Google
 

:: 25 عشق کا شین
“جھنجھوڑنے لگا۔
”ہاتھ ہٹاﺅ.... مت چھوﺅ مجھے۔“
اور نادرہ کی آنکھ کھل گئی۔ اسے احساس ہوا کہ ارجمند کی کلائی اس کے ہاتھ میں ہے، اور اس کی گرفت بہت سخت ہے۔ ارجمند کے چہرے پر تکلیف کا تاثر تھا۔ ”کیا ہوا گڑیا؟“
”آپ میرا ہاتھ تو چھوڑیں نا پھپھو۔“
نادرہ نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ ”اب بولو، کیا بات ہے۔“
”دوسرے کمرے میں چلیں۔ میں آپ کو کچھ دکھاﺅں گی۔“
نیند تو اب بھی آرہی تھی۔ لیکن اس خواب کے بعد اب وہ سونا نہیں چاہتی تھی۔ ”اچھا.... تم چلو۔ میں منہ دھو کر آتی ہوں۔“
منہ پر پانی کے چھپکے مارتے ہوئے وہ اس خواب کے بارے میں سوچتی رہی۔ تھوڑے سے ردوبدل کے ساتھ یہ خواب وہ ہر دوسرے تیسرے دن دیکھتی تھی۔ اس کی وجہ بھی وہ سمجھتی تھی۔ اوتار سنگھ اس کی پہلی اور آخری محبت تھا۔ اس کے بارے میں وہ ہمیشہ ایک ہی بات سوچتی تھی۔ کاش.... کاش وہ مسلمان ہوتا۔ وہ اپنی محبت سے تو لڑتی رہی۔ لیکن وہ اسے بھلا کبھی نہیں سکی۔
اس وقت بھی اس نے سوچا.... کاش وہ مسلمان ہوتا۔
لیکن ابھی دیکھے ہوئے خواب کا اثر شاید تازہ تھا۔ اس کے اندر سے کسی نے کہا.... چاہے رشید جیسا مسلمان ہوتا!
اس نے آئینے سے نظریں چرالیں اور تولئے سے چہرہ پونچھنے کے بعد کمرے کی طرف چل دی، جہاں ارجمند اس کی منتظر تھی۔
٭....٭....٭
”ہاں، اب بتاﺅ، وہ کیا بڑی خبر ہے، جس کے لئے تم نے میری نیند خراب کی؟“ اس نے ارجمند کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
”بہت بڑی خبر ہے پھپھو۔“
”بتاﺅ تو۔“
”خبر یہ ہے پھپھو کہ مجھے میرا دولہا مل گیا۔“
فرط حیرت سے نادرہ کا منہ کھل گیا۔ ”ارے.... کیا واقعی؟ لیکن کیسے؟ اور کہاں؟“
”آپ تو اندر چلی گئی تھیں۔ میں کوٹھے پر تھی، تب میں نے انہیں دیکھا۔ وہ نیچے تھے“۔
نادرہ کو ہنسی آگئی، ارجمند اسی لہجے میں بات کررہی تھی، جیسے لڑکیاں کسی کو اپنے منگیتر کے بارے میں بتاتی ہیں۔ ”یہ بتاﺅ، کیا وہ اوپر بھی آئے تھے؟“
اس نے اسی کے انداز میں اس سے پوچھا۔
”نہیں پھپھو، اوپر تو نہیں آئے وہ“۔ ارجمند نے بڑی معصومیت سے کہا۔
”تم بھی پگلی ہو۔ ضروری نہیں کہ وہ تمہیں نظر بھی آئیں“۔
”نہیں پھپھو۔ بس کچھ بھی ہو، میں تو شادی انہی سے کروں گی“۔
”ارے بے وقوف، اب تم انہیں دوبارہ دیکھو گی تو پہچان بھی نہیں سکو گی“۔
”کیسی باتیں کرتی ہیں۔ انہیں تو میں کبھی نہیں بھولوں گی“۔ ارجمند نے خفا ہوکر کہا۔
نادرہ کو پھر ہنسی آگئی۔ مدت کے بعد ایسی بے ساختہ ہنسی آئی تھی۔ ارجمند کی معصومیت نے اس کے دل میں سچی خوشی کا ایسا پھول کھلایا تھا، جسے وہ ترس ہی نہیں رہی تھی، بلکہ بھول ہی چکی تھی۔ اس نے ارجمند کو لپٹا کر پیار کرلیا۔ ”تو تم انہیں کہیں بھی دیکھو گی تو پہچان لوگی۔ اور وہ تمہیں ملیںگے بھی ضرور۔ اچھا یہ بتاﺅ، کیسے تھے وہ۔ یہ تو یاد ہوگا تمہیں“۔
ارجمند کھل اٹھی۔ ”دکھاﺅں آپ کو“۔
نادرہ حیران رہ گئی۔ ”تو کیا اب بھی نیچے کھڑے ہیں وہ؟“
”ارے پھپھو، آپ بھی پگلی ہیں بس“۔ ارجمند نے اسی کے انداز میں کہا۔ ”میں نے تو تصویر بنالی تھی ان کی“۔
نادرہ کا دل دکھنے لگا۔ معصوم بچی کو جانے کن کن مرحلوں سے گزرنا تھا زندگی میں۔ اور وہ ابھی سے دکھوں کا سامان کررہی تھی۔
”دکھاﺅں آپ کو ؟“
”ہاں ضرور“۔
ارجمند نے ڈرائنگ کی کاپی کھولی اور تصویر والا صفحہ اس کے سامنے کردیا۔
نادرہ ہکا بکا رہ گئی۔ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ”اوتار سنگھ!“
ارجمند نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”آپ جانتی ہیں انہیں؟ یہ ان کا نام ہے.... اوتار سنگھ؟“
