میں نے کہا نا دھیے، تو فکر نہ کر۔ اتنے بڑے ملک میں کسی کو صرف اس کے نام سے ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہیں۔“
عبدالحق سوچنے والا آدمی تھا اور سوچ رہا تھا!
ایک بات وہ یقین سے کہہ سکتا تھا۔ یہ اس کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی خوشی تھی۔ شاید سب سے بڑی اس لئے کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ یہ خوشی اسے مل سکتی ہے۔ پہلی بار اس کی آواز میں قرا_؟ت سن کر اس کے دل میں عجیب سے جذبے جاگے تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس نے جان لیا تھا کہ وہ محبت ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ کون ہے، اس کا نام کیا ہے اور وہ دیکھنے میں کیسی ہے۔ بس وہ یہ جانتا تھا کہ اسے اس سے محبت ہوگئی ہے۔ اس محبت ہی کے سہارے وہ بڑی کھٹن آزمائشوں میں سرخرو ہوا تھا۔ وہ محبت نہ ہوتی تو وہ دہلی میں اس رات ریٹا پارسن کے ساتھ پستی میں گرچکا ہوتا۔ اس رات وہ جسم کے، نفس کے فتنوں سے پوری طرح واقف ہوگیا تھا۔ لیکن وہ اسی محبت کی عظمت تھی کہ وہ نفس کے اس جال سے نکل آیا تھا....محض روح پر لگنے والی چند خراشوں کے ساتھ۔ اور یہ محبت ہی تھی کہ جس کی وجہ سے اس نے اس رات کے بعد کبھی کسی لڑکی کو اس انداز میں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے جسم میں کبھی فتنے نہیں جاگے تھے۔ خواہشوں نے کبھی اسے بے چین نہیں کیا تھا۔
اس نے سونے کی کوشش کی۔ لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ آنکھیں بند کرتا تو بند آنکھوں کے پیچھے نور بانو کا سراپا لہرانے لگتا۔ یہ بھی نئی بات تھی۔ پہلے وہ اس کے بارے میں سوچتا تو اس کی آواز سماعت میں گونجتی۔ مگر اب آواز کی بجائے وہ اس کے سامنے مجسم ہو رہی تھی۔ اور یہی نہیں، اس تصور کو وہ بڑے اشتیاق سے دیکھ رہا تھا۔
نور بانو کو وہ پہلے بھی دیکھتا رہا تھا۔ لیکن وہ اسے تصور میںکبھی نظر نہیں آئی تھی۔ اس کے پاس حوالہ صرف آواز کا تھا۔ شاید اس لئے کہ اس وقت وہ محبت یک طرفہ تھی۔ اسے حق نہیں تھا اسے دیکھنے کا۔ مگر اب نور بانو کے اظہار محبت نے جیسے اسے یہ حق عطا کر دیا تھا۔ اور ایسا ہوتے ہی آواز کہیں پیچھے چلی گئی تھی۔ اس وقت اسے یہ خیال نہیں آیا کہ وہ آواز محض آواز نہیں تھی۔ اس آواز کا لباس تو قرات تھی۔ مگر اب تو ہر چیز پر سراپا دیا گیا تھا۔ یہی نہیں، وہ جسمانی طور پر خود کو بے چین محسوس کررہا تھا۔ ایک تشنگی سی تھی، جو جھجلاہٹ جگا رہی تھی۔ جیسے آدمی کچھ کرنا چاہئے اور کر نہ پائے۔ وہ اسے پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا۔
بار بار کوشش کے باوجود وہ نہ سوپا یا تو جھنجلاہٹ اور بڑھ گئی۔
اچانک اسے ایک اور بہت بڑی خوشی یاد آئی۔ اور وہ بھی نور بانو ہی کے دم قدم سے تھی۔ جس رات وہ کوٹھے پر چلا گیا تھا، جہاں نور بانو سورہ ملک کی تلاوت کر رہی تھی۔ جہاں اس نے ہر طرف سے یکساں اور ہموار آسمان کا مشاہدہ کیا تھا....اور جیسے اسے ساتوں آسمان نظر آئے تھے....اور اس نے کلمہ پڑھا تھا۔ مگر وہاں اسے کیسی میٹھی، پیاری اور پرسکون نیند آئی تھی، جیسے خوشی اور راحت اس کی روح میں سرایت کر گئی ہو.... اور وہ ایک لمحے میں بے خبر سوگیا تھا۔ وہ بے ہوشی یا غشی ہر گز نہیں تھی۔ بعد کی کیفیت نے یہ بات ثابت کر دی تھی۔
ایک اور بات تھی۔ قرآن پڑھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ قرآن پڑھنے میں بھی اسے بہت خوشی ملتی تھی۔ قرآن پڑھنے کے دوران نیند ہوا کے خنک اور خوش گوار جھونکوں کی طرح اسے جھولے جھلاتی تھی۔ اور قرآن پڑھنے کے بعد بھی اسے بہت گہری نیند آتی تھی۔
اور اب اسے یہ خوشی ملی تھی، جو اس کے خیال میں اب تک اس کی زندگی میں آنے والی سب سے بڑی خوشی تھی۔ یہ احساس کہ جس لڑکی کو وہ دنیا میں ہر چیز سے بڑھ کر چاہتا ہے، وہ بھی اس سے محبت کرتی ہے، بلاشبہ بہت بڑی خوشی تھا۔ مگر اس خوشی میں پچھلے تجربات کے برعکس کیوں ہورہا تھا۔ وہ نیند سے محروم کیوں ہوگیا تھا۔ اس کے اندر بے سکونی کیوں تھی۔ اسے کسی تشنگی کا....کسی کمی کا ناقابل فہم احساس کیوں ستارہا تھا۔
اس نے پھر آنکھیں موندلیں، اور نور بانو کا سراپا پھر آنکھوں کے سامنے آگیا۔ اس تصور نے چند لمحے تو سے خوشی دی۔ مگر پھر اس کے جسم میں اینٹھن ہونے لگی۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
وہ جب بھی پریشان ہوتا تھا، قران کا سہارا لیتا تھا۔ اس وقت بھی وہ اٹھا، وضو کر کے آیا اور قرآن لے کر بیٹھ گیا۔ سورة النّبا اس کے سامنے تھی.... عمَّ بَیتَسَاءلُون....
