Google
 

:: 19 عشق کا شین
مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کس کوٹھے پر بیٹھی ہے“ بھٹی نے فاتحانہ لہجے میں کہا۔ ”میں ایسے ہی اتنی بڑی کرسی پر نہیں بیٹھا ہوں۔ رعایا سے باخبر رہتا ہوں تو حکمرانی کرتا ہوں۔ اب تو سمجھاجمیل۔ مجھے آنکھیں کبھی نہیں دکھانا۔ ورنہ نوکری تو بہت چھوٹی چیز ہے۔ عمر بھر کیلئے جیل میں سڑوادوں گا تجھے۔ وہ شوبھا خود تیرے کالے کرتوت بیان کردے گی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا، میری طرف کوئی انگلی نہیں اٹھے گی، جا.... بس اب دفع ہوجا۔ دو گھنٹے ہیں تیرے پاس۔“
حمیدہ جانتی تھی کہ وقت بہت کم ہے۔ اوتار سنگھ ضد کررہا تھا کہ اسے ساتھ لے کر جائے گا۔ زندگی میں پہلی بار حمیدہ نے ماں بن کر اسے حکم دیا اور اسے جانے پر مجبور کر دیا۔ شاید وہ دن تھا، جب اس کی پچھلی زندگی ختم ہو گئی۔ کیونکہ اس آندھی میں اس کا بچ جانا بس معجزہ ہی تھا۔ اور صرف بچ جانا ہی نہیں، جس طرح رب نے اس کے زندہ رہنے کا اہتمام فرمایا، وہ بھی معجزہ تھا۔ اب اس نے سوچا تو اسے لگا کہ جیسے وہ برزخ کی زندگی تھی، وہ اکیلی تھی، اندھی عورت اس مقام پر جہاں کئی گاﺅں ریت کے نیچے دب کر فنا ہو گئے، اس کے لئے سر چھپانے کا ٹھکانہ ایک جھونپڑی، رزق کا سامان کھجور کا درخت اور پیاس کے لئے نہ ختم ہونے والا پانی! بے شک اللہ اسے زندہ رکھنا چاہتا تھا، اور اس کا کوئی مقصد بھی تھا۔
پھر اس کی زندگی چھوٹے ٹھاکرکی آمد سے شروع ہوئی۔ اور چھوٹا ٹھاکر عبدالحق بن کر آیا تھا۔ اس نے سمجھ لیا کہ اللہ نے اسے عبدالحق کے لئے ہی زندہ رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے اپنے بیٹے وصال دین کی یاد بھی نہیں آتی تھی۔ وہ زندگی تو اس کی ختم ہو چکی تھی۔
جو عرصہ اس نے تنہائی میں گزارا تھا، اس کے بارے میں اسے بالکل اندازہ نہیں تھا۔ اسے تو یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ کس وقت دن ہے اور کس وقت رات۔ عرصے کا شمار وہ کیا کرتی۔ اسے تو لگتا تھا کہ دسیوں برس گزر گئے۔ اور اس عرصے میں وہ ہر سوچ سے مبرا رہی تھی۔ بس وہ تھی، اندازے سے پڑھی جانے والی نماز اور یااللہ کا ورد۔ شاید سوچتی تو وہ پاگل ہی ہو جاتی۔ ہاں، ایک یقین اس کے اندر موجود تھا، اور وہ یہ کہ اس کا چھوٹا ٹھاکر ضرور واپس آئے گا۔
اور وہ واپس آیا تھا۔ اور اس کی ٹوٹی ہوئی زندگی کی ڈور پھر سے جڑ گئی تھی۔ اور اب تو اسے آنکھیں بھی مل گئی تھیں۔ کبھی کبھی تو اسے یہ سب اتنا غیر حقیقی لگتا تھا کہ وہ سوچتی تھی، کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ ایسے میں وہ اپنے بازو میں چٹکی بھرتی۔ منہ سے سسکی کی آواز نکلتی تو اسے یقین ہوتا کہ یہ خواب نہیں، حقیقت ہے۔
یہ سب کچھ سوچتے سوچتے وہ چونکی۔ اسے احساس ہوا.... اور پھر حیرت ہوئی۔ یہ سب کچھ اس نے پہلی بار سوچا تھا۔ اس سے پہلے اس نے زندگی کے ان غیر معمولی ادوار پر غور بھی نہیں کیا تھا۔ اب بھی شاید وہ سب کچھ اس لئے یاد آیا، تاکہ ایمان تازہ ہو جائے اور اس کے اندر کے خوف اور وسوسے دھل جائیں۔
اور خوف اور وسوسے واقعی دھل گئے تھے۔ اب اس کے اندر ایک خوشی تھی.... اور بے پایاں طمانیت!