نادرہ نے بہت تیزی سے خود کو سنبھالا ۔ ”نہیں گڑیا۔ البتہ ان کی صورت ملتی ہے اوتار سنگھ سے“۔
”اوتار سنگھ کون تھے؟“
”میرے ساتھ کالج میں پڑھتے تھے.... میری کلاس میں۔ لیکن یہ وہ نہیں ہوسکتے۔ ہاں شکل بہت ملتی ہے“۔
”یہ اوتار سنگھ وہی ہیں نا، جن کے بارے میں آپ بہت باتیں کرتی ہیں مجھ سے ۔ ہے نا“؟
”ہاں گڑیا“۔ نادرہ نے جھجکتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
”آپ کو یہ بہت اچھے لگتے تھے؟“
”اچھا تو یہ تھا۔ مگر ہندو تھا۔ بہت اچھا کیوں لگتا مجھے“۔
”لیکن یہ ہندو نہیں ہیں‘۔ ارجمند نے زور دے کر کہا۔
”تم ٹھیک کہہ رہی ہو گڑیا، ہندو ہوتا تو یہاں کیوں ہوتا“۔ نادرہ نے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”اچھا گڑیا، اب میں سو جاﺅں، بہت نیند آرہی ہے مجھے“۔
”دن چڑھے تک سونا نحوست ہوتا ہے۔ پھپھو ، یاد ہے، دادی کہتی تھیں“۔
نادرہ اداس ہوگئی۔ ”نحوست سے بھاگنا ہی تو چاہتے ہیںہم۔ مگر راستہ ہی نہیں ملتا“۔
نیند کا تو بس بہانہ تھا۔ نیند اب کیسے آسکتی تھی۔ وہ تو بس سکون سے اوتار سنگھ کے بارے میں سوچنا چاہتی تھی۔
لفظ محبت ایک اسی نام کے ساتھ تو جڑا تھا۔ لفظ اس لئے کہ محبت تو وہ کرکے بھی نہیں کرسکتی تھی۔ بس وہ بار بار یہی سوچتی کہ کاش .... کاش وہ مسلمان ہوتا۔ لیکن لفظ کاش دنیا کا سب سے بے فیض لفظ ہے۔ اس سے معاملات درست بھی نہیں ہوتے۔ اور حسرت پکی ہوجاتی ہے۔
اسی نے بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں اور سوچنے لگی۔
تصویر تو وہ اوتار سنگھ ہی کی لگتی تھی۔ کہیں بال برابر بھی فرق نہیں تھا۔ لیکن عقلی طو رپر اس کا یہاں ہونا ممکن نہیں تھا۔ اوتار سنگھ تو دہلی میں تھا۔ تقسیم کے بعد وہ یہاں کیوں آتا۔ ہندو تو الٹا یہاں سے بھاگ رہے تھے۔ ایسے میں کسی ہندو کا دہلی سے لاہور آنا خلاف عقل تھا۔
دوسری بات .... اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ لاہور آگیا تھا، تو اس کا یہاں .... اس بازار میں.... ہیرا منڈی میں کیا کام؟ یہ دوسری بات تو پہلی سے بھی زیادہ ناممکن تھی۔ اس نے اوتار سنگھ کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ریٹا پارسن کے گھر میں ہونے والی پارٹی اسے یاد تھی۔ اسے ریٹا کی نظریں بھی یاد تھیں۔ وہ اوتار سنگھ کو پانے کے لئے کچھ بھی کرسکتی تھی۔ اور پھر جس طرح، بالکل اچانک وہ انگلینڈ واپس گئی تھی، حالانکہ اس سے پہلے اس کا یہی کہنا تھاکہ وہ یہاں سے کبھی واپس نہیں جائے گی، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اوتار سنگھ نے اسے مایوس کردیا تھا۔
اوتار سنگھ عجیب آدمی تھا۔ اس میں تعصب کی بجائے وسیع النظری تھی۔ نفرت تو وہ کسی سے کرتا ہی نہیں تھا۔ شراب وہ نہیں پیتا تھا۔ کردار کی مضبوطی ایسی تھی کہ ایک نہایت آزاد خیال انگیز لڑکی بھی اسے ورغلا نہیں سکی۔ محمود کی موت پر کالج میں ہونے والا تعزیتی جلسہ اسے یاد تھا۔ اس روز اس نے اوتار سنگھ کا ایک نیا روپ دیکھا تھا۔
رام گوپال ہمیشہ کی طرح ہرزہ سرائی کررہا تھا۔ شاید اس نے اوتار سنگھ کو کوئی طعنہ دیا تھا۔ جواب میں اوتار سنگھ نے جس جارحیت کا مظاہرہ کیا، اس نے سبھی کو حیران کردیا۔ رام گوپال تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گیا تھا۔ اوتار سنگھ نے اس سے کہا تھا ”تم بزدل ہو رام گوپال اور مجھے فخر ہے کہ محمود جیسا بہادر آدمی میرا دوست تھا۔ میں تم جیسے تیس چالیس مسلح افراد سے اکیلا ہی نمٹ سکتا ہوں۔ یاد رکھنا رام گوپال میں راجپوت ہوں اور بزدلوں سے دوستی نہیں رکھتا“۔