اور وہ ایک دم پرسکون ہوگیا۔ وہ قرآن میں کھوگیا۔ وجہ یہ تھی کہ قرآن وہ بہت توجہ سے پڑھتا تھا....سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔
وہ پڑھ رہا تھا۔ اللہ فرما رہا تھا کہ اس نے زمین کو بچھونا بنایا، اور پہاڑوں کو زمین کی میخیں۔ یہ مضمون وہ کہیں اور بھی پڑھ چکا تھا۔ وہ بیّن دلیلوں میں سے تھیں۔ اللہ نے زمین کو ہموار کیا تھا، ورنہ اس پر گھر بنانا، رہنا، چلنا پھرنا ممکن نہ ہوتا۔ اور ایک جگہ فرمایا تھا کہ زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں کہ کہیں یہ تمہیں لے کر لڑھک نہ جائے۔ یعنی پہاڑوں کے ذریعے زمین کو متوازن کر دیا تھا۔
یہ بات عبدالحق کی سمجھ میں بہت اچھی طرح آتی تھی۔ کیونکہ قرآن میں کئی جگہ قیامت کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ نے پہاڑوں کے مٹ جانے کا ذکر فرمایا تھا۔ گویا قیامت کا ایک سبب زمین کے توازن کا خاتمہ بھی ہوگا۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ یعنی میخیں نہیں رہیں گی، اور زمین اپنے ہر بوجھ کو لے کر لڑھک جائے گی۔
یہ آیات پڑھتے ہوئے اس پر ہمیشہ لرزہ چڑھ جاتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اللہ کی قدرت کو پوری طرح وہ کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ لیکن وہ جتنی بھی اس کی سمجھ میں آرہی ہے، وہ اسے لرزا دینے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہے۔ شاید اس سے زیادہ سمجھ میں آجائے تو وہ دہشت سے مر ہی جائے۔
اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اسے قرآن پڑھنا نصیب ہوا۔ ورنہ اسے اللہ کی قدرت کا کیسے علم ہوتا۔ وہ تو قیامت سے بھی بے خبر ہوتا....حساب کتاب، جزا وسزا کا وہ طویل دن، جس سے پیغمبر بھی گھبراتے ہیں۔ اور جب یہ سب اسے معلوم ہی نہ ہوتا تو وہ ڈرتا کیسے۔ اور اللہ انہیں لوگوں کو تو بخشے گا، جو ڈرتے ہیں۔
اگلی آیت پر وہ ٹھٹھک گیا....اور تمہیں جوڑوں میں پیدا کیا!
اس بات کا اسے تجربہ تھا۔ ایک آیت آدمی دسیوں مرتبہ سرسری پڑھتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ اور ایک دن اچانک اس سے کوئی بات سمجھ میں آتی ہے۔ آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے پالیا۔ وہ اللہ کے رحمت ہوتی ہے۔ مگر کچھ وقت کے بعد وہ مفہوم اس کے ذہن سے محو ہوجاتا ہے، اور اسے پتا بھی نہیں چلتا۔ پھر کسی دن وہی آیت پڑھتے ہوئے ایک اور مفہوم اس پر واضح ہوتا ہے۔
عبدالحق نے سمجھ لیا تھا کہ اللہ کا یہ کلام روئے زمین پر حکمتوں کا منبع ہے۔ ایک ایک آیت میں، بلکہ ہر ہر لفظ میں، بلکہ ہر ہر حرف میں سینکڑوں، ہزاروں حکمتیں پنہاں ہیں۔ ہر دور کے تمام انسان قیامت تک غور فکر کرتے ر ہیں، سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں تو بھی اجتماعی طور پر ان حکمتوں کے عشرِ عشیر کو بھی نہ پاسکیں۔ یہی تو اس کے کلام اللہ ہونے کا ثبوت ہے۔ ورنہ تو عام کتابیں کتنی ہی پسند ہوں، چاہے بار بار پڑھ لی جائیں، لیکن بالآخر دل سے اتر جاتی ہیں۔ لیکن آدمی اس چیز کو تو بھی ترک نہیں کرتا، جسے پوری طرح سمجھ نہ پائے۔ یہی وجہ ہے کہ جسے اللہ قرآن کی رغبت عطا فرما دے اور پڑھنے کی توفیق عطا فرما دے، وہ مرتے دم تک، اسے پڑھنا نہیں چھوڑتا۔
تو اس وقت وہ اس آیت پر ٹھٹھک گیا....اور تمہیں جوڑوں میں پیدا کیا!
یہ بات صرف انسانوں کےلئے نہیں تھی۔ اللہ نے تمام جان داروں کو جوڑوں میں پیدا فرمایا تھا....نر اور مادہ۔ یہ اس کا نظام تھا۔ اس کے ذریعے یہ سلسلہ قیامت تک قائم رکھنا تھا۔ اسی لئے طوفان سے پہلے اللہ نے حضرت نوح ؑ کو حکم دیا تھا کہ ہر جان دار کے ایک ایک جوڑے کو اپنے کشتی پر سوار کرلیں۔ تاکہ وہ ناپید نہ ہوں۔
اس نے سوچا، اگر بائیس سال کی محرومی کے بعد اللہ نے میرے ماں باپ پر کرم نہ فرمایا ہوتا اور میں پیدا نہ ہوتا تو ٹھاکر پرتاپ سنگھ کی نسل ناپید ہوچکی ہوتی۔ پھر اس نے مزید کرم فرمایا کہ مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا کہ آئندہ کےلئے نسل سیدھی ہوجائے۔
مگر یہ سوچتے ہوئے وہ اداس ہوگیا۔ کاش....کاش پتاجی مسلمان ہوتے۔
ذہن بھٹکنے لگا تھا۔ اس نے اسے پھر اس آیت پر مرکوز کیا۔ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس نے تمام مردوں کےلئے کچھ خاص عورتوں کو مخصوص فرما دیا ہے۔ جوڑوں میں پیدا فرمایا کا مطلب تو یہی ہے۔ کوئی مرد کہیں ہوتا ہے اور عورت کہیں اور۔ کسی کو پتا نہیں ہوتا کہ وہ کس کےلئے ہیں۔ اللہ کے مقرر کردہ وقت پر وہ دونوں مل جاتے ہیں۔ شاید یہ طے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ نے نور بانو کو میرے لئے بنایا تھا۔ کل تک مجھے اس کا علم نہیں تھا۔ لیکن آج میں جان گیا ہوں کہ وہ میرے لئے ہے۔
اس خیال کے ساتھ ہی ذہن منتشر ہونے لگا۔ وہ نور بانو کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس کا سراپا نگاہوں میں پھر گیا۔ اس نے جلدی سے سرجھٹکا، اور اگلی آیت پڑھی۔
