Google
 

:: 27 عشق کا شین
”باہر گئے ہیں۔ کیا بات ہے؟“
”بڈھا بڑا پکا ہے۔ میں نے سارے حربے آزمالئے۔ کچھ نہیں اگلا۔ بولتا ہے، میں نے افضال کو قتل کیا ہے اور سالے کا اپنا نام پوچھو تو بولتا ہے، معلوم نہیں۔“
عبدالحق کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ یہ تو یقینا افضال صاحب کے بارے میں بات ہورہی تھی۔ ”اب تو آپ اس سلسلے کو روکیں....“
”آپ کو تھانے کے آداب نہیں آتے باﺅجی۔ یہاں مال ڈھیلا کرو تو سب ہوجاتا ہے۔ تمہارا بندہ دو دن سے بھوکا ہے۔ تمہیں اس کی فکر نہیں۔“
”تھانے دار صاحب نے کہا تھا کہ یہ سرکار کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے پیسے لینے سے انکار کردیا تھا۔“
”آپ بھی بھولے ہو بادشاہو۔ اب ایک بڑا افسر اپنے سے بڑے افسر سے پیسے تو نہیں لے سکتا۔ اور تھانے دار صاحب خود کبھی کسی سے کچھ نہیں لیتے۔ یہ کام تو ہم جیسے نیچے کے لوگوں کا ہے۔“
”مگر یہ تو رشوت ہوئی....“
”اوئے ہمیں نہیں پڑھاﺅ باﺅ صاحب! پتہ ہے تنخواہ کتنی کم ہے ہم لوگوں کی۔ گھر کی دال روٹی بھی نہیں چلتی اس میں“
عبدالحق کو افضال صاحب کی فکر تھی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ بحث کا فائدہ نہیں، بلکہ نقصان ہوگا.... وہ بھی افضال صاحب کو۔ ”اچھا، مجھے یہ بتاﺅ کہ مجھ سے کیا چاہتے ہو تم۔“
”اب مجھے تمہاری حیثیت کا کیا پتا۔“
”میری حیثیت کو چھوڑو۔ اپنی ضرورت کی بات کرو۔“
”پہلے آپ بتاﺅ، آپ ہم سے کیا چاہتے ہو۔“
”میں چاہتا ہوں کہ افضال صاحب پر تشدد بالکل نہ ہو، کوئی انہیں ہاتھ بھی نہ لگائے۔ اور ان کی ہر ضرورت اچھی طرح پوری کی جائے۔“
”آخری بات تو آسان ہے“ ہیڈ محرر نے پُرخیال لہجے میں کہا۔ ”پر یہ پہلی دو باتیں مشکل ہیں۔ اب دیکھو نا، تفتیش تو ہمیں کرنی ہے نا۔“
”تو تفتیش کرو، تشدد کے بغیر۔“
”یہ تو کیس ہی ٹھپ کرانے والی بات ہے باﺅجی۔“ اب ہیڈ محرر کا لہجہ بالکل تبدیل ہوگیا تھا۔ ”اس کام میں بڑا خرچا ہوگا۔ آپ نہیں کرسکتے۔“
”تم بولو تو۔“
ہیڈ محرر چند لمحے سوچتا رہا، پھر بولا۔ ”پانچ نوٹ دے دو سو کے۔“
”یہ تو بہت زیادہ ہیں۔“
”کیس قتل کا ہے باﺅ صاحب۔ اور اس میں پورے تھانے کا حصہ ہے۔“
”چلو ٹھیک ہے“ عبدالحق نے جیب سے تین سو روپے نکال کر اسے دئیے۔ ”دو سو میں ریمانڈ پورا ہونے پر دوں گا۔ شرط یہ ہے کہ افضال صاحب کو کوئی انگلی بھی نہ لگائے۔ اور انہیں تم کھانا بھی اچھا دو۔“
”آپ بے فکر ہوجاﺅ باﺅ صاحب“ ہیڈ محرر کی باچھیں کھل گئیں ”سمجھ لو، اب وہ ہمارا وی آئی پی ہے۔ پر ایک بات ہے باﺅ صاحب اس بات کا نہ آپ کے بڑے صاحب کو پتا چلے، نہ ہمارے تھانے دار صاحب کو۔“
”ٹھیک ہے۔ اب مجھے افضال صاحب سے ملوادو۔“
”ابھی یہ مناسب نہیں۔ آپ شام کو آنا باﺅجی۔ ابھی تو اس کا حال اچھا نہیں، شام تک اسے سجا سنواردیں گے تمہارے لئے۔ پیٹ میں کچھ پڑے گا تو چہرے پر رونق آئے گی۔“
عبدالحق کا دل کٹنے لگا۔ لیکن وہ افضال صاحب کو ابتر حال میں دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا۔
........x........