وہ آخری موقع تھا کہ نادرہ نے اوتار سنگھ کو دیکھا۔ کیونکہ کالج میں ہندوﺅں کے تعصب کے اس مظاہرے کے بعد کہ رام گوپال نے محمود کے قتل کا بلاواسطہ اعتراف کرلیا تھا، اسے کالج جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ وہ ڈر گئی تھی کہ اس کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس وقت اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے ساتھ یہی سب کچھ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہونا ہے۔
تو اس آخری دن اس نے دل میں سوچا تھا کہ اوتار سنگھ ایمان سے محروم ہے، لیکن اس میں ساری خوبیاں مومنوں والی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ بیشتر مسلمانوں سے اچھا ہی تھا۔
لیکن وہ بہرحال مسلمان نہیں تھا!
نادرہ کبھی اوتار سنگھ کو نہیں بھلا سکی.... اس کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکی، اور اسے کبھی کسی اور سے محبت نہیں ہوئی، شاید اس لئے کہ اسے موقع ہی نہیں ملا۔ لیکن شاید موقع ملنے پر بھی وہ کسی سے محبت نہیں کرپاتی۔
اسے یاد تھا ۔ ٹرین میں جب وہ لٹ رہی تھی اسے خیال آیا تھا کہ یہ لوگ اوتار سنگھ ہی کے تو ہم مذہب ہیں۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہونا ہے تو وہ اوتار سنگھ کی محبت سے کبھی نہ لڑتی۔ یوں کم از کم ایک سچی خوشی تو مل جاتی اسے۔
پھر لاہور میں وہ رشید کے ہاتھوں لٹی.... اور ایسی لٹی کہ ہر روز لٹنا اس کا مقدر ہوگیا۔ ہندوﺅں سے کہیں زیادہ بڑی ذلت اسے مسلمان سے ملی تھی۔ اس کے بعد وہ اوتار سنگھ کی محبت پر کبھی شرمندہ نہیں ہوئی۔ بلکہ ذلت بھرے اس ماحول میں وہی اس کے لئے نشان عزت ٹہری، دکھی کردینے واے اس ماحول میں وہی تو سچی خوشی تھی اس کے لئے۔
کوٹھے پر آنے کے بعد اس نے اپنے لئے ڈائری منگوائی تھی، اور وہ باقاعدگی سے ڈائری لکھتی رہی تھی۔ اور اس ڈائری میں اوتار سنگھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی اچھی یاد کی طرح تھا، جسے وہ ہر روز لکھ سکتی تھی۔ اور تو وہ کچھ یاد کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
اوتارسنگھ؟ اور لاہور میں! یہ بھی تو ممکن ہے کہ تصویر بناتے ہوئے ارجمند سے نقوش کچھ تبدیل ہو گئے ہوں۔ آخر بچی ہی ہے وہ۔ اور ہم شکل ہونا بھی ایسا ناممکن نہیں۔ لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ سچ مچ اوتار سنگھ ہی ہو۔ وہ ہر روز اللہ سے دعا کرتی تھی.... ایک نجات دہندہ بھیجنے کے لئے التجا کرتی تھی، جو اسے اور ارجمند کو.... بلکہ صرف ارجمند کو یہاں سے نکال کر لے جائے۔ کیونکہ اب اس کے لئے باہر کی دنیا میں کچھ بھی نہیں تھا۔ اس پر غلاظت کی ایسی تہیں چڑھ چکی ہیں کہ اسے کبھی کوئی عزت نہیں دے گا۔
اور یہ سوچنے میں بڑی خوشی.... بڑی لذت تھی کہ وہ اوتار سنگھ ہی تھا.... اس کا محبوب، جسے اللہ نے اس کی دعاﺅں کے جواب میں نجات دہندہ بنا کر بھیج دیا تھا۔
اگر وہ وہاں موجود ہوتی اور اسے دیکھ لیتی تو کیا ہوتا؟ اس نے سوچا۔
اسے احساس ہوا کہ اس کے سامنے امکانات کے کئی دروازے ہیں۔ سوچنا یہ تھا کہ اس کا فطری ردعمل کیا ہوتا۔ لیکن اب یہ سوچنا آسان نہیں تھا۔ بظاہر تو فطری ردعمل یہی ہو سکتا تھا کہ وہ اسے پکارتی.... جسم و جاں کی پوری قوت اور شدت سے آواز دیتی.... اوتار سنگھ! آخر اس کے لئے ارجمند کے بعد روئے زمین پر اوتار سنگھ وہ واحد شناسا شخص تھا، جو اس کے ماضی سے حال میں آسکتا تھا اس کے نظر آنے پر اس کا فطری اور یقینی ردعمل یہی ہو سکتا تھا۔
