Google
 

:: 20 عشق کا شین
عبدالحق کے جسم میں سنسنی سی دوڑگئی۔ ”یہ تو آپ نے بہت کام کی بات بتائی ہے۔ اس پر میں ضرور عمل کروں گا۔“
اگلی بار وہ شہر گیا تو وہاں سے اپنے لئے چھوٹا سا ایک مینڈھا بھی لے آیا۔ اسے اس نے پورے بازار میں گھوم پھر کر منتخب کیا تھا۔ یہ وہ سوچ کر نکلا تھا کہ جانور جب تک دل سے پسند نہیں ہوگا، نہیں خریدے گا۔
زبیر اسے دیکھ کر خوش بھی ہوا اور حیران بھی۔ ”مالک.... یہ تم لائے ہو.... اپنے لئے۔“
”ہاں“
”بے فکر رہنا مالک۔ میں اس کا ہر طرح سے خیال رکھوں گا۔“
”اس کی ضرورت نہیں۔ اس کا ہر کام میں خود کروں گا۔“
زبیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔ مالک کے پاس فرصت تو تھی نہیں۔ اور بات ہورہی تھی جانور پالنے کی۔ مگر اس نے کچھ کہا نہیں۔ دل میں یہ ضرور سوچا کہ چار دن کا شوق ہے۔ اور کوئی مسئلہ بھی نہیں۔ جانور تو پہلے ہی پل رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ عبدالحق کی مصروفیت بہت تھی۔ لیکن اس نے بچے مینڈھے کیلئے خاص طورپر وقت نکالا۔ وہ اسے خودہی کھلاتا پلاتا۔ لیکن چار ہی دن میں اسے فکر لاحق ہوگئی کہ وہ بڑا نہیں ہورہا ہے۔ اس نے زبیر سے اس تشویش کا اظہار کیا۔
”ارے مالک.... چاردن میں جانور کتنا بڑا ہوسکتا ہے۔“ زبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”بڑا تو ہونا چاہئے نا۔“
”اب ہر وقت آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ اس کے بڑے ہونے کا تو پتا بھی نہیں چلے گا آپ کو۔“
”مگر مجھے معلوم ہے کہ یہ بڑا ہوا ہی نہیں ہے۔“ عبدالحق بدستور فکرمند تھا۔ ”مجھے لگتا ہے کہ کچھ خاص کھلانے کی ضرورت ہے اسے۔“
”ارے مالک، سب بڑھتے ہیں اپنی رفتار سے۔ ایک جیسا کھاتے ہیں سب۔“
”نہیں، یہ خاص ہے، بتاﺅ تو، مجھے کیا کھلانا ہوگا اسے“
زبیر چند لمحے سوچتا رہا۔ پھر بولا۔ ”شوقین لوگ تو خشک میوہ بھی کھلاتے ہیں۔“
اس دن سے عبدالحق نے بچے مینڈھے کیلئے خشک میوے کا اہتمام کردیا۔ دراصل اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ جلدازجلد بڑا ہوجائے۔ اور اس کے خیال میں یہ جبھی ممکن تھا کہ اسے زیادہ سے زیادہ کھلایا جائے۔
اس کی توجہ اور محبت کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیسرے دن بچے مینڈھے کو دست لگ گئے۔ زیادہ کھلانا اور وہ بھی خشک میوہ، اس کا یہ نتیجہ تو نکلنا ہی تھا۔ عبدالحق کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔
زبیر نے اس کیلئے دوابناکردی۔ ”لیکن مالک، دوا سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ زیادہ کھلانے سے یہ بڑا نہیں ہوگا۔ بلکہ پیٹ خراب ہوجائے گا اس کا۔ بڑا تو یہ اپنے وقت پر ہی ہوگا۔“
”تو میں زیادہ کب کھلاتا ہوں اسے“ عبدالحق نے احتجاج کیا۔
اسی وقت مہر علی بھی آگئے۔ ”کیا ہورہا ہے پتر؟“
”اب مالک، پاﺅ بھر بادام کو آپ زیادہ ہی نہیں سمجھتے۔ میں کیسے سمجھاﺅ“ زبیر نے بے بسی سے کہا۔
بات مہرعلی کی سمجھ میں آئی تو انہوں نے عبدالحق کو سمجھانے کا کام اپنے ذمہ لے لیا۔ ”دیکھ پتر، اللہ نے مینڈھوں کیلئے بادام پستے اور اخروٹ نہیں بنائے۔ اب یہ تو تم محبت میں کھلاتے ہو۔ یہ سچ ہے کہ خشک میوہ کھانے سے اس میں طاقت آئے گی۔ لیکن اعتدال ضروری ہے۔ صبح وشام دو دو چار چار دانے کھلادیا کرو بس۔“
عبدالحق کا دل تو نہیں مانتا تھا۔ لیکن مہرعلی سے وہ بحث نہیں کرتا تھا۔ اس نے کہا۔ ”ٹھیک ہے مولانا“
”اور تم اسے باندھ کر رکھتے ہو پتر“
”جی مولانا“ عبدالحق نے سادگی سے کہا۔
”تو اس کا پیٹ تو خراب ہونا ہی ہے۔ یہ تو بھاگنے والا جانور ہے پتر۔ یہ تو اس پر دو ظلم ہوگئے۔“
”لیکن ابھی تو یہ بہت چھوٹا ہے مولانا۔ کھول دوں گا تو ادھر ادھر بھاگتا پھرے گا۔ مجھے ڈرلگتا ہے۔ یہ بڑے بڑے بلڈوزر چلتے ہیں یہاں۔ میں اسے خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔“
مہر علی مسکرائے۔ ”اب سمجھ میں آرہا ہے پتر کہ پالنا کیا ہوتا ہے۔“ وہ بولے ”بظاہر تو ماں باپ بچے کو پالتے ہیں۔ لیکن پروردگار صرف رب ہوتا ہے۔ وجہ ؟ انسان کسی کی خبرگیری نہیں کرسکتا۔ جو اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں، اس سے وہ بے خبر ہوتا ہے۔ جو اس کی عقل اور اس کے حواس سے باہر ہو، اسے اس کا علم نہیں ہوتا۔ اسی لئے تو ماں چاہتی ہے کہ اس کا بچہ ہر وقت اس کی نگاہوں کے سامنے رہے۔ اور پروردگار سب جانتا ہے۔ علم سارے کا سارا اسی کا ہے۔ اس نے پیدا کیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی کس مخلوق کی کیا ضرورتیں ہیں۔ وہ ہر پل اپنی ہر مخلوق سے باخبر رہتا ہے اور ہر پل اس کی تمام ضرورتیں پوری کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اسی لئے تو اس کے سوا کوئی پروردگار نہیں ہے۔ اس لئے تو ماں کی محبت میں پریشانی اور تفکرات ہیں۔ اور اللہ کی محبت میں جو ماں کی محبت سے ستر گنے سے بھی زیادہ ہے، تحفظ اور حاجت روائی ہے۔ پریشان اور فکرمند تو وہ ہوتا ہے نا، جو بے بس ہو۔ تو پتر عبدالحق، یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھا کرو کہ پروردگار وہ ہے۔ تم کسی کو موت سے نہیں بچاسکتے۔ اور اگر تم کسی کو کچھ دیتے ہو، کسی کیلئے کچھ کرتے ہو تو وہ بس ایک اعزاز ہے جو اللہ نے تم کو عطا کیا ہے۔“