مسعود صاحب شام تک بھی واپس نہیں آئے۔ ان سے رابطے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ عبدالحق ان کی طرف سے بھی پریشان تھا کہ نجانے ان کی اہلیہ اب کس حال میں ہوں۔ ویسے اگر وہ کچھ بہتر ہوگئی ہوتیں تو مسعود صاحب کیمپ ضرور آتے۔
شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو وہ کیمپ سے نکلا اور تھانے کی طرف چل دیا۔ وہاں تھانے دار صاحب موجود تھے۔ اس بار ان کا انداز مختلف تھا۔ انہوں نے خود ہی اسے اپنی طرف بلالیا۔ ”ارے.... تم وہی ہونا جو اس دن خان صاحب کے ساتھ آئے تھے؟“
عبدالحق ان کے تجاہلِ عارفانہ کو سمجھ گیا۔ ابھی دوپہر کو ہی اس نے اسے بری طرح جھڑک دیا تھا، جیسے اسے پہچانتا ہی نہ ہو۔ ”جی ہاں، میں وہی ہوں“ اس نے کہا۔ ”میں دوپہر کو بھی آیا تھا۔ مگر....“
”اوہ تو وہ تم تھے۔ معاف کرنا، میرا ذہن اس وقت الجھا ہوا تھا، تمہیں پہچان نہیں سکا۔“ تھانے دار نے کہا۔ ”آﺅ بیٹھو، میں نے اپنے اسٹاف سے افضال صاحب کا خاص طور پر خیال رکھنے کو کہہ دیا ہے۔“
عبدالحق کہنا چاہتا تھا کہ دوپہر کو اسے بتادیا گیا تھا کہ کس طرح ان کا خیال رکھا جارہا ہے۔ مگر اسے خیال آیا کہ شاید یہ مناسب نہیں ہوگا۔ ”جی.... ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔“
”ایسے نہ کہیں، یہ تو ہمارا فرض ہے، مگر دیکھیں نا، یہ قتل کا کیس ہے۔ اور سنائیں، خان صاحب کیسے ہیں؟ وہ تشریف نہیں لائے۔“
”ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور اسپتال میں ہیں۔ اسی لئے وہ نہیں آسکے۔ شاید کل آئیں۔“
”تم انہیں بتادینا کہ افضال صاحب خیریت سے ہیں۔“ تھانے دار نے کہا اور پھر آواز لگائی۔ ”نبی داد.... او نبی داد، اِدھر آ“
ایک کانسٹیبل لپکا ہوا ان کی طرف چلا آیا۔ ”ان صاحب کو لے جاکر افضال سے ملا دے۔ اور ہاں، وقت کی کوئی قید نہیں ہے ان کیلئے۔ ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرنا۔ یہ خان صاحب کے آدمی ہیں۔ اور اب میں گھر جارہا ہوں۔“ تھانے دار نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
نبی داد بھی تھانے دار کے ساتھ باہر چلا گیا۔ عبدالحق تھانے کے معاملات پر غور کررہا تھا۔ اسے پولیس والوں کی ڈھٹائی پر حیرت ہورہی تھی۔ خان صاحب بڑے افسر تھے۔ تھانے دار ان سے ڈرتا تھا، ان کا لحاظ بھی کرتا تھا، مگر اس کے باوجود اس نے دوپہر کو اسے جھڑک دیا.... پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس سے رشوت وصول کی گئی۔ یہ سب کچھ تھانے دار کے حکم کے مطابق ہوا ہوگا، اور اب وہ خود کو اس سے بے تعلق ظاہر کررہا تھا، انہیں یہ ڈر بھی نہیں تھا کہ بات مسعود صاحب تک پہنچ سکتی ہے۔
”ارے صاحب، اِدھر آئیں نا۔“ کسی نے اسے پکارا۔
وہ ہیڈ محرر تھا، جو اسی وقت اپنی جگہ آکر بیٹھا تھا۔ عبدالحق اُٹھ کر اس کی طرف چلا گیا۔
”آپ کا مہمان تو سورہا ہے اس وقت۔ کھانا کھاکر جیسے نشہ ہوگیا اسے“
عبدالحق نے کچھ نہیں کہا۔ اس کا موڈ خراب تھا۔
”ہمارے بیچ جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں مسعود خان صاحب کو نہیں بتائیے گا۔“
