Google
 

:: 28 عشق کا شین
نور بانو کیلئے سب کچھ بدل کر رہ گیا تھا.... مینو کے سوا۔ عبدالحق کی چادر اور مینو کے سوا اس کا کوئی مونس ودم ساز نہیں تھا۔ زرینہ کے آنے کے بعد سے وہ پہلے کی طرح خود اعتمادی سے محروم ہوگئی تھی۔ وہی پہلے جیسے خدشے اور وسوسے اسے ستانے لگے تھے۔ اب تو نیند میں بھی وہ لذت نہیں رہی تھی۔ کیونکہ وہ عبدالحق کے خوابوں سے بھی محروم ہوگئی تھی۔ اس کے نتیجے میں چڑچڑاپن اور بدمزاجی تو آنی ہی تھی۔
زرینہ کو وہ مکار سمجھتی تھی، وجہ یہ تھی کہ اگلے دن سے اس نے عبدالحق کو بھائی کہنا شروع کردیا تھا۔ نور بانو کا خیال تھا کہ زرینہ نے اپنے ساتھ اس کے تفتیشی رویے کا سبب جان لیا تھا اور اسے اطمینان دلانے کیلئے اسے بھائی کہنے لگی تھی۔ ویسے وہ کوشش کرتی تھی کہ اس کا رویہ زرینہ کے ساتھ خراب نہ ہو۔ کچھ بھی ہو، وجہ کوئی بھی ہو، عبدالحق نے بہرحال واضح ہدایات کے ساتھ اسے یہاں بھیجا تھا۔ تو عبدالحق کی بات کا بھرم رکھنا تو ضروری تھا۔
دوپہر کا کھانا وہ دونوں حمیدہ کے ساتھ کھاتی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ رات کو لازمی طور پر یکجا ہوتی تھیں۔ کھانے کے وقت نور بانو حمیدہ کے حجاب کی وجہ سے عبدالحق کا تذکرہ کبھی نہیں چھیڑتی تھی۔
اس روز کھانے پر حمیدہ نے زرینہ سے پوچھا۔ ”عبدالحق تو بہت کمزور ہوگیا ہوگا؟“
زرینہ چند لمحے سوچتی رہی۔ پھر بولی۔”میں یہ کیسے کہہ سکتی ہوں اماں۔ میں نے تو بھائی کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں۔“
”اور کیمپ میں بھی زیادہ کہاں دیکھا ہے۔ بس دو ہی دن تو دیکھا تھا۔“ نور بانو نے موقع پاکر جلدی سے ٹکرا لگایا۔
حمیدہ نے چونک کر زرینہ کو دیکھا۔ ”دو دن کیوں؟ وہ کیمپ میں ہی تو رہتا ہے نا۔ اور تو بھی وہیں تھی۔“
زرینہ جھنجلاگئی۔ یہ دو دن کا حوالہ تو اس کیلئے عذاب بن چکا تھا۔ جھنجلاہٹ میں اس نے سوچا کہ عبدالحق تو نجانے کب واپس آئے گا۔ اس کے آنے تک نجانے اسے کتنے جھوٹ بولنے پڑیں۔ البتہ ایک سچ اسے ہر جھوٹ سے بچاسکتا ہے۔ یوں اسے نور بانو کی ہر وقت کی تفتیش سے بھی نجات مل جائے گی۔ چنانچہ اس نے کہا۔ ”اماں.... کیمپ میں ہزاروں لوگ ہوتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ میں بھائی سے صرف دو دن پہلے ملی تھی۔ پھر انہوں نے مجھے یہاں بھیج دیا۔ اور ہاں اماں، چلتے ہوئے انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ میرے بارے میں آپ لوگوں کو وہ خود یہاں آکر بتائیں گے۔“
یہ سنتے ہی نور بانو کا تو چہرہ فق ہوگیا۔ یہ بات تو بڑی معنی خیز تھی۔ زرینہ کبھی عبدالحق کے بارے میں لگاوٹ سے گفتگو نہیں کرتی تھی، جیسے اسے اس کی پروا ہی نہ ہو۔ لیکن عبدالحق کا اس سے یہ کہلوانا.... اور کون جانے، یہ بھی زرینہ نے خود ہی گھڑلیا ہو ”یہ بات تم نے پہلے کیوں نہیں بتائی؟“ اس نے اعتراض کیا۔
”یہ کہنا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔“
