Google
 

:: 26 عشق کا شین
تو اب اگر وہ اسے سچ بتاتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ اس پر یقین نہ کرے.... بدگمانی کرے کہ وہ.... اس بدگمانی کے بارے میں سوچنا بھی اسے اچھا نہیں لگا۔ وہ جانتی اور سمجھتی ہی نہیں کہ وہ اس کےلئے کتنی محترم ہے۔ وہ اسے نجانے کیا سمجھتی ہے۔
خیر.... اس کا آسان حل یہ تھا کہ وہ اسے رضوان صاحب کے گھر لے جائے، اور اسے ان سے ملوا دے۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ رضوان صاحب کا ردعمل کتنا شدید ہوگا۔ نور بانو کو صرف شرمندگی نہیں ہوگی، بلکہ سخت ذلت بھی اٹھانی ہوگی۔ وہ تو کبھی خود سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں رہے گی۔ نہیں.... وہ خود کو سچا ثابت کرنے کےلئے نور بانو کو جیتے جی نہیں مار سکتا۔
اس کا مطلب تھا کہ اسے جھوٹ بولنا ہوگا۔ اور جھوٹ بولنے کے لئے اس کا دل آمادہ نہیں تھا۔
بالآخر وہ ایک نتیجے پر پہنچ گیا۔ سچ اسے اماں کو بتانا تھا۔ اور نور بانو سے وہ بس اتنا ہی کہتا کہ رضوان صاحب کو وہ تلاش نہیں کرسکا۔ اس کے بعد وہ اسے جو چاہے سمجھے۔ لیکن وہ بہت بڑی اذیت سے بچ جائے گی۔
دل مطمئن ہوا تو بھوک جاگ اٹھی۔ اس نے ویٹر کو بلانے کےلئے گھنٹی کا بٹن دبا دیا۔
عبدالحق کی واپسی پر اپنی بے پناہ خوشی خود حمیدہ کے لئے بھی حیران کن تھی!
نہ تو اس نے عبدالحق کے جانے سے رکا تھا اور نہ ہی اس کی غیر موجودگی کے دن شمار کئے تھے۔ وہ اسے خاص طور پر یاد بھی نہیں کرتی تھی۔ یہ الگ بات کہ وہ ہر وقت اسے یاد رہتا تھا۔
کچھ یہ تھا کہ اللہ نے اسے بنایا ہی ایسا تھا۔ صبر کی نعمت اسے کثیر ملی تھی۔ اور کیوں نہ ملتی۔ جب اللہ کسی کو آزمائش سے دو چار کرتا ہے تو اس سے پہلے ہی اس کے مطابق اسے صبرو برداشت عطا کر دیتا ہے۔ لال آندھی کے بعد وہ جس دور سے گزری تھی، اس نے اس کے ایمان کو پختہ کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس پر اللہ کی عنایت ہے۔ ورنہ کوئی اتنا اکیلا، اس طرح جی نہیں سکتا۔ اس نے تو اپنی اندھی آنکھوں سے معجزے دیکھے تھے۔ عبدالحق کا اس کے پاس واپس آنا تو سب سے بڑا معجزہ تھا۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ تڑپنے اور واویلا کرنے کا کچھ حاصل نہیں۔ اگر کسی کو ملنا ہے تو وہ ضرور گا۔ اور اگر نہیں ملنا تو کسی طرح بھی نہیں ملے گا۔
اور اس سے پہلے کی زندگی میں بھی کیا تھا۔ اس نے تو ہر موسم سے بڑھ کر ہجر کا موسم ہی دیکھا تھا۔ بیٹے تعلیم کے لئے دہلی گئے تھے۔ سال بھر بعد چھٹیوں میں گھر واپس آتے تھے.... اور وہ بھی پھر چلے جانے کے لئے۔ اور پھر وصال دین چلا گیا تھا.... وہ بھی واپس نہ آنے کے لئے۔
عبدالحق اس کے سامنے آیا تو اس نے بے ساختہ اسے لپٹا لیا۔ جی تو چاہتا تھا کہ کسی طرح اسے دل میں اتار کر چھپالے۔ کہیں جانے نہ دے۔ لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اسے علاحدہ کر دیا۔”اب تو واپس آگیا ہے ناپتر“؟ اس نے اس سے پوچھا۔
عبدالحق اتنی جلدی دور کئے جانے پر زخمی بھی ہوا تھا اور حیران بھی۔”جی امّاں“۔
”اب تو کہیں نہیں جانا ہے نا“؟
”ہوسکتا ہے، جانا ہو اماں۔ لیکن تمہارے بغیر نہیں“۔
”بس تو پھر کیا ہے۔ وقت اپنا ہی ہے نا“۔ حمیدہ نے بے فکری سے کہا۔”تو جا.... نہا دھو کر کپڑے بدل۔ آرام سے مردانے میں بیٹھ۔ لوگ تیرا انتظار کرتے رہے ہیں۔ تجھ سے ملنے آئیں گے۔ کچھ تھکن بھی اتر جائے گی“۔
”لیکن ماں، ابھی تو میں آپ کی گود میں لیٹنا چاہتا ہوں۔ اتنے دن کے بعد تو ملی ہیں آپ....“
”اس کے لئے بہت وقت پڑا ہے۔ رات کو سکون سے آنا میرے پاس۔ مجھے بھی بہت باتیں کرنی ہیں تجھ سے۔ مگر پہلے دوسرے کے حق ادا کر دے۔ تو صرف میرا ہی تو نہیں، سبھی کا ہے نا“۔