”کیوں؟ اس میں کیا حرج ہے؟“ عبدالحق کے لہجے میں چیلنج تھا۔
ہیڈ محرر کے تیور اچانک بدل گئے۔ ”کوئی حرج بھی نہیں۔ بس لحاظ کی بات ہے۔ ورنہ ہمارا اُن سے کیا تعلق۔“
”ایک بات بتائیں۔ کیا انگریز کے دور میں بھی یہی سب ہوتا تھا۔“
”دیکھو برخوردار، میں بیس سال سے اس محکمے میں ہوں۔ اور پڑھا لکھا بھی ہوں۔ ترقی صرف اس لئے نہیں ہوسکی کہ میں نے انگریزی نہیں پڑھی۔ اب میں آپ کو بتاﺅں، تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس اختیارات ہوتے ہیں، انہیں نذرانے بھی ملتے ہیں۔ بادشاہوں کے دور میں بھی یہ ہوتا رہا ہے۔ لیکن بڑے پیمانے پر ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ انہیں سرکار بہت کچھ دیتی تھی۔ ضرورت کے تحت کوئی رشوت نہیں لیتا تھا۔ صرف جمع کرنے کی ہوس میں مبتلا لوگ رشوت لیتے تھے۔ پھر وہ پکڑے جاتے تو سزا بھی بہت سخت ملتی تھی۔ اس لئے یہ عام نہیں رہی۔ پر انگریز بڑا چالاک ہے۔ وہ جانتا تھا کہ سدا یہاں حکومت نہیں کرسکتا۔ ایک نہ ایک دن اسے رخصت ہونا ہوگا۔ اور وہ بہت دور تک کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس نے بہت پہلے سے اس سلسلے میں کام شروع کردیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ رشوت ہمارے ہاں حرام ہے اور بہت بڑی خرابیوں کا سبب بنتی ہے۔ اس نے ان تمام محکموں میں جہاں رشوت کی گنجائش تھی، ملازمین کی کم تنخواہیں مقرر کیں.... رشوت کے فروغ کیلئے۔ تو برخوردار، رشوت تو انگریز نے ہی عام کی۔ ہمیں بس اتنا خیال رکھنا ہوتا تھا کہ انگریزوں اور ان کے حواریوں کےخلاف نہ جائیں۔ باقی ہم آزاد تھے۔ لیکن بڑے آدمی کی سفارش پر عمل کرنا ضروری تھا، اور بڑا آدمی وہ تھا، جو انگریز کا منظور نظر ہو۔“ عبدالحق حیران تھا۔ اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس شخص میں اتنی گہرائی ہوگی۔ وہ ہیڈ محرر تو خالص علمی گفتگو کررہا تھا۔ ”آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔“ اس نے کہا۔ اس بار اس کے لہجے میں اس کیلئے احترام تھا۔
”میں جواب دے رہا ہوں۔ میں نے ابھی تمہیں غلامی کے دور کی رکاوٹوں کے بارے میں بتایا۔ لیکن یہ طے ہے کہ حرام خوری ہمارے مزاج میں رچ گئی ہے۔ اور اب ہم آزاد ہیں۔ آزادی کا مطلب ہم سے پوچھو، اب کسی بڑے آدمی کے کہنے پر ہمیں نکالا نہیں جاسکتا۔ یہاں کمی ہے پولیس کی، زیادتی نہیں ہے، اب تم مجھے نکلوادو تو مجھ جیسے تربیت یافتہ پولیس والے کا متبادل کہاں سے لاﺅگے۔ یہاں تو اضافے کی فکر کرنی ہوگی۔ تو اب ہم تمہارے خان صاحب سے کیوں ڈریں۔“
”لیکن رشوت تو حرام ہے۔“
”انسان بن کر سوچو برخوردار۔ جانتے ہو، میری تنخواہ سات روپے ہے۔ اور گیارہ بچے ہیں میرے۔ بیٹے ابھی چھوٹے ہیں۔ دوبیٹیاں جوان ہوچکی ہیں۔ دو جوانی کی سرحد پر کھڑی ہیں، خیر، یہ تو بعد کی فکر ہے۔ یہ سوچو، تیرہ پیٹ ہیں میرے ساتھ۔ کیا میرا گزارا ہوسکتا ہے اس تنخواہ میں؟“
عبدالحق ہکا بکا رہ گیا۔ واقعی.... یہ تو ممکن ہی نہیں تھا۔