حمیدہ بچی نہیں تھی۔ یہ تو پہلے ہی دیکھ چکی تھی کہ ان دونوں کے درمیان یک طرفہ کشیدگی ہے.... صرف نور بانو کی طرف سے۔ اور اس کا سبب عبدالحق ہے۔ لیکن اس وقت تو یہ بات بالکل واضح ہوگئی تھی۔ خود اسے اس بارے میں ذرا بھی تردد نہیں تھا۔ لیکن اس وقت کی بات نے اسے بھی چونکا دیا کہ کوئی خلاف توقع بات بھی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اس نے زرینہ کے چہرے پر ردعمل دیکھنے کیلئے نظریں جماتے ہوئے کہا۔ ”اچھا دھیے، یہ بتاکہ تیرے بھائی نے واپسی کے بارے میں بھی کچھ کہا تھا۔“ تیرے بھائی کہتے ہوئے اس نے خاص طور پر دیکھا۔ لیکن زرینہ کا چہرہ بے تاثر رہا۔
”بس اماں، بھائی نے اتنا کہا کہ وہ اپنا کام کرکے ہی آئیں گے۔“ اس جانچ پڑتال سے بے خبر زرینہ نے سادگی سے کہا۔
حمیدہ پوری طرح مطمئن ہوگئی۔ لیکن نور بانو پوری طرح بھڑک چکی تھی۔
زرینہ نے برتن سمیٹے اور باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ ”اماں.... میں ذرا آپا کو بھی دیکھ لوں۔“ اس نے جاتے جاتے کہا۔
نور بانو اٹھنے لگی تو حمیدہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ”تو کہاں چلی۔ یہاں بیٹھ نا میرے پاس۔“
نور بانو بیٹھ گئی۔ لیکن وہ حمیدہ سے نظریں چرارہی تھی۔
”تو تو اب میرے پاس بیٹھتی ہی نہیں۔ کچھ ناراض ہے مجھ سے۔“
’ارے نہیں اماں، آپ سے میں کیسے ناراض ہوسکتی ہوں۔“ نور بانو نے جلدی سے کہا۔
”تو پھر اتنی دور دور کیوں رہتی ہے؟“
”یہ بات نہیں اماں۔ دور تو آپ ہوئی ہیں۔“ نور بانو کو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا موقع مل گیا۔ ”نئی اور خوب صورت بیٹی جو مل گئی ہے آپ کو۔“
”لے.... وہ کب آتی ہے میرے پاس۔ وہ تو ہر وقت رابعہ کی فکر میں لگی رہتی ہے بے چاری۔ اور رہی بات خوب صورتی کی، تو مجھے تو تو زیادہ خوب صورت لگتی ہے۔“
”میں ہر روز آئینہ دیکھتی ہوں اماں۔ مجھے حقیقت معلوم ہے۔ آپ میرا دل رکھنے کو کہہ رہی ہیں نا۔“ نور بانو کا دل بھر آیا۔
حمیدہ کو اس پر پیار بھی آیا اور غصہ بھی۔ ”سن میری دھی، آج میں تجھے وہ بات سمجھاﺅں گی، جو شاید تجھے تیری ماں بھی کبھی نہ سمجھاتی۔“ اس نے گہری سانس لے کر کہا۔ ”اس لئے کہ تیری ماں نے بھی تجھے اتنا نہیں سمجھا ہوگا، جتنا میں سمجھ گئی ہوں۔ تو دیے کی طرح ہے، جو روشن اسی وقت ہوتا ہے، جب جلتا ہے۔ اس کی زندگی ہی جلنا ہے، اس کا کام ہی یہی ہے۔ نہ جلے تو اُسے چین بھی نہ آئے۔ تو اس بچے کی طرح ہے، جسے ہر وقت سردی لگتی ہو۔ اور وہ ہاتھ تاپنے کیلئے آگ جلاتا ہو، اور پھر تاپتے تاپتے اپنے ہاتھ جلا بیٹھتا ہو۔ ظاہر میں تو جلنے سے ڈرتی ہے، پر اندر ہی اندر تجھے جلنے کا شوق ہے....“
نور بانو سن ہوکر رہ گئی۔ غور کئے بغیر بھی وہ جان گئی تھی کہ اماں سچ کہہ رہی ہیں۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ اماں کتنی عقل مند ہیں۔ ”اب تجھے ایک کام کی بات بتاﺅں۔ جیسے یقین میں بڑی طاقت ہوتی ہے، ویسے ہی شک میں بھی ہوتی ہے۔ بلکہ شک چاہے طاقت میں یقین سے کم ہو، اثر میں اس سے تیز ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یقین نیکی ہے تو شک بدی۔ اور بدی نیکی سے آسان ہوتی ہے۔ تو دھی میری، تو یقین تو کرتی نہیں، پر گمان بہت کرتی ہے۔ اور گمان کا یہ ہے کہ کئے جاﺅ تو پھر پورا ہوکر رہتا ہے۔ آدمی کو بڑی طاقت دی ہے اللہ نے۔ پر وہ اس طاقت کے ساتھ الٹے راستے پر چل پڑے تو یہ اس کا نصیب۔“
لیکن وہ تو اس سے محبت کرتی ہے نا!
