہیں ہے سرکار“
”کہاں گئی؟“ بھٹی کا انداز مضحکہ اڑانے والا تھا۔
”کچھ دن میرے پاس رہی۔ پھر بھاگ گئی جناب۔“
”بھاگ گئی یا تو نے بازار میں لے جاکر بیچ دیا اسے۔“
جمیل کا تو چہرہ فق ہوگیا۔ چند لمحے تو وہ کچھ بول ہی نہیں سکا، پھر اس نے بڑی مشکل سے کہا۔ ”کک.... کیا.... کک.... کہہ رہے ہیں سرکار