وہ نور بانو کے بارے میں سوچنے لگی۔ نجانے کیسے، مگر اسے شروع ہی میں احساس ہو گیا تھا کہ عبدالحق اور یہ لڑکی ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں۔ اس نے بھی بغیر دیکھے ہی اس لڑکی کو عبدالحق کے لئے پسند کر لیا تھا پھر جب اس کی آنکھوں کی بینائی واپس آنی شروع ہوئی تو اس نے چپکے چپکے اسے جانچنا شروع کیا۔ نور بانو کو تو نہیں معلوم تھا کہ اس کی بینائی کسی حد تک بحال ہو چکی ہے۔ سو وہ اس کے سامنے عبدالحق کا تذکرہ کرتی اور اس کا ردعمل دیکھتی۔ اسے اعتراف کرنا پڑا کہ لڑکی کے پاس وہ گہرائی ہے، جو باکردار لوگوں میں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود محبت تو چھپائے نہیں چھپتی۔ لیکن یہ طے تھا کہ وہ لڑکی اظہار محبت کی قائل نہیں ہے۔
البتہ عبدالحق کا معاملہ اس کی گہرائی کے باوجود کھلا تھا۔ وہ یقینا نور بانو سے محبت کرتا تھا لیکن اس نے اسے ایسا بلند مقام، ایسا مرتبہ دے رکھا تھا کہ وہ اس کےلئے عزت اور احترام سے بڑھ کر کچھ سوچتا ہی نہیں تھا۔ حمیدہ نے جب پوری طرح نور بانو کو دیکھا تو وہ قائل ہو گئی کہ نور بانو اسی رویے کی حق دار ہے۔ اتنی پاکیزہ اور اتنی نیک لڑکی اس نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد تو اس کی یہ خواہش اور شدید ہو گئی کہ عبدالحق کی شادی اسی سے ہو۔
حمیدہ نے سمجھ لیا کہ وہ دونوں اپنی اپنی محبت میں مدہوش اور دوسرے کی محبت سے بے خبر ہیں۔ عبدالحق سے تو اس نے جب بھی بات کی، اس نے یہی کہا کہ اماں، ایسا سوچنا بھی مت۔ منجھلی بی بی ہمارے پاس مہمان ہیں.... امانت ہیں۔ اور منجھلی بی بی کہتے ہوئے اس کے لہجے میں کیسا احترام ہوتا تھا۔ مگر عبدالحق کے لاہور جانے پر بات پوری طرح کھل گئی۔ نور بانو کو جب اس نے بتایا کہ عبدالحق اپنا وعدہ پورا کرنے کےلئے اس کے چچا کی تلاش میں لاہورگیا ہے تو اس کا خوف بالکل واضح تھا۔ اور حمیدہ نے اس خوف کو پوری طرح سمجھ لیا۔ کیونکہ وہ ہر زاویے سے اس کے خوف سے مماثل تھا۔ نور بانو کو ڈر تھا کہ عبدالحق نے جو کہا ہے، وہی کرے گا۔ جب تک وہ اس کے چچا کو ڈھونڈ نہیں لیتا، واپس نہیں آئے گا۔ یعنی واپس آئے گا تو جدائی کی خبر لائے گا۔ نور بانو کو اس کے چچا کے سپرد کر دے گا۔ یہ تو آگے کنواں پیچھے کھائی والا معاملہ تھا۔
اب سے کچھ دیر پہلے حمیدہ بھی اسی بات سے ڈر رہی تھی۔ مگر اب اسے خیال آیا کہ نور بانو کے چچا کا مل جانا ہی بہتر ہے۔ یہ تو بڑی آسان سی بات ہے۔ نور بانو کو اس کے چچا کے سپرد کر دینے کے بعد ان سے عبدالحق کے لئے نور بانو کا ہاتھ بھی تو مانگا جا سکتا ہے۔
اس خیال نے حمیدہ کو یک سُو اور پوری طرح سے مطمئن کر دیا۔ اب تو اس کی یہی دعا تھی کہ عبدالحق کو جلد از جلد نور بانو کے چچا مل جائیں۔ اور یہاں اسے ایک کام اور کرنا تھا۔ اسے نور بانو سے کھل کر بات کرنی تھی۔ لیکن یہ مرحلہ بہت نازک اور دشوار تھا۔ حمیدہ سمجھ گئی تھی کہ نور بانو ایسی لڑکی ہے جو اپنی محبت کو خود سے بھی چھپا کر رکھتی ہے۔
اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی۔ اسے نور بانو کو بچھڑنے کے خوف میں مبتلا کرنا تھا۔
٭٭٭
نور بانو کے دل پر بہت بوجھ تھا۔ وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔ اماں نے سچ کہا تھا۔ کسی ان دیکھے آدمی کو صرف اس کے نام کے حوالے سے تلاش کرنا بہت مشکل کام تھا۔ مشکل نہیں، ناممکن۔ اگر اسے عبدالحق کے مزاج کا پتا نہ ہوتا تو یہ بات اس کے لئے بہت خوش کن ہوتی کہ نہ عبدالحق اس کے چچا جان تک پہنچ سکے گا اور نہ ہی اس سے جدائی کی نوبت آئے گی۔ لیکن جب عبدالحق کی کہی ہوئی آخری بات اس کی سماعت میں گونجتی تو خون اس کی رگوں میں جیسے جمنے لگتا۔ عبدالحق نے کہا تھا.... اب میں آپ کا کام کر کے ہی واپس آﺅں گا۔ اور وہ جانتی تھی کہ عبدالحق وعدے کا پکا ہے۔