اب وہ اس کے قدموں کی چاپ کی منتظر تھی!
........x........
”توبہ ہے میری ربّا.... خون پانی ہوگیا ہے لوگوں کا۔“ حمیدہ نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
”لیکن اماں، یہ سچ صرف تمہارے لئے ہے۔“
”کیا مطلب ہے تیرا پتر؟“
”نور بی بی کو میں یہ سب کچھ نہیں بتاﺅں گا۔ خوامخواہ ان کو عمر بھر کا دکھ دینے کا فائدہ۔ ایک تو ویسے ہی آدمی سب کچھ کھوکر آیا ہو۔ اوپر سے اسے اور زخم لگایا جائے۔“
حمیدہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ”تو پھر تو کیا بتائے گا اسے؟“
”یہی کہ میں انہیں تلاش نہیں کرسکتا۔ اور اب ان کے ملنے کا کوئی امکان ہے بھی نہیں۔“
”تو.... تو جھوٹ بولے گا اس سے۔“
”مجبوری ہے اماں۔ انہیں دکھ سے بچانے کیلئے جھوٹ بولنا پڑے گا مجھے۔“
”اور جو میں تجھے بتاﺅں کہ سچ سے اسے دکھ نہیں ہوگا، بلکہ خوشی ہوگی۔“
”کیسی باتیں کرتی ہو اماں۔ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ سگے چچا کا ایسے الفاظ کہنا....“
”مانتی ہوں، اس بات سے دکھ ہوگا اسے۔ لیکن اس سے بہت زیادہ خوشی ہوگی۔“
”کیوں ہوگی خوشی؟“
”یہاں سے نہ جانے کی خوشی اس دکھ سے بہت بڑی ہوگی“ حمیدہ نے کہا۔
”نہیں اماں، میری عقل نہیں مانتی یہ بات“
”یہ عقل کے نہیں، دل کے سمجھنے کی بات ہے پتر“ حمیدہ نے بڑے پیار سے کہا۔ ”تجھے دل سے سوچنا اور کسی کے دل میں جھانکنا کہاں آتا ہے پگلے۔“
”نہیں اماں۔ یہ خطرہ میں مول نہیں لے سکتا۔“
”تو ٹھیک ہے۔ جو جی میں آئے کر“ حمیدہ نے سوچا، اس میں نقصان ہی کیا ہے۔ ”خود ہی پتا چل جائے گا تجھے۔“
عبدالحق اٹھ کھڑا ہوا۔ ”تم یہ سب چیزیں سنبھال کر رکھو اماں، میں اب چلتا ہوں۔“
”ہاں.... اب سوجا جاکر۔ دن بھر کا تھکا ہارا ہے۔“
........x........
