”کی تھی۔ بڑے صاحب تھانے دار صاحب کو پیسے دے رہے تھے۔ انہوں نے منع کردیا۔“
”کون بڑے صاحب ؟“ ہیڈ محرر کچھ محتاط نظر آنے لگا۔
”مسعود احمد خان صاحب۔ رفیوجی کیمپ کے انچارج ہیں۔ بڑے افسر ہیں وہ۔“
اچانک تھانے دار اٹھا اور باہر چلا گیا۔ عبدالحق کو لگا کہ وہ مسعود صاحب کا نام سن کر دانستہ باہر گیا ہے۔
ادھر ہیڈمحرر مزید محتاط ہوگیا۔ لہجے میں بھی کچھ شائستگی آگئی۔ ”دیکھوجی، ہمیں تفتیش تو کرنی ہے۔ نہیں تو کیس کیسے پیش کریں گے عدالت میں۔ اور پر معاملہ قتل کا ہے۔“
”مگر وہ تو تقریباً پاگل ہیں“ عبدالحق نے احتجاج کیا۔
دستک کے جواب میں دروازہ کھلا اور دس بارہ سال کے ایک لڑکے نے باہر جھانکا۔ ”جی، فرمائیے“؟
”رضوان صاحب یہیں رہتے ہیں“؟ عبدالحق نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔ وہ سوچ رہا تھا، کاش انکار میں جواب ملے۔
”جی ہاں“۔
مایوسی کی وجہ سے چند لمحے وہ کچھ بول ہی نہیں سکا۔ پھر اس نے سنبھل کر پوچھا۔ ”وہ موجود ہیں“۔
”جی ہاں“۔
”مجھے ان سے ملنا ہے“۔
”آپ کا نام“؟
”عبدالحق“۔
”آپ یہاں رکیں۔ میں اباجان کو بلاتا ہوں“۔
لڑکا اندر چلا گیا۔ پھر عبدالحق وہیں کھڑا رہا۔ ذرا دیر بعد ایک اد ھیڑ عمر شخص باہر آیا۔ اس کے چہرے سے شرافت اور متانت عیاں تھی لیکن مزاج کا سخت لگتا تھا۔
عبدالحق نے اسے سلام کیا۔ ”جی....فرمائیے“۔ اس نے سلام کا جواب دینے کے بعد کہا۔ ”میرا خیال ہے، میں نے آپ کو پہلے کبھی نہیں دیکھا“۔
”جی ہاں۔ میں آپ کے لئے اجنبی ہوں لیکن آپ میرے لئے اجنبی نہیں ہیں“۔
”میں سمجھا نہیں“۔
وہ خشک لجہ، وہ بے مہری عبدالحق کےلئے بہت دل شکن تھی....اور وہ بھی ٹوٹے ہوئے دل کےلئے۔ ”آپ کا تعلق آگرہ سے ہی ہے نا“؟
”آپ کا اس سے کیا تعلق“؟ رضوان صاحب نے مشتبہ نظروں سے اسے دیکھا۔
”دیکھئے....میں بہت دنوں سے آپ کی تلاش میں بھٹک رہا ہوں۔ مگر سب سے پہلے مجھے تصدیق کرنی ہے کہ آپ وہی رضوان صاحب ہیں یا نہیں“۔
”بات کیا ہے“؟
”آپ کی ایک امانت ہے میرے پاس“۔
”حیرت ہے،، جبکہ آپ مجھے جانتے ہیں، نہ میں آپ کو جانتا ہوں“۔
”آپ میرے سوال کا جواب تو دیجئے۔ آپ ہندوستان میں آگرہ میں ہی رہتے تھے نا“؟
رضوان صاحب کچھ ہچکچائے۔ پھر انہوں نے اثبات میں سر ہلادیا۔
”آپ کے ایک بھائی دہلی میں رہتے تھے“۔
اچانک رضوان صاحب کا انداز بدل گیا۔ ”آپ اندر آئیے....“ انہوں نے کہا۔
وہ عبدالحق کو بیٹھک میں لے گئے۔ ”بیٹھئے“، انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ ”آپ چائے لیں گے یا شربت“۔
”جی کچھ نہیں“۔ عبدالحق نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