عبدالحق کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔ لیکن اماں کی بات ٹالنا ممکن نہیں تھا۔
امں کی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ اس سے ملنے کے لئے لوگ آئیں گے.... کتنے لوگ۔ اس کا واپس آنا ایسی کون سی خاص بات ہے۔ اسے واپس تو آنا ہی تھا۔
وہ نہا دھوکر، تازہ دم ہوکر نکلا تو زبیر موجود تھا۔”صاحب، اب آپ لیٹ جائیں تھوڑی دیر۔ آرام کرلیں“۔
”میں اس کی ضرورت محسوس نہیں کررہا ہوں زبیر بھائی“۔
مگر اسی وقت اماں کی بات سچی ہوگئی۔ چاچا رحیم بخش اس سے ملنے آئے تھے۔ زبیر اسے بتا چکا تھا کہ رحیم داد کو سر پہنچ بتا دیا گیا ہے۔ وہ اس سے ملنے مردانے میں چلاگیا۔ اس کے بعد مغرب تک اسے وہاں سے نکلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ مردانہ پورے دن بھرا رہا۔
اس سے پہلے عبدالحق کو اندازہ ضرور تھا کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو محبت اس کے سامنے آئی، وہ اس کے تصور سے بھی بہت بڑھ کر تھی۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو، جو اس سے ملنے نہ آیا۔ اور کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اور سب ہی اسے صاحب کہہ رہے تھے.... کیا چھوٹا کیا بڑا۔ اسے زبیر پرنمہ آنے لگا۔
ملنے آنے والوں میں ڈاکٹر واسطی واحد آدمی تھے، جنہوں نے اسے صاحب کہنے کے بجائے عبدالحق صاحب کہا تھا۔
عبدالحق کو ایک اطمینان ہوگیا۔ زبیر نے اس کے مشورے پر پوری طرح عمل کیا تھا، اور علاقے کے معاملات اس کے پتاجی کے ہی انداز میں سبنھالے تھے۔ جب ہی تو لوگ اس کی اتنی عزت کرتے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ لوگوں کے نزدیک اس کے بعد سب سے معزز زبیر ہی ہے۔ یہ واقعی زبیر کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ زبیر پہلے کے مقابلے میں بہت پراعتماد نظر آرہا تھا۔
پھر ڈاکٹر صاحب نے ہی اس کا مسئلہ حل کیا۔”ارے بھئی، کیسی محبت کرتے ہو تم لوگ اپنے صاحب سے“۔ انہوں نے کمرے میں موجود لوگوں سے کہا۔”سفر کا تکان اتارنے کا موقع بھی نہیں دے رہے ہو انہیں۔ ایسے موقع پر تو بس پانچ منٹ بیٹھ کر اٹھ جاتے ہیں لوگ۔ اور ہاں، کل صاحب کو پہنچایت میں بلالو نا“۔
اس کے نتیجے میں لوگ رخصت ہونے لگے۔ پھر ڈاکٹر صاحب بھی اٹھے۔ یہ تو میں رسماً آیا تھا عبدالحق صاحب“۔ انہوں نے کہا۔”لیکن آپ سے ایک ضرورت بھی آپڑی ہے مجھے۔ دو تین دن میں حاضر ہوں گا آپ کے پاس سوالی بن کر“۔
عبدالحق تو تڑپ گیا۔”تکلف کیا ڈاکٹر صاحب۔ ابھی حکم کریں نا“۔
”نہیں عبدالحق صاحب۔ یہ تکلف کی بات نہیں، آداب کی ہے۔ ضرورت مند بن کر آﺅں گا تو ضرورت کی بات کروں گا“۔
عبدالحق کا ذہن الجھنے لگا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب نے اسے مزید بات کرنے کا موقع نہیں دیا۔ ادھر نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا۔
نور بانو شیڈ میں زیادہ دیر نہیں ٹھہرسکی۔ حالانکہ مینو سی بے وفائی کے بعد وہ اپنی بکریوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ مینو کی خاطر اس نے اپنی بکریوں سے بے وفائی کی تھی۔ اب وہ اس کی تلافی کرنا چاہتی تھی۔
لیکن شیڈ میں ایک بھولی بسری یاد نے اسے تڑپا دیا۔
یہ اس وقت کی بات ہے، جب اوتار سنگھ کے لئے باجی کی محبت اس پر پوری طرح کھل گئی تھی۔ بلکہ ایک دن باجی نے بڑے اسے لے جاکر دکھایا تھا کہ چھوٹا ٹھاکر کسی سے عربی پڑھ رہا ہے۔ اور پھر پڑھانے والے نے یٰس شریف کی تلاوت بھی کی تھی۔