اب سوال یہ تھا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا؟
یہ امکان بہت قوی تھا کہ اوتار سنگھ کے نام کی پکار ، بازار میں ہلچل مچا دیتی۔ سب دیکھتے کہ اشارہ کس طرف ہے۔ کون ہے وہ اوتار سنگھ۔ اور شاید کوئی بھی نہیں سمجھتا کہ وہ پکار مدد کے لئے ہے۔ اس نام کے ساتھ سننے والے تو یہی سمجھتے کہ کوئی مظلوم کسی ظالم کی نشاندہی کررہا ہے.... خاص طور پر اس صورت میں کہ پکارنے والی کوٹھے پر سے پکار رہی ہو۔ زیادہ امکان یہی تھا کہ اوتار سنگھ کی تکا بوٹی ہو جاتی۔ ابھی تو ہندوﺅں اور سکھوں کے لگائے ہوئے زخموں پر پہلے کھرنڈ سے پہلے کی جھلی بھی نہیں آئی تھی۔
دوسری بات یہ کہ اگر وہ کسی طرح اشارہ کر بھی دیتی اور اوتار سنگھ اوپر آبھی جاتا تو وہ کیا کرتی۔ اور اوتار سنگھ بھی کیا کر سکتا تھا۔ وہ کوئی دعویٰ تو نہیں کر سکتا تھا۔ اور اس بازار میں تو ورثا کا دعویٰ بھی سچا نہیں ہوتا۔ ہاں اگر اوتار سنگھ تماش بین کی حیثیت میں آتا تو وہ اسے اپنی صورت حال کے بارے میں بتاتی۔ خود تو وہ اب یہاں سے نکلنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ تو زندگی کی سرحد پار کرنے کی خواہاں تھی۔ بشرطیکہ ارجمند کو یہاں سے نجات مل جائے اور باہر کی دنیا میں ایک اچھے مستقبل کی ضمانت بھی۔ لیکن اوتار سنگھ ارجمند کو یہاں سے کیسے نکال سکتا تھا۔ وہ بے چارہ تو یہاں خود بھی غیر محفوظ ہو گا۔ اور نیلم بائی بھلا ارجمند کو نکلنے دے گی۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ خواب دیکھنا کتنا آسان ہے اور تعبیر پانا کتنا دشوار۔ وہ دعا کرتی رہی تھی کہ کوئی نجات دہندہ آئے اور ارجمند کو نکال کر لے جائے۔ یہ اس کا خواب تھا۔ مگر اب وہ سمجھ سکتی تھی کہ اللہ کی خاص رحمت ہو تو اور بات ہے۔ ورنہ بظاہر ارجمند کی نجات کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔
مایوسی دھیرے دھیرے اس کے وجود میں سرائیت کرنے لگی۔ مگر یہ اسے گوارا نہیں تھا۔ مایوسی کو وہ قبول کر لیتی تو زندہ ہی نہ رہ پاتی۔ اس لئے مثبت انداز میں سوچنا اس کی مجبوری تھی۔
اس کا واحد آسرا اللہ تھا۔ کبھی وہ سوچتی کہ اللہ نے ٹرین کے سفر سے لے کر آج تک کبھی اسے نہیں بچایا۔ کبھی اس کی مدد نہیں کی۔ مگر پھر وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک کر دل ہی دل میں توبہ کرتی۔ اللہ کی مرضی۔ اس کی مصلحت کون سمجھ سکتا ہے۔ اس میں بھی کوئی بہتری ہی ہو گی۔ ہاں اسے نظر نہیں آسکتی۔ تقدیر بھی کوئی چیز ہے۔ لیکن اللہ کی قدرت تو ایسی ہے کہ صرف کُن فرمانے سے زمین آسمان جیسی تخلیقات وجود میں آگئیں۔ جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا باہر نکلنے کا، وہاں وہ جب چاہے، راستہ بنا دے۔
اس نے مثبت انداز میں سوچنے کی کوشش کی۔ اگر وہ اوتار سنگھ ہی ہے تو یہ ناممکن نہیں کہ دوبارہ بھی نظر آئے۔ اب یہ اس کی سمجھ میں آگیا ہے کہ ہ اسے پکار نہیں سکتی اس کے نام سے، ورنہ اسے نقصان پہنچے گا۔ تو اب اسے دیکھ کر اسے اپنے فطری اور یقینی ردعمل کو قابو میں رکھنا ہو گا۔ اور اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوئی اور ترکیب سوچنی ہو گی۔
اسے احساس ہوا کہ اور کچھ نہیں تو زاد سفر کے لئے اسے ایک اور خواب مل گیا ہے۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے ڈائری لکھنے کا خیال آگیا تھا۔ ڈائری کا موضوع تو پہلے بھی اوتار سنگھ ہی تھا۔ مگر تب وہ قصہ پارینہ تھا، اور اب ایک داستانِ تازہ!
