اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔“ مسعود صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”میں سمجھ گیا۔ لاہور کو الوداع کہہ رہے تھے تم۔ حالانکہ اس کی ضرورت نہیں۔ارے بھئی لوٹ کر یہیں تو آنا ہے تمہیں۔“
”جی.... جی ہاں سر۔“
”اچھا، اب جلدی سے اندر چلو۔ تمہارے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا۔ بھوک سے برا حال ہے میرا۔“
عبدالحق کی شرمندگی اور بڑھ گئی۔ یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ کھانا وہ کھا چکا ہے۔
مسعود صاحب کا ساتھ دینے کے لئے وہ بھوک نہ ہونے کے باوجود دھیرے دھیرے کھاتا رہا۔
”تو کل واپس جارہے ہو تم؟“
”جی ہاں۔“
”اور واپسی کب ہو گی؟“
”اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ کچھ پتا نہیں، وہاں کے کام نمٹانے میں کتنا وقت لگے گا۔“
”کام کیا ہیں، سب کچھ تو نمٹا چکے ہو تم۔ مختارنامہ بھی بنوا دیا ہے زبیر کے نام۔“
”کچھ لوگ میری ذمہ داری ہیں۔ اور سر، زرینہ کی شادی کی بھی فکر ہے مجھے۔“
”زرینہ کی شادی تو لاہور میں بھی ہو سکتی ہے۔“
”نہیں سر۔ یہاں کوئی اسے اس کے ماضی کے حوالے سے پہچان سکتا ہے۔ میں چاہوں گا کہ اس کی شادی یہاں سے کہیں دور ہو۔“
”بات تمہاری ٹھیک ہے۔ تم عقل مند ہو، اور دور تک سوچنے اور دیکھنے والے....“ مسعود صاحب نے ستائشی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر وہ چونکے، جیسے کوئی بات یاد آگئی ہو۔ ”ارے ہاں.... خریداری کیا کی تم نے؟“
عبدالحق نے انہیں تفصیل بتائی۔
”اور تم نے وہ سب میرے ڈرائیور کے ہاتھ بھجوایا۔ یہ عقل مندی کے خلاف ہے اور زیادتی بھی ہے ڈرائیور کے ساتھ۔“
”میں سمجھا نہیں سر۔“ عبدالحق بولا۔
”ارے بھئی، اگر وہ گاڑی کہیں کھڑی کرتا اور تمہارا سامان لے کر نکل بھاگتا تو۔ تین ساڑھے تین ہزار کے تو صرف زیورات ہی ہوں گے۔“
”میں نے سوچا کہ آپ کا ڈرائیور ہے تو قابل اعتبار ہی ہو گا۔“
”دیکھو بھئی، یہ آدمی کو بلاوجہ کی آزمائش میں ڈالنا ہوا۔“ مسعود صاحب نے گہری سانس لے کر کہا۔ ”بھئی آدمی تو خطا کا پتلا ہے۔ اللہ نے ایسا ہی بنایا ہے اسے کہ گناہ اس کے لئے فطری ہوتا ہے۔ میری بات یاد رکھنا۔ ترغیب گناہ کا دروازہ ہوتی ہے۔ آدمی کو خود کو ترغیبات سے دور رکھنا چاہئے۔ یہی نہیں، دوسروں کو بھی ترغیبات سے بچانا اس کی ذمہ داری ہے۔ کبھی کبھی نہایت ایماندار آدمی مجبوریوں کی وجہ سے بھی ہار جاتا ہے۔ ایسے میں اس بات کو سمجھ کر درگزر سے کام لینا چاہئے۔ سرکاری ملازمت میں، اور ویسے بھی عملی زندگی میں ان سب باتوں کا خیال رکھنا چاہئے آدمی کو۔ اب آج اگر میرے ڈرائیور کی نیت خراب ہو جاتی تو وہ تو گناہ گار ہوتا ہی، لیکن اس میں قصور وار تم بھی ہوتے۔“
