”نوربانو دروازے میں کھڑی تھی۔
”اس چادر میں آپ کی خوشبو تھی۔ اس کی وجہ سے آپ دور رہ کر بھی میرے قریب رہے۔“ وہ عجیب سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
عبدالحق کے جسم میں سنسنی سی دوڑنے لگی۔ کیا یہ سب کچھ وہی ہے، جو سمجھ میں آرہا ہے، اسے محسوس ہورہا ہے؟ کیا یہ اظہار محبت ہے؟
”اور یہ چادر لے کر میں نے ایک طرح سے آپ پر احسان کیا۔ ”نوربانو نے مزید کہا۔ ”ورنہ آپ کا مینو مرگیا ہوتا۔ اس چادر اور اس کی خوشبو کیوجہ سے ہی اس نے میرے ہاتھ سے کھانا گوارا کیا۔“
عبدالحق سے کچھ بھی نہیں کہا گیا۔
”اور اب آخری بات، شاید اس کے بعد آپ مجھے کبھی اچھی لڑکی نہ سجھیں۔ لیکن میں پھر بھی کہوں گی۔ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ اتنی.... اتنی.... اتنی زیادہ کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔“ یہ کہہ کر وہ پلٹی اور ہوا کے جھونکے کی طرح کمرے سے نکل گئی۔
........x........
عبدالحق ساکت وصامت بیٹھا تھا.... یوں جیسے سانس لینا بھی بھول گیا ہو!
لیکن نہیں۔ وہ وہاں موجود ہی کب تھا۔ وہ تو گویا ہواﺅں میں اڑ رہا تھا۔ یہ سب کچھ حقیقت تو نہیں ہوسکتا۔ شاید وہ خواب دیکھ رہا ہے۔ حقیقت میں تو یہ ممکن ہی نہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آسمان زمین پر اترآئے اور اسے چھوکر کہے.... مجھے تم سے محبت ہے۔ ہاں.... اور کیا.... اس کے اور نوربانو کے درمیان اگر کوئی نسبت تھی تو وہ یہی تھی۔ وہ آسمان تھی اور وہ زمین۔
ایک لمحے کو سچ مچ اسے ایسا لگا کہ آسمان نیچے.... نیچے، اور نیچے چلا آرہا ہے، اور اس کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ درمیان کی سب چیزیں اوجھل ہوتی جارہی ہیں۔ کمرے کی چھت بھی جیسے اوجھل ہوگئی۔ آسمان جیسے اسے چھونے لگا۔ درمیان سے جیسے آخری چیز، ہوا بھی سلب ہوگئی۔ اس کا دم گھٹنے لگا۔ سانس بھی نہیں لی جارہی تھی۔ پھیپھڑوں میں جیسے آگ بھرگئی۔
شدید گھبراہٹ کے عالم میں اس نے سراٹھاکر اوپر دیکھا۔ وہاں آسمان نہیں تھا، کمرے کی چھت تھی۔ اس نے جینے کیلئے.... پکے یقین کیلئے گہری سانس لی۔ اس سانس نے اسے یقین دلادیا کہ اس نے خواب دیکھا تھا۔
مگر اس نے نظریں جھکائیں تو اسے اپنی گود میں رکھی پتاجی کی کتابیں، ان کی ڈائریاں نظر آئیں۔ اگر وہ خواب تھا تو یہ کتابیں کہاں سے آئیں اس کے پاس؟ ذہن پھر الجھنے لگا۔
لیکن اس بار الجھن مختصر تھی۔ اب وہ اس سے انکار نہیں کرسکتا تھا کہ نوربانو آئی تھی۔ یہ کتابیں، یہ ڈائریاں اس کا ثبوت تھیں۔ اس نے جو باتیں کی تھیں، وہ بھی اسے یاد تھیں۔ لیکن اس نے جاتے ہوئے جوکچھ کہا تھا، اس پر اسے یقین نہیں تھا۔ وہ شاید اس کے اندر کی خواہش تھی، وہ شاید اس کا تصور تھا۔