زرینہ کے بارے میں سب کچھ تو وہ کسی کو بھی نہیں بتا سکتا۔ اس نے سوچا، زبیر نے پوچھا بھی تو وہ اسے ٹال دے گا۔ اس کی ذہنی کیفیت اتنی خراب تھی کہ اسے یہ خیال بھی نہیں آیا کہ زبیر حکم کا بندہ ہے۔ کچھ پوچھنے کا تو قائل ہی نہیں۔
”ٹھیک ہے صاحب، تو میں جاﺅں؟“
”ہاں، تم جاﺅ۔ اڈے پر میرا انتظار کرنا۔“
اس کے جانے کے بعد عبدالحق مسعود صاحب کے کمرے کی طرف لپکا۔ وہ سویرے ہی آجاتے تھے، تاکہ کیمپ والوں کا ناشتہ ان کے سامنے ہو۔
”سر.... آپ کو ایک زحمت دینی ہے۔“ اس نے مسعود صاحب سے کہا۔
”بھئی تم تکلّف بہت کرتے ہو۔“
”وہ گاﺅں سے زبیر آیا ہوا ہے نا۔ آج واپس جارہا ہے۔ میں زرینہ کو اس کے ساتھ گاﺅں بھجوانا چاہتا ہوں۔“
”ابھی سے! ارے کچھ دن ہمارے ساتھ گزارنے دو اسے۔ میری بچیاں بہت مانوس ہو گئی ہیں اس سے۔“
عبدالحق کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کے جواب میں کوئی مو_؟ثر دلیل کہاں سے لائے۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے سوجھ گئی۔ ”میں آپ کی بات ٹال نہیں سکتا سر۔ لیکن وہاں اماں اس سے ملنے کے لئے تڑپ رہی ہوں گی۔“
”اماں....؟ ہاں، ٹھیک کہتے ہو۔ یہ تو ہے۔“ مسعود صاحب کی سمجھ میں اس بات کی اہمیت آگئی۔ واقعی جو ماں مہینوں سے بیٹی سے ملنے کی ایسی آس لگائے بیٹھی ہو، جو کبھی ٹوٹے اور کبھی جڑے، جسے یہ بھی نہیں معلوم ہو کہ اس کی بیٹی زندہ بھی ہے یا نہیں، اس کے لئے بیٹی کا اچانک آجانا کتنی بڑی خوشی کا سبب ہو گا۔ ”تو برخوردار زحمت کیسی۔ زبیر کب جارہا ہے واپس۔“
”ابھی.... ذرا دیر میں۔“
”تو چلو۔“
وہ باہر آئے۔ عبدالحق مسعود صاحب کے ساتھ ان کی گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ایک اور خیال اسے ستانے لگا۔ یہ تو وہ جانتا ہے کہ اس نے زرینہ کو زبان سے کہا ہی نہیں، دل سے بھی اپنی بہن سمجھا ہے۔ تو کیا اب وہ اپنی بہن کو خالی ہاتھ، تین کپڑوں میں گھر بھیجے گا۔ مگر وہ دل مسوس کر رہ گیا۔ اب کچھ ہو بھی نہیں سکتا تھا۔
مسعود صاحب نے گاڑی پورچ میں روکی، اسے ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور خود اندر چلے گئے۔ دو منٹ بعد ایک ملازم اس کے لئے لسّی لے آیا۔ وہ اس کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتا رہا۔ لیکن وہ بہت مضطرب تھا۔ جب تک زرینہ گاﺅں کے لئے روانہ نہ ہو جاتی، اسے سکون نہیں آسکتا تھا۔ اس کے پاس سلیمانی ٹوپی ہوتی تو وہ اس کی مدد سے زرینہ کو پوری دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیتا۔
مسعود صاحب کوئی آدھے گھنٹے کے بعد واپس آئے تو زرینہ ان کے ساتھ تھی۔ ”معاف کرنا برخوردار، بچیاں اسے چھوڑ ہی نہیں رہی تھیں۔ بلکہ اب بھی روئے جارہی ہیں۔ اس لئے اتنی دیر ہو گئی۔“
”کوئی بات نہیں جناب۔“
وہ باہر آئے۔ عبدالحق اگلی سیٹ پر بیٹھا اور زرینہ پچھلی سیٹ پر۔ پھر ملازم نے ایک سوٹ کیس لاکر پچھلی سیٹ پر رکھ دیا۔ گاڑی چل دی۔
”کہاں جانا ہے؟“ مسعود صاحب نے پوچھا۔
”لاری اڈے چھوڑ دیجئے ہمیں۔“
”تو تم میرے ساتھ واپس نہیں چلو گے؟“
”مجھے کچھ دیر لگے گی۔ میں خود ہی آجاﺅں گا۔“
مسعود صاحب نے انہیں لاری اڈے پر اتار دیا۔ پھر انہوں نے پچھلی سیٹ سے سوٹ کیس اتارا اور زرینہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ ”خدا حافظ بیٹی۔ زندگی رہی تو پھر ملیں گے۔ یہ تمہارا بھائی عبدالحق ہمیں بہت عزیز ہے۔ اب اسے ہم چھوڑیں گے تو کبھی نہیں۔ اپنی اماں سے میرا سلام کہنا۔“