اسی لمحے نبی داد آگیا۔ ہیڈ محرر نے اس سے کہا۔ ”ذرا ان کے بندے کو جاکر دیکھ، اٹھ گیا ہے یا نہیں۔“
نبی داد گیا اور واپس آکر اس نے بتایا کہ افضال صاحب ابھی سورہے ہیں۔
”بولو تو جگادیا جائے اسے۔ ویسے ہم کسی کو حوالات میں ایسے آرام سے سونے نہیں دیتے“
عبدالحق کو خیال آیا کہ افضال صاحب تو کبھی آسانی سے سوتے ہی نہیں تھے۔ ان کی نیند خراب کرنا ٹھیک نہیں۔ ”نہیں.... میں صبح آجاﺅں گا۔“ اس نے کہا۔
”چاہو تو انہیں دیکھ لو۔ ہم نے انہیں چادر اور تکیہ تک دیا ہے۔“
عبدالحق نے دیکھا اور مطمئن ہوگیا۔ ”ایک بات پوچھوں آپ سے؟“ اس نے ہیڈ محرر سے کہا۔ ”آپ تجربہ کار پولیس افسر ہیں۔ یہ بتائیں، آپ کے خیال میں افضال صاحب بن رہے ہیں یا وہ سچ مچ ذہنی توازن کھوبیٹھے ہیں۔“
”میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت ان کی یادداشت مٹ چکی ہے۔ چاہے یہ وقتی طور پر ہو۔ جتنا کچھ آج ان کے ساتھ ہوا ہے، اس کے بعد تو مردے بھی بول اٹھتے ہیں۔“
عبدالحق تھانے سے نکل آیا۔
”مجھے پتہ نہیں چلا۔ ورنہ میں تم سے ملنے ضرور آتا“۔
”مگر مجھے اچھا نہیں لگتا۔ آپ کبھی ایسا نہ کجیئے گا۔ آپ کبھی ایسا نہ کیجئے گ ا۔ آپ سے ملنے کے لئے آنا میرا فرض ہے“۔
”اور سناﺅ، لاہور کیسا رہا۔ تمہارا کام ہوا“۔
”ہوا بھی اور نہیں بھی ہوا۔ میں نے وہاں بہت کچھ دیکھا مولوی صاحب۔ بہت الجھنیں لے کر آیا ہوں میں وہاں سے۔ آپ سے بہت باتیں کرنی ہیں مجھے۔ ورنہ مجھے کچھ ہوجائے گا“۔
مولوی صاحب نے پر تشویش نظروں سے اسے دیکھا۔”تو پتر، میں حاضر ہوں۔ ہلکا کردو دل کا بوجھ“۔
”اس وقت نہیں مولوی صاحب“۔ عبدالحق نے معذرت طلب لہجے میں کہا۔”فرصت سے آﺅں گا آپ کے پاس“۔ پھر اس نے انہیں مینو کے بارے میں بتایا۔
مولوی صاحب ہنسنے لگے۔”اب سمجھ میں آیا کہ کیسی ہوتی ہے محبت۔ جاﺅ پتر جاﺅ، صبح بات کریں گے“۔
عبدالحق بہت تیز قدموں سے شیڈ کی طرف گیا۔ اس کا بس چلتا تو اڑکر وہاں پہنچ جاتا۔
شیڈ کا منظر اس کی توقع کے عین مطابق تھا۔ مینو نے چارے کو منہ بھی نہیں لگایا تھا۔ وہ سرجھکائے بیٹھا تھا۔ اس کے قدموں کی چاپ سنی تو سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔”بہت ضدی ہو یار۔ ہاتھ سے ہی کھاﺅ گے“۔
عبدالحق نے ہتھیلی پر چارہ رکھ کر مینو کی طرف بڑھایا۔ مینو نے ایک گہری سانس کی پھونک سے اسے اڑا دیا۔ وہ گویا اس کا اظہار ناراضی تھا۔
”اوہو.... خفا ہو۔ تو پہلے منانا پڑے گا“۔ عبدالحق نے کہا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ چند لمحوں میں اسے احساس ہوا کہ مینو کے جسم کا تناﺅ کچھ کم ہوگیا ہے۔ اس نے مینو کی تھوتھنی کو سینے سے لگا کر بھینچ لیا۔”اب مان بھی جاﺅ یار“۔
اور مینو اس کا ہاتھ چاٹنے لگا۔ وہ گویا قبولیت کا اظہار تھا۔
اب عبدالحق کھلا رہا تھا اور مینو کھارہا تھا۔”یہ بتاﺅ، اتنے دن تمہارا گزرا کیسے ہوا میرے بغیر“؟ پھر اسے یاد آیا، زبیر نے بتایا تھا کہ مینو نجانے کیسے منجھلی بی بی سے مانوس ہوگیا تھا اور سارے لاڈ اس سے کرنے لگا تھا۔
”ہوں.... تو نور بی بی سے دوستی کرلی تھی۔ بڑے خوش نصیب ہو یار“۔