مگر اس کا دل اب بھی پیچھے ہی اٹکا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ وہ ٹھاکروں کی گڑھی میں پیدا ہوا اور نور بانو دہلی میں۔ وہ ہندو راجپوت گھرانے میں پیدا ہوا اور نور بانو مسلمان گھرانے میں۔ کون سوچ سکتا تھا کہ اللہ نے انہیں ایک دوسرے کے لئے بنایا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اسکے ہندو ہوتے ہوے_؟ تو یہ جوڑ نا ممکن تھا۔ تو شاید اسی لئے وہ نواز دیا گیا۔
اس نے سوچا، اگر میں تعلیم کے لئے دہلی نہ جاتا....اور دہلی جاتا، لیکن میرا قیام کہیں اور ہوتا تو کیا ہوتا۔ لیکن فوراً ہی اس کے اندر سے آواز اٹھی کہ یہ سب کچھ یو نہی ہونا تھا۔ یہ سب اللہ نے لکھ دیا تھا۔ اور اگر یہ یوں نہ بھی ہوتا، تب بھی انجام کار ان دونوں کو ملنا ہی تھا۔ یوں نہ ہوتا تو کسی اور طرح ہوتا۔
تو کیا یوں ہے کہ اللہ نے انسان کو دوحصوں میں بنایا ہے، اور پھر انہیں الگ الگ پیدا فرمایا ہے۔ ساتھ ہی ان کے ملنے کے لئے بھی ایک پروسس ترتیب دے دیا ہے۔ اور ان ملنا دونوں کی تکمیل ہوتا ہے۔
یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اسے ایک بھولی بسری خوشی یاد آئی۔ بچپن سے وہ اسی طرح سوچتا اور کھوجتا آیا تھا۔ مگر جب سے وہ مسلمان ہوا تھا، اسے اس طرح سوچنے اور کھوجنے کی فرصت ہی نہیں ملی تھی۔ اسلام قبول کرتے ہی سفر کا حکم ملا تھا۔ پھر زندگی کی دوسری مصروفیات ایسی شروع ہوئیں کہ وہ یہ سب کچھ بھول ہی گیا۔ لاہور میں وہ نت نئے مشاہدات میں گھرا رہا۔ یہ البتہ بڑی بات تھی کہ قرآن وہ بہرحال باقاعدگی سے پڑھتا رہا....اور نماز بھی۔ قرآن کے بغیر تو اسے چین ہی نہیں آتا تھا۔ لیکن سوچنا اور غور کرنا تو وہ جیسے بھول ہی گیا تھا۔ آج پہلے کی طرح سوچتے ہوئے اسے خوشی ہوئی۔ اس راستے پر چل کر ہی تو اس نے ہدایت پائی تھی۔ آج جیسے وہ پھر سے جی اٹھا تھا۔ اس نے آگے کی تین آیات پڑھیں۔ نیند کو باعث سکون بنایا۔ ر ات کو پردہ پوش اور دن کو رزق کے لئے۔
اللہ اپنی نعمتوں کا بیان فرما رہا تھا۔ نیند....اللہ کی بہت بڑی نعمت۔ دن بھر کا تھکاہارا انسان جب سوتا ہے تو نڈھال ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو انگلی ہلانے کی بھی سکت نہیں ہوتی اس میں۔ اور جب نیند پوری کر کے اٹھتا ہے تو کیسا تازہ دم ہوتا ہے....توانائی سے لبا لب بھرا۔ کار زار زندگی میں لڑنے کے لئے ایک بار پھر تیار۔ اور اگر کوئی کسی بھی وجہ سے محض دو رات نہ سو پائے تو اس کا کیا حال ہوجاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے، فیصلہ کرنے کی قوت ختم، قوت عمل مفلوج، آدمی کسی کام کا بھی نہیں رہتا۔
اور رات کو پردہ پوش بنایا!
اندھیرا جو دن میں برا لگتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے دن کو معاش کےلئے بنایا۔ دنیا کے کام کرنے ہوتے ہیں، جن کےلئے روشنی ضروری ہوتی ہے۔ اندھیرا، جس سے آدمی ڈرتا ہے۔ اندھیرا، جس میں ان جانے خوف چھپے ہوتے ہیں۔ لیکن رات کو آرام کے وقت اس اندھیرے میں کتنا سکون ہوتا ہے۔ وہ خود روشنی میں کبھی سو ہی نہیں سکتا۔ مکمل اندھیرے کے بغیر اسے نیند ہی نہیں آتی۔
رات پردہ پوش!
ایک دم اسے خیال آیا کہ رات میں تو خلوت ہے۔ اور محبت بھی خلوت کی چیز ہے۔ گویا محبت کا رات سے خاص تعلق ہے۔ اس خیال کے ساتھ ہی اس کے ذہن میں اردو شاعری کا باب کھل گیا، جس میں ہجرا اور وصال کی بڑی اہمیت تھی۔ اسے حیرت ہوئی کہ اس نے محبت کو سمجھنے کے لئے اردو شاعری کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا تھا۔ لیکن وہ اس بات پر کبھی غور نہیں کرسکا تھا کہ ہجر اور وصل، دونوں ہی اردو شاعری میں رات سے منسلک ہیں۔ ہجر کی فریاد ہوتی ہے تو شب ہجر کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اور وصل کی کیفیات بھی شب وصل ہی کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں۔ شاعری میں وصل کے حوالے سے ابتذال بھی ہے۔ اردو کے استاد نے اسے محبت اور ہوس کا فرق سمجھاتے ہوئے یہ بات بتائی تھی۔ اسے یاد تھا، انہوں نے حوالے میں اشعار بھی سنائے تھے۔ دو شعر تو اسے اس وقت بھی یاد تھے....
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب
اس غم میں ہم کو نیند نہ آئی تمام شب
اور دوسرے شعر میں تو خالص ننگا پن تھا....کسی اوباش کا سا چیلنج....
اتنی اونچی بھی تو دیوار ترے گھر کی نہیں
رات اندھیری کوئی آئے گی نہ برسات میں کیا!
پہلے کی طرح اس وقت بھی اس کی طبیعت مکدّر ہوگئی۔
اردو کے استاد نے کہا تھا کہ وصل کوئی بری چیز نہیں، برائی تو آدمی کے اندر ہوتی ہے۔ مقدس لفظوں کو آدمی خراب کر دیتا ہے۔ ہوس کو محبت کہہ کر اور گناہ کو وصل قرار دے کر۔ ورنہ وصل تو محبت کی معراج ہے، اور ہجر اس معراج کی راہ گزر۔ معصیت اور معصویت میں پاتال اور آسمان جتنا بعد اور فاصلہ ہے۔
اس نے سوچا....لیکن گناہ اور وصل دونوں کےلئے ہے رات ہی۔ جسموں کے بازار بھی رات ہی کو سجھتے ہیں۔ دن میں سُونے رہتے ہیں۔ ہوس پرست بھی رات ہی کے وقت بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔
رات پردہ پوش!