عبدالحق بڑی توجہ سے مہرعلی کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ ان کی دانش کا قائل تھا۔ وہ بڑی مشکل باتیں بڑی آسانی سے سمجھادیتے تھے۔
”تو پتر عبدالحق، تم اپنے جانور کو اس کی ضرورت سے زیادہ نہ کھلاﺅ۔ اور اسے کھلارکھو، اس کی حفاظت اللہ کا کام ہے۔“
عبدالحق نے اس نصیحت پر عمل شروع کردیا۔
پندرہ دن بعد اسے اندازہ ہوا کہ محبت کا جذبہ جانوروں میں بھی ہوتا ہے۔ اس کا ننھا مینڈھا سائے کی طرح اس کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ وہ کہیں بھی ہوتا۔ مینڈھا دوڑ کر اس کی طرف چلا آتا۔ اور وہ پھرتیلا بہت تھا۔ گاڑیوں سے ایسے بچتا کہ وہ دیکھتا رہ جاتا۔ کبھی وہ جانوروں کے باڑے میں بھی چلا جاتا۔ لیکن عجیب بات تھی کہ وہ کہیں منہ نہیں مارتا تھا۔ بلکہ وہ جو کچھ بھی کھاتا تھا، صرف عبدالحق کے ہاتھ سے کھاتا تھا۔ اس کا علم بھی عبدالحق کو اتفاق سے ہی ہوا تھا۔“
وہ جب بھی شہر جاتا تھا، زبیر سے اپنے مینڈھے کا خیال رکھنے کو کہہ کر جاتا تھا۔ لیکن کبھی یہ نوبت نہیں آئی کہ زبیر کو اسے کھلانا پڑے۔ عبدالحق شام سے پہلے ہی واپس آجاتا تھا۔
مگر اس روز اس کے واپسی میں دیر ہوگئی۔ وہ گھر پہنچا تو رات ہوگئی تھی۔ کھانا کھانے کیلئے بیٹھا تو اسے اپنا مینڈھا یادآیا۔
”میرا مینڈھا کہاں ہے؟ ٹھیک تو ہے؟“ عبدالحق نے زبیر سے پوچھا۔
”وہ اپنے شیڈ میں ہے مالک۔ پر اس نے کچھ کھایا نہیں ہے۔“
”کھایا نہیں ہے کا مطلب؟“ عبدالحق کا نوالہ منہ میں لے جاتا ہوا ہاتھ رک گیا۔
”میں نے بہت کوشش کی۔ لیکن اس نے کھایا ہی کچھ نہیں مالک۔“
عبدالحق نے نوالہ پلیٹ میں رکھ دیا۔ ”بیمار تو نہیں ہے وہ؟“
”نہیں مالک“
”تو پھر اس نے کچھ کھایا کیوں نہیں“
”وہ آپ کے ہاتھ سے کھانے کا عادی ہوگیا ہے مالک۔ اس نے رابعہ کے ہاتھ سے بھی نہیں کھایا۔“
عبدالحق اٹھا اور شیڈ کی طرف چل دیا۔ زبیر لالٹین لے کر پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ عبدالحق کو زبیر کی اس بات پر یقین نہیں آیا تھا کہ مینڈھا اس کے علاوہ کسی کے ہاتھ سے نہیں کھاتا۔ اسے ڈر تھا کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ وہ پریشان ہوگیا تھا۔
”یہ تو وہی بتاسکتی ہے۔“
”تو ہمیں اس سے ملنا چاہئے تھا۔“
”ایسے نہیں میاں۔ اسے وہاں سے نکال کر لانا ہے“
”یہ بات آپ وہاں کہتے تو وہ اس وقت ہمارے ساتھ ہوتی۔“
”دیکھو میاں، تم کم عمر اور ناسمجھ ہو۔ کوٹھوں کے ماحول سے ناواقف ہو۔“ افضال صاحب اسے بچوں کی طرح سمجھانے لگے۔ ”کوٹھے پر بیٹھی عورت کو نکال لانا آسان ہوتا تو ایسے تمام بازار کب کے اجڑ چکے ہوتے، جبکہ تمہیں سب سے زیادہ رونق انہی بازاروں میں نظر آئے گی۔ کوئی لڑکی ایک بار اس ماحول میں پہنچ جاتے تو اس سے نکل نہیں سکتی۔ کوئی لاکھوں میں ایک بچ نکلتی ہے۔ مگر انجام اس کا بھی اچھا نہیں ہوتا۔“
عبدالحق حیران تھا۔ اسے تو لگ رہا تھا کہ اس نے دنیا کو دیکھا اور سمجھا ہی نہیں ہے۔ اب بھی اس کی سمجھ میں بات پوری طرح نہیں آئی تھی۔ ”اسے وہاں سے نکال لانے میں دشواری کیا تھی“
”کوٹھوں پر ہر طرح کے لوگ آتے ہیں میاں۔ شریف بھی اور بدمعاش بھی۔ دکان جو ٹہری۔ اب دکان دار کی گاہک منتخب کرنے کی حیثیت تو نہیں ہوتی نا۔ ایسے لوگ بھی کوٹھوں پر جاتے ہیں، جنہیں کوئی لڑکی زیادہ پسند آجائے تو وہ اسے جبراً یا اس کی مرضی سے اٹھاکر لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں سے نمٹنے کیلئے بازار میں بدمعاشوں کو ملازم رکھا جاتا ہے۔ بعض کوٹھوں پر اپنے پہرے دار بھی ہوتے ہیں۔ اور ان کے پاس ہتھیار بھی ہوتے ہیں۔ چاقو تو سبھی کے پاس ہوتے ہیں۔ وہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے میاں۔“
عبدالحق نے اطمینان کی گہری سانس لی۔ ”بس اتنی سی بات ہے۔ آپ ابھی کہیں تو میں اس لڑکی کو اکیلا جاکر لے آﺅں۔ نہ اس کے خراش آئے گی نہ میرے“ افضال صاحب نے سر اٹھاکر بڑی بے بسی سے اسے دیکھا۔ ”یہ سب کچھ تمہاری سمجھ میں اتنی آسانی سے کیسے آئے گا میاں۔ میں نے کہا نا کہ وہاں غنڈے....“ عبدالحق نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”مجھے لٹھیا چلانی آتی ہے افضال صاحب۔ دس بیس کیلئے میں اکیلا ہی کافی ہوں اللہ کے فضل وکرم سے۔“
”دیکھو میاں، ایک وعدہ کرو مجھ سے۔ اس معاملے میں تم بس اتنا ہی کروگے، جتنا میں کہوں۔ یہ طاقت سے حل کرنے والا مسئلہ نہیں ہے۔“
عبدالحق کو ان کا لحاظ نہ ہوتا تو وہ اسی وقت جاکر اس زرینہ کو اپنے ساتھ لے آتا۔ لیکن ایک دشواری اور بھی تھی۔ اس نے زرینہ کو دیکھا ضرور تھا۔ لیکن یقینی طورپر اسے پہچان نہیں سکتا تھا۔ وہاں کوٹھے پر اتنی روشنی بھی نہیں تھی کہ وہ اس کی صورت دیکھ کر پوری طرح ذہن نشین کرسکتا۔ البتہ افضال صاحب اسے پہلے سے جانتے تھے۔ ”تو ٹھیک ہے“ اس نے کہا۔ ”آپ حکم کیجئے کہ کیا کرنا ہے۔“
افضال صاحب نے کچھ نہیں کہا۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھے۔ چہرے کی لکیروں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
چند لمحے بعد انہوں نے سراٹھایا اور عبدالحق کو بہت غور سے دیکھا۔ ”اپنی مالی حیثیت کے بارے میں بتاﺅ ذرا۔“
”جی.... اللہ کا بڑا فضل ہے۔ مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“
”پاکستان آنے کے بعد پہلی بار مجھے افسوس ہورہا ہے اپنی تہی دامنی کا۔ میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی مجھے روپے پیسے کی ضرورت بھی پڑسکتی ہے۔“