مینو نے جیسے میں میں کر کے تائید کی۔
”تو اب میرے ہاتھ سے کھانے میں کیا مزہ آرہا ہوگا تمہیں“۔
جواب میں مینو نے اس کے سینے پر ہلکی سی ٹر رسید کردی۔
”اچھا چلو.... اب بادام اور اخروٹ کھالو“۔
”ارے، کھانے کا وقت ہوگیا۔ یہ عبدالحق نہیں آیا ابھی تک“۔ حمیدہ نے کہا۔ وہ بے قرار ہوکر کمرے سے نکل آئی تھی۔”رابعہ.... زبیر کو مسجد بھیجے۔ وہ مولوی صاحب کے پاس بیٹھا ہوگا“۔
”نہیں اماں۔ وہ بتارہے تھے کہ صاحب نماز پڑھتے ہی مسجد سے چلے گئے تھے“۔ رابعہ نے کہا۔
باورچی خانے میں موجود نور بانو یہ سب سن رہی تھی۔ یہ اس کے لئے خلاف توقع بھی نہیں تھا۔ عبدالحق جیسا کوئی اتنے عرصے کے بعد واپس آئے تو ایسا ہی کچھ ہوتا ہے۔ سہ پہر میں اس سے ملنے کے لئے آنے والوں کا سلسلہ وہ دیکھ چکی تھی۔ اسی لئے اسے نے پلاﺅ کو ٹھنڈا ہونے سے بچانے کے لئے یخنی تیار کر کے رکھ لی تھی مگر پلاﺅ چڑھایا نہیں تھا۔ ذراسی دیر ہوجانے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر پلاﺅ ٹھنڈا ہو کے بے مزہ نہ ہو۔
زرینہ باورچی خانے میں ہی تھی۔ اس نے کیا تو کچھ بھی نہیں تھا۔ لیکن نور بانو کو کھانے پکاتے ہوئے بڑے شوق سے دیکھ رہی تھی۔ حمیدہ اور رابعہ کی گفتگو سن کر جو اس کی آنکھوں میں چمک لہرائی، وہ نور بانو نے بھی دیکھ لی۔
پھر زرینہ خاموشی سے باہر نکل گئی۔
نور بانو کے دل کو جیسے کچھ ہوگیا۔ چند لمحے تو وہ سوچتی رہی۔ پھر باورچی خانے سے نکل آئی۔ اپنے کمرے سے اس نے چادر لی اور خاموشی سے گھر سے نکل آئی۔ کچھ فاصلے پر زرینہ اسے جاتی دکھائی دی۔ اس کا رخ شیڈ کی طرف تھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے چل دی۔
وہ دونوں.... ایک انسان اور دوسرا جانور.... ایک دوسرے سے یوں ٹوٹ کر ملے تھے، جیسے برسوں کے بچھڑے محبت کرنے والے ملتے ہیں۔ مینو کا پیٹ بھر چکا تھا۔ مگر وہ عبدالحق کی زبان چاٹے جارہا تھا۔ عبدالحق جب بھی اٹھنے لگتا، وہ زور دار آواز میں میَں میَں کرنے لگتا۔ اور اس کے بیٹھتے ہی چپ ہوجاتا۔ مطلب صاف تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ عبدالحق ابھی اس کے پاس سے اٹھے۔
عبدالحق کو بھوک لگ رہی تھی۔ مگر وہ وہاں بیٹھا رہا۔ یہ مینو کا اس پر حق تھا۔ اس نے پورے دن مینو کو بھوکا رکھا تھا.... اس کی بھوک کی فکر نہیں کی تھی، تو اب اسے خود بھی ہنسی خوش بھوک برداشت کرنی چاہئے تھی۔
اسی عالم میں جانے کتنی دیر ہوگئی۔ مینو اب اونگھنے لگا تھا۔ دروازے کی طرف سے قدموں کی چاپ سنائی دی تو عبدالحق نے سرگھماکر اس طرف دیکھا۔
شیڈ کے دروازے میں ایک ہیولا سا دکھائی دے رہا تھا۔”کون؟“ اس نے پکارا۔
”میں ہوں بھائی“۔
پہلے تو عبدالحق کی سمجھ میں ہی کچھ نہیں آیا۔ یہ کون لڑکی ہے جو اسے اتنی اپنائیت سے بھائی کہہ رہی ہے۔ وہ الجھتا رہا۔ پھر جب بات سمجھ میں آئی تو وہ شرمندگی سے پانی پانی ہوگیا۔ یہ مینو والی شرمندگی سے بھی بڑی تھی۔ ارے.... وہ اس لڑکی کو بھول گیا، جسے اس نے پوری ذمہ داری کے ساتھ یہاں بھیجا تھا۔
ارے انس نے تو یہاں آکر اسے پوچھا بھی نہیں....