یہ اس کے کچھ عرصہ بعد کی بات ہے کہ ایک دن اب کی رابعہ اور اس وقت کی رنجنا اماں کے پاس ایک فرمائش لے کر آئی تھی.... کھانا پکا کر بھیجنے کی فرمائش۔ چھوٹے ٹھاکر کا کوئی مسلمان دوست آرہا تھا، وہ اس کے لئے کھانا پکوانا چاہ رہا تھا۔ جس وقت وہ بات ہوئی، وہ اماں کے پاس ہی تھی۔ اماں نے تو بڑی خوشی سے وعدہ کرلیا تھا۔ بلکہ انہوں نے اس سے ہاتھ بٹانے کو بھی کہا تھا۔ مگر اس نے روایتی نخوت کے ساتھ انکار کر دیا تھا۔ اماں کو بھی اس سے امید نہیں تھی۔
مگر اگلی صبح اسے باجی کو باورچی خانے میں دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ باجی کا معمول تھا کہ فجر کے بعد کچھ دیر تلاوت کر کے وہ آرام ضرور کرتی تھیں۔ اور کھانا پکانے میں تو انہیں دل چسپی تھی ہی نہیں۔ اماں کے اصرار کے باوجود وہ پکانے سے جی چراتی تھیں۔ مگر اس وقت وہ نہ صرف باورچی خانے میں موجود تھیں، بلکہ اسرار کر رہی تھیں کہ کھانا وہی پکائیں گی۔ اماں نے کہا بھی کہ آج زیادہ چیزیں ہیں، پھر کسی دن پکالینا۔ لیکن باجی نے کہا کہ یہ اور بھی اچھا ہے، ایک ہی دن میں وہ اتنا کچھ سیکھ لیں گی۔
نور بانو کو بہت حیرت ہوئی تھی۔ جس وقت رنجنا فرمائش لے کر آئی تھی، باجی بہ ظاہر تو کہیں قریب میں نہیں تھی۔ لیکن یہ طے تھا کہ انہوں نے یہ بات سن لی تھی۔ اسی لئے وہ کھانا پکانے میں گھس رہی تھیں۔
نور بانو کو غصہ تو بہت آیا۔ جی تو چاہا کہ انہیں باتیں سنائے۔ لیکن بدنیتی کے تحت خاموش رہی۔ اس سے بہتر سزا اور کیا ہوتی کہ چھوٹے ٹھاکر اور اس کے دوست کو باجی کا پکایا ہوا تجرباتی کھانا نصیب ہوتا۔ سو وہ اس میں خوش ہوگئی۔
لیکن جب اس نے کھانا کھایا تو حیران بھی ہوئی اور مایوس بھی۔ باجی نہ ہر چیز بہت لزیز بتائی تھی۔ کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ وہ کسی کی پہلی بار پکائی ہوئی چیز ہوسکتی ہے۔ شاید وہ محبت کا کمال تھا۔
پھر جب رنجنا نے نیچے آکر بتایا کہ چھوٹے ٹھاکر کو کھانا اتنا اچھا لگا کہ انہوں نے رات کو بھی وہی کچھ کھایا.... تازہ کھانے کے بجائے.... اور انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا ہے تو اسے اور اذیت ہوئی۔ اسے لمحے باجی اسے بہت بری لگی تھیں۔
اور اب اسے یہ سوچ کر حیرت ہورہی تھی کہ یہاں آنے کے بعد اسے آج تک وہ چیزیں پکانے کا خیال کیوں نہیں آیا، جبکہ اسے معلوم تھا کہ عبدالحق کو وہ کھانا بہت اچھا لگا تھا۔
اسے خود پر غصہ آنے لگا۔ وہ شروع ہی سے ایسی ٹیڑھی ہے۔ ساری خرابی یہ ہے کہ شاید اس کے لئے کائنات کا مرکز محض اپنی ذات ہے۔ وہ صرف اپنے لئے سوچتی ہے۔ اپنی خوشی میں خوش اور اپنے دکھ میں دکھی۔ کسی اور کی خوش اور دکھ کا اسے خیال ہی نہیں آتا۔ اماں ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ ایسا آدمی کیسے خوش رہ سکتا ہے۔ اسے تو خوشی ملے گی بھی تو شاید وہ اسے گنوا دے گی۔
لیکن نہیں.... اب وہ خود کو بدل بھی سکتی ہے۔ اور وقت آگیا ہے کہ وہ خود کو بدل لے۔ اب نہیں بدلا تو شاید آئندہ موقع بھی نہیں ملے گا۔ اس خیال نے اس ڈرا دیا۔ لیکن پھر اسے اماں سے کیا ہوا اپنا وعدہ یاد آیا....اس نے کہا تھا.... میرے اندر کی ساری خرابیاں میری بے اعتمادی اور بے یقینی کی وجہ سے ہیں۔ اور اس کا سبب یہ خوف ہے کہ وہ مجھے کبھی ہنیں ملیں گے.... اس لئے کہ وہ بہت اچھے ہیں اور میں بہت بری ہوں۔ میں ان کے قابل ہوں ہی نہیں۔ لیکن اللہ کی مہربانی سے وہ مجھے مل گئے تو میں بالکل بدل جاﺅں گی۔
حیرت ہے.... یہ میں نے کہا۔ اس نے سوچا۔ میں اتنا کھل کر بھی بات کرسکتی ہوں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ میں بدل رہی ہوں۔ تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔
اس لمحے اس نے خود سے ایک عہد کرلیا.... وہ اب اپنے بارے میں نہیں، دوسروں کے.... اور خاص طور پر عبدالحق کے بارے میں سوچا کرے گی۔ وہ دوسروں کی خوشیوں اور ان کے دکھوں کے بارے میں سوچا کرے گی۔ پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ وہ جلدی سے اٹھی اور شیڈ سے نکل آئی۔ وقت ضائع کرنے کی بالکل گنجائش نہیں تھی۔ اسے رات کے کھانے کی.... خاصالحاص میں کھانے کے اہتمام کی فکر کرنی تھی۔ اور وہ سب کچھ خود ہی کرے گی۔
عبدالحق کو اس بات پر حیرت تھی کہ مینو تقریباً تمام وقت بیٹھک میں اس کے پاس بیٹھا رہا تھا، لیکن اس نے وہاں کوئی گندگی نہیں کی تھی۔ وہ اس کے قدموں میں بیٹھا رہا تھا۔ کبھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے وہ اس کا پاﺅں چاٹ لیتا۔ اور اس نے جب بھی سرجھکا کر دیکھا تو مینو کو اپنی ہی طرف دیکھتے پایا۔ کیا جانور اتنے سمجھ دار بھی ہوتے ہیں؟
سب لوگوں کے جانے کے بعد عبدالحق اٹھا۔ مغرب کا وقت ہورہا تھا۔”چلو مینو.... گھر چلیں“۔ اس نے مینو کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
مینو نے میں میں کر کے باقاعدہ جیسے اسے جواب دیا۔
وہ شیڈ کی طرف چل دیا۔ مینو اس کے پیچھے نہیں، بلکہ ساتھ ساتھ تھا۔ کبھی تو وہ اس سے آگے بھی نکل جاتا، جیسے جانتا ہو کہ وہ کہاں جارہا ہے۔ مگر وہ فوراً پلٹ بھی آتا تھا۔
شیڈ میں پہنچ کر عبدالحق مینو کو باندھنے لگا تو مینو نے باقاعدہ مزاحمت کی۔
”بس.... کھلے رہنے کا وقت ختم۔ اب تمہیں سونا ہے“۔ عبدالحق نے محبت بھرے لہجے میں اسے ڈانٹا۔
مینو نے سرجھکا لیا اور بہت کمزور سی آواز میں ممبانے لگا۔
اس کی آواز کمزوری سے عبدالحق کو خیال آیا اور اس نے مینو کے پچکے ہوئے پیٹ کو دیکھا۔ اپنی غفلت اور بے پروائی پر اسے شدید غصہ آیا۔
معصوم جانور تمام وقت اس کے قدموں میں بیٹھا رہا، اور اس نے سوچا تک نہیں کہ وہ بھوکا ہوگا۔ شاید صبح سے اس نے کچھ بھی نہیں کھایا۔
اس شیڈ کا جائزہ لیا، سب کچھ ویسا ہی تھا، جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ کترے کی مشین کے پاس چارے کا ڈھیر تھا۔ وہیں بادام اور اخروٹ کی تھیلیاں بھی موجود تھیں۔
اسی وقت مغرب کی اذان شروع ہوگئی۔ عبدالحق جلدی سے چارہ لے کر آیا، کھلی ملائی اور چارے کا برتن مینو کے سامنے کر دیا۔
لیکن مینو نے منہ پھیر لیا۔
”اوہو.... میرے ہاتھ سے کھانا ہے۔ لیکن ابھی تو یہ ممکن نہیں۔ کھالو“۔ عبدالحق نے زبردستی اس کا منہ برتن کی طرف دھکیلا مگر مینو کھانے پر آمادہ نہیں تھا....
”ابھی تم خود کھالو۔ تماز پڑھ آﺅں۔ پھر تمہیں اپنے ہاتھ سے کھلاﺅں گا“۔ عبدالحق نے کہا۔ ”میرے آنے تک یہ سب کھالینا“۔ اس نے پھر مینو کو ڈانٹا لیکن اس بار مینو کی میَں میَں میں واضح انکار تھا۔
اس وقت کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ عبدالحق شیڈ سے نکلا اور مسجد کی طرف چل دیا۔
لیکن نماز کے دوران بھی اسے یہی خیال ستاتا رہا کہ مینو نے کچھ بھی نہیں کھایا ہوگا۔
نماز کے بعد وہ مولوی عہد علی سے ملا۔”تم کب آئے پتر“؟ انہوں نے پوچھا۔
”آج ہی آیا ہوں حضرت“۔
”تو گاڑی کب آئے گی؟“
”کچھ نہیں کہا جاسکتا بڑے صاحب۔“
”وہ بے بسی اور جھنجلاہٹ میں مبتلا ہوگیا۔ اب تو اقتدار بس اسے پاکستان میں ہی مل سکتا تھا۔ اس کا بس چلتا تو اُڑکر پاکستان پہنچ جاتا۔ لیکن پاکستان جانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
”خیر، بالآخر ایک دن ٹرک آگئے۔ اس وقت تک افضال کا دماغ درست ہوچکا تھا۔ وہ اپنی نوابی بھول گیا تھا۔ ورنہ وہ لوگ پیچھے ہی رہ جاتے۔ کیونکہ ٹرکوں کی تعداد پناہ گزینوں کی ضرورت سے بہت کم تھی۔ ٹرکوں کی روانگی کے بعد بھی آدھے سے زیادہ لوگ کیمپ میں رہ گئے تھے۔