اسے یاد نہیں کہ اس نے پتا جی اور ماتا جی کو کبھی ایک دوسرے کے بہت قریب دیکھا ہو۔ دن بھر پتا جی باتو باہر ہوتے تھے، یا باہر دیوان خانے میں، جہاں وہ زمینوں کے معاملات نمٹاتے تھے۔ پھر رات کو وہ اپنے کمرے میں سوتے تھے، اور ماتا جی اس کے کمرے میں اس کے ساتھ ہوتی تھیں۔
عبدالحق کو صرف ایک ایسا موقع یاد تھا، جب اس کو ماتا جی کے پتا جی کے کمرے میں جانے کا علم ہوا تھا۔ وہ شاید اس وقت پانچ چھ سال کا ہوگا۔ اچانک اس کی آنکھ کھلی تو ماتا جی اس کے پاس نہیں تھیں۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا تو ماتا جی کمرے سے نکل رہی تھیں۔ اس نے انہیں پکارا۔
”کیا بات ہے، میرے چھوٹے ٹھاکر، آپ کیوں اٹھ گئے؟“
”آپ کہاں جارہی ہیں؟“ اس نے ننداسی آواز میں کہا۔
”تمہارے پتاجی کے پاس“
”کیوں؟“
”ان کی سیوا جو کرنی ہے۔“
اسے اب بھی یاد تھا۔ وہ سوال بہت کرتا تھا۔ ”کیوں؟“ اس نے پوچھا۔
”پتی کی سیوا تو پتنی کا دھرم ہوتا ہے چھوٹے ٹھاکر؟“
”اور سیوا کیا ہوتی ہے؟“
”تو اور کیا۔ میں نے کہا نا کہ یہ تو دھرم ہے میرا“
”اور مجھے یہاں اکیلا چھوڑ جاتی ہیں۔“
ماتا جی اس کے پاس آبیٹھیں اور اس کا سر سہلانے لگیں۔ ”دیکھو چھوٹے ٹھاکر‘ د ن رات تو میں آپ کی ہی ہوتی ہوں۔ آپ ہی کے ساتھ سوتی ہوں۔ ان کی سیوا کے لئے تھوڑے سمے کو چلی جاتی ہوں۔ اور وہ بھی آپ کے سونے کے بعد۔ آپ کہتے ہیں تو نہیں جاﺅں گی۔ پرنتو آپ کے پتا جی کے سر میں درد رہے گا۔ ٹانگوں میں تکلیف رہے گی....“
وہ تڑپ گیا۔ ” نہیں ماتاجی، آپ جائیں۔ روز جایا کریں۔ میری تو ایسے ہی آنکھ کھل گئی تھی۔ ابھی سو جاﺅں گا“۔
ماتاجی چلی گئی تھیں، اور وہ واقعی چند منٹ میں ہی سوگیا تھا۔
مگر اب اس چھوٹے سے حوالے سے وہ بہت کچھ سمجھ گیا تھا۔ ماتاجی کے دیہانت کے بعد پتاجی کا خوب صورت کمرا اجڑ گیا تھا۔ وہ وہاں جاتے ہی نہیں تھے۔ وہ تو اس کے ساتھ سوتے تھے....ماتاجی کی جگہ لپٹ کر۔ اب وہ سمجھ سکتا تھا۔ پتا جی عمر بھر کے ہجر سے دوچار تھے۔ ماتا جی کی جگہ لیٹ کر شاید انہیں ان کی قربت کا احساس ہوتا ہوگا۔ شاید ہجر وصل میں بدل جاتا ہوگا۔ دوسری طرف وہ اس کے ہجر کے دکھ کو بانٹتے تھے۔
اور ماتاجی کے دیہانت کے چھ سات ماہ بعد وہ دہلی چلا گیا تھا۔ اب وہ سمجھ سکتا تھا پتاجی کی تنہائی کو۔ ان کا ہجر تو دہرا ہوگیا تھا۔ وہ دوبارہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے۔ شاید اس کے کمرے میں انہیں اس کی یاد ستاتی ہوگی۔ جبکہ ان کے کمرے میں ماتاجی کے قریب کی یادیں ہوں گی۔ مگر یہ طے تھا کہ نیند ان سے روٹھ گئی تھی۔ پہلی بار وہ ٹھیک سے اس دن سوئے تھے، جب انہوں نے اسے اپنے ساتھ لیٹ کر سونے کو کہا تھا۔ اس رات وہ اس سے لپٹ کر گہری نیند سوگئے تھے۔
تو اللہ نے د ن کو معاش کےلئے بنایا اور رات کو آرام کےلئے....نیند کےلئے۔ دن کا وقت دنیا کی ذمہ داریاں پوری کرنا....لوگوں کے حقوق ادا کرنا....فرائض کی ادائیگی۔ اور رات....نیند کا، آرام کا وقت خالصتاً آدمی کا اپنا ذاتی وقت۔ اور محبت ذاتی چیز ہے۔ تو اس کےلئے رات ہی کا وقت ہوانا۔ رات آرام کا وقت! رات محبت کا وقت!!
رات پردہ پوش!
اس کے ذہن میں رات کے حوالے سے سورة المزمل کی آیات آئیں، جن میں اللہ نے رہنمائی فرمائی تھی کہ قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے۔ اس سے اگلی آیات میں تھا کہ رات کو اٹھنا نفس پر قابو رکھنے کےلئے اور قرآن پڑھنے کےلئے بہت ہی خوب وقت ہے۔ جبکہ دن میں یقیناً تمہاری بہت سی مصروفیات ہیں۔ اور ان آیات میں خطاب حضور سے تھا۔
لیکن ذہن میں اب بھی خلش تھیں۔ کچھ اور آیات تھیں، جو یاد آتے آتے رہ جاتی تھیں۔
قرآن کے معاملے میں عبدالحق کا ایک اور تجربہ تھا۔ اس میں اللہ کی رحمت بندے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب اسے جو آیات یاد آرہی تھیں، وہ انہیں پڑھنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ یاد کرنا کہ وہ آیات کس سورہ_؟ مبارک میں ہیں، آسان نہیں تھا۔ مگر ایسا بار ہا ہوا تھا کہ اس کے دل میں ایک سورة کا نام ابھرا، اور اس نے کھول کر دیکھا تو واقعی وہ آیات اس سورہ_؟ مبارکہ میں تھیں۔
وہ سوچتا تھا کہ کوئی اس دور میں بھی معجزے دیکھنا چاہے تو قرآن کا دامن تھام کر دیکھ لے۔ یہ بھی تو معجزہ ہے کہ قرآن کو وہ لوگ بھی حفظ کرلیتے ہیں، جن کی مادری زبان عربی نہیں ہوتی۔ اس امر پر اس کی حیرت کبھی کم نہیں ہوتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ لیکن وہ کسی درسی کتاب کے دس بارہ صفحات پر مشتمل ایک باب کو بھی لفظ بہ لفظ یاد نہیں کرسکتا تھا.... وہ بھی اس زبان میں، جسے وہ پوری طرح سمجھ سکتا تھا، جس پر اسے قدرت حاصل تھی۔
سچ تو یہ ہے کہ وہ بھی قرآن حفظ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اسے ہمت نہیں ہوتی تھی۔
اس وقت بھی اللہ کی مدد اس کے لئے آپہنچی۔ اس کے ذہن میں سورة الزاریٰت کا نام ابھرا۔ اس نے اوراق پلٹے اور سورہ_؟ ذاریٰت کھول لی۔ اور واقعی وہاں وہ آیات موجود تھیں....