نور بانو بہت بدل گئی تھی۔ اسے تو بدلنا ہی تھا۔ کوئی کسی سے اتنی گہری محبت کرے اور برسوں اس محبت سے لڑتا رہے، اسے دبانے کی کوشش کرتا رہے اور محبت میں کوئی کمی تک نہ ہو، تو ایسا آدمی جب خود کو اس محبت کے سپرد کر دے تو وہ تو مکمل سپردگی ہوتی ہے۔ ساری مزاحمت اور مدافعت تو اس کی ختم ہو چکی تھی۔اسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے خود کو اس بے حد مختلف معاشرت میں ایسے ڈھا لیا تھا کہ وہ پرانی نور بانو نہیں رہی تھی۔ اور یہ سب کچھ اس نے دل سے قبول کیا تھا۔ اب وہ یہاں سے جانا ہی نہیں چاہتی تھی.... عبدالحق سے دور ہونے کا تصور بھی اسے گوارا نہیں تھا۔
اب صورتِ حال یہ تھی کہ اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتاتھا۔ ہر وقت دھیان اڑا اڑا رہتا۔ نہ بھوک، نہ پیاس۔ بس ایک کام اسے بہت عزیز تھا.... سویٹر بننا۔ وہ مضطرب ہوتی تو اس کا سارا اضطراب جیسے ہاتھوں کی انگلیوں میں کھنچ آتا۔ سلائیاں اس کے ہاتھوں میں بہت تیزی سے گردش کرنے لگتیں۔ یہ کام وہ دیوانہ وار کرتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پانچوں سویٹر مکمل ہو گئے۔ سردی بھی شباب پر تھی۔ اس نے اماں، زبیر بھائی اور رابعہ آپا کے سویٹر انہیں دے دیئے۔ وہ تینوں بہت خوش ہوئے۔ اماں نے تو اسے ڈھیر ساری دعائیں دیتے ہوئے کہا تھا.... ”کیسا نرم اور گرم ہے یہ۔“
اپنا اور عبدالحق کا سویٹر اس نے ٹرنک میں چھپا دیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں سویٹر ایک ہی رنگ اور ایک ہی ڈیزائن کے تھے۔ یہ کام غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔ اور جب اسے احساس ہوا تو وہ حیا سے دہری ہو گئی۔ ”انہیں تو سویٹر دے دوں گی۔“ اس نے دونوں سویٹروں کو سامنے رکھ کر غور سے دیکھتے ہوئے زیرِلب خود سے کہا۔ ”لیکن میں یہ سویٹر کیسے پہنوں گی۔ سب لوگ کیا سمجھیں گے.... کیا کہیں گے۔“
سویٹر بننے کے دوران اسے خوش قسمتی سے ایک اور مصروفیت مل گئی۔ اور وہ تھا مینو۔ مینو جو عبدالحق کی چادر کی وجہ سے اس کا بن گیا تھا۔ مینو نے اسے پوری طرح اپنا لیا تھا اور راسے وہی مقام دے دیا تھا، جو عبدالحق کا تھا۔ یہ اس کے لئے بہت بڑی خوشی تھی۔ اب تو مینو پورے دن اس کے ساتھ لگا رہتا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ مینو نہ ہوتا تو اسے کچھ ہو جاتا۔ بے زبان مینو کی شکل میں اسے ایک رازداں میسر آگیا تھا۔ ایسا رازداں جو راز کو کبھی افشا نہیں کرتا۔ وہ دل پر بوجھ محسوس کرتی تو شیڈ میں چلی جاتی اور اسے اپنی گود میں بھر کر اس سے دل کی ہر بات سرگوشی میں کہہ دیتی۔ اور بات کرتے ہوئے وہ چوروں کی طرح اِدھر اُدھر دیکھتی رہتی کہ وہاں کوئی موجود تو نہیں ہے۔ کوئی اُس کی باتیں سن تو نہیں رہا ہے۔ اسے خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کیا کچھ کہتی رہی ہے۔ اس سے باتیں کرتے ہوئے وہ ازخود رفتگی کی کیفیت میں ہوتی تھی۔ بس اتنا خیال ضرور رہتا تھا کہ کوئی اس کی باتیں سن نہ لے۔
”مینو، تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ جب میں نے پہلی بار انہیں دیکھا تو مجھے کیسا لگا۔“ وہ کہتی۔ ”میں انہیں دیکھتی رہ گئی اور سینے سے دل جیسے اُڑ کر نکل گیا۔ تم نے تو دیکھا ہے انہیں۔ کوئی شہزادہ بھی کیا ہو گا ان کے سامنے۔ تو اسی لمحے مجھے کچھ ہو گیا، اور میری سمجھ میں آگیا کہ اب میں کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہو سکوں گی۔ یہ محبت کبھی میرے دل سے نہیں نکلے گی۔“
مینو سر جھٹک کر ہلکی سی میں میں کرتا، جیسے کہہ رہا ہو ہاں میں سمجھتا ہوں۔
”مگر وہ پہلی محبت ساتھ ہی مجھے نفرت بھی دے گئی۔ اس سے پہلے نہ میں محبت سے واقف تھی نہ نفرت سے۔ اور بدقسمتی کہو یا میرے اندر کی خرابی، میری نفرت محبت سے زیادہ شدید تھی۔ اے مینو.... بدتمیز، تم میری بات دھیان سے نہیں سن رہے ہو۔“
ایک لمبی سی میں، جیسے مینو پوچھ رہا ہو، یہ کیسے کہہ سکتی ہو تم؟