وہ بے چین ہوگیا۔ اس نے کتابیں اور ڈائریاں بیڈپر رکھیں اور کمرے سے نکل آیا۔ اس کے قدم بے اختیار نوربانو کے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے.... کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ نوربانو بستر پر پاﺅں لٹکائے بیٹھی تھی۔ وہ دروازے میں رک گیا۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ وہاں دوسری چارپائی بھی ہے، اور اس پر چادر اوڑھے کوئی سورہا ہے۔ یہ کون ہوسکتا ہے؟ اس کا الجھا ہوا ذہن اور الجھ گیا۔
پھر اسے احساس ہوا کہ اسے وہاں کھڑے کئی لمحے گزرگئے ہیں۔ نوربانو کا رخ اس کی طرف تھا۔ یعنی اس نے اسے دیکھ لیا تھا۔ لیکن اس نے اس سے پوچھا بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں کیوں آیا ہے۔
اس خیال نے اسے احساس دلایا کہ یہ کچھ اچھی صورتحال نہیں ہے۔ اتنی رات کو اس کا یہاں آنا.... نوربانو کیا سمجھے گی۔ اور اگر وہ اس سے پوچھے تو وہ کیا کہے گا۔ یہ کہ کیا واقعی اس نے وہ الفاظ کہے تھے۔ اور جب وہ انکار کردے گی تو.... تو کتنی شرمندگی ہوگی۔
مگر اس سے پلٹا بھی نہیں گیا۔ پلٹنا اس کے اختیار میں نہیں تھا۔
وہ بت بنا اسے دیکھتا رہا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی لیکن چند لمحوں میں اسے اندازہ ہوگیاکہ اس کا رخ اس کی طرف ضرور ہے لیکن وہ اس نہی دیکھ رہی، اس کی نگاہوں میں خالی پن کا ایسا تاثر تھا، جیسے وہ اس کے پاردیکھ رہی ہو۔
وہ اس کیلئے پلٹ جانے کا بہت اچھا موقع تھا۔ لیکن وہ تو ہلنے کے قابل بھی نہیں تھا۔ بے بس کھڑے رہنے کے سوا وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔
پھر نجانے کتنی دیر کے بعد نوربانو کی محویت ٹوٹی۔ اس کی آنکھوں میں حیرت سی چمکی، اور پھر بے یقینی جھلکنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے تاثر سے واضح تھا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہی ہے، اسے فریب نظر سمجھ رہی ہے۔
بے بس کھڑا عبدالحق کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔
چند لمحوں میں نوربانو کو احساس ہوگیا کہ وہ فریب نظر نہیں ہے۔ اس نے بے اختیار دوسری چارپائی پر سوئی ہوئی زرینہ کو دیکھا اور دبے قدموں دروازے کی طرف بڑھی، جہاں عبدالحق بت بنا کھڑا تھا۔
”آپ.... آپ مجھے ڈانٹنے کیلئے آئے ہیں؟“ اس نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔
عبدالحق کچھ بھی نہ کہہ سکا۔ بس نفی میں سرہلاکر رہ گیا۔
وہ کچھ مطمئن نظر آنے لگی۔ ”تو پھر؟“
”یہ کون سورہا ہے آپ کے کمرے میں؟“ عبدالحق نے گڑبڑاکر پوچھا۔
نوربانو مسکرائی۔ ”زرینہ ہے“
”سورہی ہے نا؟“ عبدالحق کے لہجے میں گھبراہٹ تھی۔
نوربانو کی مسکراہٹ اور کشادہ ہوگئی۔ ”جی ہاں، گہری نیند سورہی ہے۔ مگر آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کیوں آئے ہیں۔“