”البتہ متقی لوگ ہوں گے باغوں میں چشموں میں، لے رہے ہوں گے جو عطا فرمایا ہوگا انہیں ان کے رب نے“ اور اس کے بعد اللہ نے اس عنایت کا سبب اور ان بندوں کی وہ خصوصیات بیان فرمائی تھیں، جو اس کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہیں۔ آگے اللہ فرماتا تھا۔ ”بلاشبہ یہ لوگ تھے اس سے پہلے بہت اچھا اور معیاری کام کرنے والے۔ تھے یہ لوگ ایسے کہ کم ہی راتوں کو سویا کرتے تھے۔ اور رات کے پچھلے پہروں میں یہ استغفار کیا کرتے تھے اور تھا ان کے مالوں میں حق مانگنے والوں کا اور حاجت مندوں کا۔“
یعنی راتوں کو اپنی نیند اور آرام چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرنا، قرآن پڑھنا اور استغفار کرنا اللہ کی مہربانی کو پکارتا ہے۔
وہی رات!
رات، نیند اور آرام۔ رات محبت اور عشق۔ رات ہجر اور وصال۔ رات خالص ذاتی وقت!
عبدالحق کو یاد آیا۔ تعلیم کے دوران ایک بار اس نے کتاب میں اللہ کے کسی برگزیدہ بندے کی سوانح میں لکھا دیکھا کہ فلاں تاریخ کو ان کا وصال ہوا۔ یہ وہی عرصہ تھا، جس میں وہ عشق ومحبت کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا اور اردو شاعری اس کے زیر مطالعہ تھی۔ یہ پڑھ کر اس کا ذہن الجھاتو اس نے اردو کے استاد سے رجوع کیا، جو کہتے تھے کہ کوئی الجھن درپیش ہو تو مجھ سے کلاس کے باہر اس پر بات کیا کرو۔
استاد اس کی بات سن کر مسکرائے۔ یہاں وصال کا مطلب انتقال ہے،۔ انہوں نے کہا۔
لیکن وصال اور انتقال میں تو بہت فرق ہے؟۔ اس نے اعتراض کیا تھا۔
’یہ تصوف کی اصطلاح ہے۔ عشق حقیقی سے تعلق ہے اس کا؟ دنیا میں یہ قیام درحقیقت ہجر ہے۔ اور اس کےلئے موت نہیں، اپنے محبوب کا وصل ہے۔ وہ رب سے جاملتا ہے، تو یہ تو وصال ہوا نا؟۔
وہ چند لمحے سوچتا رہا۔ اندر ہی اندر وہ اس جواب سے پھڑک گیا تھا۔ لیکن پھر اس نے اعتراض کیا۔ تو وہ محبوب سے ملنے کی آرزو پوری کرنے کے لئے خود کشی کیوں نہیں کرلیتے؟
استاد مسکرائے۔ ”وصل بہت بڑی نعمت ہے بیٹے، اور بڑی نعمتیں یونہی تو حاصل نہیں ہوتیں۔ ہجر تو عشق کی کسوٹی ہے۔ ہجر ہی تو درجہ عشق کا تعین اور اس کی تصدیق کرتا ہے۔ محبوب ہجر میں مبتلا کر کے عاشق کو جانچتا ہے۔ اب سوچو، اگر کوئی اللہ سے عشق کرتا ہے تو زندگی کو یعنی محبوب کے ہجر کو نعمت تو تسلیم کرے گا نا۔ محبوب کی دی ہوئی کسی بھی چیز کو کوئی عاشق ٹھکرا نہیں سکتا؟ خواہ وہ ہجر ہی کیوں نہ ہو۔ اس آزمائش سے سرخ روئی کے ساتھ گزرنے پر ہی تو اسے انعام میں وصل ملے گا۔ عشق تو بیٹے تپسیا مانگتا ہے۔ اور عشق کی تپسیا ہجر ہے“۔
عبدالحق کو یاد تھا، یہ کہتے ہوئے استاد نے ایک شعر سنایا تھا....
یہ عشق نہیں آساں، بس اتنا سمجھ لیجئے
اِک آگ کا دریا ہے اور تیر کے جانا ہے
”آج شاید آجائیں۔ پرسوں ہی تو گئے ہیں۔“
”دیکھو، کیا ہوتا ہے۔ عبدالحق بھی آتا ہے یا نہیں۔“
اس روز حمیدہ زیادہ بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ کچھ دیر بعد نور بانو وہاں سے اٹھ آئی۔
کچھ دیر کیلئے وہ مینو کے شیڈ میں چلی گئی۔ وہاں اس کی بکریاں بھی تھیں۔ جب سے زبیر بھائی نے سامنے چھوٹے سے قطعہ زمین میں ترکاریاں کاشت کی تھیں، مینو اور بکریوں کا کھلنا موقوف ہوگیا تھا۔ انہیں کچھ دیر کیلئے باہر نکالا جاتا۔ لیکن بالکل کھلا نہیں چھوڑا جاتا تھا۔ ان کی رسی کسی نہ کسی کے ہاتھ میں ہوتی۔ حالانکہ قطعے کے چاروں طرف زبیر بھائی نے کانٹوں کی باڑھ سی لگادی تھی لیکن بکریاں اسے بھی پھلانگ جاتی تھیں۔ البتہ مینو کی بات اور تھی۔ وہ تو بس نور بانو کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور وہ ہاتھ سے کھانے کا عادی ہونے کی وجہ سے سیرچشم بھی تھا۔ ہرجگہ منہ مارنے کا قائل نہیں تھا۔
اس نے اپنی بکریوں کے آگے چارہ ڈالا، پھر مینو کی طرف چلی گئی۔ اسے ہتھیلی پر رکھ کر چارہ کھلاتے ہوئے وہ اس سے باتیں کرتیں رہی۔ ”ایک بات بتاﺅ مینو، وہ آجائیں گے تو تم مجھے چھوڑ دوگے؟“
مینو نے کھاتے کھاتے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔ لیکن خاموش رہا۔ جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔
”مصلحت سے کام لے رہے ہو۔ اس لئے جواب نہیں دے رہے ہو۔ یہی بات ہے نا؟“
مینو سرجھکائے کھاتا رہا۔
”لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے کوئی شکایت نہیں۔ آخر تم ہو تو انہی کے“ نور بانو نے کہا۔ پھر ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی اس کی بات سن تو نہیں رہا ہے۔ اس طرف سے مطمئن ہوکر اس نے کہا۔ ”اور جو اماں سوچتی ہیں، وہ ہوگیا تو پھر وہ.... میرا مطلب ہے، تم میرے بھی ہوجاﺅ گے۔“ یہ کہتے کہتے اس کے چہرے پر رنگ سا دوڑگیا۔ وہ جو کہنا چاہتی تھی، مینو کے سامنے کہتے ہوئے بھی حیا آتی تھی کہ جب وہ میرے ہوجائیں گے تو تم بھی میرے ہوجاﺅگے۔
شام کو وہ ترکاریوں والے قطعے میں چلی گئی۔ وہاں اس نے کچھ دیر وقت گزارا۔ لیکن اس کی نظروں کا مرکز راستہ ہی تھا۔
رات ہوئی تو اسے صبر آگیا۔ اب آج کچھ نہیں ہونے والا۔ رات کو نیند نہیں آئی تو وہ قرآن پڑھنے بیٹھ گئی۔ درمیان میں اسے احساس ہوا کہ گھر میں ہلچل سی مچی ہے۔
پھر دروازے سے رابعہ نے جھانکا اور بولی۔ ”منجھلی بی بی، اماں آپ کو بلارہی ہیں۔“
........x........