”ایسے کہ تم نے پوچھا ہی نہیں کہ محبت کے ساتھ نفرت کیسے ہو گئی اور پھر نفرت محبت سے کیسے بڑھ گئی۔ خیر، میں تمہیں سمجھاتی ہوں۔ دیکھونا، محبت کی اس پہلی نظر کے ساتھ ہی مجھے یہ احساس ہو گیا کہ وہ تو ہندو ہیں.... مشرک اور کافر۔ اور ایک مسلمان لڑکی کے لئے کسی ہندو سے محبت کرنا بالکل ناجائز ہے۔ اوہو.... میں میں مت کرو۔ میں سمجھ رہی ہوں تمہاری بات۔ بھئی تم کیسے سمجھ سکتے ہو۔ تم تو مینڈھے ہو.... جانور ہو۔ تمہارے ہاں یہ جھنجھٹ کہاں ہوتے ہیں۔ تم نہ ہندو ہو نہ مسلمان۔ یہ تو ہمارا مسئلہ ہے۔ تو جیسے ہی مجھے محبت ہوئی، وہ نفرت میں بدل بھی گئی۔ اس کے بعد سے کوئی لمحہ اس محبت کے بغیر نہیں گزرا۔ مگر ہر روز میں اس پر نفرت کی ایک تہہ چڑھا لیتی تھی۔ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ نفرت ہی نفرت رہ گئی اور اصل چیز محبت کہیں بہت نیچے رہ گئی۔ اور میں اس محبت کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ میں بس تمہارے مالک سے اندھی نفرت کرتی رہی۔“
مینو سے اس طرح باتیں کرتے کرتے نور بانو اچانک سوچنے لگتی، یاد کرنے لگتی۔ بہت سی باتیں تھیں، جو وہ پہلے سمجھ نہیں سکی تھی۔ وہ اب غور کرنے پر سمجھ میں آتی تھیں۔ بہت سی باتیں تھیں، جنہیں اس نے یادداشت کے نچلے تہہ خانے میں بند کر دیا تھا۔ وہ نہ انہیں یاد کرنا چاہتی تھی، نہ تصور میں انہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ مگر محبت شاید ایسی طاقت ور چیز ہے، جو آدمی کو طاقتور اور جرا_؟ت مند بنا دیتی ہے۔ اب وہ سب کچھ دیکھ اور سمجھ سکتی تھی اور وہ سب کچھ دیکھنا اور سمجھنا چاہتی تھی۔
نور بانو ابھی تک اپنے ماضی کے حصار سے نہیں نکل سکی تھی۔ وہ حال میں جی رہی تھی، مگر سانس ماضی میں لیتی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اس نے ماضی کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ آدمی جب تک حقائق کو پوری طرح قبول نہ کرے، ماضی میں ہی کھڑا رہتا ہے۔ لیکن بعض اوقات ماضی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے آنکھیں چرانی پڑتی ہیں۔
”اور مینو، جانتے ہو، آگے کیا ہوا۔“ اس نے مینو کا کان پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہا۔ ”ایک دن مجھے صاف صاف پتا چل گیا کہ میری باجی بھی ان سے محبت کرتی ہیں۔ اوہو.... باجی کے متعلق تو میں نے تمہیں بتایا ہی نہیں۔ حور بانو نام تھا میری باجی کا۔ ایسا اسمِ بامسمیّٰ تو میں نے کسی کو دیکھا ہی نہیں۔ وہ تو سچ مچ جنت کی حور تھیں.... اور بہت سچی، بہت کھری۔ وہ میری طرح نہیں تھیں۔ انہیں چھوٹے ٹھاکر سے محبت ہوئی تو وہ اس محبت میں، اس کے بہاﺅ پر بہنے لگیں۔ انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ وہ ایک ہندو سے محبت کررہی ہیں۔ میں ان سے چڑنے لگی۔ مگر اب میری سمجھ میں آتا ہے کہ اصل وجہ رقابت تھی۔ مل تو وہ ہم میں سے کسی کو بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا تو امکان ہی نہیں تھا۔ مگر باجی یہ سوچے سمجھے بغیر اس محبت کی لذت میں گم تھیں۔ جبکہ میں نے اسے انگاروں کا راستہ بنا لیا تھا۔ وجہ بتاﺅ؟“
مینو سر اٹھا کر اسے دیکھتا رہا۔
”باجی اور گلنار جس قدر خوب صورت تھیں، میں اتنی ہی بدصورت تھی۔ اکثر میں بڑے وثوق سے سوچا کرتی کہ میں امی کی سگی بیٹی ہو ہی نہیں سکتی۔ ضرور امی مجھے کہیں سے اٹھا لائی ہیں۔ اب میں یہ سب کچھ سمجھ سکتی ہوں۔ کم عمری کی محبت میں کوئی ممکن اور ناممکن نہیں دیکھتا۔ وہ تو بس تصورات میں گم رہتا ہے۔ موقع ملتا تو میں بھی ایسی ہی محبت کرتی۔ فطری بات تو یہ تھی کہ میں تصور میں دیکھتی کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ لیکن جب مجھے چھوٹے ٹھاکر کےلئے باجی کی محبت کا پتا چلا تو سب کچھ بدل گیا۔ میں نے جان لیا کہ میں ہار گئی۔ میں تو خواب و خیال میں، تصور میں بھی باجی کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ تو پھر میں نفرت کے سوا کیا کرتی۔ میں کوئی امکان نہیں تراش سکتی تھی۔ کسی تصورِ امکان میں میں ان کے سامنے کھڑی ہوتی تو باجی آجاتیں، اور میں کسی وہم کی طرح ہوا میں تحلیل ہو جاتی۔ جانتے ہو مینو، یہ باتیں میں نے کبھی خود سے بھی نہیں کیں جو تم سے کررہی ہوں۔ تم بہت اچھے ہو مینو۔“ اور وہ مینو کو لپٹا لیتی۔