رضوان صاحب نے اصرار بھی نہیں کیا۔ ”یہ باتیں باہر کرنا مناسب نہیں تھا“۔ وہ بولے۔ ”دہلی میں بڑے بھائی رہتے تھے لیکن ان کا تو ہندوستان بننے سے دس سال پہلے انتقال ہوگیا تھا“۔
”آپ کی بھابھی اور ان کی تین بیٹیاں....“
”جی ہاں۔ جی ہاں“۔
عبدالحق کا دل ڈوبنے لگا۔ اس کا کچا دھاگا بھی ٹوٹ رہا تھا۔
”آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کے پاس میری ایک امانت ہے“۔
”جی ہاں، دیکھئے، میں نے اپنے ملازم کو آپ کی تلاش میں آگرہ بھیجا تھا۔ مگر آپ ہجرت کرچکے تھے“۔
؛جی ہاں،،....ہم جون میں ہی یہاںآ گئے تھے ،،
’اب میں کئی ماہ سے آپ کو یہاں تلاش کررہا ہوں۔ بڑی مشکل سے آپ کا پتا ملا ہے“۔
”آپ مجھے بھابھی جان اور بچیوں کے متعلق بتائیے نا“۔ رضوان صاحب کے لہجے میں بے تابی تھی۔
”مجھے افسوس ہے۔ کوئی اچھی خبر نہیں ہے آپ کےلئے۔ ان کے گھر پر شرپسندوں نے حملہ کیا تھا۔ آکا میاں، چھمن بوا، ماں جی اور ان کی دو بیٹیوں کو شہید کردیا گیا۔ ان کی ایک بیٹی نوربانو البتہ بچ گئی۔ وہی آپ کی امانت ہے میرے پاس“۔
”نوربانو....وہ بیچ کی لڑکی“۔ رضوان صاحب نے بے ساختہ کہا۔ پھر چونکے“۔ آکامیاں اور چھمن بوا کا جس طرح آپ نے تذکرہ کیا ہے، اس سے لگتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے بہت قریب تھے“۔
”جی....ہم لوگ انہی کے مکان میں اوپر والے حصے میں کرائے دار تھے“۔
رضوان صاحب کی رنگت متغیر ہوگئی۔ ”میرے بچے نے تو....“ وہ کہتے کہتے رک گئے۔ ”آپ کا نام کیا ہے“؟
”میرا نام عبدالحق ہے“۔
”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بھابھی جان کے کرایہ دار تو ہندو تھے اور میں نے بھابھی جان کو خط لکھا تھا کہ حالات اچھے نہیں ہیں۔ آپ ان لوگوں سے چھٹکارا پالیجئے“۔ رضوان نے تلخی سے کہا، ”مگر وہ کہاں سنتی تھیں کسی کی“۔
”میں انہی میں سے ہوں۔ ہم سب پاکستان بننے سے پہلے مسلمان ہوگئے تھے“۔ عبدالحق نے بے حد تحمل سے کہا۔
”نوربانو کیسے بچ گئی؟“ رضوان صاحب نے شک آمیز لہجے میں کہا۔ ”جبکہ گھر کے تمام لوگ ختم ہوگئے“۔
”زندگی اور موت تو اللہ کے اختیار میں ہے“۔
”ابھی تمہیں مسلمان ہوئے چند ماہ ہوئے ہیں اور تم مجھے دین پڑھارہے ہو، بہت خوب....ماشااللہ۔ چلو زندہ تو بچ گئی۔ مگر ویسے تو نہیں بچی ہوگی۔ ایک بات بتاﺅ، جب کی یہ بات ہے، تم مسلمان ہوچکے تھے؟“۔
”جی نہیں“۔
”تو ہندوﺅں نے اس کی جان اور آبرو کی حفاظت کی۔ یہی باور کرانا چاہ رہے ہو تم“۔ رضوان صاحب نے زہریلے لہجے میں کہا۔
عبدالحق کا چہرہ تمتما اٹھا۔ ”اللہ ہی سب کا محافظ ہے“، جان و مال کا بھی اور عزت و آبرو کا بھی“۔ اس نے ذرا تیز لہجے میں کہا۔ ”اور میں آپ کو کچھ باور نہیں کرارہا ہوں۔ میں تو آپ کی امانت لوٹانے کے لئے آیا ہوں“۔