جیسے انسانوں کو کاٹا، روندا اور معصومیت کو پامال کیا، وہ تو پوری انسانیت کے لئے شرمناک ہے۔ تو اس پُرآشوب عہد میں جن ہزاروں معصوم لڑکیوں کی عصمت دری ہوئی، کیا وہ اس بات کی حق دار نہیں کہ ان کے لوگ انہیں زیادہ عزت دیں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، انہیں جینے کا حوصلہ دیں، انہیں عزت کے ساتھ بسائیں، آباد کریں۔ یہ کیسے عزت دار لوگ ہیں، جو اپنی ہی مجبور اور مظلوم بچیوں کو آبرو باختہ قرار دے کر دھتکارتے ہیں۔ جو انہیں ایسی مکروہ اور متعدی بیماری میں مبتلا حقیر مخلوق سمجھتے ہیں، جو ان کی اچھوتی بچیوں کو بھی اسی بیماری میں مبتلا کردیں۔ یہ کیسے عزت دار لوگ ہیں۔ اپنی عزت پر گھمنڈ کرنے والے، جو عزت کو اپنی کمائی سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ یہ مسلمان ہوکر بھی قرآن میں اللہ کے اُس فرمان کو بھول جاتے ہیں کہ عزت ساری کی ساری اللہ کی ہے، اور عزت اور ذلت اللہ ہی کی طرف سے ہے، اور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ زندگی کی محبت کے ایک کمزور لمحے میں آدمی اپنی اس نام نہاد عزت اور غیرت سے کتنی آسانی سے دست بردار ہوجاتا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے میں بے عزتی اور بے غیرتی کا طوق پہن لیتا ہے۔ افضال صاحب کی مثال اس کے سامنے تھی۔ وہ بلاشبہ مضبوط آدمی تھے۔ لیکن زندگی کی محبت ان پر حملہ آور ہوئی تو ان میں ٹریگر پر انگلی کا دباﺅ ڈالنے کی سکت بھی نہیں رہی۔ وہ مسلح بھی تھے، انہوں نے صرف بیٹی سے ہی نہیں، خود سے بھی وعدہ کیا تھا، مگر زندگی کی محبت نے ان سے جسم کی جنبش تک چھین لی، اور وہ کھلی آنکھوں سے اپنی غیرت کی دھجیاں اُڑتے دیکھتے رہے۔ اس کے نتیجے میں وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے، اپنا نام بھی ان کےلئے نفرت کا نشان بن گیا۔ اور جس زندگی کی محبت میں یہ سب کچھ ہوا، وہ زندگی بھی ان کےلئے قابل نفرت بن گئی۔
افضال صاحب کے برعکس یہ رضوان صاحب اسے بہت کمزور آدمی لگے۔ افضال صاحب پر جو گزری، وہ ان پر گزرتی تو شاید وہ جھیل بھی نہ پاتے۔ اور ان کی رعونت کا یہ حال تھا کہ انہوں نے خون کو ہی حقیر کردیا۔ اپنی معصوم اور پاکیزہ بھتیجی کو بھی مسترد کردیا۔ صرف اپنے گمان کی بنیاد پر اسے اپنے لئے باعثِ ننگ قرار دے دیا۔ وہ افضال صاحب کے مقابلے میں بہت چھوٹے، بہت حقیر آدمی تھے۔ افضال صاحب نے اپنی بزدلی کی تلافی تو بڑی شان سے کی۔ اپنی بیٹی، اپنی آبرو گنوانے کے بعد انہوں نے عملی کوشش تو کی، کہ جس صورت حال میں ان کی بیٹی پھنسی، اس سے کسی اور کی بیٹی کو بچا لائیں۔ لیکن یہ رضوان صاحب! اسے یقین تھا کہ ان میں تو اخلاقی جرا_؟ت ہے ہی نہیں۔ دوسروں کو زبان کے زور پر مطعون کرنے والے عملاً کچھ بھی نہیں کر سکتے۔
کیا مسلمان بھی موت سے ڈرتے ہیں....؟ یہ جاننے کے باوجود کہ موت اللہ کا حکم ہے، اور مقررہ وقت پر آتی ہے۔ اس نے سوچا۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ اس نے جمیل کو بھی دیکھا ہے۔ وہ بھی تو مسلمان تھا۔ کیا اسے رزق حلال اور رزق حرام کی تمیز نہیں تھی۔ اور وہ لوگ، جنہیں وہ نہیں جانتا، جن کے دم سے ہیرا منڈی کی رونق ہے، کیا وہ مسلمان ہوکر بھی نہیں جانتے کہ زنا گناہِ کبیرہ ہے۔ اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ مگر یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مسلمان ہونا صالح اعمال کی ضمانت نہیں....