”وہ .... میں....“ عبدالحق کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہے۔ ”آپ.... آپ میرے کمرے میں آئی تھی نا۔ مجھے پتا جی کی کتابیں بھی دی تھیں نا؟“ نوربانو کا ذہن الجھنے لگا۔ ”جی....جی ہاں۔ آپ کو شک ہے کیا؟“
”جی نہیں۔“ عبدالحق نے کہا، پھر بے ساختہ اس کے منہ سے وہ بات نکل گئی۔ ”آپ نے آخر میں.... میرے دروازے پر رک کر.... پلٹ کر کچھ کہا تھا؟“
”جی ہاں۔ کیا آپ کو یاد نہیں ”نوربانو نے عجیب سے لہجے میں کہا۔
”کیا کہا تھا آپ نے؟“
”آپ چاہتے ہیں کہ میں دہراﺅں؟“ نوربانو کے لہجے میں چیلنج تھا۔
”جی ہاں۔“
نور بانو کی نظریں جھک گئیں۔ ”کیوں؟“
عبدالحق چند لمحے سوچتا رہا۔ پھر بولا۔ ”کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے وہم ہوا ہے۔“
”عجیب آدمی ہیں آپ“ نوربانو نے جھنجھلاکر کہا۔ پھر ایک دم اس نے نظریں اٹھائیں اور اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ ”آپ مجھے کم ہمت سمجھتے ہیں نا۔ لیکن میں یہ بات کسی کے سامنے بھی کہہ سکتی ہوں۔ میں آپ سے محبت کرتی ہوں.... اتنی.... اتنی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ اب بولئے، کچھ اور بھی سننا چاہتے ہیں آپ؟“
”جی نہیں.... شکریہ۔ شب بخیر“ عبدالحق نے کہا اور پلٹ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
نوربانو کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ پھر اپنے بستر پر چلی گئی۔
پولیس نے افضال صاحب کو عدالت میں پیش کردیا تھا اور عدالت نے انہیں پانچ دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ عبدالحق مسعود صاحب کے دفتر میں ان کے وکیل افتخار صاحب سے ملا تھا اور ان سے اس کیس کے بارے میں بات کی تھی۔
”میری رائے میں عدالت زیادہ سے زیادہ تین پیشیوں میں اس کیس کا فیصلہ کردے گی۔“ افتخار صاحب نے کہا۔ ”وہ جس حال میں ہیں، انہیں سزا تو دی ہی نہیں جاسکتی۔ انہیں دماغی امراض کے کسی اسپتال میں بھیج دیا جائے گا۔“
یہ سن کر عبدالحق کو کچھ اطمینان ہوا۔
افتخار صاحب کے جانے کے بعد مسعود صاحب دیر تک کسی گہری سوچ میں ڈوبے رہے۔ پھر بولے۔ ”میں ایسا سوچناتو نہیں چاہتا.... لیکن مجھے لگتا ہے کہ افضال صاحب پاگل بن رہے ہیں۔“
”نہیں جناب، یہ ممکن نہیں ہے“ عبدالحق نے جلدی سے کہا۔ ”ان کے ساتھ نفسیاتی مسائل تو پہلے سے تھے۔ مگر اب تو ان کی یادداشت ہی ختم ہوگئی ہے دیکھیں نا، وہ آپ کو اور مجھے بھی نہیں پہچانے۔“
”ان کے نفسیاتی مسائل اپنی جگہ۔ لیکن یادداشت ایسی چیزی نہیں کہ یونہی بیٹھے بٹھائے زائل ہوجائے۔ کسی بہت بڑے سانحے کے بغیر یہ ممکن نہیں۔“
”تو کیا پتا، ایسا کوئی واقعہ.... کوئی سانحہ انہیں پیش آیا ہو۔“ عبدالحق نے دھیرے سے کہا۔
مسعود صاحب نے ایک دم موضوع بدل دیا۔ ”جس دن جمیل کا قتل ہوا، مجھے یقین ہے کہ اس رات افضال صاحب کیمپ واپس نہیں آئے تھے، اور نہ ہی وہ اس صبح کیمپ سے گئے تھے۔“