”ارے.... آپ بتائیں تو۔“ عبدالحق نے تڑپ کر کہا۔ ”کیا ضرورت ہے آپ کی؟“
”میری ضرورت تو بس زرینہ ہے۔“
”کہیں تو اسے میں ابھی لے آﺅں۔ چلیں میرے ساتھ۔“
”تم نے وعدہ کیا ہے کہ میرے کہنے پر عمل کروگے۔“
”جی ہاں۔ اور میں وعدہ کبھی نہیں توڑتا۔ آپ بتائیں تو، کرنا کیا ہے۔“
”ہمیں زرینہ کو خرید کر واپس لانا ہوگا۔ اسی لئے پوچھ رہا ہوں کہ تمہاری مالی حیثیت کیا ہے۔“
عبدالحق پھر بحث کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسے یہ مناسب نہیں لگا۔ ”آپ یہ بتائیں کہ آپ کی زرینہ کتنے میں ملے گی؟“ اس نے پوچھا۔
”کون جانے، سو روپے میں.... اور کیا پتا، پانچ سو میں“ افضال صاحب کے لہجے میں تشویش تھی۔
”بس تو بے فکر ہوجائیں۔“ عبدالحق نے بے پروائی سے کہا۔ ”اگر وہ کوئی اچھی جگہ ہوتی تو میں آپ کی خاطر وہ پورا کوٹھا ہی خریدلیتا۔“
پہلی بار افضال صاحب کے چہرے پر طمانیت نظر آئی۔ ”اللہ کا شکر ہے۔“ انہوں نے آہستہ سے کہا۔
”لیکن آپ مجھے یہ ضرور بتائیں کہ جب ہم زرینہ کو ویسے بھی لاسکتے ہیں تو اس خریدوفروخت کی کیا ضرورت ہے“ عبدالحق کے لہجے میں تلخی تھی۔ ”کیونکہ مجھے تو کسی لڑکی کو خریدکر لانا نہایت شرم ناک لگتا ہے۔“
”میں تمہیں بتاتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ تم سمجھ جاﺅ گے۔ “ افضال صاحب نے دھیمے لہجے میں کہا۔ ”دیکھو.... اپنی عزت اور آبرو کی وجہ سے لڑکیاں کانچ سے زیادہ نازک ہوتی ہیں۔ زرینہ نوجوان ہے۔ اس کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ ہم جانتے بوجھتے اسے اس جہنم میں جلنے کیلئے چھوڑدیں۔ اور بہ زور اسے لے کر آئیں تو ہنگامہ ہوگانا۔ اور سب کو پتا چل جائے گا کہ زرینہ اتنے دن کوٹھے پر رہی ہے۔ پھر کون اس سے شادی کرے گا۔ تم کروگے؟“
عبدالحق بہت غور سے سن رہا تھا۔ آخری بات سن کر اس نے سرہلایا۔ ”اگر میرے ساتھ ایک اور معاملہ نہ ہوتا تو بالکل کرلیتا۔ اس لئے کہ میرے نزدیک وہ گناہ گار نہیں، معصوم ہے۔ وہ تومظلوم ہے۔ اس پر جبر ہوا ہے۔“
”ایسی منطق زیادہ دن نہیں چلتی۔“ افضال صاحب نے ناصحانہ لہجے میں کہا۔ ”اول تو تمہارے انداز میں سوچنے والا کروڑوں میں ایک ہوتا ہے۔ کہاں ڈھونڈتے پھریں گے ہم۔ پھر فرض کرلو کہ کوئی تم جیسا مل گیا اور اس کی شادی ہوبھی گئی تو جب بھی کسی بات پر غصہ آیا تو شوہر اسے یہ طعنہ دے گا۔ کبھی اس پر شک بھی کرے گا۔ اس کا کسی بھی وقت خراب نتیجہ نکل سکتا ہے۔“ انہوں نے ایک گہری سانس لی۔ ”نہیں.... یہ بات تو چھپانی ہوگی۔ بس جیسا میں کہتا ہوں، تم ویسا ہی کرو۔“
”تو بتائیں مجھے، کیا کرنا ہے۔“
افضال صاحب اسے سمجھانے لگے۔ ان کی باتیں سن کر اس کی آنکھیں پھیلتی جارہی تھیں۔ تاہم اس نے مداخلت نہیں کی۔
افضال صاحب کی بات پوری ہوگئی تو اس نے کہا ”افضال صاحب، یہ سب تو بہت مشکل ہے میرے لئے۔ میں کیسے کرسکوں گا۔“
”ایک معصوم لڑکی کی زندگی تباہ ہونے سے بچانے کیلئے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔“
”لیکن میں.... میں گاہک کی حیثیت سے.... میرے انداز سے سب کو....“
”سنو میاں، اس کوچے میں گاہکوں کے چہرے اور انداز نہیں دیکھے جاتے، صرف ان کی جیب پر نظر رکھی جاتی ہے۔ اور پھروہاں جانے والوں میں سے ہر شخص کی زندگی میں یہ دن ضرور آتا ہے، جب وہ پہلی بار اس کوچے میں قدم رکھتا ہے۔ سبھی گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں پہلی بار“
عبدالحق پر اسی لمحے سے گھبراہٹ سوار ہوگئی۔ جبکہ وہاں جانے کا مرحلہ 24 گھنٹے دور تھا۔
........x........
اس روز حمیدہ سے گفتگو کے نتیجے میں نوربانو میں ایک بڑی تبدیلی آئی۔ بنیادی تبدیلی یہ تھی کہ عبدالحق کے بارے میں اس کے سوچنے کا انداز مثبت ہوگیا تھا۔ یہ احساس کہ عبدالحق خود کو اس کے قابل نہیں سمجھتا، پہلے تو ناقابل یقین لگا۔ مگر پھر ذہن بہ تدریج اسے تسلیم کرنے لگا۔ پھر اس خیال سے اسے خوشی ملی، اور اس کے نتیجے میں وہ خوش بھی رہنے لگی اور خوش مزاج بھی ہوگئی۔
دن تو کاموں میں گزرجاتا تھا۔ کام میں بھی اب اس کا دل زیادہ لگتا تھا۔ زندگی میں پہلی بار اسے پتا چلا تھا کہ خوش رہنے کی کتنی اہمیت ہے۔ آدمی خوش ہو تو کام بھی اچھی طرح کرتا ہے، اور کام کرنے سے بھی خوشی ملتی ہے۔
یہ احساس بھی اسے پہلی بار ہوا کہ زندگی میں پہلی بار وہ صحیح معنوں میں خوش ہوئی ہے۔ دہلی میں گزری ہوئی زندگی پر وہ نظر ڈالتی تو سمجھ میں آتا کہ وہ خوش کبھی نہیں رہی تھی۔ اس کے پاس تو شکایتوں کے سوا کچھ تھا ہی نہیں۔ اور شاکی لوگ کبھی خوش نہیں ہوتے۔ اور شکایت اسے سبھی سے تھی، خود سے بھی اور اللہ میاں سے بھی۔ اللہ میاں سے تو بہت بڑی شکایت تھی۔ اس کے ماں باپ خوب صورت تھے، دونوں بہنیں خوبصورت تھیں، تو پھر وہ اتنی بدصورت کیوں تھی۔ وہ بری طرح احساس کمتری میں مبتلا تھی۔ اور اپنے اندر کی جھنجھلاہٹ وہ دوسروں پر اتارتی تھی۔ اب اس کی سمجھ میں آرہا تھا کہ زندگی میں محبت کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ بلکہ اصل میں محبت سے زیادہ محبت کو تسلیم کرنے اور اس کے اظہار کی اہمیت ہے۔ اور وہ اپنے اندر موجود محبتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتی تھی۔ اظہار تو بہت دور کی بات ہے۔