”شکریہ سر۔ میرا خیال ہے، آج آپ نے مجھے بہت اہم بات سمجھائی ہے۔“
”ایک بات اور۔ اللہ نے آدمی کو فرشتہ نہیں بنایا، اور فرشتوں سے افضل قرار دیا ہے۔ تو آدمی کو آدمی ہی سمجھنا چاہئے۔ اسے اس کی فطری کمزوریوں کے ساتھ قبول کرنا چاہئے۔ خطاﺅں پر، لغزشوں پر، گناہوں پر مطعون کرنا اور سزا دینا تو بہت آسان ہے، معاف کرنا اور درگزر کرنا بہت مشکل ہے۔ اور رہی بات اعتبار کی تو وہی بات ہے کہ آدمی کو آدمی سمجھو۔ اعتبار کرو تو اس حد تک کہ اس کی اور اپنی بساط کو ذہن میں رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ اعتبار ٹوٹے تو عمر بھر کسی پر اعتبار کرنے کے قابل ہی نہ رہو۔ یہ اور بڑا نقصان ہوتا ہے۔“
”شکریہ سر۔ میں آپ کی یہ باتیں یاد رکھوں گا۔“
اسی وقت ڈرائیور یہ خبر لے کر آگیا کہ مہمان کہیں نہیں ملا۔ عبدالحق مسکرا دیا۔ ڈرائیور نے یہ سوچا بھی نہیں ہو گا کہ مہمان ہیرا منڈی میں ملے گا۔
٭....٭....٭
ارجمند اس روز صبح ہی سے تصویریں بنانے میں منہمک تھی۔
گھر میں یہ وقت اسے عجیب لگتا تھا۔ سبھی لوگ سو رہے ہوتے تھے۔ سناٹا ایسا ہوتا تھا، جیسے رات کو ہوا کرتا ہے مگر اس وقت میں ایک خوبی تھی۔ ارجمند کو ایسا لگتا تھا کہ یہ اس کی حکمرانی کا وقت ہوتا ہے۔ اس وقت وہ جو چاہتی، کر سکتی تھی.... ایک کام کے سوا۔ بس وہ گھر سے باہر نہیں جا سکتی تھی۔ ایک دن اسے خیال آیا تھا کہ سب سو رہے ہیں، کیوں نہ وہ باہر جائے اور سیر کرنے کا اپنا ارمان پورا کرے۔ یہ سوچ کر وہ دروازے کی طرف گئی۔ مگر دروازے پر تو یہ بڑا تالا لگا تھا۔
اس نے تصویر مکمل کر کے دیکھا۔ اس تصویر سے وہ مطمئن تھی۔ اس نے سوچا۔ ”اب رنگ بھرنے کے بعد تو یہ بالکل شہزادہ ہی لگے گا۔
رنگ بھرنے کے بعد اس کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ اس نے شہزادے کی ویسی ہی تصویر بنالی تھی، جیسا کہ وہ تھا۔ تصویر کو نظر بھر کر دیکھنے کے بعد اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ شہزادے کا چہرہ اب بھی اس کے سامنے تھا، ویسا ہی، جیسا اس نے دیکھا تھا۔ اب اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو احساس ہوا کہ تصویر میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔
کمی کا احساس اپنی جگہ، لیکن وہ تصویر شہزادے ہی کی تھی۔ اس کے جسم میں سنسناہٹ سی دوڑنے لگی۔ وہ یہ تصویر پھپھو کو دکھانے کے لئے بے تاب ہو گئی۔
لیکن پھپھو سو رہی تھیں!