”میری کوئی امانت تمہارے پاس نہیں تھی۔ وہ میری امانت نہیں“۔ رضوان صاحب کا لہجہ بہت سخت ہوگیا۔
”وہ آپ کا خون ہے۔ آپ کی بھتیجی ہے۔ آپ سے ملنے کو، آپ کے سائے میں آنے کو کب سے ترس رہی ہے“۔
”وہ میرے لئے مرچکی ہے....اپنی ماں اور بہنوں کی طرح“۔
”جسے اللہ نے بچالیا، وہ کیسے مرسکتا ہے....محض آپ کے کہنے پر“
”تم مجھ سے بے کار بحث مت کرو“۔ رضوان صاحب اب واضح طور پر مشتعل ہوگئے تھے۔ ”ہمارے لئے ہر چیز سے زیادہ اہم عزت ہے“۔
”اور عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے“۔
”یہ تم بار بار اللہ کو بیچ میں لاکر کیا جتارہے ہو مجھے“۔
”میں کچھ جتانہیں رہا ہوں۔ اللہ کے الفاظ دہرارہا ہوں۔ اور یہ بھی بتادوں کہ آپ کے خدشے بے بنیاد ہیں۔ نوربانو پہلے جیسی معصوم اور پاکیزہ ہیں۔ ان پر تو کسی کی میلی نگاہ بھی نہیں پڑی“۔
”تمہیں پارسائی کی سند جاری کرنے کا اختیار کس نے دیا ہے“۔
”میں تو صرف حقیقت بتارہا ہوں“۔
”میری بات سنو۔ میرے گھر میں بھی بیٹیاں ہیں۔ میں ان پر ایسی کسی لڑکی کا سایہ بھی نہیں پڑنے دوں گا“۔
”یہ بتائیں، میں ان سے جاکر کیا کہوں؟“
”یہی کہ وہ ہمارے لئے مرچکی ہے“۔
”تاکہ وہ جیتے جی مرجائیں“۔
”جیتے جی تو وہ پہلے ہی مرچکی ہے“۔ رضوان صاحب نے بے مہری سے کہا۔ ”سنو میاں، مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارا ہی بوجھ ہے۔ تمہیں ہی اٹھانا چاہئے اپنا بوجھ۔ تو ایسا کرلو کہ اس سے شادی کرلو“۔
عبدالحق کا چہرہ لال بھبھوکا ہوگیا، مٹھیاں بھنچ گئیں۔ لیکن اس نے تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ”یہ کام آپ کے گھر سے ہو تو میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں گا“۔ اس نے نرم لہجے میں کہا۔
”مجھے جو کہنا تھا، کہہ چکا۔ اب تم جاسکتے ہو“۔
عبدالحق اٹھ کھڑا ہوا۔ ”اللہ نے آپ کی بچیوں کی حفاظت فرمائی۔ آپ وہ کچھ دیکھنے سے بچ گئے، جو ہزاروں لوگوں کا مقدر بنا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آپ شکرگزار ہوتے۔ لیکن آپ تو اپنے خون سے بھی منہ پھیرلینے والے بن گئے۔ آپ اپنی بن ماں باپ کی بھتیجی کےلئے باپ بننے کے بجائے بے رحم ہوگئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے....“
”تم چلو ناشتہ کرلو، آﺅ میرے ساتھ۔“ دادی ارجمند کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولیں۔
”لیکن میں....“
دادی نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”میں نے کہانا، تم ان کے ساتھ بھی کر لینا ناشتہ۔“
”بھوک سے مجبور ہو کر وہ سب کچھ بھول گئی تھی۔ لہٰذا ناشتے پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن پیٹ بھرتے ہی اس کا دماغ پھر کام کرنے لگا۔ ”توبہ، کیسی نحوست پھیلی ہوئی ہے گھر میں۔“ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