کوئی انسان ایسا نہیں ہوسکتا، جو محبت نہ کرتا ہو۔ وہ بھی محبت کرتی تھی.... امی سے، باجی سے، گلنار سے، بوا سے اور آکا میاں سے۔ لیکن اپنے احساس کمتری کی وجہ سے وہ ان میں سے کسی سے بھی قریب نہیں تھی۔ بہنوں کی باہمی محبت تو قدرتی ہوتی ہے۔ باجی اور گلنار میں کیسی محبت تھی۔ وہ انہیں دیکھتی اور کڑھتی تھی کہ وہ ان جیسی نہیں ہے۔ اس احساس نے اسے تنہا رہنے کا عادی بنادیا۔ سب کچھ چھوڑ کر اس نے کتابوں سے دوستی کرلی۔ اب جو آدمی اپنے اندر کی محبتوں سے منہ موڑے گا، وہ جھنجھلائے گا بھی۔ اور جو جھنجھلائے گا، وہ ناخوش بھی رہے گا۔
اب اس کی سمجھ میں آیا تھا کہ محبت کو تسلیم کرنے اور اس کا اظہار کرنے میں بہت بڑی خوشی ہے۔ عبدالحق کے آنے کے بعد سے باجی کو اس نے ایسی خوشی، ایسی سرشاری میں دیکھا تھا کہ وہ حیران ہوتی تھی۔ ان کی وہ کیفیت اس لئے تھی کہ انہوں نے اپنے دل میں موجود ٹھاکر اوتار سنگھ کی محبت کو تسلیم بھی کیا تھا، اور وہ اپنے تئیں اس کے اظہار کی کوشش بھی کرتی تھیں.... کبھی کپڑے کاڑھ کر اور کبھی اس کیلئے کچھ پکاکر۔
اور اب زندگی میں پہلی بار وہ خوش تھی۔ اس لئے کہ اس نے عبدالحق کی محبت کو تسلیم کرلیا تھا۔ بلکہ اس نے اماں کے سامنے اس محبت کا اظہار بھی کردیا تھا۔ اس نے اماں سے کہا تھا کہ اسے عبدالحق سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن وہ عبدالحق کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ کیونکہ وہ اس کے قابل نہیں ہے۔ یہ کہتے وقت اسے احساس بھی نہیں تھا کہ وہ اس کا اظہار محبت ہے۔ مگر اب وہ سمجھ سکتی تھی۔ اور اس کے بعد وہ ایسی ہلکی پھلکی ہوگئی تھی، جیسے دل پر رکھا ہوا کوئی بھاری پتھر ہٹ گیا ہو۔
تو اب وہ سرشاری کی اس کیفیت میں تھی، جس میں باجی کو دیکھ کر وہ حسد کرتی تھی۔ کوئی کام کرتی تو لگتا کہ کسی خوبصورت دھن کی لے پر حرکت کررہی ہے۔ چلتی تو لگتا کہ بادلوں پر اڑرہی ہے۔
مصروفیت کم نہیں تھی۔ دوبکری کے بچے اس نے خود لئے تھے۔ اب وہ خاصے بڑے ہوگئے تھے۔ ادھر مینو تھا، جو اس کیلئے بہت اہم ہوگیا تھا۔ بلکہ وہ ہروقت اس کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ اس کے علاوہ گھر کے کام الگ تھے۔
پھر اس کا جی یہ چاہتا تھا کہ وہ اماں کے پاس جاکر بیٹھے۔ صرف اس لئے کہ وہ عبدالحق کے بارے میں باتیں کریں گی، اور اسے اچھا لگے گا۔ وہ نہ بولتیں تو وہ خود کسی بہانے سے اس کا تذکرہ نکال لیتی۔
اور رات.... رات کا تو وہ بے صبری سے انتظار کرتی تھی۔ رات اسے اتنی اچھی کبھی نہیں لگی تھی۔ رات کی تنہائی اور اندھیرے میں عبدالحق کی چادر جسم پر لپیٹ کر وہ جاگتی آنکھوں اس کے سپنے دیکھتی۔ اس سے باتیں کرتی، وہ سب کچھ کہہ دیتی، جو شاید اس کی موجودگی میں وہ کبھی نہیں کہہ سکے گی۔ اور وہ اس کی زبان سے وہ سب کچھ سنتی، جو شاید وہ اس سے کبھی نہیں کہے گا، اور اس دوران وہ ازخود رفت ہوتی۔ وہ شبنم جیسی خوشی تھی، جس میں وہ بھیگ بھیگ جاتی تھی۔
اور پھر اس کیفیت میں وہ سوجاتی.... گہری خوبصورت نیند۔ اور پھر وہ عبدالحق کو خواب میں نہ دیکھتی، اس صبح اسے دن بھر کسی کمی کااحساس ستاتا رہتا۔ مگر ناخوش وہ تب بھی نہ ہوتی۔ کیونکہ وہ اس کے بار ے میں سوچتی رہتی تھی۔
اس روز وہ اماں کے پاس گئی تو اماں نے اسے ایک نئی بات بتائی، بات کیا، وہ تو خوش خبری تھی۔
”سن نور بانو، اب تو رابعہ کا بہت خیال رکھنا“ حمیدہ نے کہا۔
”جی اماں، کوشش تو میں کرتی ہوں۔“ نوربانو نے جواب دیا۔ گوکہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
”دھی میری، اب اسے بوجھ بالکل نہ اٹھانے دینا۔“
”اس معاملے میں تو الٹا وہ میرا خیال رکھتی ہیں۔“ نور بانو نے شرمندگی سے کہا۔ ”وہ مجھے بہت کمزور اور نازک سمجھتی ہیں۔“
”تب تو تجھے اس کا زیادہ خیال رکھنا ہوگا دھیے۔“ حمیدہ نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔ ”کسی قیمت پر بھی اسے زیادہ وزن نہ اٹھانے دینا۔ پہلی بار کا معاملہ بہت نازک ہوتا ہے۔ خدا نہ کرے، کوئی اونچ نیچ ہوگئی تو نقصان بھی ہوسکتا ہے۔“
نوربانو کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا۔ مگر وہ ڈرگئی تھی۔ ”کیسی اونچ نیچ اماں؟“ اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔
حمیدہ نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ پہلی بار اسے خیال آیا کہ معصوم نوربانو یہ بات کیسے سمجھ سکتی ہے۔ وہ اسے بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ لیکن مجبوری تھی۔گھر میں اور تھا ہی کون۔ ”وہ ماں بننے والی ہے میری بیٹی“ اس نے بہت نرم لہجے میں کہا۔
نور بانو کی نگاہیں جھک گئیں۔ ”جی اماں“
”تو سمجھ گئی ہے نا؟“ حمیدہ نے زور دےکر پوچھا۔ ”زیادہ وزن نہ اٹھانے دینا اسے“
”میں سمجھ گئی اماں۔ آپ اب فکر نہ کریں۔ میں خیال رکھوں گی۔“
”اور یہ بتا، تو عبدالحق کیلئے دعا بھی کرتی ہے کہ وہ کامیاب واپس آئے۔“
”جی اماں، ہروقت کرتی ہوں یہ دعا۔“ نوربانو کی نظریں اور جھک گئیں۔
”اب ڈر تو نہیں لگتا اس دعا سے؟“ حمیدہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ پھر دلاسہ دینے والے انداز میں بولی۔ ”تو فکر نہ کر۔ اب میں تجھے جانے نہیں دوں گی یہاں سے“
نور بانو نے نفی میں سرہلایا۔ پھر جلدی سے سر کو تفہیمی جنبش دی اور وہاں سے اٹھ گئی۔