وہ جھنجھلا گئی۔ یہ پھپھو اتنی دیر تک کیوں سوتی ہیں؟ جب دیکھو، دوپہر کو اٹھتی ہیں۔
اس پر اسے دادی یاد آگئیں۔ وہ سمجھتی تھیں گھر میں کوئی دیر تک سوئے تو نحوست چھا جاتی ہے پورے گھر پر۔ مگر یہاں تو سب کے سب دوپہر تک سوتے رہتے ہیں۔ یہاں تو نحوست بہت ہی زیادہ ہو گی۔ اس نے ادھر ادھر، چاروں طرف دیکھا۔ نحوست تو کہیں نظر نہیں آرہی تھی۔ البتہ سناٹا ضرور تھا، جو بہت برا لگتا تھا۔ پتا نہیں، نحوست کیسی ہوتی ہے؟ اس نے سوچا، مجھے نظر کیوں نہیں آتی؟
ذہن کی رو بدلی تو اسے ایک اور بات یاد آئی۔ چچا جان کی شادی کی اگلی صبح وہ چچی جان سے بات کرنے کو بے تاب ہورہی تھی۔ رات دلہن بنی ہوئی وہ کتنی اچھی لگ رہی تھیں۔ اس نے سوچا تھا کہ ناشتہ وہ ان کے ساتھ کرے گی، اور پھر خوب باتیں کریں گی ان سے۔
صبح وادی نے اسے ناشتہ دیا تو اس نے انکار کر دیا۔ ”میں تو چچی جان کے ساتھ ناشتہ کروں گی۔“
”اب بھی کرلو۔ اور دلہن کے ساتھ بھی کر لینا۔“ دادی نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
”پیٹ بھرا ہو گا تو ناشتہ کرنے میں کیا مزہ آئے گا۔“ وہ بولی۔
دادی کے اصرار کے باوجود اس نے ناشتہ نہیں کیا۔ مگر نہ تو چچا جان اٹھے، نہ چچی جان۔ بھوک سے اس کا برا حال ہو گیا۔ ”دادی.... کب اٹھیں گی چچی جان۔“ اس نے فریاد کی۔
”انہیں چھوڑو، تم ناشتہ کر لو۔“
مگر وہ نہ مانی۔ وہ چچا جان کے کمرے کی طرف گئی اور دروازے کو دھکیل کر کھولنے کی کوشش کی۔ لیکن دروازہ اندر سے بند تھا۔ غصے میں اس نے دروازہ پیٹنے کا ارادہ کر لیا۔
”نہیں میری شہزادی، بری بات۔“ عقب سے اسے دادی کی آواز سنائی دی۔ اس کا ہاتھ رک گیا۔
”یہ لوگ اٹھتے کیوں نہیں دادی۔“
”تم چلو، ناشتہ کرلو۔ آﺅ میرے ساتھ۔“ دادی نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
تھانیدار انہیں اسی حوالات تک لے گیا، جہاں افضال صاحب بند تھے۔ انہوں نے سلاخوں والے دروازے کے پار دیکھا۔ وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ان کے کپڑوں پر خون کے دھبے تھے اور آنکھیں مندی ہوئی تھیں۔ وہ وہاں اکیلے تھے۔
”دروازہ کھول دو۔ ہم ان سے اندر جاکر ملیں گے“۔ مسعود صاحب نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
”یہ مناسب نہیں سر۔ ملزم پر رقت طاری ہے۔ وہ کسی پر بھی حملہ کرسکتا ہے“۔ تہانے دار نے معذرت طلب لہجے میں انہیں سمجھایا۔
”ارے.... وہ ہمیں جانتے ہیں۔ وہ میرے ہی کیمپ میں رہتے ہیں“۔
”سر، میرا تو خیال ہے، وہ اس وقت خود کو بھی نہیں پہچانتے۔ ایسا کریں، آپ پہلے دور سے بات کرلیں۔ پھر آپ حکم کریں گے تو میں دروازہ بھی کھول دوں گا“۔
”افضال صاحب.... افضال صاحب“۔ مسعود صاحب نے انہیں پکارا۔
افضال صاحب بدستور اونگھتے رہے، جیسے انہوں نے سنا ہی نہ ہو۔
عبدالحق سمجھ گیا کہ وہ اپنا نام سن کر ہرگز نہیں چونکے گے۔ وہ بہت اچھی ادا کاری کررہے تھے۔” محترم.... ذرا سنیئے“۔ اس نے انہیں پکارا۔