”یہ آپ کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟“ عبدالحق بری طرح چونکا۔
”وہ ہر صبح کیمپ سے نکلنے سے پہلے میرے پاس آتے تھے۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”میں نے بڑی مشکل سے ان سے یہ وعدہ لیا تھا۔ اور وعدہ کرنے کے بعد سے اس صبح کو چھوڑ کر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ مجھ سے ملے بغیر کیمپ سے باہر گئے ہوں۔“
یہ بات عبدالحق کو بھی معلوم تھی۔ خود افضال صاحب نے ہی اسے بتائی تھی۔
”اور جس رات تم اپنی بہن کو لے کر میرے گھرآئے تھے، وہ اسی رات کی صبح تھی۔ یعنی وہ اسی رات کیمپ میں نہیں تھے۔ اور یہ غیرمعمولی بات ہے۔ افضال صاحب کبھی کیمپ سے دور نہیں رہے.... کم ازکم رات میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ اب تم بتاﺅ برخوردار کہ اس رات وہ کہاں تھے۔“
”یہ میں کیسے بتاسکتا ہوں۔“ عبدالحق گڑبڑاگیا۔
”کیونکہ وہ تمہارے ساتھ تھے۔ اگلی صبح تمہارا ملازم.... کیا نام ہے اس کا.... ہاں زبیر.... وہ کیمپ آیا تو تم موجود نہیں تھے۔ اسی لئے تو وہ میرے پاس چلا آیا تھا۔“
یہ ایسا ثبوت تھا، جو ناقابل تردید تھا۔ عبدالحق نے گہری سانس لی۔ اسے اس بات پر حیرت ہورہی تھی کہ مسعود صاحب نے اسے اس روز کیوں نہیں پکڑا۔ اس سے رہا نہیں گیا، اس نے یہ بات مسعود صاحب سے پوچھی۔
”تم پر بہت بھروسہ کرتا ہوں میں۔ تم جھوٹ بولنے والے نہیں ہو۔ اگر جھوٹ بولا تو کوئی بہت بڑی بات ہوگی۔ اب جبکہ تمہاری اُلجھن دور ہوچکی ہے تو مجھے سب کچھ بتادو۔ ویسے مجھے یقین ہے کہ زرینہ تمہاری بہن نہیں ہے۔“
عبدالحق نے احترام آمیز نظروں سے انہیں دیکھا۔ واقعی، وہ اس کی عزت بھی کرتے تھے اور اس پر اعتبار بھی۔ اس نے اس دن کی پوری کہانی تفصیل کے ساتھ انہیں سنادی۔
مسعود صاحب بڑی توجہ سے سن رہے تھے، اس کی بات مکمل ہونے کے بعد وہ چند لمحے خاموش بیٹھے رہے، جیسے ذہن میں سب کچھ ترتیب دے رہے ہوں۔ پھر وہ بولے۔ ”تو یہ وجہ تھی زرینہ کو فوری طورپر گاﺅں بھیجنے کی۔ تمہیں ڈر تھا کہ افضال صاحب زبان کھول دیں گے تو زرینہ والا معاملہ کھل جائے گا؟“
”جی ہاں سر۔ میں نے زرینہ کو بہن کہا ہے تو اب اس کی عزت میری عزت ہے۔ میں اس کی رسوائی برداشت نہیں کرسکتا اور اس لئے بھی کہ وہ مظلوم ہے۔ اس کے ساتھ بہت ظلم ہوا۔ وہ اس رسوائی کی نہیں، ایک اچھی زندگی کی مستحق ہے۔“
”ہاں.... تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔“
”اور سر، اب میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ اس وقت تو مجھے مدد کی ضرورت تھی۔ میں خود غرض ہوگیا تھا۔ میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ زیادتی کررہا ہوں۔ میں بہت شرمندہ ہوں آپ سے۔“