جمیل وہاں سے نکلا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھی۔
اس کے جانے کے بعد چیمہ نے بھٹی سے کہا۔”مان گئے یار، استاد ہو۔ مگر تمہیں پتا کیسے چلا“؟
”ادھر کیمپ میں ایک جاسوس ہے میرا۔ یہ جمیل اسے اپنا بندہ سمجھتا ہے۔ اب یار، خبر تو رکھنی پڑتی ہے“۔
”مگر اس کے تبادلے کا کیا چکر ہے۔ تم اپنے محکمے میں بھی بے بس ہوگئے“۔ اکبر نے حیرت سے کہا۔
”مجبوری تھی۔ جانتے ہو، اس کیمپ کا انچارج کون ہے؟ مسعود احمدخان!“
”وہ؟ وہاں کہاں جھک مار رہا ہے۔ وہ تو آئی سی ایس ہے“۔ چیمہ نے بے ساختہ کہا۔
”وہاں جھک نہیں مار رہا ہوتا تو شاید تمہاری جگہ بیٹھا ہوتا“۔ بھٹی نے چڑ کر کہا۔
”کیا پتا، تمہاری جگہ ہوتا“۔ چیمہ نے تری بہ تری کہا۔
”ہاں، کیوں نہیں۔ بہرحال وہ وہاں خدمت خلق کررہا ہے۔ وہ تو اس جمیل کو معطل کرانے پر تلا بیٹھا تھا۔ بڑی مشکل سے تبادلے پر بات ٹلی“۔
”لیکن یار وہ تمہیں ڈکٹیٹ تو نہیں کراسکتا“۔ اکبر بولا۔
”کراسکتا ہے اور کرایا ہے۔ وہ استعفا دینے جارہا تھا“۔
”تو جانے دیتے۔ خس کم جہاں پاک“۔
”اس کا استعفا قبول ہی نہیںکیا جاسکتا۔ اس وقت تو کمی ہے افسروں کی۔ اور پھر احتجاجی استعفا“۔
”اوہ۔ ہاں یہ تو ہے“۔
”او یار چھوڑو ان باتوں کو۔ جام بنواﺅ“۔ چوہدری نے کہا۔”اور سنو، یہ تمہارا جمیل اب آئے گا بھی یا نہیں“۔
”آئے گا چوہدری صاحب.... جم جم آئے گا“۔ بھٹی نے ہنستے ہوئے کہا۔
................×××................
شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد دیکھ کر عبدالحق کو دہلی یاد آگیا۔ مغل دور کا طرز تعمیر کس قدر منفرد ہے۔ اس نے سوچا، ایک نظر ڈالو تو پتا چل جائے کہ یہ مغل دور کی عمارت ہے۔
اس کا جی چاہا کہ اندر جاکر دیکھے۔ لیکن افضال صاحب کے انہماک کو توڑنا اچھا نہیں لگا۔ اس نے سوچا، بعد میں کبھی اکیلا آئے گا۔ افضال صاحب کا انہماک بھی عجیب تھا۔ وہ گردوپیش کا جائزہ لیتے ہوئے چلتے تھے۔ بلکہ ان کے انہماک کا مرکز چہرے تھے۔ وہ ہر شخص کو یوں دیکھتے، جیسے وہ ان کا شناسا ہے، اور وہ اسے پہچاننے کی کوشش کررہے ہیں۔
وہ خاموشی سے ان کے ساتھ چلتا رہا۔ اتنے ہی غور سے وہ انہیں دیکھ رہا تھا۔
اچانک.... بالکل ہی اچانک جیسے دنیا بدل گئی۔ موڑ مڑتے ہی وہ ایک بارونق علاقے میں داخل ہوگئے۔ وہاں راہ گیروں کی تعداد بھی زیادہ تھی، اور آوازیں ہی آوازیں تھیں.... بھانت بھانت کی آوازیں۔ سڑک کے دونوں طرف کئی منزلہ پرانے مگر پختہ مکانات کا سلسلہ تھا۔ نچلی منزل پر دکانیں ہی دکانیں تھیں، جس سے پتا چلتا تھا کہ وہ بازار ہے۔ وہاں ہر طرح کی دکانیں تھیں.... چائے خانے بھی تھے اور کھانوں کے ریستوران بھی مگر وہاں ہار پھول بیچنے والوں اور پان بیڑی والوں کی دکانیں بڑی کثرت سے تھیں۔
ہارپھول والوں کی دکانیں دیکھ کر عبدالحق کو داتا دربار کا خیال آگیا۔ اس نے سوچا، یہاں بھی قریب ہی کوئی مزار ہوگا۔ مگر ایک فرق تھا۔ وہاں لوگ ہارپھول اور چادریں لے کر مزار کا رخ کرتے تھے۔ جبکہ یہاں لوگ ہار خرید کر خود اپنے ہی گلے میں ڈالتے اور مستانہ چال چلتے آگے بڑھ جاتے یا کسی نیم تاریک زینے میں گھس جاتے۔
”یہاں کوئی مزار ہے“؟ اس نے افضال صاحب سے پوچھا۔
”نہیں میاں، یہ قبرستان ہے.... زندہ روحوں کا قبرستان“۔ انہوں نے افسردگی سے کہا۔