اس دن نور بانو بہت خوش تھی۔ شاید وقت کا مزاج بدل رہا ہے۔ اس نے سوچا۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔ زندگی کی ہری بھری شاخ پر ایک اور شگوفہ پھوٹنے والا ہے۔ خوشی کو ترسی ہوئی، اپنے اندر گھٹ گھٹ کر جینے والی لڑکی کیلئے وہ بہت بڑی خوشی تھی۔ اس نے تو کبھی کسی چھوٹے بچے کو گود میں لیا ہی نہیں تھا.... بلکہ دیکھا بھی نہیں تھا۔ ارے.... کتنا اچھا لگے گا۔ وہ نہال ہوگئی۔
یوں اس کی مصروفیت اور بڑھ گئی۔
مگر رابعہ سے نمٹنا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ معاملہ الٹا تھا۔ رابعہ اس کا خیال رکھتی تھی۔ وہ تو اسے بہت نازک.... بہت بلند سمجھتی تھی۔ چنانچہ اسے مزاحمت تو کرنا تھی۔ اگلے روز رابعہ پانی گرم کرنے کیلئے بڑی دیگچی اٹھانے کیلئے بڑھی تو نور بانو نے اسے روک دیا۔ ”نہیں آپا، یہ میں اٹھاﺅں گی“
”ارے نہیں منجھلی بی بی....“
”مجھے اماں نے بتادیا ہے۔“ یہ کہتے ہوئے نوربانو کی نگاہیں جھک گئیں۔ ”اب آپ بوجھ ذرا سا بھی نہیں اٹھائیں گی۔“
”کچھ فرق نہیں پڑتا ہم گاﺅں کے لوگوں کو۔ آپ چنتا نہ کرو منجھلی بی بی۔“
بے بس ہوتی ہوئی نوربانو کو اچانک ایک نکتہ سوجھ گیا۔ ان لوگوں کی عبدالحق کے ساتھ وفاداری اور فرماں برداری وہ دیکھ چکی تھی۔ اس وقت اس کمزوری ہی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا۔ ”تو آپ میری بات نہیں مانیں گی آپا؟“ اس نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔
”یہ کیسے مان لوں منجھلی بی بی۔ خدمت کرنا تو میرا کام ہے۔“ مالک کو کیا جواب دوں گی۔“
”یہ میرا حکم ہے۔“ نوربانو نے لہجہ اور سخت کرلیا۔
رابعہ ہچکچانے لگی۔ لیکن ابھی اس نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔
”نہیں مانوگی تو آپ کی شکایت کردوں گی ان سے۔“
”نامنجھلی بی بی.... ایسا نہ کرنا“ رابعہ گھگھیانے لگی۔
”تو پھر آپ کو میرا ہر حکم ماننا ہوگا۔“
”ہم تو ہیں ہی حکم ماننے والی جی“
”مانوگی نا“
رابعہ نے مرے مرے انداز میں اثبات میں سرہلادیا۔
”تو پھر غور سے سنو۔ تم کبھی کوئی بوجھ نہیں اٹھاﺅگی۔ ایسے موقع پر مجھے آواز دوگی۔“
”ٹھیک ہے منجھلی بی بی“
مینڈھا اپنے کھونٹے سے بندھا ہوا تھا اور جاگ رہا تھا۔ عبدالحق کے پاﺅں کی چاپ سن کر وہ اٹھا اور ممیانے لگا۔ عبدالحق شیڈ میں داخل ہوکر اس کی طرف بڑھا تو مینڈھا بھی اس کی طرف لپکا۔ لیکن رسی نے اسے روک دیا۔
عبدالحق نے اس کے پاس بیٹھ کر اس کا سرتھپ تھپایا۔ ”کیا بات ہے مینو۔ کچھ کھاتا کیوں نہیں؟“
مینڈھا اس کے جسم سے اپنا سر رگڑتے ہوئے لاڈ بھری آواز میں ممیاتا رہا۔ عبدالحق نے اپنے ہاتھ سے گھاس اس کی طرف بڑھائی تو وہ بڑے بے صبرے پن سے کھانے لگا۔ پھر عبدالحق نے اپنے ہاتھ پر چارہ رکھ کر اسے کھلایا اور اس نے معمول کے مطابق کھایا۔ کھاتے ہوئے اس کی کھردری زبان اس کی ہتھیلی سے ٹکراتی تھی تو اسے بہت اچھا لگتا تھا۔
”تو میرے مینو کی عادتیں بگڑ گئی ہیں۔“ عبدالحق کھلاتے ہوئے کہتا رہا۔ اب نخرے ہوگئے ہیں اس کے۔ میرے علاوہ کسی کے ہاتھ سے نہیں کھائے گا۔“ اس کے لفظوں میں شکایت تھی۔ لیکن اس کے برعکس لہجے میں فخر اور مسرت تھی۔
چارے کے بعد اس نے بادام، پستے اور اخروٹ کی چند گریاں ہتھیلی پر رکھیں۔ مینو بڑی رغبت سے مزے لے لے کر کھاتا رہا۔
” دیکھ لیا مالک“ زبیر نے کہا۔ ”آپ نے سچ مچ اسے بگاڑدیا ہے“
مینو کھانے کے بعد عبدالحق کی ہتھیلی کو ممنونیت سے چاٹ رہا تھا۔ اس رات عبدالحق کو ایسا لگا کہ اسے مینو سے محبت ہوگئی ہے۔
........x ........
پاکستان بننے کے چند ماہ بعد ہی ہندوﺅں اور انگریزوں کی ملی بھگت اور منافقت واضح ہوگئی۔ مطالبہ_؟ پاکستان کو تو وہ نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔ کیونکہ مسلمانوں کی بہت بھاری اور قطعی اکثریت اس کے پیچھے تھی۔ لیکن ملک کی تقسیم تو ان کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے اپنے اس اختیار کو اس طرح استعمال کیا کہ تھوڑے ہی عرصے میں مسلمان اپنے مطالبے پر پچھتائیں اور پاکستان کو دوبارہ بھارت میں ضم کرنے کی پیشکش خود ہی کردیں۔
کسی بھی ملک کی تقسیم آسان نہیں ہوتی۔ اس میں بڑی پیچیدگیاں، بڑے الجھاﺅ ہوتے ہیں۔ یہ تقسیم صرف جغرافیائی نہیں ہوتی کہ بس ایک لکیر کھینچ کر سرحد بنادی۔ اس میں وسائل بھی تقسیم ہوتے ہیں۔ فوج کی تقسیم کے ساتھ اسلحہ بھی تقسیم ہوتا ہے.... اور کرنسی بھی۔ پھر قدرتی وسائل کا معاملہ بھی ہوتا ہے، جو بہت اہم ہوتا ہے۔ یہاں قدرتی وسائل میں پانی کی بہت اہمیت تھی۔ اور دریا اگرچہ پاکستان میں تھے۔ لیکن تمام آبی ذخائر ہندوستان میں تھے۔ اس پر مستزاد ہندوستان سے بھاری تعداد میں ہجرت کرکے آنے والوں کی نوآبادکاری کا مسئلہ تھا۔ اور ہجرت کے دوران ہندوﺅں کی مکاری اور سکھوں کی سفاکی نے جو منظر ابھارا تھا، وہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ تھا۔
چنانچہ آثار یہی بتاتے تھے کہ پاکستان قائم تو ہوگیا ہے۔ لیکن زیادہ عرصے اپنے پیروں پر کھڑا نہیں رہ سکے گا۔ اسے بالآخر بھارت کا دست نگر بن کر رہنا پڑے گا۔
عبدالحق کی لگن اور محنت رنگ لائی۔ ریت کے نیچے دبے ہوئے تمام گاﺅں برآمد ہوئے اور حق نگر کے نام سے ایک ہوگئے۔ لیکن خوش حالی اب بھی ایسا خواب تھا، جس کی تعبیر محال تھی۔ وجہ تھی پانی کی کمی۔ پانی ہی موجود نہیں تھا، تو نہری نظام کی بحالی سے کیا ہوسکتا تھا۔ دریاﺅں میں پانی بہت کم تھا اور آبی ذخائر موجود نہیں تھے۔