زبیر زرینہ کے ساتھ گھر میں داخل ہوا تو رابعہ حیران رہ گئی۔ ”یہ کون ہے؟“
”آتے ہی سوال جواب شروع کردیئے“ زبیر کچھ جھنجلاگیا۔ دن بھر کے سفر کی تھکن اور گھر میں گھستے ہی یہ استقبال، یہ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔ ”اماں سو تو نہیں گئیں؟“
”تسبیح پڑھ رہی ہوں گی۔“ رابعہ نے کھسیا کر کہا۔ اسے غلطی کا احساس ہوگیا تھا۔ ”آﺅ بی بی“ اس نے زرینہ کا ہاتھ تھام لیا۔
حمیدہ اپنے بستر پر دراز تسبیح پڑھ رہی تھی۔ زبیر کو دیکھا تو جلدی سے اٹھ بیٹھی۔ اس کی نظریں زبیر کے عقب میں دیکھ رہی تھیں۔ مگر وہاں اسے رابعہ کے ساتھ چادر میں خوب اچھی طرح لپٹی ایک لڑکی نظرآئی۔ ”آﺅ.... آجاﺅ‘ اس نے پکارا۔
وہ تینوں اندر چلے گئے اور حمیدہ کے سامنے تخت پر بیٹھ گئے۔ زبیر اور زرینہ نے سلام کیا۔ حمیدہ نے سلام کا جواب دیتے ہی پوچھا۔ ”عبدالحق کا کیا حال ہے؟“
”صاحب بالکل ٹھیک ہیں اماں“
”وہ آیا کیوں نہیں“
”جب تک ان کا کام نہیں ہوگا، وہ نہیں آئیں گے اماں۔“
”ضدی کہیں کا۔“ حمیدہ نے بڑے دلار سے کہا۔ ”اور یہ لڑکی کون ہے؟“
”صاحب نے کہا ہے کہ ان کا ایسے خیال رکھنا، جیسے میں ہوں“ زبیر نے کہا اور عبدالحق کی بات لفظ بہ لفظ دہرادی۔
حمیدہ نے زرینہ کو بہت غور سے دیکھا۔ چادر میں لپٹی ہوئی لڑکی کا چہرہ بھی پوری طرح کھلا ہوا نہیں تھا۔ مگر اس کے باوجود حمیدہ کو اس کی خوب صورتی کا احساس ہوگیا۔ ”ماشااللہ“ اس نے کہا۔ ”لگتا ہے، ہمارے گھر میں چاند اترآیا ہے۔“ پھر وہ رابعہ کی طرف مڑی۔ ”زبیر تھکا ہوا بھی ہوگا اور بھوکا بھی۔ جاﺅ، اسے کھانا کھلاﺅ، اور ہاں، نور بانو کو بھیج دینا۔“
وہ لوگ کمرے سے گئے تو حمیدہ نے زرینہ سے کہا۔ ”چادر اتارو اور یہاں میرے پاس آکر بیٹھو اطمینان سے۔“
زرینہ بری طرح خوف زدہ تھی۔ اسے اپنا پچھلا تجربہ یاد آرہا تھا۔ وہاں بھی پہلے دن ایسے ہی آﺅ بھگت ہوئی تھی، اور اسے نگاہوں ہی نگاہوں میں تولا گیا تھا۔ اس نے چادر تو نہیں اتاری، لیکن حمیدہ کے پاس جابیٹھی۔
حمیدہ چند لمحے تو اسے بڑے غور سے دیکھتی رہی، پھر اسے خود سے لپٹالیا۔
زرینہ نے الگ ہونے کے بعد حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثر سے حمیدہ کو دیکھا۔ مگر اس چہرے پر محبت ہی محبت تھی۔ وہ قدرے پرسکون ہوگئی۔
حمیدہ نے اس کی حیرت بھانپتے ہوئے کہا۔ ”حیران کیوں ہو۔ میرے بیٹے نے کہلوایا ہے کہ تم عبدالحق ہو۔ تو وہ آتا تو میں ایسے ہی اسے لپٹاتی نا۔ تو اب تم اس کی جگہ آئی ہو....“
اسی لمحے نور بانو کمرے میں آئی اور زرینہ کو دیکھ کر ہکا بکا ہوگئی۔ اتنی خوبصورت لڑکی! اس کا دل غیر معمولی رفتار سے دھڑکا۔ ”جی اماں“
”دھی میری، اس بچی کیلئے کھانا لاﺅ“ حمیدہ نے نور بانو سے کہا۔
نور بانو الٹے قدموں کمرے سے نکل آئی۔ وہ متوحش ہوگئی۔ وہ تو دن بھر عبدالحق کے آنے کی آس میں تھی، اور آئی تو یہ لڑکی۔ اسے اس لڑکی کی آمد خالی ازعلت نہیں لگ رہی تھی۔
اندر حمیدہ نے زرینہ سے پوچھا۔ ”بیٹی نام کیا ہے تیرا“
”زرینہ“
”اچھا تو جاکر ہاتھ منہ دھوآ، کھانا کھالے، پھر بات کریں گے“
زرینہ کمرے سے نکل آئی۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس نے جائزہ لیا تھا۔ بہت بڑے صحن کے ایک طرف باورچی خانہ تھا، اور اس کے برابر غسل خانہ۔ اس طرف جاتے ہوئے اس دوسری لڑکی کو دیکھا، جو باورچی خانے میں کام کررہی تھی۔
نور بانو نے بھی اسے دیکھا۔ وہ جلدی سے ٹرے پر کھانا رکھ کر باہر آئی اور کمرے کی طرف چل دی۔ لڑکی کی غیر موجودگی میں وہ حمیدہ سے اس کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی۔
کمرے میں اس نے ٹرے اماں کے سامنے والے تخت پر رکھی اور دھیمی آواز میں بولی۔ ”اماں، یہ لڑکی کون ہے؟“
”آیہاں بیٹھ میرے پاس“ حمیدہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھالیا۔ ”ابھی تو بس اتنا معلوم ہے کہ اسے عبدالحق نے یہاں بھیجا ہے، یہ کہہ کر کہ اس کا ایسے ہی خیال رکھا جائے، جیسے اس کا رکھا جاتا ہے۔“
نور بانو کا تو دل جیسے بیٹھ گیا۔ ایک تو لڑکی کا حسن، اس پر اماں کا تپاک۔ اس نے اسے اماں سے لپٹے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ”پر اماں، یہ ہے کون؟“
”اب وہ تھکی ہوئی آئی ہے اتنی دور سے۔ کھانا کھاکر کچھ دم لے تو پوچھیں گے اس سے۔ تو بیٹھی رہ۔ نیند تو نہیں آرہی ہے تجھے؟“
نور بانو کہنا چاہتی تھی کہ نیند تو اب اڑ گئی ہے۔ اسے ان پر .... ان کی توتا چشمی پر شدت سے غصہ آرہا تھا۔ وہ اجنبی لڑکی.... کیسے اس کی تھکن کی فکر کررہی ہیں۔