”آﺅ.... اندر آجاﺅ زرینہ“۔ بالآخر اس نے اسے پکارا۔ لہجے میں شرمندگی تھی۔
زرینہ اندر چلی آئی۔”بھائی.... وہ میں....“
”میں جانتا ہوں، تمہاری شکایت سچی ہے....“
”نہیں بھائی، مجھے کوئی شکایت نہیں“۔ زرینہ نے اس کی بات کاٹ دی۔”شکایت کیسی۔ یہاں مجھے اتنے سارے لوگ ملے۔ سب مجھ سے محبت کرتے ہیں.... میری عزت کرتے ہیں سب آپ کی وجہ سے۔ پر بھائی، آج مجھے ڈر لگ رہا ہے یہاں“۔
”بھائی کے ہوتے ہوئے ڈر کیسا“؟
”مجھے لگتا ہے، اب آپ شرمندہ ہورہے ہوں گے مجھے بہن بناکر۔ میں ہوں ہی ایسی“۔
عبدالحق تڑپ کر اٹھ کھڑا ہوا۔”یہ کیسی بات کرتی ہو زرینہ۔ میں رشتے بے سوچے سمجھے نہیں بناتا۔ میں شرمندہ ہوں کہ مجھے تمہارا خیال نہیں رہا۔ مگر ایک تو ملنے کے لئے آنے والوں کی وجہ سے موقع میں نہیں ملا۔ دوسرے میری تو کبھی کوئی بہن تھی ہی نہیں۔ تو شاید مجھے بھائی ہونے کے آداب نہیں آتے۔ بہن کے لاڈ کرنا نہیں جانتا میں۔ لیکن میں تمہارے لئے جو کچھ لایا ہوں، دیکھو گی تو خوش ہوجاﺅ گی“۔
”میرے لئے تو آپ کا واپس آنا ہی سب سے بڑی خوشی ہے بھائی“۔
”اور یہ کبھینہ سوچنا میں تمہارے اس رشتے پر کبھی شرمندہ ہوں گا۔ اور شرمندگی کی تو کوئی بات ہے ہی نہیں۔ ایسا کبھی سوچا تو میں تم سے ناراض ہوجاﺅں گا“۔
”ٹھیک ہے بھائی، نہیں سوچوں گی“۔
”اور تم نے یہاں کسی کو کچھ بتایا تو نہیں اپنے بارے میں“۔
”کوئی اچھی بات ہوتی تو بتاتی بھائی“۔ زرینہ نے اداسی سے کہا۔
”تم فکر نہ کرو۔ میں سب سنبھال لوں گا“۔
”وہ بھائی، اماں آپ کو کھانے کے لئے بلا رہی ہیں“۔
”اب عشاءکا وقت ہورہا ہے۔ نماز پڑھ کر ہی آﺅں گا۔ تم لوگ کھانا کھالو“۔
باہر کھڑی نور بانو تیزی سے واپسی کے لئے پلٹی۔ وہ دل ہی میں خود کو ملامت کر رہی تھی۔ تو کبھی نہیں سدھرے گی نور بانو۔ یہ کیسا شک، کیسی بے اعتماد ہے تیرے اندر۔ تو تو فرشتے پر بھی شک کرنے سے نہ باز آئے....
بس ایک بار یہ میرے ہوجائیں۔ پھر دیکھنا.... اس کے اندر کسی نے چپکے سے کہا۔
مگر اس سے اندر کی شرمندگی کم نہیں ہوسکی۔ بس ایک بات کی خوشی تھی اسے۔ کھانے کا درست وقت معلوم ہوگیا تھا۔اب اس کا پلاﺅ خراب نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ نماز پڑھ کر آئیں گے تو پلاﺅ دم پر ہوگا۔
اندر زرینہ کہہ رہی تھی۔”نہیں بھائی، اماں کہہ رہی تھیں، آج کھانا سب لوگ ساتھ ہی کھائیں گے“۔
وہ پہلا موقع تھا کہ سب نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ ابتدا میں تو نور بانو بہت گھبرائی اور شرمائی، لیکن پھر اس نے سمجھ لیا کہ یہ اس کے لئے مثبت تبدیلی کا نکتہ آغاز ہوسکتا ہے۔
بہرحال پہلا موقع تھا۔ اس سے ٹھیک طرح سے کھایا تو نہیں گیا۔ البتہ وہ چپکے چپکے عبدالحق کو دیکھتی رہی۔ وہ جس رغبت سے کھارہا تھا، وہ اس کے لئے بہت بڑی خوشی تھی۔ اس کی محنت اور محبت کامیاب ہوگئی تھی۔
اور بات صرف عبدالحق کی نہیں تھی۔ وہاں سبھی انگلیاں چاٹتے نظر آرہے تھے۔
”واہ نور بانو، تونے تو کمال کر دیا دھیئے“۔ حمیدہ نے داد دی۔
”ایسا کھانا میں ایک بار پہلے بھی کھاچکا ہوں“۔ عبدالحق نے سر اٹھا کے بغیر بے دھیانی سے کہا۔
”کہاں پتر“؟ حمیدہ نے پوچھا۔