عبدالحق نے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ جواب سے اندازہ ہوتا تھاکہ ان کی ذہنی رو بہک گئی ہے۔ وہ آگے بڑھتے رہے۔ پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے عبدالحق کو گھبراہٹ سی ہونے لگی۔ آگے چند شراب خانے بھی تھے۔ پھر مکانوں کے بالا خانوں پر اسے جابہ جا عورتیں بیٹھی نظر آئیں۔ بہ ظاہر تو وہ بنی سنوری بیٹی تھیں۔ ہونٹوں پر سرخی، چہرے پر غازہ، آنکھوں میں کاجل اور کلائیوں میں گجرے۔ لیکن اس بناﺅسنگھار کے باوجود نجانے کیوں وہ اسے اجڑی اجڑی لگ رہی تھیں۔ اور ان میں سے کچھ اشارے کر رہی تھیں۔ کچھ کی نگاہوں میں بلاوے تھے۔ کچھ ساکت بیٹھی تھیں۔ مگر ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ یہ الگ بات کہ عبدالحق کو لگ رہا تھا کہ وہ مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر چپکا دی گئی ہے۔
عبدالحق نے گھبرا کر نظریں جھکالیں۔ اسی وقت کوئی لڑکھڑاتا ہوا شرابی اس سے ٹکرا گیا۔”ایں....دینکھ کیں چنل“۔ شرابی لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں منمنایا اور ادھر ادھر ڈولتا آگے بڑھ گیا۔
”یہ کون سی جگہ ہے افضال صاحب“؟
لیکن افضال صاحب بالاخانوں پر عورتوں کو دیکھنے میں ایسے منہمک تھے کہ انہوں نے اس کی آواز سنی ہی نہیں۔
چند لمحوں میں عبدالحق کو احساس ہوگیا کہ اس سڑک پر بعض راہ گیر مستقل ہیں.... بلکہ انہیں راہ گیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ راہ گیر تو راستے سے گزر کر کسی منزل کی طرف جاتے ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اسی سڑک پر مستقل ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر چل رہے تھے۔
عبدالحق نے ان میں سے ایک کو غور سے دیکھا تو اسے کوّے کا خیال آیا۔ وہ اپنے چہرے اور وضع قطع سے کوئی لفنگا لگ رہا تھا۔ انگلیوں میں دبی ہوئی بیڑی، جس کا کش لیتے وقت وہ مٹھی بنالیتا تھا۔ اور اس کی آنکھیں ایسی متحرک تھیں، جیسے ٹہرنا ہی نہیں جانتی ہوں۔ اور وہ کسی چیز یا کسی شخص کو براہ راست نہیں دیکھتا تھا۔ اسی صفت پر عبدالحق کو کوّے کا خیال آیا تھا کہ کوّا اپنی پسندیدہ کسی چیز کو نظر بھر کر نہیں دیکھتا، چپکے چپکے کن انکھیوں سے دیکھتا ہے، اور آہستہ آہستہ اس کی طرف کھسکتا ہے۔ ذراسی آہٹ ہو تو بھڑک کر اڑجاتا ہے، ورنہ اس چیز کو چپکے سے چونچ میں دبا کر اڑ جاتا ہے، اور کہیں دور جاکر اسے کھاتا ہے۔
اس شخص کو عبدالحق کی نگاہوں کا احساس ہوا تو وہ مسکرایا۔ اس کے پیلے پیلے دانت نمایاں ہوگئے۔ اس لمحے اسے دیکھ کر عبدالحق کو کراہت کا شدید احساس ہوا اور وہ دوسری طرف دیکھنے لگا۔
اسے پتا بھی نہیں چلا کہ وہ شخص اس کے پاس آگیا ہے اور اس کے ساتھ چل رہا ہے۔”مال چاہئے باﺅ صیب“؟
”مال، کیسا مال“؟ عبدالحق نے گھبرا کر پوچھا۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ یہ کوئی بہت بری بات کی جارہی ہے۔ اس نے امداد طلب نظروں سے افضال صاحب کو دیکھا۔ لیکن وہ بدستور حالت استغراق میں تھے۔
وہ شخص ہنسا.... اور اس کی ہنسی بھی بڑی مکروہ تھی۔ پیلے دانت پھر نمایاں ہوگئے۔”مال کا پوچھتے ہو۔ باﺅجی ہیرا منڈی میں کیا لینے آئے ہو۔ یہاں تو میرے ہی ہیرے ہی ملیں گے نا۔ کہو تو نیلم دلوادوں،کہو تو یاقوت۔ چکنے نگ ہیں.... بے داغ بھی ہیں۔ میرے جیسا مال یہاں کوئی نہیں دلوائے گا....“
اچانک افضال صاحب چونکے۔ انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے اس شخص کو دیکھا اور مضبوطی سے عبدالحق کا ہاتھ تھام لیا۔”ہمیں تم سے کچھ نہیں چاہئے“۔ وہ تندلہجے میں بولے۔
کوے جیسی فطرت کا شخص اسی لمحے پلٹ گیا۔
”یہ کون سی جگہ ہے افضال صاحب“؟
”اسے شاہی محلہ بھی کہتے ہیں۔ حالانکہ یہاں نہ بکنے والا شاہ ہے، نہ خریدنے والا۔ اور اسے ہیرامنڈی بھی کہتے ہیں۔ یہ نام ٹھیک ہے اس کا“۔
”کیا یہاں واقعی ہیرے ملتے ہیں“؟
”منڈی تو یہ کنکروں کی ہے۔ مگر یہاں بدنصیب ہیرے بھی پہنچ جاتے ہیں۔ انہی کو تو ڈھونڈتا ہوں میں“۔
عبدالحق کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔”کبھی کبھی آپ کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں“۔