”زرینہ نام ہے اس کا۔ ہے کتنی خوبصورت۔ لگتا ہے چاند اترآیا ہے گھر میں“ حمیدہ نے ہیجانی لہجے میں کہا۔
نور بانو کے وجود میں غصے کی تند لہر اٹھی۔ چاند اتر آیا ہے گھر میں، تو اب اسے بہو بھی بنالیں۔ اس نے جل کر سوچا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ پاﺅں پٹختی ہوئی کمرے سے نکل جائے۔ لیکن لڑکی کے بارے میں جاننے کا تجسس بھی تھا۔ اس لئے بیٹھی رہی۔
”وہ خود اب بھی نہیں آیا“ حمیدہ نے افسردگی سے کہا۔
اچھا ہی ہوا۔ نور بانو کو اپنی سوچوں پر اختیار نہیں رہا تھا۔ اندر آگ سی دہک اٹھی تھی، اس نے سوچا، اچھا ہی ہوا، وہ نہیں آئے۔ ورنہ چٹ منگنی پٹ بیاہ والا معاملہ ہوجاتا۔ لیکن منہ سے اس نے کچھ نہیں کہا۔
زرینہ ہاتھ منہ دھوکر آئی تو اور نکھر گئی تھی۔ کچھ یہ بھی تھا کہ اس کا خوف بھی دور ہوگیا تھا۔ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ محبت کرنے والے محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
”چل.... پہلے تو بیٹھ کر کھانا کھالے۔ پھر بات کریں گے۔“
”آپ لوگ کھانا نہیں کھائیں گے؟“ زرینہ نے کہا اور خاص طور سے نور بانو کی طرف دیکھا۔
نور بانو نے تو کوئی جواب نہیں دیا۔ حمیدہ نے کہا ”ہمیں تو دیر ہوگئی کھانا کھائے۔“
زرینہ چند لمحے جھجکی۔ لیکن بھوکی بہت تھی۔ کھانا کھانے لگی۔
کھانے کے بعد نور بانو برتن سمیٹ کر لے گئی۔ واپس آئی تو دیکھا کہ نئی لڑکی حمیدہ کے پاس لحاف میں پاﺅں ڈالے بیٹھی ہے۔ اسے جھنجلاہٹ ہونے لگی۔ اس نے سوچا، اماں نے اس کے آتے ہی کتنی آسانی سے اسے میری جگہ دے دی ہے۔
”آدھیے، تو بھی آجا لحاف میں“ حمیدہ نے بڑی محبت سے اس سے کہا۔
”میں یہیں ٹھیک ہوں اماں۔“ اس نے خشک لہجے میں جواب دیا اور تخت پر بیٹھ گئی۔
”اس کا نام زرینہ ہے.... ہے نا پیارا نام“ حمیدہ نے کہا۔ پھر وہ زرینہ کی طرف مڑی۔ ”ہاں دھیے.... اب اپنے بارے میں بتا۔ تو عبدالحق کو کہاں ملی؟“
”جی.... وہ میں انہیں کیمپ میں ملی تھی.... وہ لاہور میں کیمپ ہے نا مہاجروں کا.... وہاں۔“
حمیدہ کو معلوم تھا کہ عبدالحق کسی کیمپ میں ہی رہ رہا ہے۔ ”تیرے ماں باپ، بہن بھائی؟“
زرینہ کا دل ایک دم بھر آیا۔ ”سب تھے اماں۔ بھرا گھر تھا ہمارا۔ مگر پاکستان آتے ہوئے گاڑی پر حملہ ہوا۔ سب میری آنکھوں کے سامنے ختم ہوگئے۔ کوئی بھی نہیں بچا.... سوائے مجھ بدنصیب کے۔“ وہ رونے لگی۔
”نا دھیے، ایسے نہیں کہتے۔“ حمیدہ نے شفقت سے اسے سمجھایا۔ ”اللہ تیرے نصیب اچھے کرے۔ موت تو اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ اور پتا ہے، شہید کا رتبہ کتنا بڑا ہوتا ہے۔ ان کا غم نہیں کرتے۔ اِدھر نوربانو کو دیکھ۔ یہ میری بچی تو اپنے سب لوگوں کو اپنے گھر میں ہی کھوکر آئی ہے۔ مگر پھر اللہ نے اسے کتنے لوگ دے دیئے۔ اب یہ گھر اسی کا ہے۔ ایسے ہی اب تم بھی اکیلی نہیں ہو۔“
نور بانو کے دل کا غبار کسی حد تک دھل گیا۔ اماں نے اس گھر کو اس کا قرار دیا تھا اور زرینہ کو محض دلاسہ دے رہی تھیں۔
”یہاں اپنے گھر کی طرح رہ دھیے۔“ حمیدہ زرینہ سے کہہ رہی تھی۔ ”یہ نور بانو اور رابعہ تیری بہنیں ہیں، زبیر تیرا بڑا بھائی ہے.... باپ کی جگہ، اور مجھے تو تو اپنی ماں ہی سمجھ۔ اللہ نے مجھے بیٹی نہیں دی تھی۔ پھر یہ نور بانو ملی تو مجھے لگا کہ میری کمی پوری ہوگئی اور اب تو بھی میری بیٹی ہی ہے۔“
حمیدہ کے لہجے میں ایسی محبت اور خلوص تھا کہ زرینہ پھر رونے لگی۔ حمیدہ نے اس کے آنسو پونچھ دیئے۔ ”سفر میں تھکن ہوگئی ہوگی۔ چل اب تو جاکر سوجا“ حمیدہ نے کہا۔ پھر نور بانو کی طرف دیکھا۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ نور بانو نجانے کیوں بجھ سی گئی ہے۔ بہت چپ چپ ہے۔ ”ایسا کر نور بانو، کہ جب تک عبدالحق واپس نہیں آتا، اس کا کمرا زرینہ کو دے دے“ حمیدہ نے کہا۔
نور بانو یہ کیسے گوارا کرسکتی تھی۔ ”اس کی ضرورت نہیں اماں۔ میرے کمرے میں ایک اور پلنگ ہے نا۔ ہم دونوں ساتھ ہی رہیں گی۔“
”یہ اور اچھا ہے۔ اسے تنہائی کا احساس بھی نہیں ہوگا“ حمیدہ نے کہا۔ پھر جلدی سے وضاحت کی۔ ”میں نے تو عبدالحق کے کمرے کا اس لئے کہا تھا کہ تجھے کوئی تکلیف نہ ہو۔“
تکلیف تو ان کے کمرے میں اس کے رہنے پر ہوتی۔ نور بانو نے دل میں سوچا۔ پھر وہ زبردستی مسکرائی۔ ”تکلیف کیسی اماں۔ تنہائی تو مجھے بھی اچھی نہیں لگتی، پھر میں اور زرینہ کے دکھ بھی ایک جیسے ہیں....“ اور شاید طلب بھی ایک ہی ہے۔ اس کے دل نے ٹکڑا لگایا۔ ....”تو پھر ہم دونوں بہنیں ہی ہوئیں نا۔ بس ہم ساتھ ہی رہیںگی۔“