”راستے میں ٹرکوں کے اس قافلے پر بھی سکھوں نے حملہ کردیا۔ دونوں طرف سے فائرنگ ہونے لگی۔ ٹرک روک دیئے گئے۔ اس دوران لاڈلی بیٹی نے افضال سے کہا۔ ”ابا میاں، آپ کے پاس طپنچہ تو ہے نا؟“
”ہاں بیٹی“ افضال نے جیب تھپ تھپاتے ہوئے کہا۔ ”کیوں پوچھ رہی ہو تم؟“
”میں آپ سے کچھ مانگنا چاہتی ہوں ابا میاں“
”مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔ سب کچھ تمہارا ہی تو ہے“
”وعدہ کریں کہ آپ مجھے ان لڑکیوں کی طرح مرنے نہیں دیں گے، جن کی لاشیں ہم نے کیمپ آتے ہوئے، راستے میں دیکھی تھیں“
”افضال تھراگیا۔ گویا سر جھکاکر بیٹھی ہوئی بیٹی نے وہ منظر دیکھ لیا تھا۔ ”تم پریشان نہ ہوجان پدر، ایسی نوبت نہیں آئے گی، اس نے کہا۔
”جانتی ہوں ابا میاں۔ آپ بہت بہادر ہیں۔ مگر جب کچھ بھی بس میں نہ رہے تو ایک گولی میرے دل میں اتاردیجئے گا“
”ایسی باتیں نہ کرو....“
”نہیں ابا میاں، آپ مجھ سے وعدہ کریں“
”اچانک افضال کی غیرت جوش میں آگئی۔ اس کام کیلئے وعدے کی ضرورت نہیں جان پدر۔ ایک گولی تمہارے لئے ہوگی اور آخری گولی میرے لئے۔ ہم عزت سے جیتے آئے ہیں، مریں گے بھی عزت سے“
”ٹرکوں کی حفاظت کیلئے آنے والے فوجی تعداد میں کم تھے۔ کیمپ کی حفاظت کیلئے بھی وہ خاصی نفری چھوڑ کر آئے تھے۔ کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ طاقت تقسیم ہوجانے پر بلوائی کیمپ پر حملہ کرسکتے ہیں۔ پھر بھی وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور بلوائیوں کو ماربھگایا۔ دو فوجی البتہ شہید ہوگئے۔
”اسٹیشن پر سکھ فوجی بھی موجود تھے۔ ان کی نگاہوں میں عناد تھا۔ تاہم انہوں نے تعرض نہیں کیا۔ ہزاروں کا مجمع پلیٹ فارم پر ٹرین کا منتظر تھا۔ بالآخر ٹرین آئی اور بھگدڑ مچ گئی، ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ نہ صرف وہ اور اس کے اہل خانہ سب سے پہلے ڈبے میں گھس جائیں، بلکہ اپنا سامان بھی چڑھادیں۔
افضال کو اس کا تجربہ ہوچکا تھا۔ پھر چار جوان بیٹے اس کی طاقت تھے۔ وہ لوگ ایک ڈبے میں سوار ہوگئے۔
”وہاں صورت حال یہ تھی کہ ڈبے میں 32 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی اور سوسے زیادہ افراد سوار ہوچکے تھے۔ دونوں پیروں پر کھڑے ہونے کی جگہ ملنا بھی آسان نہیں تھا۔ تاہم افضال اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔
”گاڑی روانہ ہوئی۔ لیکن اس کی رفتار اتنی کم تھی کہ کوئی بھی بہ آسانی ایک ڈبے سے اترکر آگے والے ڈبے میں سوار ہوسکتا تھا۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ڈرائیور سکھ ہے اور جان بوجھ کر گاڑی آہستہ چلارہا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ گاڑی پر اس کی بساط سے زیادہ وزن ہے۔ اس لئے انجن پوری رفتار سے چلنے سے قاصر ہے۔
”چند گھنٹے گزرے تو خوشی اور عافیت کا وہ احساس ہوا ہوگیا، جو ٹرین پر سوار ہونے کے بعد انہیں ملا تھا۔ اس وقت تو لوگوں کو یہی لگا تھا کہ بس اب خیریت ہی خیریت ہے، بس سمجھ لو، اب پاکستان پہنچ گئے۔ لیکن چند گھنٹوں میں جو مسائل سامنے آئے، انہوں نے مسافروں کے ہوش اڑادیئے۔ ڈبے میں چھوٹے بچے بھی تھے، اور کسی کے پہلو بدلنے کی گنجائش تک نہیں تھی۔ ایسے میں پیشاب پاخانے کا کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ اس پر ستم ٹرین کی رفتار، لگتا تھا کہ حشر کے روز ہی پاکستان پہنچے گی۔ بدبو سے دماغ پھٹنے لگا۔ تدارک کی بھی کوئی صورت نہیں تھی۔ لیکن اللہ نے آدمی میں سمجھوتا کرنے کی زبردست صلاحیت رکھی ہے۔