”ارے یہاں، یہ بازار حسن ہے“۔ افضال صاحب کے لہجے میں غصہ بھی تھا اور جھنجھلاہٹ بھی۔”اب یہ نہ کہنا کہ تم بازار حسن کا مطلب بھی نہیں سمجھتے “۔
”جی....میں واقعی نہیں سمجھتا“۔ عبدالحق نے شرمندگی اور عاجزی سے کہا۔
”میاں، تم ہندوستان سے آئے ہوئے تو نہیں لگتے، لگتا ہے، ماں کے پیٹ سے سیدھے یہاں چلے آئے ہو“۔افضال صاحب نے غصے سے کہا۔ پھر اچانک ان کا لہجہ نرم ہوگیا۔”یہاں عورت کو سب سے برے روپ میں بیٹھاکر اس کا کاروربار کیا جاتا ہے۔ یہ عورتیں دیکھ رہے ہونا“۔ انہوں نے بالا خانوں کی طرف اشارہ کیا۔”یہ بکنے کے لئے بیٹھی ہیں۔ گاہکوں کو بلارہی ہیں“۔
اگر حمید سے بات نہ ہوئی ہوتی تو شاید عبدالحق یہ بات بھی نہ سمجھتا۔ اور جب بات اس کی سمجھ میں آئی تو اس کا چہرہ تمتما اٹھا۔”تو آپ یہاں کیوں آئے ہیں“؟
”میں ہر شام یہاں آتا ہوں.... اس یقین کے ساتھ کہ ان کنکروں پتھروں میں رلتا ہوا کوئی ہیرا مجھے ضرور ملے گا۔ بس یہی تلاش ہے میری“۔
اسی لمحے ایک نسوانی آواز نے جیسے ان کے قدم تھام لئے۔ کوئی عورت بڑے دل نشیں انداز میں گارہی تھی
رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر آتا ہے پروانہ
آواز میں بلا کا لوچ تھا.... اور لہجے میں وہ غرور وتمکنت جو اس شعر کے شایان شان تھی۔ ساتھ ہی ڈھولک کی تھاپ اور گھنگھروﺅں کی جھنکار بھی تھی۔ پھر گانے والی نے دوسرے مصرع کی تکرار شروع کردی، جیسے شمع کو چیلنج کررہی ہو اور پروانے کو لبھارہی ہو۔
افضال صاحب نظریں اٹھائے ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ عبدالحق کا ہاتھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ سب کچھ جاننے کے بعد عبدالحق میں تو اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہاں سر اٹھاتا۔ مگر چند لمحے بعد جب افضال صاحب کی گرفت اچانک سخت ہوگئی تو اس نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ ان کے چہرے پر اضطراب تھا، اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔ ان کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ مگر آواز واضح نہیں تھیں۔
”کیا ہوا افضال صاحب؟ کیا بات ہے“؟
”زرینہ.... زرینہ....“ان کے لہجے میں بھی اضطراب تھا۔
”کون زرینہ.... کہاں“؟
”چوپ“۔ انہوں نے جلدی سے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے اشارہ کیا۔ پھر دھیمی آواز میں بولے۔”وہ سامنے کوٹھے پر دیکھو۔ وہ زرینہ ہے“۔
عبدالحق نے اس طرف دیکھا۔ وہاں کئی لڑکیاں بیٹھی تھیں۔
”آپ کس کی بات کررہے ہیں“؟
”وہ.... وہ ہرے دوپٹے والی“۔ افضال صاحب نے ہیجانی آواز میں کہا۔”اسے غور سے دیکھ لو اور یاد رکھو“۔
”کیوں“؟
”تاکہ پہچان سکو“۔
”مگر کیوں“۔
”اب یہاںسے چلو۔ میں تمہیں بعد میں بتاﺅں گا“۔ وہ عبدالحق کا ہاتھ تھام کر چل پڑے۔
”اب چلنا کہاں ہے“؟ عبدالحق نے پوچھا۔
”کیمپ جائیں گے میاں“۔
عبدالحق نے تانگہ روک لیا۔ افضال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ عبدالحق کا تجسس سے برا حال تھا۔ وہ زرینہ کون تھی، جسے وہاں دیکھ کر افضال صاحب مضطرب ہوگئے تھے۔ کیا وہ اسے ہی ڈھونڈنے کے لئے ہر روز نکلتے تھے؟ کون تھی وہ ان کی؟ اور وہاں کیسے پہنچ گئی؟
کیمپ میں افضال صاحب نے عبدالحق کو زرینہ کے بارے میں بتایا۔ اس بدنصیب لڑکی کے گھر کے تمام لوگ امرتسر میں شہید کردیئے گئے تھے۔ وہ اکیلی نجانے کیسے پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔
”تو وہ وہاں کیسے پہنچ گئی“؟
اور اگلے ہی لمحے جو اس کے ذہن میں خیال ابھرا، اس نے اسے لرزادیا۔ صحرا کی سرد رات میں بھی اس کے جسم سے پسینہ پھوٹ نکلا۔ اس پر تھرتھری چڑھ گئی۔ یہ میں نے سوچا بھی کیسے؟ وہ بڑبڑایا۔ اس کے لہجے میں پچھتاوا تھا.... ملامت تھی۔ کسی پیغمبر سے اپنی مماثلت کا تو خیال بھی بہت بڑی گستاخی ہے۔ اپنے بارے میں اتنا بڑا گمان! پستی کی انتہا اور اتنی بلندی کی خوش فہمی !!