گاﺅں میں جو کاشت کار آبسے تھے، وہ اس صورتحال سے مایوس تھے۔ لیکن ان کے سامنے کوئی راستہ نہیں تھا۔ جو صورتحال گاﺅں کی تھی، کم وبیش وہی پورے ملک کی تھی۔ اور ان سب کا تو زمین پر کوئی کلیم بھی نہیں تھا۔ کلیم والوں کو بھی زیادہ تر بارانی زمینیں ہی مل رہی تھیں۔ یہاں کم ازکم انہیں زمین تو مل گئی تھی۔ چنانچہ وہ تن بہ تقدیر ہوگئے۔
پریشانی کے ساتھ ہی سہی، بہرحال عبدالحق کو فرصت ملی تو اسے اس کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا، جس کے بارے میں وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ اور وہ تھی نوربانو۔ اسے نوربانو کی بے چینی کی فکر تھی۔ اسے یاد تھا کہ اس نے دہلی میں نوربانو سے کوئی وعدہ کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں اس کے چچا کو تلاش کرے گا اور اسے ان تک پہنچائے گا۔
اب اسے اس خیال سے گھبراہٹ ہورہی تھی کہ کیا وہ خود نوربانو کو خود سے دور کرنے کا سامان کرے گا۔ کم ازکم اس وقت وہ اس کی قربت تو محسوس کرسکتا ہے۔ چاہے کئی دن اس کی ایک جھلک بھی نہ دیکھے۔ یہ خیال تو رہتا ہے کہ وہ اس کے قریب موجود ہے۔
لیکن وعدے کی پاس داری عبدالحق کے خون میں شامل تھی۔ کتنا ہی بڑا نقصان ہو، وہ وعدے سے روگردانی نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ مصروفیت کی بات اور تھی۔ پچھلے دنوں وہ گاﺅں کے معاملات میں اس طرح الجھارہا تھا کہ اماں کو بھی بھول گیا تھا۔ اماں کی ایک جھلک دیکھے بھی کئی کئی دن ہوجاتے تھے۔ مگر اب وہ آزاد تھا۔
اس رات وہ نوربانو کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ دہلی میں اوپر والے مکان میں رہنے کے دوران نوربانو کا رویہ اسے یاد تھا۔ وہ ان لوگوں سے ڈرتی تھی۔ اور اسے وہ گفتگو بھی یاد تھی جو اس سے ہوئی تھی۔ وہ اپنے چچا کے ہاں آگرہ جانا چاہتی تھی۔ پھر پتا چلا کہ وہ لوگ پہلے ہی پاکستان جاچکے ہیں۔ تب اس نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان میں انہیں ڈھونڈ نکالے گا اور اسے ان تک پہنچادے گا۔
اب اسے شرمندگی ہورہی تھی۔ یہاں آکر وہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ اپنے ضمیر کی حد تک تو وہ مطمئن تھا۔ اس نے دانستہ کوتاہی نہیں کی تھی۔ وہ زیادہ بڑے معاملات میں الجھ گیا تھا۔ ایک آدمی کے مستقبل پر بہت سارے لوگوں کے مستقبل کو بہرحال فوقیت دینی پڑتی ہے۔ اتنے دن اس نے اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔ لیکن اب اسے فکر ہورہی تھی کہ نوربانو اس کے بارے میں کس انداز میں سوچتی ہوگی۔ کون جانے، وہ اس کی نیت پر بھی شبہ کرتی ہو۔
وہ یہ سوچتے سوچتے سوگیا کہ نوربانو کا سامنا وہ کیسے کرسکے گا!
........x........
نوربانو کو وہ دن بہت مبارک لگا۔ بہت دن کے بعد اسے عبدالحق کی جھلک نظر آئی تھی۔ اس نے سوچا، آج وہ اس سے بات کرے گی اور اس کے باپ کی ڈائری اور کتابیں اسے سونپ دے گی۔
وہ ایک طرف کھڑی رہی۔ عبدالحق حمیدہ کے کمرے سے نکلا۔ توقع کے عین مطابق وہ اسے نہ دیکھ سکا۔ وہ سرجھکائے آگے بڑھتا رہا۔
”سنیے....“ نوربانو نے اسے پکارا۔
وہ یوں رکا، جیسے زمین نے اس کے قدموں کو پکڑلیا ہو۔ پھر وہ آہستہ سے پلٹا۔ ”جی.... فرمائیے“ اس نے سرجھکائے جھکائے کہا۔
نوربانو اپنی جگہ کھڑی تھی۔ عبدالحق کا سرجھکاکر بات کرنا اس کیلئے غیرمعمولی نہیں تھا۔ لیکن اس کے لہجے نے اسے عجیب سا احساس دلایا۔ وہ جیسے احساس جرم کا شکار ہورہا تھا۔ مگر کیوں؟ ایک لمحے کو وہ الجھ کر رہ گئی۔
چند لمحے خاموشی میں گزرگئے۔ عبدالحق بدستور مجرموں کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا۔
”ایک بہت ضروری اور اہم بات کرنی تھی آپ سے“ نوربانو نے کہا۔
سرجھکاکر کھڑے عبدالحق نے سوچا، شرمندگی کا وہ لمحہ آگیا، جس سے وہ ڈر رہا تھا۔ اس کے بس میں ہوتا تو وہ وہاں سے بھاگ جاتا۔ کہنے کو تو اس کے پاس کچھ تھا ہی نہیں۔
اس کی کیفیت سے بے خبر نور بانو نے چند لمحوں کے توقف کے بعد کہا۔ ”مجھے افسوس ہے کہ اتنے دن گزرگئے۔ یہ بات تو مجھے بہت دن پہلے کرلینی چاہئے تھی۔ لیکن موقع ہی نہیں ملا۔ آپ کی مصروفیت....“
عبدالحق نے سوچا، وہ اخلاق اور مروت کی وجہ سے شکایت کے بجائے افسوس کا اظہار کررہی ہے، جیسے کوتاہی اس بے چاری کی ہو۔ اب ایسے میں چپ رہنا ٹھیک نہیں۔ وہ ایسے جتنے لفظ کہے گی، اتنی ہی اس کی شرمندگی بڑھے گی۔ چنانچہ اس نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ”میں بہت شرمندہ ہوں نوربی بی۔ مجھے اپنی ذمے داری یاد ہے۔ اتنے دن گاﺅں کی الجھنوں میں مجھے خیال نہیں رہا۔ لیکن اب میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کروں گا۔ آپ بالکل بے فکر رہیں۔ اب میں آپ کا کام کرکے ہی واپس آﺅں گا۔“ یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا۔
نوربانو اتنی حیران تھی کہ کچھ کہہ بھی نہ سکی۔ خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا۔ وہ اس کے کس کام کی.... اور اپنی کس ذمہ داری کی بات کررہا ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آیا کہ وہ چورسا کیوں ہورہا تھا۔ اس نے سرجھٹکا اور حمیدہ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
........x........