دروازے پر ہونے والی دستک نے اسے چونکا دیا۔ ”آجاﺅ۔“ اس نے پکارا۔
دروازہ کھلا اور ویٹر اندر آگیا۔ ”صاب.... کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیں۔“
”ابھی تو مجھے بھوک نہیں ہے۔ ضرورت ہو گی تو بلا لوں گا۔“ عبدالحق نے کہا۔
”مجھے بلانا ہو تو یہ بٹن دبا دیجئے گا۔“ ویٹر نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے۔“ عبدالحق نے کہا۔ ”چند لمحے بعد اسے احساس ہوا کہ ویٹر اب بھی کھڑا ہے۔ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ ”کیا بات ہے؟“
”میں آپ کی ہر ضرورت پوری کر سکتا ہوں صاب۔“
”کیا مطلب؟“
”پینا چاہیں تو دیسی بھی مل سکتی ہے اور ولایتی بھی۔“
عبدالحق کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ وہ نگاہوں میں الجھن لئے ویٹر کو دیکھ رہا تھا۔
”اور صاب، تنہائی بھی دور ہوجائے گی۔ بس آپ حکم کریں۔ جیسی آپ چاہیں گے، مل جائے گی۔ آج کل تازہ مال بہت آیا ہوا ہے۔“
اس بار عبدالحق کی سمجھ میں پوری بات آگئی۔ اس کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔ اسے بڑی شدت سے غصہ آیا تھا۔ لیکن اس نے خود کو روک لیا۔ ایک وہ ویٹر ہی تو نہیں تھا۔ یہاں تو پورا سسٹم تھا۔ ”مجھے ایسی کوئی ضرورت نہیں۔“ اس نے نرم لہجے میں کہا۔ ”کھانے کی ضرورت محسوس ہوئی تو تمہیں بلا لوں گا۔“
ویٹر نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا اور کمرے سے چلا گیا۔
عبدالحق ”تازہ مال“ کی اصطلاح پر سوچنے اور کڑھنے لگا۔ مال! یعنی عورتیں کاروباری جنس ہیں.... جیسے پھل، سبزی ترکاری۔ اور تازہ مال! گویا ہجرت کا یہ انسانی المیہ کاروبار چمکانے کا سبب بنا ہے۔ جسموں کے بیوپاریوں سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہیں گے کہ بازار میں اتنی ورائٹی پہلے کبھی نہیں آئی۔ واقعی.... اس نئے مال میں وہ ہندو اور سکھ لڑکیاں بھی ہوں گی، جو ہندوستان جانے کی کوشش میں پکڑلی گئی ہوں گی اور وہ مسلمان لڑکیاں بھی ہوں گی، جو اپنے گھر والوں کو کھو کر، یا اُن سے بچھڑ کر پاکستان پہنچی ہوں گی، اور کسی جمیل کے ہتھے چڑھ گئی ہوں گی۔ جسموں کے ان بیوپاریوں کے نزدیک ان کے ہندو، سکھ یا مسلمان ہونے کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کے نزدیک تو وہ محض ورائٹی ہوگی۔
عبدالحق کو افسوس ہونے لگا۔ وہ نور بانو کی خاطر رضوان صاحب کی تلاش میں یہاں آیا تو اس نے پایا تو کچھ نہیں، البتہ کھو بہت کچھ گیا۔ اس کے آئیڈیل ٹوٹ پھوٹ گئے۔ یہ بہت بڑا نقصان تھا اس کا۔
یہ وہ پاکستان تو نہیں، جو میرے تصور میں تھا۔ اس نے سوچا۔ مایوسی کی ایک تند لہر اٹھی اور اس کے وجود پر چھانے لگی۔ یہاں جسم فروشی بھی ہورہی ہے، بے ایمانی بھی ہے، رشوت ستانی بھی ہے اور ظلم بھی۔