”جاﺅ پھر، آرام کرو“
”ادھر دکھانا ارجی۔“ تیسری نے ہاتھ بڑھایا۔
”میں ارجی پرجی نہیں ہوں، میرا نام ارجمند ہے۔“ ارجمند نے بڑے وقار سے کہا۔
”اچھا ارجمند بانو، ذرا ہمیں بھی دکھا دو یہ تصویر۔“
”ابھی نہیں۔ ابھی یہ مکمل نہیں۔ رنگ بھروں گی تو دکھا دوں گی۔“ ارجمند نے انہیں ٹالنے کے لئے کہا۔
”ارے اتنی سی ہے۔ مگر نخرے تو دیکھو، پٹاخا ہے پٹاخا۔“ ایک لڑکی نے کہا۔ ”میں تو ابھی دیکھوں گی۔“
ارجمند کے لئے مشکل ہو جاتی۔ مگر اسی وقت مائی شاداں آگئی۔ یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ بالاخانے پر بیٹھی ہوئی لڑکیوں پر نظر رکھے۔ ”یہ کیا شور مچا رکھا ہے۔ بائی تک بھی آواز جارہی ہو گی تم لوگوں کی۔ ڈانٹ مجھے کھانی پڑے گی۔“ اس نے سخت لہجے میں کہا۔ ”تم لوگ یہاں گاہکوں کو لبھانے کے لئے بیٹھی ہو۔ گپ شپ کے لئے نہیں۔“
تمام لڑکیاں بازار کی طرف متوجہ ہو گئیں۔ مائی شاداں سے وہ سب ڈرتی تھیں۔ کہنے کو تو وہ عورت تھی۔ لیکن مردوں کی طرح مضبوط تھی۔ اور ہاتھ تو ایسا بھاری تھا اس کا کہ دن میں تارے نظر آجاتے تھے اس کے ایک تھپڑ میں۔ وہ کوٹھے پر پولیس کی حیثیت رکھتی تھی۔ کوئی لڑکی نافرمانی کرتی تو بائی اسے مائی شاداں کے حوالے کر دیتی۔ بڑی بڑی ضدی اور تگڑی لڑکیاں مائی شاداں کی پانچ منٹ کی مرمت بھی نہیں جھیل سکی تھیں۔ ایک نادرہ ہی ایسی تھی، جس کا کبھی مائی شاداں سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔
ارجمند کا جی چاہا کہ اندر چلی جائے اور شہزادے کی تصویر کو سنوارنے کی کوشش کرے۔ لیکن نجانے کیسے اسے اس بات کا یقین تھا کہ شہزادہ واپس آئے گا۔ چنانچہ وہ وہیں بیٹھی رہی۔
تھوڑی دیر بعد اس نے کاپی کھولی اور کاغذ پر بازار کی چہل پہل کا منظر بنانے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر درحقیقت وہ انتظار کی کیفیت میں تھی۔ اور وہ کیفیت اتنی گہری تھی کہ اس نے اسے کچھ سوچنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔ بس بے دھیانی میں وہ پینسل چلائے جارہی تھی۔ انتظار کی وہ محویت ایسی تھی کہ اسے پھپھو کے اچانک چلے جانے کا خیال بھی نہیں آیا۔ ورنہ وہ ضرور چڑتی اور کڑھتی۔ بے چاری پھپھو۔ انہیں کبھی کوئی ڈھنگ کا آدمی نہیں ملتا کہ جس سے شادی کریں۔ پھر بھی ہر روز کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اور ان کے لئے ایسے لوگ آتے ہیں، جو دیکھنے سے ہی برے لگتے ہیں.... کہانیوں والے دیو اور جادوگروں جیسے۔
دیر ہو گئی۔ وہ بازار کا خاکہ بناتی رہی۔ پھر اچانک شہزادہ واپس آگیا۔ اس بار وہ پہلے سے بہت زیادہ قریب تھا۔ نیچے جو ہوٹل تھا، وہ اس کی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ پھر اس نے اٹھ کر ہاتھ دھوئے۔
ارجمند اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ اس کا پینسل والا ہاتھ تھم گیا تھا۔ اس بار وہ شہزادے کی تصویر گرد و پیش کی تمام جزئیات کے ساتھ دل کے کینوس پر اتر رہی تھی۔ ایک بات اس نے سمجھ لی تھی۔ آنکھوں سے دیکھ کر کاغذ پر تصویر بنانا یقینا آسان ہے۔ لیکن یادداشت میں محفوظ کرنے کے بعد تصویر بنانا بہت زیادہ آسان ہو گا۔ اور ہ تصویر زیادہ درست اور زیادہ مکمل ہو گی۔ اس بات کا ابھی اسے تجربہ تو نہیں تھا۔ لیکن اسے یقین تھا کہ یہ سچ ہے.... اسی طرح جیسے شہزادے کے جانے کے بعد اسے یقین تھا کہ وہ واپس آئے گا۔
اور اس کا یقین سچا تھا۔ وہ واپس آگیا تھا!
٭....٭....٭
عبدالحق مسعود صاحب کے گھر پہنچا تو بہت رات ہو چکی تھی۔ مسعود صاحب گھر کے باہر بے چینی کے عالم میں ٹہل رہے تھے۔ اسے دیکھ کر وہ اس کی طرف لپکے۔ ”کہاں چلے گئے تھے تم؟ میں تو پریشان ہو گیا تھا۔“
”میں ایسے ہی گھومنا چاہتا تھا.... کل واپس جارہا ہوں نا۔ لیکن آپ پریشان کیوں تھے؟“
”ارے.... اتنی رات ہو گئی.... اور تم نہیں آئے۔ پریشانی کی تو بات تھی۔ میں نے ڈرائیور کو گاڑی دے کر بھیجا کہ تمہیں ڈھونڈ کر لائے۔ اب اتنا بڑا شہر ہے۔ کہاں کہاں ڈھونڈتا پھرے گا وہ تمہیں۔ زیادتی ہو گئی بے چارے کے ساتھ۔“
عبدالحق کو شرمندگی ہونے لگی۔ وہ تو اپنی دانست میں آزادی اور بے فکری کے ساتھ لاہور کو خدا حافظ کہہ رہا تھا۔ اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے کون کون کتنا پریشان ہو گا۔ کیسی خودغرضی سرزد ہوئی ہے اس سے۔
”میں شرمندہ ہو سر۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنی دیر ہو جائے گی۔ وقت کا خیال ہی نہیں رہا مجھے۔“