زبیر بے حد پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ ”مالک.... اتنے بڑے ملک میں تم انہیں کہاں ڈھونڈوگے؟“
”اللہ مدد کرنے والا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میرے وعدے کی عزت ضرور رکھے گا۔“ عبدالحق کے لہجے میں یقین تھا۔
”لیکن یہ اتنا بڑا ملک....“
عبدالحق نے اس کی بات کاٹ دی ۔ ”سب سے بڑا کیمپ تو لاہور میں ہے مہاجروں کا۔“ اس نے کہا ۔ ”پھر سب سے زیادہ مہاجر کراچی میں جاکر آباد ہوئے ہیں۔ لاہور میں پتا نہ چلا تو میں کراچی چلاجاﺅں گا۔“
”مگر مالک، آپ ایک بات بھول رہے ہو“
عبدالحق نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ لیکن بولا کچھ نہیں۔
”وہ لوگ کافی پہلے پاکستان چلے آئے تھے۔“
عبدالحق چونکا۔ زبیر ٹھیک کہہ رہا تھا۔ نوربانو کے چچا اپنی فیملی سمیت پاکستان بننے سے کم ازکم ایک ماہ پہلے پاکستان چلے آئے تھے۔ اس وقت تو مہاجروں کے کسی کیمپ کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ تو وہاں سے ان کے بارے میں کچھ معلوم ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
مگر بات تو وعدہ نبھانے کی تھی۔ کام مشکل ہویا ناممکن، عبدالحق جانتا تھا کہ اسے کرنا ہی ہے۔ اب وہ اللہ سے مدد کی دعا ہی کرسکتا ہے۔ اس نے بہرحال یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ ان کے بارے میں معلوم کرکے ہی واپس آئے گا۔
”ٹھیک ہے زبیر۔ لیکن ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے۔“ اس نے گہری سانس لے کر کہا۔ ”مجھے جانا ہے۔ کوشش کرنی ہے۔ تم مجھے ان کے بارے میں پوری معلومات دے دو“
زبیر ہچکچارہا تھا۔ ”مالک.... ایک صورت اور ہے“
عبدالحق نے پھر اسے مستفسرانہ نظروں سے دیکھا۔
”میں چلا جاتا ہوں۔ جو کچھ آپ کرسکتے ہیں، وہ میں بھی کرسکتا ہوں“
”نہیں“ عبدالحق نے بلاجھجک کہا۔ ”انہیں ڈھونڈنے کی اہلیت مجھ میں تم سے زیادہ ہے۔ دوسرے وعدہ میں نے کیا تھا۔ ذمے داری بھی میری ہے۔ خدانخواستہ میں ناکام ہوجاﺅں تو کم ازکم میرا ضمیر تو مطمئن رہے گا کہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔ تم ناکام ہوئے تو میں بدگمانی ہی کرتا رہوں گا کہ تم نے کوتاہی کی ہے....“
”مالک.... آپ جانتے ہوکہ ایسا نہیں ہوسکتا“ زبیر نے احتجاج کیا۔
”جانتا ہوں۔ لیکن ایسی صورتحال میں بدگمانی فطری ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ تم چلے جاﺅگے تو رابعہ کی حق تلفی ہوگی۔ میں جاﺅں گا تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا“
یہ سن کر تو زبیر جیسے تڑپ گیا۔ ”کیسی باتیں کرتے ہو مالک۔ تمہارے نہ ہونے سے تو پورے گاﺅں کو فرق پڑے گا۔“
”اچھا بس“ عبدالحق نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ ”مجھ سے بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو میں کہتا ہوں، وہ کرو۔ تم مجھے وہ کاغذ لاکر دو، جس پر ان لوگوں کے متعلق معلومات لکھی ہیں“
اس کے لہجے نے زبیر کو سہمادیا۔ اس نے کبھی زبیر سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ ”جو حکم مالک“ زبیر نے کہا اور گھرکی طرف چلا گیا۔
عبدالحق کو افسوس ہوا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ یہ ضروری ہے۔ وہ اس لہجے میں بات نہ کرتا تو زبیر اس کے بجائے خود جانے پر اصرار کرتا رہتا۔ وہ اسے کبھی نہ جانے دیتا۔
عبدالحق دل میں اللہ سے مدد کی دعا کرتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ کام بہت مشکل ہے۔
........x........
اگلی صبح نوربانو ٹھاکر پرتاپ سنگھ کی کتابیں اور ڈائریاں لئے اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس نے رات کو بھی کافی دیر تک عبدالحق کا انتظار کیا تھا۔ صبح وہ اس کی پوری بات سنے بغیر ہی چلا گیا تھا اور وہ اس کی بات سمجھ بھی نہیں پائی تھی۔ مگر اب اس نے سوچا تھا کہ پہلے اس کی امانتیں اسے سونپے گی اور وضاحت بعد میں کرے گی۔
لیکن وہ رات کو آیا ہی نہیں۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیںتھی۔ پچھلے دنوں وہ اتنا مصروف رہا تھا کہ رات کو اماں کے پاس کم ہی آپاتا تھا۔ صبح کو بھی وہ بہت سویرے ہی ہوکر چلا جاتا تھا۔ ہاں باہر اس کی جھلک ضرور نظر آجایا کرتی تھی۔
خاصی دیر ہوگئی اور وہ نہیں آیا۔ نوربانو کتابیں اور ڈائریاں لے کر حمیدہ کے کمرے میں چلی گئی۔ حمیدہ کی آنکھیں اب بالکل ٹھیک ہوچکی تھیں۔ البتہ وہ نظر کا چشمہ لگانے لگی تھی۔ دوا سے تو اسے نجات مل چکی تھی۔ البتہ عرق گلاب کا معمول اب بھی جاری تھا۔
نور بانو نے حمیدہ کو سلام کیا۔ پھر اس کی آنکھوں میں عرق گلاب ڈالا۔ حمیدہ نے آنکھیں موندلیں۔
نوربانو بیٹھی انگلیاں مروڑتی رہی۔ ہر آہٹ پر اسے لگتا تھا کہ عبدالحق آرہا ہے۔ لیکن وہ نہیں آیا۔ حمیدہ سے پوچھتے ہوئے وہ جھجھک رہی تھی۔ لیکن کب تک۔ آخر اس سے رہا نہیں گیا۔ ”اماں.... وہ نہیں آئے اب تک؟“
حمیدہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کس کے بارے میں پوچھ رہی ہے۔ مگر وہ غیرمعمولی بات تھی۔ نوربانو نے خود سے عبدالحق کے بارے میں بات کبھی نہیں کی تھی۔ چنانچہ حمیدہ نے تجاہل عارفانہ سے کام لیا۔ ”کون؟ کس کی بات کررہی ہے بیٹی؟“
”وہ.... وہ.... عبدالحق....“ سردی کے موسم میں بھی نوربانو کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلا۔
”وہ کہاں سے آئے گا۔ وہ تو چلا گیا۔“۔
نوربانو کا دل دھک سے رہ گیا۔ ”چلے گئے؟ کہاں چلے گئے؟“
”وہ تو لہور گیا۔ ہوسکتا ہے، اور آگے بھی جائے“
”لاہور! لیکن کیوں اماں؟“
اس کے لہجے میں ایسی پریشانی، ایسا صدمہ تھا کہ حمیدہ کو پہلی بار مکمل یقین ہوا کہ وہ عبدالحق سے محبت کرتی ہے۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس پر خوش ہوتی۔ مگر اس وقت تو اسے اس پر غصہ آرہا تھا۔ ”تیرے ہی لئے تو گیا ہے۔ تو نے ہی تو بھیجا ہے اسے“ حمیدہ کے لہجے میں شکایت بھی تھی اور ملامت بھی۔