افضال صاحب نے آنکھیں کھولیں اور ان کی طرف دیکھا۔ لیکن ان کی نگاہوں میں شناسائی کا شائبہ بھی نہیں تھا۔
” زحمت نہ ہو تو ذرا یہاں آیئے“۔
افضال صاحب اُٹھے اور دروازے تک آئے وہ انہیں بہت غور سے دیکھ رہے تھے۔لیکن نگاہیںاب بھی شنا سائی سے محروم تھیں۔
”افضال صاحب ،یہ کیا ہوگیا ۔یہ کیا کردیا آپ نے ؟،،مسعود صاحب نے درد مندی سے کہا۔
افضال صاحب نے حیرت اور تشویش سے ادھر ادھرد یکھا،جیسے افضال صاحب کو تلاش کررہے ہوں ۔پھر وہ مطمئن نظر آنے لگے۔
” میں آپ سے بات کررہا ہوںافضال صاحب“مسعود صاحب نے ان سے کہا۔
افضال صاحب اچانک غضب ناک ہوگئے۔ ان کا ہاتھ جارحانہ انداز میں سلاخوں سے باہر آیا۔ مسعود صاحب گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے۔” تم نے مجھے گالی دی.... تم نے مجھے اتنی بڑی گالی دی“۔ افضال صاحب نے کف اڑاتے ہوئے کہا۔
”میں نے آپ کو گالی نہیں دی افضال صاحب“۔ مسعودصاحب نے ان کی پہنچ سے دور ہوتے ہوئے مدا فعانہ انداز میں کہا۔
”میں تمہارا خون پی جاﺅں گا۔ مجھے افضال کے نام سے پکارتے ہو۔ یہ تو بدترین گالی ہے۔ ارے میں نے زمین کا سب سے بڑا اور سب سے ذلیل بوجھ کم کردیا۔ میں نے اس حرام زادے افضال کو قتل کردیا۔ ٹکڑے کردیئے میں نے اس کے۔ اور تم مجھے افضال کہتے ہو“۔
مسعودصاحب دم بہ خود تھے۔ عبدالحق نے افضال صاحب سے پوچھا۔” تو آپ کا کیا نام ہے جناب“؟
”میں.... میرا نام“؟ افضال صاحب سوچ میں پڑگئے؟ جیسے ذہن پر زور دے رہے ہو۔ پھر وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی کنپٹیوں کو زور زور سے مسلنے لگے۔
”اچھا، مجھے تو جانتے ہیں نا آپ۔ اور یہ بڑے صاحب ہیں“۔
”میں نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا.... اور نہ ان بڑے صاحب کو۔ مجھے.... مجھے اپنا نام کیوں یاد نہیں آتا“۔ ان کی آنکھوں میں وحشت ناچنے لگی۔
”چلیں چھوڑیں۔ آپ آرام کریں“۔ عبدالحق نے کہا۔ افضال صاحب دوبارہ اپنی جگہ جابیٹھے۔
وہ لوگ دوبارہ تہانے دار کے کمرے میں آگئے۔” آپ نے مار پیٹ تو نہیں کی ان کے ساتھ“؟ عبدالحق نے تہانے دار سے پوچھا۔
”او توبہ کریں جی۔ اپنے بندے تو الٹا ڈرتے ہیں اس سے“۔
”سنو.... میں ان کے لئے کپڑے بھجواﺅں گا۔ اور وکیل کا بندوبست بھی کروں گا۔ اس سے تعاون کرنا“۔
”لیکن سر، یہ 302 کا کیس ہے....“
”میں نے تم سے انہیں رہا کرنے کو تو نہیں کہا“۔ مسعودصاحب نے سخت لہجے میں کہا۔” جو کچھ میں کررہا ہوں، یہ ان کا حق ہے۔ اور تمہیں ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ کوئی عادی مجرم نہیں۔ لگتا ہے، کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ اور ہاں، ان کے کھانے پینے کا خیال رکھنا“۔
”جو حکم آپ کا سر“۔
مسعودصاحب نے کھانے کے مد میں تہانے دار کو پانچ روپے دینے چاہے۔ لیکن اس نے انکار کردیا” یہ تو ان کا سرکاری حق ہے جناب اور آپ بے فکر ہوجائیں۔ میں ہر طرح سے ان کا خیال رکھوں گا“۔
مسعودصاحب اور عبدالحق تہانے سے نکل آئے۔
٭