مزید چند گھنٹوں میں لوگ اس کے عادی ہوگئے۔ لیکن وہ سلسلہ رکنے والا نہیں، مسلسل بڑھنے والا تھا۔ مسائل کی وہاں کوئی حد نہیں تھی۔ نکلتے وقت تو صرف جان بچانے کی فکر تھی۔ مگر اب بھوک اور پیاس کا سامنا بھی تھا۔ بچے بھوک سے بلکنے لگے۔ مائیں چمکارتیں اور بہلاتیں اور جھنجلائے ہوئے بے بس باپ بچوں کی پٹائی کردیتے، اور پھر اس پر دل گرفتہ ہوکر ایک طرف بیٹھ جاتے۔
”رات کے اندھیرے میں ٹرین رک گئی۔ سب سہم گئے کہ شاید حملہ ہونے والا ہے۔ لیکن ایسا کچھ ہوا نہیں۔ جھانکنے پر پتا چلا کہ گاڑی ایک ویرانے میں کھڑی ہے۔ گاڑی وہاں کئی گھنٹے رکی رہی۔
”اس وقت جب سب کو یقین تھا کہ گاڑی رکی ہے تو اب حملہ بھی ہوگا، بیٹی نے افضال کو ان کا وعدہ پھر یاددلایا۔ افضال کے ہاتھ میں اس وقت طپنچہ تیار تھا۔ اس نے کہا.... میں نے کہا نا جان پدر کہ اس کام کیلئے وعدہ لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو میں فرض کے طورپر خود ادا کروں گا۔
”سفر تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ٹرین درمیان میں کسی اسٹیشن پر رکتی تو مسافر سرکاری نلکوں سے پانی بھرلاتے۔ کھانے کی البتہ کوئی سبیل نہیں تھی۔ اس کا کچھ فائدہ بھی نہیں تھا۔ ڈبے کا ماحول اس قدر بدبودار تھا کہ کچھ کھالینا اور عذاب ہوجاتا۔ بہت لوگوں کو الٹیاں ہورہی تھیں۔ یوں ڈبے کی گندگی میں اور اضافہ ہورہا تھا۔ چوتھے دن تک سب نڈھال ہوگئے۔ کسی میں جان نہیں رہی تھی۔ کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ سفر کبھی ختم ہوگا اور وہ پاکستان کی زمین پر قدم رکھ سکیں گے۔
”چوتھی رات قیامت کی رات تھی۔ ٹرین حسب معمول رکی۔ تین راتیں اسی معمول میں مگر خیر وعافیت سے گزری تھیں، اس لئے مسافر مطمئن تھے۔ ادھر ڈرائیور کا کہنا تھا کہ اگلے روز دوپہر تک وہ پاکستان پہنچ جائیں گے۔ ایسے میں اچانک گاڑی پر حملہ ہوگیا۔
”حملہ آور بہت بڑی تعداد میں تھے، اور ان کے پاس ہر طرح کا اسلحہ تھا۔ اس ڈبے میں افضال اور اس کے بیٹوں کے سوا کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ افضال تو اپنی سیٹ پر یوں بیٹھا تھا، جیسے اس کے جسم میں جان ہی نہیں رہی۔ اس کے چاروں بیٹے البتہ بے جگری سے لڑرہے تھے۔ حملہ آوروں کو صرف اسی ڈبے سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بلکہ ان کا جانی نقصان بھی ہوا تھا۔ انہوں نے بھی پوری قوت وہیں لگادی۔
”گھپ اندھیرے میں فائروں کی روشنی کے سوا کوئی روشنی نہیں تھی، افضال کو احساس تھا کہ بیٹی ملتجیانہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی ہے۔ مگر اسے اپنا طپنچے والا ہاتھ بے جان محسوس ہورہا تھا۔
”پھر صبح کا اجالا پھیلنے لگا۔ تب افضال نے دیکھا کہ مزاحمت کرنے والا بس اس کا منجھلا بیٹا بچا ہے۔ اس کے علاوہ تینوں بیٹے شہید ہوچکے تھے۔ اس نے اٹھنے کی کوشش کی۔ لیکن جسم بے جان ہورہا تھا، اس سے اٹھا نہیں گیا۔ اسی لمحے اس نے اپنے اس بیٹے کو بھی گرتے دیکھا اور ٹوٹتے لفظوں میں اس کے کلمہ پڑھنے کی آواز سنی۔ پھر اوپر چڑھتے ہوئے، ڈبے میں داخل ہوتے ہوئے بلوائیوں کے ست سری اکال کے نعرے۔
”بابا جان....“ بیٹی نے سہمی ہوئی آواز میں بہ مشکل پکارا۔
”اسی لمحے ڈبے پر سکھوں کی یلغار ہوگئی.... اوئے بھون ڈالو سب کو.... کوئی چلایا۔ ایک گولی چلی.... اور اس ڈبے میں افضال کے بیٹوں کے بعد سب سے پہلے شہید ہونے والی اس کی بیوی تھی۔ وہ کٹے ہوئے درخت کی طرح اس پر گری اور وہ نیچے دب گیا۔ چند ہی ثانیوں میں اس کا لباس ہی نہیں، اس کا چہرہ بھی بیوی کے خون میں نہاگیا۔ طپنچہ اب اس کے بے جان ہاتھ میں لٹک رہا تھا۔
”چند فائر اور ہوئے، چند چیخیں ابھریں۔ پھر ایک چلایا، اوئے بے وقوفو، فیر مت کرو۔ اوئے زنانیاں نوں تے چکنا اے، اور فائرنگ رک گئی۔ اب حملہ آور کرپانیں اور بلم استعمال کررہے تھے۔ مزاحمت کرنے والا کوئی تھا ہی نہیں۔ قتل عام ہورہا تھا۔