وہ کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی، حالانکہ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو دروازے میں نوربانو کھڑی نظر آئی۔ عبدالحق کی دھڑکنیں بے ربط ہونے لگیں۔ تو وہ مرحلہ آہی گیا۔ اس نے دل میں سوچا۔
”آجائیے نوربی بی “
نوربانو اندر آئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چادر اور کچھ پرانی کتابیں تھیں۔
عبدالحق نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”بیٹھئے۔“
نوربانو بیٹھ گئی۔
”مجھے موقع نہیں ملا کہ آپ کو....“ الفاظ عبدالحق کے گلے میں پھنس رہے تھے۔
نور بانو نے بہت تیزی سے اس کی بات کاٹی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کیا کہے گا۔ اور وہ اسے اس کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے ہی وہ اپنے دل کی بات اس پر واضح کردے۔ ”آپ کو شاید یہ بدتمیزی لگے، اس لئے میں پہلے ہی آپ سے معذرت کررہی ہوں۔“ اس نے کہا۔ ”مگر اتنی رات کو، دن بھر کی تھکن کے بعد جو میں آپ کو زحمت دے رہی ہوں تو اس لئے نہیں کہ میں آپ سے کچھ سننا چاہتی ہوں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں....“
عبدالحق کا چہرہ فق ہوگیا۔ معاملہ اس کی توقع سے زیادہ سنگین تھا۔ ”جی .... میں سمجھتا ہوں، لیکن....“
”نہیں .... آپ کچھ بھی نہیں سمجھے۔“ نور بانو نے تیز لہجے میں پھر اس کی بات کاٹ دی۔ ”مختصراً بات یہ ہے کہ آپ کو بولنا نہیں ہے، صرف سننا ہے۔ جب تک میری بات پوری نہ ہوجائے، آپ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔“
”جی بہتر“ عبدالحق نے مرے مرے لہجے میں کہا۔ یہ تو اس نے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہی دیکھ لیا تھا کہ گم صم رہنے والی اس کم گو لڑکی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ اس کے مزاج میں جارحیت آگئی ہے، اور اس کا نشانہ خاص طورپر وہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ اسے بہتر ہی لگا کہ وہ اسے بولنے سے روک رہی ہے۔
”میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ایک ابتدائی تاثر کی وجہ سے آپ مجھے غلط سمجھتے رہے ہیں۔“ نوربانو نے بے حد ٹھہرے ہوئے لہجے میں بات شروع کی۔
”آپ نے یہ نہیں سوچا کہ میرا وہ ردعمل اور آپ پر قائم ہونے والا تاثر ایک خاص ہنگامی صورتحال کے تحت تھا۔ ایسے حالات میں تو مضبوط اور طاقت ور لوگ بھی ہل جاتے ہیں، میں تو ایک کمزور اور اکیلی لڑکی تھی، جس کا سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ ایک ایسی لڑکی کے فطری ردعمل کی بنیاد پر اسے احسان فراموشی سمجھ لینا بڑی زیادتی ہے....“
”میں نے آپ کو ایسا بھی نہیں....“ عبدالحق نے تڑپ کر کہنے کی کوشش کی۔
”پھر بولے آپ۔ آپ میری بات کیوں نہیں مانتے۔“ نوربانو نے سخت لہجے میں کہا۔
”معافی چاہتا ہوں۔ اب نہیں بولوں گا۔“ عبدالحق کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔
”میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں کم ظرف اور احسان فراموش نہیں ہوں۔ صورتحال بہتر ہوئی، میں یہاں آئی اور مجھے مکمل تحفظ ملا تو میری سمجھ میں آیا کہ آپ نے، زبیر بھائی اور رابعہ آپا نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ سگے رشتہ دار بھی نہیں کرتے۔ یہ آپ لوگوں کا وہ احسان ہے مجھ پر جو جان دے کر بھی نہیں اتارا جاسکتا۔ پھر یہاں اماں کی صورت میں مجھے میری مری ہوئی ماں مل گئی۔ سچ کہوں تو یہاں میں اتنی خوش رہی کہ دہلی میں، اپنے گھر میں، اپنے لوگوں کے درمیان بھی کبھی اتنی خوش نہیں رہی تھی۔ آپ سب لوگ میرے لئے میرے سگے رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر ہیں۔ مگر آپ کو میری اس تبدیلی کو دیکھنے اور سمجھنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ آپ میرے بارے میں اسی پہلے تاثر پر ڈٹے رہے کہ میں آپ لوگوں سے خوف زدہ ہوں اور یہاں سے جانا چاہتی ہوں۔ اس روز لاہور جانے سے پہلے جو میں آپ کے پاس آئی تھی تو اس لئے نہیں کہ چچا کی تلاش کا وعدہ یاددلاکرآپ کو لاہور بھیجوں۔ میں تو آپ کو آپ کی کچھ چیزیں دینے، اور ان کی بے پناہ اہمیت کے بارے میں بتانے کیلئے آئی تھی۔ آپ نے اپنے اس پہلے تاثر اور میرے بارے میں اپنے مفروضے کے تحت میری بات سنی ہی نہیں اور مجھ سے ملے اور بات کئے بغیرہی لاہور چلے گئے۔ اگر آپ مجھے بتادیتے کہ آپ کس لئے لاہور جارہے ہیں تو پتا ہے، میں کیا کہتی آپ سے، وہ کہتے کہتے رکی۔ ”اب یہ پوچھئے مجھ سے۔“
عبدالحق کو ہمت تو نہیں ہورہی تھی۔ مگر اس نے بڑی فرماں برداری سے پوچھا،۔ ”کیا کہتیں آپ؟“
”میں کہتی کہ آپ کو لاہور جانے اور میرے چچا جان کو تلاش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پچھلے سب رشتے ختم ہوچکے.... بے معنی ہوچکے۔ اب میرے تمام رشتے اس زمین پر، اس گھر میں موجود ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے نوربانو کی نظریں جھک گئیں۔ ”میں خود کو آپ پر تھونپنا نہیں چاہتی۔ لیکن اماں، زبیر بھائی اور رابعہ آپا کیلئے میری اہمیت ہے۔ وہ نہیں چاہیں گے کہ میں یہاں سے جاﺅں۔“
یہ تو میں بھی نہیں چاہتا۔ عبدالحق نے دل میں سوچا۔
”میں آپ سے کہتی کہ چاہے آپ مجھے خود پر بوجھ سمجھیں، مگر مجھے یہاں رہنے دیں۔ اب اگر چچاجان یہاں آکر مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہیں تو بھی میں انکار کردوں گی۔ میں یہاں سے کہیں نہیں جانا چاہتی۔ مگر آپ تو ہر چیز کو اپنی مرضی کی عینک لگاکر دیکھتے ہیں نا، اس لئے مجھے بتائے بغیر چلے گئے۔ اب مجھے بتائیے، اتنا عرصہ گھر سے دور، گھر کے سکون اور آسائشوں سے محروم رہ کر آپ نے کیا پایا۔“
”اب میں بول سکتا ہوں؟“ عبدالحق نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
”جی ہاں۔ کیونکہ میرا خیال ہے، میں اپنی بات واضح کرچکی ہوں۔“
”تو میں آپ کے آخری سوال کا جواب دیتا ہوں۔ میں نے ناکامی کے سوا کچھ نہیں پایا۔ میں سر توڑ کوشش کے باوجود آپ کے چچا جان کو تلاش نہیں کرپایا۔ میں شرمندہ ہوں۔ کیونکہ مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی انہیں تلاش کرسکوں گا۔“
نوربانو کی حیرت اتنی شدید تھی کہ چند لمحوں کیلئے تو وہ گنگ ہوکر رہ گئی۔ کچھ بول ہی نہیں سکی۔ پھر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ ”یہ.... یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟“ اس کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
”میں سچ کہہ رہا ہوں۔ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔“
نوربانو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ سچ بولنے والا اس سے جھوٹ کیوں بول رہا ہے۔
”مجھے اس بات کا ڈر تھا۔ آپ یہی سمجھ رہی ہیں نا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔“
”اور میں ایسا کیوں سوچوں گی؟“
”اس خیال سے کہ میں آپ کو یہاں روکنا چاہتا ہوں.... آپ کو یہاں سے جانے نہیں دینا چاہتا۔“