دادی ہنسنے لگیں۔ ”کوئی بھی نہیں۔ آج تو گھر میں برکت ہی برکت ہے۔“
اس نے حیرت سے دادی کو دیکھا۔ ”دن چڑھے تک سونے سے نحوست نہیں ہوتی گھر میں؟ آپ ہی تو کہتی تھیں۔“
”ہوتی ہے۔ لیکن گھر میں کسی کی شادی ہو جائے تو چالیس دن تک نحوست اس گھر میں گھس ہی نہیں سکتی۔“
”اتنی اچھی چیز ہے شادی۔“
”تو اور کیا۔ کسی کی شادی ہوتی ہے تو اللہ میاں خوش ہوتے ہیں۔“
اللہ میاں پر اسے خیال آیا کہ اب تو اس کے اور پھپھو کے سوا سب لوگ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں اور پھپھو کہتی ہیں کہ وہاں جاکر کوئی واپس نہیں آتا۔ وہ اداس ہو گئی۔ اب وہ ان سے کبھی نہیں مل سکے گی۔ ہاں وہ بھی اللہ میاں کے پاس چلی جائے تو اور بات ہے۔ لیکن ابھی تو وہ یہ پسند نہیں کرے گی۔ ابھی تو اسے شہزادے سے شادی کرنی ہے۔
وہ ان سب لوگوں کے بارے میں سوچنے لگی.... دادا، دادی، ماں باپ، چچا چچی۔ اب وہ سب اللہ میاں کے پاس ہیں۔ اللہ.... اللہ میاں کا گھر کیسا ہو گا۔ یقینا بہت بڑا ہو گا.... اور بہت خوب صورت۔ وہاں بھی وہ سب لوگ صبح سویرے اٹھتے ہوں گے۔ اور کبھی کوئی دن چڑھے تک سوتا ہو گا تو گھر میں نحوست.... نہیں، دادی کہتی تھیں کہ اللہ کے ذکر سے، اس کے کلام سے نحوست دور ہوتی ہے۔ تو اللہ کے گھر میں نحوست کیسے ہو سکتی ہے۔ ہاں اللہ میاں دیر تک سونے والے کو ڈانٹ کر اٹھاتے ہوں گے....
اس کی نظر شہزادے کی تصویرپر پڑی۔ چھوڑو ان باتوں کو۔ پھپھو کو یہ تصویر دکھانی ہے۔ پھپھو کتنی خوش ہوں گی۔
وہ پھپھو کے کمرے کی طرف چل دی۔ یہ پھپھو اتنے لوگوں کو دیکھتی ہیں، ملتی ہیں، ان سے باتیں کرتی ہیں لیکن شادی کسی سے نہیں کرتیں۔ کوئی پسند ہی نہیں آتا انہیں۔ اس نے سوچا۔ پھر خود ہی بڑبڑائی۔ کوئی اچھا ہوتا بھی نہیں۔ اچھے لوگ کیوں نہیں آتے۔ مگر پھر پھپھو دیر تک کیوں سوتی ہیں۔ بلکہ یہاں تو سبھی دیر تک سوتے ہیں اور شادی کسی کی نہیں ہوتی۔
وہ دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئی۔ اندر کا منظر عجیب تھا۔ چار لڑکیاں تو مسہری پر سوئی ہوئی تھیں۔ دو نیچے فرش پر بچھے بستر پر پھیلی ہوئی تھیں۔ پھپھو کا بستر الگ تھا۔ ان کے ساتھ کوئی نہیں سوتا تھا۔
اب پھپھو کو جگانا، ایسے کہ کسی اور لڑکی کی نیند خراب نہ ہو، آسان کام نہیں تھا۔ یہاں نیند خراب کرنے پر لوگوں کو بہت غصہ آتا تھا۔ اس پر بہت ڈانٹ پڑ چکی تھی اسے۔ بلکہ ایک بار تو اس منحوس بوا نے اس کے کان اتنے زور سے کھینچے تھے کہ دو دن تک درد ہوتا رہا تھا کانوں میں۔ صرف اس بات پر کہ ایک لڑکی نے بوا سے اس کی شکایت کر دی تھی نیند خراب کرنے پر۔