اس نے عاجزی کے ساتھ موازنہ کیا تو پیغمبر کے عمل کی عظمت اس کی سمجھ میں آگئی۔ پیغمبر نے بت توڑے تو اس لئے کہ وہ اپنی قوم کو گمراہی سے بچانا چاہتے تھے۔ وہ انہیں ان کے عقائد کی کمزوری سے آگاہ کررہے تھے کہ وہ ان سے مدد اور عافیت کے طلب گار ہیں، جو آپ اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے۔ ان کا عمل اجتماعی فلاح کیلئے تھا۔ جبکہ اس کا عمل انفرادی تھا۔ وہ بس اللہ کو خوش کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ اسے دوسروں کی گمراہی اور ہدایت سے کوئی غرض نہیں تھی۔ پھر پیغمبر کے عمل میں کوئی خوف نہیں تھا۔ بلکہ ان گمراہوں کا سامنا کرنا پیغمبری اسکیم کا حصہ تھا۔ جبکہ اس نے کوشش کی تھی کہ اس کا عمل پوشیدہ رہے۔ وہ پکڑا نہ جائے۔ پیغمبر نے اپنی مغضوب الغضب قوم کا سامنا کیا اور ان کے سامنے نظریہ_؟ وحدانیت رکھا، کلمہ_؟ حق بلند کیا۔ اپنے عمل کے نتائج کا سامنا تن تنہا کیا۔ آگ میں جلائے جانے کی سزا بھی قبول کی۔ فرشتے کی امداد بھی گوارا نہیں کی اور صرف اللہ سے لولگائی۔ اس کے نتیجے میں آگ بھی گلزار بن گئی۔ جبکہ اس کے عمل کے نتیجے میں اس کے گاﺅں کے لوگ آزمائش میں پڑے۔ اس کے باپ اور اس کے چاہنے والوں کو زندگی کا نذرانہ دینا پڑا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں جتنا اس نے پڑھا، اتنا ہی وہ ان کی شخصیت کا اسیر ہوتا گیا۔ ان کی شخصیت کا جزواعظم اللہ کی محبت تھی۔ اور عبدالحق کا اپنا بھی ابتدا ہی سے مقصد یہی تھا۔ وہ اللہ سے ایسی محبت کرنا چاہتا تھا، جیسی کہ کرنی چاہئے۔ مگر اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں پڑھنے اور جاننے کے بعد اس کی سمجھ میں آیا کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔ یہ کہنا کہ آپ اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور دنیا کی ہر محبت اور ہر چیز سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں، بہت آسان ہے۔ مگر عملاً ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ سوچنا کہ آپ اپنا سب کچھ اللہ کے نام پر قربان کرسکتے ہیں۔ بہت آسان ہے۔ مگر قربان کرنا پڑے تو پتا چلتا ہے۔
سچ تو یہ تھا کہ اللہ پر ایمان، اللہ کی فرماں برداری اور اللہ سے محبت کے بارے میں عبدالحق سب کچھ ابراہیم خلیل اللہ کے حوالے سے سمجھ رہا تھا۔ محض ایک خواب دیکھ کر اللہ کی خاطر بیٹے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوجانا محبت کی مثال تھا۔ صرف ایک زندگی میں اللہ سے محبت کے متعدد روشن ثبوت چھوڑنا ابراہیم علیہ السلام کا ایسا کارنامہ تھا، جس پر انسانیت فخر کرسکتی تھی۔ فرماں برداری اور اللہ پر بھروسہ ہی تو تھا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بیٹے کو لق ودق صحرا میں بہ ظاہر وسائل سے محروم، بے سروسامانی کے عالم میں چھوڑگئے تھے۔
عیدقرباں گزرچکی تھی۔ عبدالحق نے اللہ کی راہ میں ایک جانور کی قربانی پیش کی تھی۔ مگر اب وہ سوچتا تھا کہ کیا اس کی قربانی اس عظیم قربانی کے شایان شان تھی، جس کی یاد میں یہ دن منایا جاتا تھا۔ اس جانور کو قربان کرتے ہوئے اس کے دل میں کسی دکھ، کسی ملال کا شائبہ بھی نہیں تھا۔ کیا قربانی ایسی ہوتی ہے؟
اس نے اس سلسلے میں مہرعلی سے بات کی۔
”تو پتر، آپ ایسا کرو کہ ابھی ایک بچہ جانور لو اور اسے پالو۔“ مہر علی نے کہا۔
”اس سے کیا ہوگا مولانا؟“
”پالو گے تو پتا چلے گا“
”پھر بھی، کچھ بتائیں تو“
”پالو گے تو آپ کو اس سے محبت ہوجائے گی۔ وقت آئے گا تو قربان کرنے کو دل نہیں چاہے گا۔“
”کیا واقعی؟“
”پالنے کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے پترجی۔ تب سمجھ میں آئے گی۔ پھر سوچنا کہ اصل پروردگار تو اپنا رب ہے۔ اور وہ اپنی مخلوق سے جو محبت کرتا ہے، وہ اولاد کیلئے ماں کی محبت سے کم ازکم ستر گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جب خود محبت کروگے تو پتا چلے گا۔
Updated on 15 May 08 at 10:35 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.