”اور میرے خیال میں آپ ایسا کیوں کریں گے؟“ نوربانو نے چبھتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
”اب یہ تو آپ ہی جانتی ہوں گی۔“
”میں تو جانتی ہی ہوں گی۔ آپ بتائیں، آپ کا کیا خیال ہے اس سلسلے میں۔“
عبدالحق چند لمحے ہچکچاتا رہا، بالآخر بولا۔ ”کیونکہ آپ کے خیال میں میں برا آدمی ہوں۔ شاید آپ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ آپ کے سلسلے میں مےرے عزائم کچھ اچھے نہیں ہیں۔“
”یہ سن کر نوربانو نے عملاً سرپیٹ لیا۔۔ ”آپ کس طرح کے آدمی ہیں۔“ وہ جھنجھلاکر بولی۔ ”اتنے بڑے بڑے نظریات قائم کرلیتے ہیں، اور ان کو عقل کی کسوٹی پر پرکھتے تک نہیں۔ ارے اللہ کے بندے، میں تو آپ کو روئے زمین پر موجود سب سے اچھا اور سچا انسان سمجھتی ہوں.... نہیں، یوں کہنا چاہئے کہ سمجھتی تھی“
”عبدالحق کے جسم میں کرنٹ سا دوڑگیا تھا۔ لیکن نور بانو کے آخری جملے نے اسے پھر سہمادیا۔ ”اب نہیں سمجھتیں! اس لئے نا کہ آپ کے خیال میں میں آپ کے چچا جان کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہوں؟“
”یہ میرا خیال نہیں، مجھے پورا یقین ہے.... بلکہ میں جانتی ہوں کہ آپ اس معاملے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔“
عبدالحق کی یہ کیفیت ہوگئی کہ کاٹو تو جسم میں خون نہیں۔ نوربانو اس کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ پہلے تو اس نے یہ باور کرایا کہ وہ یہاں سے جانا ہی نہیں چاہتی۔ چچا مل بھی جائیں تو نہیں جائے گی۔ یہ سن کر اسے اطمینان ہوگیا کہ اس کا کام آسان ہوگیا ہے۔ مگر یہ سنتے ہی کہ وہ چچا کو تلاش نہیں کرسکا، اس کا رویہ ہی تبدیل ہوگیا۔ وہ بغیر کسی معقول وجہ کے اسے جھوٹا سمجھنے لگی۔ اور وہ اتنے یقین کے ساتھ اسے جھوٹا کہہ رہی ہے۔ تو کیا دراصل وہ اپنے چچا کے پاس جانا چاہتی ہے۔ اس کا ذہن بری طرح الجھ گیا۔
”تو پھر بات تو وہی ہوئی نا نور بی بی۔“ اس نے آہستہ سے کہا۔ ”آپ کے خیال میں میرے عزائم اچھے نہیں، اور جھوٹ بولنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔“
”نہیں، ایسا تو میں سوچ بھی نہیں سکتی آپ کے بارے میں۔ مگر میری سمجھ میں یہ بھی نہیں آتا کہ آپ جھوٹ کیوں بول رہے ہیں۔ خیر، اس بات کی میرے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ چچا ملیں یا نہ ملیں، مجھے ان کے ساتھ جانا ہی نہیں ہے۔ میں یہیں رہنا چاہتی ہوں۔“
عبدالحق جھنجھلاگیا۔ جی چاہا کہ سر کے بال نوچنے لگے۔ عجیب لڑکی تھی.... کبھی تولہ کبھی ماشہ
”آپ خود ہی بتادیں ناکہ آپ چچا جان کے معاملے میں جھوٹ کیوں بول رہے ہیں۔“ نوربانو نے اچانک کہا۔
”بتانا ہوتا تو جھوٹ بولتا ہی کیوں“ عبدالحق نے دوٹوک انداز میں کہا۔
”اچھا چھوڑیں، اب آپ کی ان چیزوں کی بات ہوجائے، جو میں اس دن کرنا چاہتی تھی۔ لیکن آپ نے مجھے موقع ہی نہیں دیا۔ یہ کچھ کتابیں اور دوڈائریاں ہیں آپ کے والد کی، جو تہ خانے میں سے ملی تھیں۔ آپ کو یاد ہے، میں نے آپ سے انہیں پڑھنے کی اجازت لی تھی۔؟“
مگر میرے ماموں تو سب لوگوں کے ساتھ اللہ میاں کے پاس چلے گئے۔ اللہ میاں کے پاس جاکر تو کوئی راستہ نہیں بھولتا ہوگا۔“
کبھی کبھی ارجمند کے سوالوں کا جواب دینا نادرہ کیلئے مشکل ہوجاتا تھا۔ اس وقت بھی ایسی ہی صورتحال تھی۔ مگر اس کی مشکل آسان ہوگئی۔ نیلم بائی نے دروازے سے جھانکا۔ ”چلو ارجی.... تمہارے استاد جی آگئے ہیں۔“
”میں ارجی نہیں ہوں۔ میرا نام ارجمند ہے“ ارجمند نے بڑے وقار سے کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
........x........