”کس بات پر؟“
”اس پر کہ میں بازار سے ایک لڑکی لے کر آیا۔ اور دھوکے سے اسے آپ کے ہاں مہمان ٹھہرایا۔ آپ کی بچیاں بھی تو میری بہنیں ہیں۔ اگر میں آپ کو سچ بتادیتا....“
”واقعی، وہ تو تم نے بہت بری حرکت کی“ مسعود صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”مگر معافی سے کیا ہوتا ہے برخوردار۔ بس زبان سے کہہ دیا اور قصہ ختم۔ تلافی کرو تو بات ہے۔“
”آپ حکم کریں، میں انشااللہ تلافی کروں گا۔“
”سوچ لو“
”وعدہ کررہا ہوں“
’تو اس زیادتی کی تلافی یہ ہوگی کہ تم میری بات مان لو اور لاہور آکر سول سروس کی تیاری کرو۔ بولو، تیار ہو۔“
”میں وعدہ کرچکا ہوں۔ لیکن....“
”بس باقی معاملات مجھ پر چھوڑدو۔ میں نے سب سوچ رکھا ہے۔ اس پر بعد میں بات کریں گے“ مسعود صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ بہت خوش نظر آرہے تھے۔ ”ویسے یہ بتادوں کہ زرینہ کے معاملے میں مجھ سے تمہیں شکایت نہیں، بلکہ میں تمہارا احسان مند ہوں کہ تم نے مجھے تلافی کا موقع دیا۔“ عبدالحق کی نگاہوں میں الجھن دیکھ کر انہوں نے وضاحت کی۔ ”دیکھونا، میرے کیمپ میں ہی اس کے ساتھ یہ دھوکہ ہوا۔ اور نجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوا ہوگا۔ تو کیمپ کا انچارج ہونے کی حیثیت سے اس کا ذمہ دار میں ہوں۔ میں کیوں بے خبر رہا۔ میں رات کو اپنے گھر میں سکون سے سوتا رہا، اور یہاں جمیل یہ سیاہ کارنامے انجام دیتا رہا۔“ اتنا کہتے کہتے وہ چونکے۔ ”لیکن جمیل اکیلا تو نہیں ہوگا“
”جی سر، کیمپ میں ایک شخص ہے مجید وہ اس کا ساتھی تھا“
” اسے فوری طورپر کیمپ سے نکالنا ہوگا، بلکہ بلیک لسٹ کرنا ہوگا اسے۔ اور ہاں، اب مجھے یقین ہوگیا کہ افضال صاحب بن رہے ہیں۔ وہ بھی تمہاری طرح زرینہ کو رسوائی سے بچانے کی کوشش کررہے ہوںگے۔“
”نہیں سر، مجھے یقین ہے کہ یہ بات نہیں ہے۔“
”خیر.... یہ بات تو کھل جائے گی۔ پولیس کی مار کے سامنے تو گونگے بھی بول پڑتے ہیں۔“
”کیا مطلب؟“ عبدالحق بری طرح بھڑکا۔ ”کیا تھانے میں ان پر تشدد کیا جائے گا۔“
”تو اور کیا۔ ریمانڈ کا یہی تو مطلب ہوتا ہے برخوردار۔ مگر ہمیں ان کیلئے کچھ ....“ وہ بات پوری نہیں کرپائے۔ کیونکہ اسی لمحے ان کا ڈرائیور اندر آیا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
”کیا ہوا.... خیریت تو ہے؟“
”صاب جی، بیگم صاب کی طبیعت خراب ہوگئی۔ میں انہیں اسپتال چھوڑ کر آرہا ہوں۔“
”وہاں ان کے ساتھ کون ہے؟“
”بڑی بی بی ہیں صاب جی“
مسعود صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔ ”میں چلتا ہوں برخوردار۔ تم دعا کرنا ہماری اہلیہ کے لئے۔“
عبدالحق ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اسے ایک اور اہم کام کرنا ہے۔ وہ افضال صاحب کی طرف سے پریشان تھا۔
........x........