عبدالحق صرف پریشان ہی نہیں، متوحش بھی تھا۔ یہ جمیل کے قتل کا معاملہ اسے بہت خطرناک لگ رہا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ خدا نخواستہ کسی بھی وقت زرینہ اس معاملے میں ملوث ہوجائے گی۔ اور یہ اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا۔ جس لڑکی کو اس نے بہن کہا اور اسے بازار سے نکالا، وہ اب اس کی رسوائی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ اب اس کے لئے سب سے اہم کام زرینہ کی شادی کرانا ہے۔
زبیر نے یہ بات محسوس کرلی کہ عبدالحق بہت پریشان ہے۔ اس سے کچھ پوچھنا تو اس کے نزدیک گستاخی تھی۔ بس وہ اس کے لئے دعا ہی کرسکتا تھا۔ اسے اس حال میں چھوڑ کر جانے کو دل بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ مگر وہ خود فیصلہ نہیں کرسکتا تھا۔
فجر کی نماز کے بعد اس نے عبدالحق سے کہا۔” میرے لئے کیا حکم ہے صاحب“؟
عبدالحق نے چونک کر اسے دیکھا، اور اس لمحے اسے اپنے دل کا بوجھ ہٹتا محسوس ہوا۔ ارے.... یہ معاملہ تو آسان ہے۔ زرینہ کو منظر سے ہٹادیا جائے۔ فوری طور پر اسے گاﺅں بھجوا دیا جائے۔
پریشان ہونے کی وجہ سے اسے یہ خیال ہی نہیں آیا تھا۔ ورنہ تو یہ اس کا طے شدہ لائحہ عمل تھا۔ اس نے سوچا تھا کہ جب تک اس کے گاﺅں واپس جانے کا نہیں ہوتا، زرینہ مسعودصاحب کے ہاں رہ لے گی۔ پھر وہ اسے اپنے ساتھ گاﺅں لے جائے گا۔ اب وہ غور کررہا تھا کہ یہ تو تائید غیبی ہے.... اللہ کا فضل ہے کہ زبیر یہاں چلا آیا۔ بس زرینہ کو زبیر کے ساتھ بھیج دیتا ہے۔
سوال یہ تھا کہ زبیر کو اس سلسلے میں کس طرح بتایا جائے۔ اس کی ذہنی کیفیت عجیب سی تھی۔ ایک تو وہ افضال صاحب کی طرف سے پریشان تھا۔ پہلے تو اس نے یہی سوچا تھا کہ افضال صاحب جان بوجھ کر پاگل بن رہے ہیں، تاکہ زرینہ کا راز چھپاسکیں۔ لیکن حوالات میں ان کی حالت دیکھنے کے بعد اسے اس پر یقین نہیں رہا تھا۔ ان کی دماغی حالت تو سچ مچ خراب لگ رہی تھی۔ انہیں دیکھ کر اسے دو طرح کی پریشانیاں لاحق ہوگئیں۔ ایک تو خود ان کے بارے میں تھی۔ وہ دعا کرتا کہ اللہ کرے، وہ ٹھیک ہوجائیں۔ مگر دوسری پریشانی یہ تھی کہ اگر یہ واقعی پاگل پن ہے، اور آگے کسی مرحلے پر دور ہوجاتا ہے تو عین ممکن ہے کہ افضال صاحب جمیل کے قتل کا محرک بیان کرتے ہوئے زرینہ کا نام بھی لے دیں۔ تو صورت حال یہ ہوئی کہ وہ ان کے لئے دعا کرنا چاہتا تھا، لیکن نہیں کرسکتا تھا۔
مگر اب اتنا آسان حل نظر آگیا تھا۔ اس سے ایک پریشانی تو کم ہوجائے گی۔ البتہ دوسری باقی رہے گی۔ اگر افضال صاحب ہوش وحواس میں آکر زرینہ کے بارے میں بیان دیں گے تو وہ اسے سنبھال لے گا۔ سب سے بڑی بات کہ زرینہ کی رسوائی اگر ہوئی تو یہاں ہوگی۔ وہاں گاﺅں میں وہ خود تو رسوائی سے محفوظ ہوگی۔ اور وہ کسی نہ کسی طرح اس معاملے کو سنبھال ہی لے گا۔
اسے اچانک احساس ہوا کہ اس کی اپنی ذہنی کیفیت بھی ٹھیک نہیں۔ وہ ایک ہی بات بار بار سوچ رہا ہے.... نئی بات سمجھ کر....