”دہلی میں اماں“۔
”آپ کو یاد ہے وہ کھانا“؟ نور بانو نے بے ساختہ پوچھا۔
اس کی آواز سن کر عبدالحق نے سر اٹھایا۔ مگر فوراً ہی نظریں جھکالیں۔”وہ کھانا کیسے بھول سکتا ہوں میں“۔
ایک لمحے کو نور بانو کو ایسا لگا، جیسے سمجھ رہا ہو کہ وہ کھانا اس نے ہی پکایا تھا۔
مگر اگلے ہی لمحے اس کی خوش فہمی دور ہوگئی۔”اور مجھے معلوم ہے کہ وہ کھانا آپ کی بڑی بہن حور بانو نے پکایا تھا“۔ عبدالحق نے کہا۔ فوراً ہی اسے احساس ہوگیا کہ اس کے منہ سے غلط بات نکل گئی ہے۔ دستر خوان پر رابعہ بھی موجود تھی۔
”آپ کو معلوم؟“ نور بانو نے پوچھا۔ اس کے دل میں پھانس سی چبھ کر اٹک گئی تھی۔ تو کیا باجی سے بات بھی ہوتی تھی ان کی۔ ظاہر ہے، باجی ہی بتاسکتی تھیں انہیں یہ بات۔
”جی.... وہ.... میں.... یہ تو مجھے یاد نہیں....“عبدالحق بری طرح گڑ بڑا گیا۔
اسی وقت رابعہ بول اٹھی۔”مجھے یاد ہے۔ میں نے بتایا تھا صاحب کو۔ صاحب نے بوا کا شکریہ ادا کرنے کو کہا تھا۔ پھر میں نے بتایا کہ کھانا بڑی بی بی حور بانو نے پکایا تھا تو صاحب بڑے حیران ہوئے تھے۔ اور واقعی ہر چیز تو بڑی بی بی نے اپنے ہاتھ سے بنائی تھی۔ حالانکہ مجھے یاد ہے کہ کھانے پکانے میں وہ کبھی دل چسپی نہیں لیتی تھیں“۔
نور بانو جانتی تھی کہ باجی نے وہ محنت اوتار سنگھ کی محبت میں کی تھی۔ اور اب اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ محبت اور محنت سرا ہی بھی گئی تھی۔
عبدالحق چور سا ہوگیا تھا۔ اس بات سے سب سمجھ گئے ہوں گے کہ اس نے تفتیش کیوں کی تھی۔
”اچھا رابعہ، یہ بتاکہ اس دن کا کھانا زیادہ اچھا تھا یا آج کا زیادہ اچھا ہے“؟ حمیدہ نے پوچھا۔
”میں کیا جانوں اماں۔ میں نے تو کھایا ہی نہیں تھا۔ ہم ان دونوں ماس مچھی کہاں کھاتے تھے۔ ہاں، یہ مجھے یاد ہے کہ صاحب نے اس دن رات کو بھی وہی کھانا مانگ کر کھایا تھا“۔
عبدالحق اور گڑبڑا گیا۔ یہ رابعہ تو راز پر راز کھولے جارہی ہے۔
حمیدہ عبدالحق کی طرف مڑی۔”تو پھر تو ہی بتا پتر، کون سا کھانا زیادہ اچھا تھا“۔
زرینہ بہت خوش تھی۔ اس نے بھرا پُرا گھر کھویا تھا۔ مگر یہاں اللہ نے اُسے بھرا پُرا گھر ہی دے دیا تھا۔ سب لوگ بہت محبت کرنے والے تھے۔ اماں تو بہت ہی اچھی تھیں۔ محبت کے سوا کچھ جانتی ہی نہیں تھیں۔
زرینہ نے جب سے ہجرت کے وقت اپنا گھر چھوڑا تھا، تب سے دکھوں کے سوا کچھ دیکھا ہی نہیں تھا۔ آنکھوں کے سامنے گھر کے تمام لوگ ختم کردئیے گئے۔ پاکستان پہنچی تو گھر سے محروم ہوچکی تھی۔ کیمپ ہی اس کا گھر تھا، جوکہ گھر ہرگز نہیں تھا۔ لیکن ایک لحاظ سے کیمپ میں رہنے کا بہت فائدہ ہوا۔ آدمی جب کسی کو اپنے جیسے دکھ میں مبتلا دیکھتا ہے تو اس کا دکھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ جبکہ اس نے تو وہاں کیمپ میں اپنے جیسے بے شمار لوگ دیکھے، جو پاکستان آتے ہوئے اپنا سب کچھ لٹا آئے تھے۔ ان میں بعض تو ایسے تھے کہ ان کے دکھوں کے سامنے اس کا اپنا دکھ بھی ہیچ تھا۔ چنانچہ وہ بہت آسانی سے اپنے دکھ بھول گئی، اور زندگی کی تازہ حقیقتوں کو اس نے قبول کرلیا۔