”افضال کیلئے اس وقت بیوی کا موٹاپا ڈھال بن گیا۔ وہ بیوی کے نیچے دبا، خون میں نہایا ہوا زندہ ہرگز نہیں لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی تھیں اور ان میں دہشت جیسے منجمد ہوگئی تھی۔
”مردوں کو ختم کرنے کے بعد سکھ عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور بربریت کا وہ کھیل شروع ہوا، جس پر انسانیت ہمیشہ شرمندہ رہے گی۔ بیوی کے نیچے دبے ہوئے افضال نے دوسکھوں کو اپنی بیٹی پر جھپٹتے ہوئے دیکھا۔ بیٹی نے درد بھری فریاد میں اسے پکارا.... بابا جان، ہمیں بچالیجئے.... اپنے ہاتھوں سے ختم کردیجئے۔ آپ نے وعدہ کیا تھا....“
”افضال کے جسم کا ایک ہی حصہ بیوی کی لاش کے بوجھ سے آزاد تھا.... اور وہ تھا اس کا طپنچے والا ہاتھ۔ اور اسے یاد تھا کہ اس نے بیٹی سے کیا کہا تھا.... ایک گولی تمہارے لئے جان پدر، اور آخری گولی اپنے لئے۔ مگر وہ اچھے وقت کی بات تھی۔ اب صورتحال کچھ اور تھی۔ اس کا دماغ بھی جسم کی طرح شل ہورہا تھا۔ جسم کے شل ہونے کا سبب تو یہ تھا کہ وہ بیوی کی لاش تلے دبا ہوا تھا۔ مگر دماغ خوف اور محبت کی وجہ سے شل ہورہا تھا۔ خوف تھا محبت کا.... اور محبت زندگی کی۔ بدقسمتی یہ تھی کہ یادداشت نے ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ بیٹی نے جو وعدہ اس سے لیا تھا، وہ بھی اسے یاد تھا اور خود اس نے جو عہد کیا تھا، وہ بھی وہ نہیں بھولا تھا۔
”خوف سے شل دماغ نے کمزور سی آواز میں ہاتھ کو حکم دیا.... فائر کر.... لبلبی دبا۔ لیکن وہ آزاد ہاتھ تو دبے ہوئے جسم سے کہیں زیادہ شل تھا۔ اس میں تو جنبش ہی نہیں تھی۔
”بے لباس ہوتی ہوئی بیٹی نے اسے پکارا.... بابا جان، وعدہ پورا کریں....
”اس کی بیٹی سے الجھے ہوئے سکھوں میں سے ایک نے اپنے ایک ساتھی سے کہا.... اوئے دیکھ تو، یہ کس بابے کو پکاررہی ہے؟“
”دوسرے سکھ نے ادھر ادھر دیکھا تو اس کی نظر افضال پر جم گئی۔ خون میں نہائے ہوئے افضال کی آنکھوں میں اسے زندگی کی چمک سی محسوس ہوئی۔ خطرناک بات یہ تھی کہ اس کے ہاتھ میں طپنچہ نظر آرہا تھا۔ ”اوئے سکھ ویر، ادھر ہے تو ایک بندہ، اس نے اپنے ساتھی کو اطلاع دی۔ ”لگتا تو مرا ہوا ہے۔ ہاتھ میں پستول بھی ہے۔ پر آنکھیں کھلی ہوئی ہیں“ پھر وہ محتاط انداز میں افضال کی طرف بڑھا۔
”اس کے ساتھی نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”مرتے وقت آنکھیں بند کرنے کی مہلت نہیں ملی ہوگی۔ چل اچھا ہے، یہی بابا ہے تو اپنی بیٹی کا حال مرنے کے بعد بھی دیکھ سکے گا“
”افضال نے یہ باتیں سنیں تو اس کی آنکھیں جیسے پتھراگئیں۔ اس پر غشی سی طاری ہوگئی۔ سکھ اس کے پاس آکر رکا اور اس کی آنکھوں میں بہت غور سے دیکھنے لگا۔ اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ وہ اس وقت طپنچے کی رینج میں ہے۔
”مگر افضال تو ان لمحوں میں دہشت سے ساکت ہوگیا تھا، جیسے سانس بھی لینا بھول گیا تھا۔ اس وقت اگر اس کی انگلی لبلبی پر دباﺅ ڈال دیتی تو کم ازکم وہ سکھ تو جہنم رسید ہوہی جاتا۔ مگر وہ تو موت کے خوف سے جیسے پتھر ہوگیا تھا۔ جسم میں سانس تک کی جنبش نہیں تھی۔
”اس کا معائنہ کرنے والے سکھ نے پلٹ کر اپنے ساتھی سے کہا۔ ”اوئے سکھ ویر، یہ تو مرچکا ہے۔ پر ایک بات ہے۔ پکی بات.... آدمی تھا نامرد پستول ہاتھ میں لئے بیٹھے بیٹھے مرگیا۔ اوئے ایک فیر بھی تو نہیں کیا نامرد نے“ پھر وہ افضال کی طرف مڑا۔ اب اس پستول کا کیا کرنا ہے تونے۔ لایہ مجھے دے دے۔ تیرے بھائیوں کے ہی کام آئے گا۔“ یہ کہہ کر اس نے افضال سے پستول لینے کی کوشش کی۔