”صاحب.... آپ نے بتایا نہیں“۔
زبیر نے اسے چونکا دیا۔” ارے ہاں.... بس وہاں کے معاملات تمہیں سنبھالنے ہیں میرے آنے تک۔ مختار نامے کی رو سے تم میرے قائم مقام ہو۔ آج ہی تم گاﺅں واپس چلے جاﺅ“۔
”جو آپ کا حکم صاحب“۔
عبدالحق نے سوچا کہ زرینہ کو زبیر کے ساتھ بھجوانا ہے تو زبیر کا اب کیمپ میں ایک لمحے رکنا بھی ٹھیک نہیں۔” تم ایسا کرو کہ لاری اڈے چلے جاﺅ۔ میں وہاں آکر تم سے ملوں گا۔ تمہارے ساتھ کسی کو بھیجنا بھی ہے“۔
زبیر کو یاد آگیا، مسعودصاحب نے بتایا تھا کہ صاحب کو ان کی بہن مل گئی ہے۔
اب زبیر کو زرینہ کے بارے میں کیا بتائے، عبدالحق نے سوچا۔ ایک تو اس ذہنی کیفیت میں بات ہی نہیں کی جارہی ہے.... اور پھر یہ بات.... وہ جھنجلاگیا۔
”جی.... مجھے یاد ہے“
”اس کے باوجود میں آپ سے معافی کی خواستگار ہوں۔ ڈائریاں مجھے نہیں پڑھنی چاہئے تھیں۔ کیونکہ ان میں بہت ذاتی باتیں تحریر ہیں۔“
ایک لمحے کو عبدالحق کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر اس نے کہا۔ ”کوئی بات نہیں۔ میں نے آپ کو اجازت دی تھی نا۔“
”شکریہ“ نوربانو نے کتابیں اور ڈائیریاں اس کی طرف بڑھائیں۔ ”اب ایک خوش خبری سناﺅں آپ کو۔ ان ڈائریوں میں ایک اتنی بڑی خوشی ہے آپ کے لئے کہ جو آپ کے گمان میں بھی نہیں ہوسکتی۔ اس کیلئے میری پیشگی مبارک باد قبول کیجئے۔“
”وضاحت نہیں کریں گی آپ؟“ عبدالحق کے چہرے پر حیرت تھی۔
”جی نہیں، خود پڑھ کر جو خوشی آپ کو حاصل ہوگی، وہ بہت.... بہت بڑی ہوگی۔ اور میں اسے خراب نہیں کرنا چاہتی۔“
عبدالحق عجیب سی نظروں سے کتابوں کو دیکھنے لگا۔
”اور یہ چادر ہے آپ کی، جو میں نے آپ کے کمرے سے بلااجازت لے لی تھی۔“ نوربانو نے گود میں رکھی چادر کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن چادر اس کی طرف بڑھائی نہیں۔
”اس کیلئے بھی آپ سے معافی چاہتی ہوں۔“
اب عبدالحق کی سمجھ میں آیا کہ چادر اسے جانی پہچانی کیوں لگ رہی تھی۔ لیکن سوال یہ تھا کہ نوربانو نے وہ چادر کیوں لی تھی۔
”کیا معاف نہیں کیا آپ نے؟“
”چلیں“ آپ کے اصرار پر معاف کردیتا ہوں“ عبدالحق نے بھی خوش دلی سے کہا۔
”اور یہ چادر آپ مجھے دے دیجئے۔ یہ میں آپ کو واپس نہیں دینا چاہتی۔“
”تو یہ تو ہے ہی آپ کے پاس۔ آپ نے واپس کب دی ہے۔“
نوربانو نے چادر اب بھی اس کی طرف نہیں بڑھائی۔ ”تو مجھے یہ چادر رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں نا آپ۔“
”چلئے.... اجازت دی۔“
”شکریہ.... شب بخیر“ نوربانو اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
عبدالحق کتابوں کی طرف متوجہ تھا۔ نوربانو کی آواز سن کر اس نے سرگھماکر دیکھا۔