نوربانو کیلئے وہ لفظ وہ لہجہ.... سبھی کچھ خلاف توقع تھا۔ وہ تو ہکا بکا رہ گئی۔ چند لمحے تو وہ کچھ بول ہی نہ سکی۔
حمیدہ نے بھی کچھ نہیں کہا۔ اس نے آنکھیں صاف کرکے چشمہ لگایا اور نوربانو کو غور سے دیکھتی رہی۔ اس کا ردعمل اسے بے ساختہ لگا۔ اس میں بناوٹ تو کہیں سے نہیں تھی۔
نوربانو کو سمجھنے میں چند منٹ لگے۔ پھر اس نے حیرت سے کہا۔ ”میرے لئے گئے ہیں وہ! میں نے بھیجا ہے انہیں؟ نہیں اماں....ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ کس نے کہا آپ سے؟“
حمیدہ سوچ میں پڑگئی۔ گزشتہ روز عبدالحق دوپہر کو اس کے پاس آیا تھا اور اسے بتاکر اس سے اجازت لی تھی۔ وہ تو ہچکچارہی تھی۔ مگر اس نے کہا تھا.... اماں، اس کام سے مجھے نہ روکنا۔ مجھے وعدہ پورا کرنا ہے۔
”خود اسی نے بتایا ہے مجھے“ حمیدہ نے کہا۔ پھر نرم لہجے میں پوچھا۔ ”تو نے کل صبح اس سے کیا بات کی تھی دھیے؟“
نور بانو جانتی تھی کہ اس نے عبدالحق سے کہیں جانے کو نہیں کہا۔ اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ عبدالحق جھوٹ نہیں بولتا۔ تو پھر یہ معاملہ کیا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ”میں نے.... میں نے تو کوئی بات نہیں کی ایسی“ وہ بولی۔
”تیری کل اس سے کوئی بات نہیں ہوئی دھیے؟“ حمیدہ کے لہجے میں اصرار تھا۔
اچانک نوربانو کو گزشتہ صح یاد آگئی۔ ”بات! بات تو انہوں نے مجھے کرنے ہی نہیں دی تھی۔ وہ خود پتا نہیں کس ذمے داری کی.... اپنی کس شرمندگی کی بات کرنے لگے۔ پھر بولے کہ اب میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کروں گا اور آپ کا کام کرکے ہی واپس آﺅں گا۔ میری تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا۔ اور میری تو انہوں نے سنی ہی نہیں۔“
اب حمیدہ الجھ گئی۔ یہ کیا معما ہے؟ ”تو اس سے کیا کہنا چاہتی تھی دھیے؟“
نوربانو نے یہ تو نہیں بتایا کہ بڑے ٹھاکر کی ڈائری میں کیا لکھا تھا۔ وہ تو خود بھی پڑھ کر پچھتارہی تھی۔ وہ سب کچھ جاننے کا پہلا حق تو عبدالحق کا تھا۔ تاہم اس نے حمیدہ کو یہ بتادیا کہ وہ ڈائری عبدالحق کیلئے بہت اہم ہے۔ اور وہ اسے اس کے باپ کی کتابیں اور ڈائری دینا چاہتی تھی۔
حمیدہ نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ ”وہ تو اور ہی کچھ سمجھا تھا۔ پگلا کہیں کا“
نوربانو کی سمجھ میں اب بھی کچھ نہیں آیا تھا۔ ”اب مجھے یہ تو بتادیجئے اماں کہ وہ لاہور کیوں گئے ہیں....؟ اور وہ بھی میرے لئے !“ اس کے لہجے میں بے بسی تھی۔
”تو نے کبھی اس سے کوئی وعدہ لیا تھا بیٹی“؟ حمیدہ نے الٹا اس سے سوال کیا۔
نوربانو کا تو دماغ بھک سے اڑگیا۔ وہ تو اپنی دانست میں محروم تھی اور یہاں اس پر یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ وہ جس پر کبھی اپنی دلچسپی کا اظہار بھی نہ کرسکی، اس سے مطالبے کرتی رہی ہے۔ بلکہ اس کیلئے تو یہ تہمت کے مترادف تھا۔ ”اماں.... میں تو کبھی چھوٹے....“ اسے فوراً ہی احساس ہوگیا کہ وہ ذہنی طورپر اس زمانے میں پہنچ گئی ہے، جب عبدالحق چھوٹا ٹھاکر ہوا کرتا تھا۔ مگر اب اسے اس کو اس طرح پکارنے کا کوئی حق نہیں۔ اس نے جلدی سے تصحیح کرلی۔ ”.... میرا مطلب ہے اماں کہ میں تو کبھی ان کے سامنے بھی نہیں آئی۔ میں نے تو کبھی ان سے بات بھی نہیں کی۔ پھر میں ان سے کوئی وعدہ کیسے لے سکتی تھی۔“
حمیدہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظریں اسے اپنے وجود کے آرپار دیکھتی محسوس ہورہی تھیں۔ ”تو یاد تو کر دھیے۔ عبدالحق میرے سامنے چھوٹے سے بڑا ہوا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا۔“
مگر نوربانو کا حیا اور شرمندگی سے براحال تھا۔ اس کا چہرہ تپ رہا تھا۔ ایسی کوئی بات اسے یاد آہی نہیں سکتی تھی۔ دوسری طرف حمیدہ کے لہجے میں بڑا دعویٰ تھا.... چیلنج تھا۔ اور یہی بات کبھی اس کی شہید اماں نے بھی کہی تھی کہ چھوٹا ٹھاکر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ انہیں جھٹلابھی نہیں سکتی تھی۔ ”میں بھی جانتی ہوں اماں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔“ اس نے بے بسی سے کہا۔ ”مگر اماں، میں بھی سچ کہہ رہی ہوں کہ مجھے ایسی کوئی بات یاد نہیں۔ میں نے تو کبھی ان سے بات بھی نہیں کی۔“
حمیدہ چند لمحے سوچتی رہی۔ اس کے چہرے پر الجھن تھی۔ پھر جیسے وہ کسی نتیجے پر پہنچ گئی۔ اس نے پوچھا۔ ”تیرے کوئی رشتے دار بھی ہیں بیٹی....؟“
”ہاں اماں۔ ایک چچا تھے میرے آگرے میں....“ اور یہ کہتے کہتے اسے سب کچھ یاد آگیا۔ ”ارے ہاں اماں.... وہ....! مگر وہ تو اس وقت کی بات ہے اماں جب میرے گھر پر قیامت ٹوٹی تھی۔ جب مجھے کسی پر اعتبار نہیں رہا تھا۔ اس وقت میں بس کسی اپنے کے پاس پہنچ جانا چاہتی تھی۔ مجھے ہر جگہ ڈرلگتا تھا۔ ....“ اسے احساس بھی نہیں تھا کہ وہ صفائی پیش کرنے والے ملزم کے انداز میں بات کررہی ہے۔ وہ حمیدہ کو بہت تفصیل سے بتارہی تھی کہ اس کی ماں، بہنوں، بوا اور آکا پر کیا گزری تھی۔
حمیدہ دیکھ، سن اور سمجھ رہی تھی۔ ایک بات پوری طرح واضح تھی۔ نوربانو اب یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے لہجے میں عبدالحق کے جانے کا دکھ تھا۔ مگر اس دکھ سے زیادہ اس کے لہجے میں اس بات کا خوف تھا کہ کہیں عبدالحق اس کے چچا کو تلاش نہ کرلے اور اسے اپنے چچا کے پاس جانا نہ پڑجائے۔ اس لمحے حمیدہ کو یقینی طورپر معلوم ہوگیا کہ نوربانو عبدالحق سے محبت کرتی ہے۔
اس نے بڑی محبت سے نوربانو کے سرپر ہاتھ پھیرا۔ پھر اسے قریب کرکے لپٹالیا۔ ”تو فکر نہ کردھیے۔ رب کی مہربانی سے سب ٹھیک ہوجائے گا۔“ اس نے اسے تھپکتے ہوئے دلاسہ دیا۔
نوربانو کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح اسے چپکی رہی۔ ”نہیں اماں، وہ وعدے کے پکے ہیں“ اس نے سہمی ہوئی آواز میں کہا۔ ”اور وہ کہہ کر گئے ہیں کہ اب میرا کام کرکے ہی واپس آئیں گے۔“
Updated on 15 May 08 at 10:37 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.