نیلم بائی کی پوری زندگی کوٹھے پر گزری تھی۔ مگر اس نے اپنی زندگی میں نادرہ جیسی کوئی لڑکی نہیں دیکھی تھی۔ کوٹھے پر آنے والی ہر نئی لڑکی اپنی بساط کے مطابق زبردست مزاحمت کرتی ہے۔ اس مزاحمت کو توڑنا ایک فن ہے، جس میں ہر نائیکہ طاق ہوتی ہے۔ اس مزاحمت کو توڑنے کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے۔ مزاحمت جتنی شدید ہو، اسے توڑنے میں نائیکہ کو اتنی ہی لذت ملتی ہے۔
کوٹھا بھی ایک طرح سے صدیوں سے قائم ایک ادارہ ہے۔ ہرنائیکہ ابتدا میں ایک مزاحمت کرنے والی لڑکی ہوتی ہے۔ اور مزاحمت ٹوٹنے کے بعد طوائف بننے والی ہر لڑکی کو مستقبل میں نائیکہ بننا ہوتا ہے۔ اور ہر طوائف کے پاس اپنی مزاحمت توڑنے والی نائیکہ کا دیا ہوا صدیوں کا تجربہ ہوتا ہے۔
لیکن نادرہ ابتدا ہی سے مختلف تھی۔ اسے شیدا نیلم بائی کے پاس لایا تھا۔
پاکستان بنتے ہی شیدے کا دھندا خوب چمکا تھا۔ ہندوستان سے کوئی گاڑی آتی تو شیدا اسٹیشن کا رخ کرتا۔ اور ہر بار کوئی نہ کوئی نگینہ اس گاڑی سے نکال لاتا۔ بعض اوقات تو کئی لڑکیاں لے آتا تھا۔
نیلم کو یاد تھا، نادرہ بہت برے حال میں آئی تھی۔ لیکن نیلم جوہری تھی۔ کتنی ہی کیچڑ لگی ہو، گرد تھپی ہو، ہیرے کو وہ ہرحال میں پہچان لیتی تھی، نادرہ کو بچی کے ساتھ ایک کمرے میں پہنچاکر وہ واپس آئی اور شیدے کو گن کر سو روپے دیے۔
شیدے نے وہ روپے اس کی طرف پھینک دیے۔ ”یہ کیا پکڑارہی ہو بائی؟“
”تجھے معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ قیمت دینے والا اس بازار میں کوئی نہیں۔ لڑکی کا حال تو دیکھ۔“
”میں سب دیکھ بھال چکا ہوں بائی۔ تم جانتی ہو یہ بات۔ دیکھو بھائی، یہ تمہارے لئے زندگی بھر کی کمائی ہے۔ زندگی رہی تو چالیس سال ان کی کمائی کھاﺅگی۔ سونا ہے سونا۔“
”چالیس سال!“ نیلم نے آنکھیں نکالیں۔ ”اب تو دن میں بھی چڑھانے لگا ہے۔ چالیس سال کوئی چلی ہے آج تک۔“
”بنو مت بائی۔ میں تمہارے پاس صرف حال نہیں لایا، مستقبل بھی لایا ہوں۔ شراب کی بند بوتل ہے۔ بارہ سال بعد کھلے گی تو لوگ کھنچے چلے آئیں گے اس کی خوشبو پر۔ بیس سال بڑی والے کے ہیں تو اس سے زیادہ اچھے بیس سال چھوٹی والی کے ہوں گے۔ تم جانتی ہو یہ بات۔“
”اچھا چل، پچاس اور لے لے۔“
”تم پیسے اپنے پاس رکھو اور ان دونوں کو لے آﺅ۔ میں کوئی اور گھر دیکھتا ہوں۔“
اور شیدا دو سو روپے لے کر ہی ٹلا۔
نادرہ نیلم کیلئے حیران کن ثابت ہوئی۔ کبھی اس طرح کی لڑکیاں بھی آجاتی ہیں۔ کوئی کہے کہ یہ بہت بے رحمانہ بات ہے، بہت بڑی زیادتی ہے، لیکن بازار میں عمر گزارنے والی نیلم جانتی تھی کہ پیدائشی طورپر تو کوئی لڑکی طوائف نہیں ہوتی۔ لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ جنسی بے راہ روی میں مبتلا لوگ بعض اوقات چھوٹی بچیوں تک کو لتوں میں لگادیتے ہیں۔ پھر ان بے چاریوں کے لئے زندگی میں اور کچھ بھی نہیں رہتا۔ وہ کوٹھوں پر ایسے آتی ہیں، جیسے ریت پر پھڑکتی ہوئی مچھلی کو کوئی اٹھاکر پانی میں پھینک دے۔ اور وہ یہ بات اس لئے سمجھتی تھی کہ وہ خود بھی ایسی ہی تھی۔
بظاہر تو نادرہ ایسی لگتی تھی، لیکن کبھی نیلم کو شبہ ہوتا تھا کہ نادرہ کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے۔ وہ کم بولتی تھی، اور بہت شائستہ طبیعت کی تھی، گفتگو سے پڑھی لکھی لگتی تھی، اور یہ بھی طے تھا کہ وہ کسی اچھے گھر کی ہے۔ مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بے راہ روی تو اچھے گھروں میں بھی راہ بنالیتی ہے۔ لیکن نادرہ کے رویے میں کہیں گہرائی میں ایک دبا دبا اکراہ تھا، جو اوپر بہرحال نظر نہیں آتا تھا۔