”افضال کے بس میں ہوتا تو وہ فوراً ہی طپنچہ چھوڑدیتا۔ لیکن خوف کی شدت سے اس کا جسم سچ مچ کسی مردے کی طرح اکڑ گیا تھا۔ گرفت کم کرنا بھی اس کے اختیار میں نہیں تھا۔ وہ تو سچ مچ کسی مردے کی گرفت تھی۔
”سکھ نے تھوڑی دیر زور لگایا، پھر پیچھے ہٹ گیا۔
”ادھر بربریت کا وہ کھیل شروع ہوگیا۔ افضال کی معصوم اور اچھوتی بیٹی اس کی آنکھوں کے سامنے پامال کی جارہی تھی، اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے وہ منظر دیکھنے پر مجبور تھا۔ وہ نگاہیں ہٹانے پر بھی قادر نہیں تھا۔ اندر، کہیں بہت گہرائی میں زندگی کی محبت نے بزدلی کا روپ دھارکر اسے پتھر کا بت بنادیا تھا.... پتھر کا بت، جو نہ جنبش کرتا ہے اور نہ ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں۔
”اس کے اندر کوئی جذبہ، کوئی احساس نہیں بچا تھا۔ اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ پامال ہونے والی اس کی بیٹی، اس کی آبرو ہے۔ اسے یہ احساس بھی نہیں تھا کہ اس کی بیٹی اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں شکایت لئے اسی کو تک رہی ہے۔ جیسے اسے اپنے اوپر گزرنے والی قیامت کا ادراک ہی نہ ہو۔ بس یہ طے تھا کہ بری طرح روندھے جانے کے باوجود وہ زندہ ہے۔ لیکن پتھر بنے افضال کو اس بات پر حیرت بھی نہیں ہوئی۔ کیونکہ وہ تو ایک سانس لیتا ہوا مردہ تھا، جو نہ سوچ سکتا تھا، نہ کچھ محسوس کرسکتا تھا۔
”اس کے نزدیک وہ چند منٹ قیامت کے دن کی طرح تھے، جس کی طوالت سے اللہ کے پسندیدہ بندے بھی پناہ مانگتے ہیں۔ اس کیلئے وہ یوم حساب تھا۔ اس کی روح میں بڑے بڑے گھاﺅ پڑرہے تھے۔
”بالآخر کھیلنے والوں کا کھلونے سے دل بھرگیا۔ چلو.... اب اسے چھوڑو، اور باہر نکلو۔ ان میں سے ایک نے کہا۔ لیکن دوسرا اب بھی بے لباس بکھری ہوئی افشاں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ یہ کوئی چھوڑنے کی چیز ہے۔ اسے تو ساتھ لے کر چلیں گے یارا۔ اس کے ایک ساتھی نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔ گھر میں ڈالے گا کیا؟ اس پر وہ برامان گیا۔ اونئیں یارا.... کچھ دن عیش کریں گے یار۔ پھر بیچ دیں گے سالی کو۔
”افشاں نے گڑگڑاتے ہوئے کہا۔ ”خدا کیلئے .... مجھے ماردو۔“
”اس کو پسند کرنے والے سکھ نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”ہم خدا کیلئے نہیں مارتے، واہگورو کیلئے مارتے ہیں۔ خدا کیلئے مارنے کو اپنے بابا سے کہنا تھا۔ پر وہ تو آپ ہی مرگیا خدا کیلئے؟ پھر اس نے بے لباس افشاں کو کھلونے کی طرح اٹھایا اور کندھے پر ڈال کر ڈبے سے نکل گیا۔
”افضال اسی طرح پتھر بنا پڑا رہا۔ اسے نہیں پتا کہ کب ٹرین پاکستان پہنچی۔ لاہور کے اسٹیشن پر رضاکاروں نے اس کی بیوی کی لاش ہٹائی، تب بھی وہ اسی طرح پڑا رہا۔ کیمپ میں دودن بعد اسے ہوش آیا۔ اور ہوش آیا تو اسے پتا چلا کہ کوئی انسان پتھر نہیں بن سکتا۔ اسے تو سب کچھ یاد تھا۔ ایک ایک لفظ۔ اور وہ منظر تو اس کے حافظے پر پوری جزئیات سمیت نقش تھا۔ یہ کہانی ہے اس بے غیرت افضال کی“ یہ کہہ کر افضال صاحب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
’ ایسے کیسوں میں لوگ پاگل بھی بن بھی جاتے ہیں۔ اب سچ اگلوانے کیلئے چھترول نہ کریں تو کیا کریں۔ کسی سے ہاتھ باندھ کر پوچھیں کہ بابا سچ بول، تو سچ مچ پاگل ہے یا بن رہا ہے تو وہ سچ بول دے گا کیا۔“
عبدالحق کو اس کی بات معقول لگی۔ اس سے انکار تو ممکن نہیں تھا۔
اتنے میں ایک لحیم شحیم پولیس والا ہانپتا ہوا اندر سے آیا۔ ”صاحب کہاں ہیں؟“ اس نے ہیڈ محرر سے پوچھا۔
Updated on 15 May 08 at 10:48 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.