بوا چاہتی تھی کہ وہ اسے نانی کہا کرے۔ لیکن اس نے یہ بات کبھی نہیں مانی۔ وہ تو بوا کو سخت ناپسند کرتی تھی.... بغیر کسی وجہ کے۔ اور بعد میں تو وجوہات بھی مل گئی تھیں اسے۔ ایک تو وہی کان کھینچنے والی بات تھی۔ پھر اس نے پھپھو کا نام نرگس رکھ دیا تھا جبکہ پھپھو کا اتنا اچھا نام تھا.... نادرہ۔ اس نے یہ بات پھپھو سے بھی کہی تھی۔
”یہ سب لوگ اچھے نہیں ہیں گڑیا.... بہت برے ہیں۔“ پھپھو نے اسے سمجھایا تھا۔ ”اس لئے میں نہیں چاہتی کہ یہ میرا نام لیں۔ میں نے خود انہیں اپنا نام نرگس بتایا ہے۔“
وہ کچھ دیر سوچتی رہی تھی۔ اس لمحے پھپھو اسے بہت اچھی لگی تھیں۔ انہیں اپنے اچھے نام کی کتنی فکر تھی۔ پھر اس نے کہا۔ ”تو پھپھو، مجھے بھی اپنا نام ارجمند بہت اچھا لگتا ہے۔ تو میں انہیں ارجی کہنے دوں خود کو۔“
”ہاں.... کیوں نہیں۔“ پھپھو نے کہا تھا۔
مگر اب بھی کبھی کبھی اپنے لئے ارجی سن کر وہ بھڑک اٹھتی تھی....
اس نے پھپھو کے کان سے ہونٹ ملائے اور سرگوشی میں اسے پکارنے لگی۔ ساتھ ہی وہ ہاتھوں سے اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ ”پھپھو.... اچھی پھپھو.... جلدی سے اٹھ جائیں۔ ایک زبردست خبر ہے۔ اٹھ جائیں نا پھپھو....“
گڑھا بہت گہرا تھا۔ اور ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ نادرہ کو احساس تھا کہ وہ کمر تک کیچڑ میں پھنسی ہوئی ہے۔ بدبو اور تعفن اتنا شدید تھا کہ وہ اندازہ کر سکتی تھی کہ وہ محض کیچڑ نہیں ہے۔ بلکہ بدترین نوعیت کی غلاظتوں کا آمیزہ ہے۔ بدبو سے اس کا دماغ پھٹا جارہا تھا۔ اور وہ ناک بھی بند نہیں کر سکتی تھی۔ کیونکہ اس کے ہاتھ بھی لتھڑے ہوئے تھے۔
اس نے پہلو بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنی ٹانگوں کو حرکت ہی نہیں دے سکی۔ اس سے اسے اندازہ ہوا کہ غلاظتوں کا وہ آمیزہ کیچڑ نہیں، بلکہ دلدل ہے۔ اور وہ یہاں سے نکل ہی نہیں سکتی۔
بے بسی کے شدید احساس سے ان کا دماغ شل ہو گیا۔
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ اوپر سیاہی مائل نیلگوں آسمان اسے کسی گٹر کے ڈھکنے کی طرح لگا۔ اور وہ ڈھکنا بہت چھوٹا تھا۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ جتنا چھوٹا لگ رہا ہے، اتنا ہو گا نہیں۔ کیونکہ اس نے گڑھے میں کھڑے کھڑے اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح سے پھیلا کر دیکھا تھا اور وہ گڑھے کی دیواروں کو نہیں چھو سکے تھے۔ اس سے گڑھے کا قطر کا وہ اندازہ لگا سکتی تھی جبکہ ستاروں سے محروم آسمان کا وہ ڈھکنا بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