اس بار تھانے دار کا رویہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ اس کی رعونت دیکھ کر عبدالحق حیران رہ گیا۔ وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ تھانے دار نے اسے بری طرح جھڑکتے ہوئے کہا ”اوئے یہاں کیا منہ اٹھائے چلے آرہے ہو۔ ادھر جاﺅ، ہیڈمحرر سے بات کرو۔“ اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔
عبدالحق کو غصہ تو بہت آیا۔ لیکن وہ خاموشی سے اس طرف چلا گیا۔
ہیڈ محرر سرجھکائے رجسٹر میں کچھ اندراج کررہا تھا۔ عبدالحق نے کہا ”سنئے....“
”ذرا صبر کرو۔ دیکھتے نہیں، کام کررہا ہوں۔“
عبدالحق کو چند منٹ انتظار کرنا پڑا۔ پھر ہیڈمحرر نے سراٹھایا اور پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا۔ ”کیا ہے؟“ مگر پھر اس نے عبدالحق کو غور سے دیکھا۔ شاید اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ تگڑی اسامی ہے۔ ”کوئی رپٹ لکھوانی ہے؟“ اس نے نسبتاً نرم لہجے میں پوچھا۔
”نہیں.... مجھے افضال صاحب سے ملنا ہے۔“
”کون افضال صاحب،؟ اس تھانے میں تو اس نام کا کوئی افسر نہیں“
”وہ افسر نہیں ہیں۔ قتل کے الزام میں حوالات میں ہیں۔“
”تو ملزم کو صاحب بولتے ہو۔“ ہیڈ محرر گویا برا مان گیا۔ ”اور وہ بھی قاتل۔ تمہیں کیوں ملنا ہے اس سے۔ رشتہ دار ہے تمہارا۔“
”یہی سمجھ لیں۔ اور ان کی دماغی حالات ٹھیک نہیں۔ وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ انہیں اپنا نام بھی نہیں معلوم۔“
ہیڈمحرر نے سامنے بیٹھے کانسٹیبل سے پوچھا۔ ”وہ بڈھا کہاں ہے.... قتل کے کیس والا؟“
”وہ تو جی تفتیش والے کمرے میں ہے۔“
ہیڈمحرر نے قہقہہ لگایا۔ ”اب اسے سب یاد آجائے گا۔ سب کو پہچاننے لگے گا۔“
عبدالحق کا دل ڈوبنے لگا۔ ”تفتیش والے کمرے میں کیا ہوتا ہے؟“
”تفتیش کی جاتی ہے۔ سچ اگلوایا جاتا ہے۔“
”مارپیٹ ہوتی ہے؟“
”اوئے بھولے بادشاہ، چھترول کے بغیر کوئی سچ بولتا ہے۔“ ہیڈ محرر نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔
”یہ تو غلط ہے“ عبدالحق تڑپ گیا۔ ”وہ تو ویسے ہی دماغی خلل میں مبتلا ہیں۔“
”تم ان کے رشتہ دار تو نہیں ہوسکتے“
”یہ کیسے کہہ رہے ہیں آپ“
”میں نے پہلے بھی پوچھی تھی یہ بات۔ تم نے بولا، یہی سمجھ لو، اس کا مطلب ہے، رشتہ دار نہیں ہو۔ اور رشتہ دار ہوتے تو ان کی بھلائی کی فکر کرتے۔“
”کس طرح؟“
”اوئے کوئی چائے پانی کا خرچہ دیتے۔ کچھ اس کی فکر کرتے۔ تم نے تو اس کے کھانے کی بھی فکر نہیں کی۔