بس ایک پریشانی اسے تھی.... مستقبل کی فکر۔ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ آدمی زندہ ہو اور مستقبل کے بارے میں نہ سوچے، مگر وہاں کیمپ میں مستقبل کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ بس ایک سی زندگی، ایک سے صبح وشام، لگتا تھا زندگی اس کیمپ میں ہی ختم ہوجائے گی۔ لگتا تھا کہ دنیا ختم ہوگئی ہے۔ بس ایک کیمپ ہی بچا ہے۔ جیسے کیمپ سے باہر کچھ بھی نہیں۔
وہ بار بار سر اٹھاکر آسمان کو دیکھتی۔ دن ہو یا رات، آسمان بھی اسے آسمان نہیں، محض بڑا سا ایک شامیانہ لگتا تھا، جس میں رات کو ستاروں کے قمقمے روشن ہوجاتے تھے۔
لوگ باہر جاتے تھے۔ اس کا بھی دل چاہتا کہ باہر جائے۔ لیکن وہ نہیں جاسکتی تھی۔ پھر جمیل نے اسے لالچ دیا کہ وہ ایک اچھے گھر میں اسے ملازمت دلادے گا، جہاں اسے پیسے بھی ملیں گے اور ضرورت کی ہر چیز بھی۔ وہ ہر قیمت پر کیمپ سے نکلنا چاہتی تھی، اس لئے اس جھانسے میں آگئی۔
باہر نکل کر وہ بہت خوش ہوئی تھی۔ دنیا بہت بڑی تھی، آسمان اتھاہ تھا اور ہر طرف گہما گہمی تھی۔ اس کا اعتماد بحال ہونے لگا۔ مگر وہ بس تھوڑی دیر کی بات تھی۔ اس کے بعد اسے پتا چلا کہ اب وہ جہاں قید ہے، کیمپ کے مقابلے میں تو اسے بہت چھوٹا سا پنجرہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
مگر یہاں وہ پوری طرح آزاد تھی۔ زمین بھی اپنی، آسمان بھی اپنا۔ چلتے چلتے تھک جاﺅ تو بھی زمین ختم نہ ہو۔ اور پھر اپنائیت ایسی، اور ایسی عزت کہ اتنی تو اسے ہندوستان میں اپنے گھر میں بھی نہیں ملی تھی۔ بس ایک نور بانو اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ابھی اپنائیت اور محبت سے بات کررہی ہے اور ابھی ایک دم سے بے مہر ہوجائے گی۔ اس کے نتیجے میں زرینہ اس سے دور ہوگئی اور یوں وہ رابعہ سے قریب ہوگئی۔
گھر میں کام کرنے والی موجود تھی۔ اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے کام کم تو نہیں ہوتے۔ زرینہ نے وہ سب سنبھال لئے۔ رابعہ کو تو وہ ہلنے ہی نہیں دیتی تھی۔ رابعہ نے ابتدا میں بڑی مزاحمت کی۔ اس کا کہنا تھا کہ صاحب نے اس کا خیال رکھنے کو کہا ہے، ایسے جیسے وہ صاحب ہو، زرینہ نے سمجھ لیا کہ اس حوالے سے وہ یہاں بالا دست ہے۔ اس نے رابعہ کو بتادیا کہ وہ جو چاہے گی، کرے گی، اور وہ اسے روک نہیں سکتی۔
کیمپ میں بے کار اور ساکت وجامد زندگی گزارنے والی زرینہ کو زندگی گزارنے کا موقع ملا تو وہ اس میں کھوگئی۔ اس نے خود کو مصروف کرلیا۔ گھر سے باہر نکلی تو اس نے دیکھا کہ لوگ عبدالحق کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ اس کا رہا سہا خوف بھی دور ہوگیا۔
لیکن سوتی تو وہ نور بانو ہی کے کمرے میں تھی۔ اور نور بانو ہمیشہ اسے عبدالحق کے سلسلے میں ٹٹولنے کی کوشش کرتی، معلومات حاصل کرنا چاہتی۔ جبکہ زرینہ عبدالحق کے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں تھی۔ تنگ آکر اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ عبدالحق کے بارے میں بلاجھجک بات کیا کرے گی۔
........x........
Updated on 15 May 08 at 10:49 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.