اس ڈھکنے کی وجہ سے گڑھے کی گہرائی اسے لامتناہی محسوس ہورہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسا ہے نہیں۔ جہاں آسمان کے سوا کچھ دکھائی نہ دے، وہاں تو فاصلہ زیادہ ہی لگے گا۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ تھی کہ گڑھا بہت کم گہرا ہو، تب بھی وہ اس میں سے نہیں نکل سکتی۔ کیونکہ وہ اپنے قدموں کو حرکت ہی نہیں دے سکتی۔ اور نہ ہی وہ کسی دیوار کا سہارا لے سکتی ہے۔
بدبو اور تعفن کی وجہ سے اس کا دماغ ماﺅف ہوا جارہا تھا۔ وہ زور سے پکار کر اللہ سے مدد مانگنا چاہتی تھی۔ لیکن اتنی گندگی میں یہ مناسب نہیں تھا۔ ہاں.... دل میں وہ دعا کر سکتی تھی۔
سو وہ دل میں دعا کرتی رہی کہ اللہ اسے اس گڑھے سے نجات دے۔ پھر اس نے سر اٹھا کر بلند آواز میں پکارا۔ کوئی ہے.... ارے کوئی ہے۔ میری مدد کرو۔ مجھے یہاں سے نکالو۔“
وہ بار با پکارتی رہی۔
پھر اچانک جیسے آسمان کے اس ڈھکنے میں رخنہ نمودار ہوا.... ایک انسانی ہیولا، جس نے جھک کر اسے دیکھا۔
”پلیز.... پلیز مجھے نکالو یہاں سے۔“ وہ گڑگڑائی۔ اب زور سے چیخنے کی ضرورت نہیں تھی۔
جواب میں ایک ہاتھ نیچے کی طرف آیا۔ ”لو.... میرا ہاتھ تھام لو۔“
ہاتھ بڑھاتے بڑھاتے ایک خیال کے تحت اس نے واپس کھینچ لیا۔ وہ آواز جانی پہچانی تھی۔ ”کون ہو تم؟“
”تمہیں اس سے کیا؟ تم باہر نکلنا چاہتی ہو اور میں تمہاری مدد کررہا ہوں۔“
”نہیں.... میرے لئے اس کی بھی اہمیت ہے۔ پہلے تم بتاﺅ کہ تم کون ہو؟“ وہ اس آواز کو پہچان چکی تھی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی میں ایک لمحے کے لئے بھی نہ وہ اس صورت کو بھولی تھی نہ اس آواز کو۔
پھر جواب سے اس کے اندازے کی تصدیق ہو گئی۔ ”میں اوتار سنگھ ہوں۔“ آواز نے کہا۔
”میں نہیں چاہتی کہ تم مجھے نکالو۔“
”لیکن کیوں؟“
”کیونکہ تم مشرک ہو۔“
”اوہ۔“ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا۔ ”اور اس گڑھے میں تمہیں کس نے گرایا ہے۔ وہ کوئی مشرک تو نہیں تھا۔“
”مگر یہ سب کچھ ہوا تو تم مشرکوں ہی کی وجہ سے ہے۔“
”وہاں کی چھوڑو، یہاں کی بات کرو۔ تم تو اپنے وطن میں، اپنوں کے ہاتھوں غلاظت کے اس گڑھے میں گری ہو۔“
وہ خاموش رہی۔ اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
”لاﺅ.... ہاتھ دو مجھے۔“
”نہیں.... یہ نہیں ہو سکتا۔“
پھر اچانک اوتار سنگھ کی آواز بدل گئی۔ وہ کسی چھوٹی سی بچی کی آواز میں بولنے لگا۔ ”پھپھو.... اچھی پھپھو....“
وہ حیران رہ گئی۔ ”یہ کیا....؟“
”اچھی پھپھو.... جلدی سے اٹھ جائیں۔“
”یہ تمہاری آواز کو کیا....؟“
”ایک زبردست خبر ہے.... اٹھ جائیں نا پھپھو۔“
اور اوتار سنگھ کا ہاتھ جیسے لمبا ہوتا گیا.... اتنا لمبا کہ اس تک پہنچ گیا اور اسے