مگر پھر اچانک دل میں روشنی کی ایک ننھی سی کرن پھوٹی اور پھیلنے لگی۔ اسے ہیڈ محرر کی گفتگو یاد آگئی۔ وہ رشوت لیتا تھا، لیکن جانتا تھا کہ یہ بڑا گناہ ہے۔ اور اس نے جو کچھ بتایا تھا، وہ دل کو لگتا تھا۔ انگریز بلاشبہ سازشی ذہن کے لوگ تھے۔ اور ہندوﺅں کے ساتھ ان کی ملی بھگت تھی۔ وہ اس ریاست کو ناکام دیکھنا چاہتے تھے۔ اور اس کے لئے انہوں نے اہتمام بھی کیا تھا۔ اس ننھے منے نوزائیدہ پاکستان کو انہوں نے معاشی کمزوری بھی دی تھی اور اخلاقی خرابیاں بھی مروج کی تھیں، جو کسی بھی معاشرے کے لئے تباہ کن ہوتی ہیں۔ جو لوگ ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے، وہ سب اندر سے زخمی اور غم زدہ بھی تھے اور بے سروسامان بھی۔ ایسے میں مایوس ہونا کتنا آسان ہے۔ اور مایوسی کے نتائج تو اچھے ہوتے ہی نہیں۔
اس نے اپنی مایوسی کو ذہن سے جھٹکا۔ وہ جمیل اور رضوان صاحب جیسے لوگوں کو دیکھ کر مایوس ہورہا تھا۔ مگر وہاں حسن دین، عرفان صاحب اور مسعود صاحب جیسے لوگ بھی تو تھے، جو پاکستان کے مستقبل کے لئے سوچ ہی نہیں رہے تھے، عمل بھی کررہے تھے۔ اور تھانے کا وہ معمولی سا ہیڈ محرر بھی تو تھا، جو سب کچھ سمجھتا تھا۔ اور وہاں عام لوگوں میں چھولے والے پہلوان جیسے لوگ بھی تھے۔ برائی اور خرابی بہت بڑی تھی، اور جتنی بڑی تھی، اس سے بہت زیادہ بڑی نظر آتی تھی، اور نیکی تو بہت خاموش طبع ہوتی ہے، اسی لئے نظر کم آتی ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ اس ملک کا قیام اللہ کی طرف سے تھا، اور ایک معجزہ تھا۔ تو اگر اللہ کی مرضی ہے کہ یہ قائم رہے تو تمام سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود اور تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ قائم رہے گا۔ مایوسی تو صرف کمزور ہی کرے گی۔ مایوس نہیں ہونا چاہئے۔
اس لمحے مسعود صاحب کی بات پوری طرح اس کی سمجھ میں آگئی۔ اسے بھی اس ملک کی بہتری کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔ اسے سول سروس کی طرف آنا ہوگا۔ یہ اس کی ضرورت نہیں۔ لیکن ملک و قوم کی ضرورت تو ہے۔ ویسے بھی وہ ان سے وعدہ کرچکا ہے۔
لاہور وہ جس مقصد کے تحت آیا تھا، وہ پورا ہوچکا تھا۔ اگرچہ وہ ناکام رہا تھا۔ تاہم فی الحال یہاں قیام کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے اب گاﺅں واپس جانا تھا۔ اماں اسے یاد آرہی تھیں، اور اماں بھی اس کے لئے تڑپ رہی ہوں گی۔ اور نور بانو....!
نور بانو کا خیال آتے ہی وہ پھر فکرمند ہوگیا۔ وہ نور بانو کو کیا جواب دے گا.... کیا بتائے گا اُسے؟ اگر وہ سچ بولتا ہے تو نور بانو کو کتنا دکھ ہوگا۔ اور وہ شرمندہ بھی ہوگی۔ یہ تو کچھ ٹھیک نہیں۔ پھر وہ کیا کرے۔ جھوٹ تو بہت بری چیز ہے۔
وہ سوچنے اور الجھنے لگا۔ پھر اسے ایک اور خیال آیا۔ اسے یاد تھا کہ نور بانو ابتدا ہی سے اپنے چچا کے پاس جانے کےلئے بے تاب تھی۔ اس کے خیال میں وہ صرف وہیں محفوظ ہوسکتی تھی۔ اور ان لوگوں کے بارے میں تو وہ تھی ہی بدگمان۔ اسے یاد تھا، یہاں آنے سے پہلے وہ خود اس کے پاس آئی تھی.... یہ یاد دلانے کےلئے کہ اس نے اس کے چچا کو تلاش کرنے کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔ یعنی اس کا دل اب بھی اپنے چچا کے گھر میں اٹکا ہوا تھا۔
Updated on 15 May 08 at 10:47 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.