اور جب نیلم نے نادرہ سے کہا کہ کوٹھے کے لحاظ سے اس کیلئے کوئی اور نام ہونا چاہئے تو وہ کھل اٹھی تھی۔ ”ٹھیک ہے بوا“ یہ تو بہت اچھا ہے۔ اس نے کہا تھا۔ ”میں تو خود اپنا نام یاد نہیں رکھنا چاہتی۔“
وہ پہلا موقع تھا کہ نیلم کے اندازے کی تصدیق ہوئی۔ نادرہ نے کوئی بہت بڑا سمجھوتہ کیا تھا اپنے آپ سے۔ ”کوئی نام ہے تمہارے ذہن میں؟“ اس نے نادرہ سے کہا۔
نادرہ کچھ دیر سوچتی رہی۔ پھر بولی۔ ”نرگس کیسا رہے گا؟“ تاہم اس کے لہجے میں اعتماد نہیں تھا۔
نیلم بائی تو پھڑک گئی۔ ”بہت شاندار، اس نام کے تو لوگ دیوانے ہیں آج کل“
یوں نادرہ نرگس بن گئی۔
تین مہینے گزرگئے۔ نیلم کو نرگس سے کبھی کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ وہ اس کی لاڈلی بن گئی۔ دوسری لڑکیاں حسد کرنے لگیں کہ بوا نرگس کی کوئی بات نہیں ٹالتیں۔ وہاں نیلم بائی کے بعد نرگس کا ہی حکم چلتا تھا۔
پھر ایک دن نیلم بائی کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ نرگس نے سمجھوتہ کیا ہے۔ اور وہ یہ بھی سمجھ گئی کہ سمجھوتہ کیوں کیا ہے۔
اس روز نرگس نے کہا۔ ”بوا، میں چاہتی ہوں کہ ارجمند کو تعلیم دلائی جائے۔ آپ اسے اسکول میں داخل کرادیں۔“
گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والی نیلم بائی ایک لمحے میں بات کی تہہ کو پہنچ گئی۔ ”دیکھ بیٹی، یہاں قریب میں کوئی اچھا اسکول ہے بھی نہیں۔ اور ویسے بھی میں بچی کو باہر نکالنا پسند نہیں کرتی۔“
”کیوں بوا؟“نرگس نے بہت دھیمے لہجے میں پوچھا۔
”میں اس بات کی قائل ہوں کہ نئے چاند کو چودھویں رات سے پہلے گھٹاﺅں میں چھپاکر رکھنا چاہئے۔ تبھی تو دیکھنے والوں کی آنکھیں چکاچوند ہوں گی۔“ اس نے نرگس کو بہ غور دیکھتے ہوئے کہا۔
نرگس کے چہرے پر ایک رنگ سا دوڑگیا۔ نیلم کے اندازے کی مزید تصدیق ہوگئی۔
”چلو ٹھیک ہے بوا۔ مگر گھر پر تو پڑھایا جاسکتا ہے اسے۔“
نیلم بائی نے سکون کی سانس لی۔ کوٹھے کے ماحول میں تناﺅ اسے پسند نہیں تھا۔ تناﺅ کاروباری لحاظ سے نقصان دہ ہوتا ہے۔ تماش بین پھولے ہوئے منہ دیکھنے کیلئے تو نہیں آتے۔ انہیں تو ہنستے مسکراتے چہرے اچھے لگتے ہیں، چاہے مسکراہٹ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے فیصلہ کیا کہ یہ بات ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ ساتھ ہی وہ اچھے ماحول میں اپنی ایک بات منواسکتی ہے۔
”دیکھ بیٹی، ہمارے ہاں تو تعلیم ہی اور دی جاتی ہے۔ ابھی سے رقص اور گانے کی تعلیم دی جائے گی تو بچی بڑی ہوتے ہوتے طاق ہوجائے گی۔ میں نے استاد جی سے بات کرلی ہے ارجمند کیلئے۔ سہ پہر کے وقت وہ آیا کریں گے۔“
نرگس کے چہرے پر پھر رنگ دوڑگیا۔ شاید سمجھوتے کی کچی ڈور پر دباﺅ بڑھ گیا تھا۔ یعنی اب وہ کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتی تھی۔
نیلم بائی اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔ ”لیکن نرگس، سچی بات ہے کہ میں تجھے اپنی بیٹی سمجھتی ہوں۔“ اس نے لہجے میں محبت سموتے ہوئے بڑے دلار سے کہا۔ ”تیری فرمانبرداری نے میرا دل جیت لیا ہے۔ تیری بات میں ٹال نہیں سکتی۔ میں ارجمند کےلئے بہت اچھا استاد لگادوں گی پڑھانے کیلئے۔“
نرگس خوش ہوگئی۔ ”شکریہ بوا۔ اسے قرآن پاک میں خود پڑھادوں گی۔“
نیلم اپنی ناگواری کو پی گئی۔ آخر نرگس نے بحث مباحثے کے بغیر کوٹھے کی تعلیم بھی تو قبول کرلی تھی۔
یوں ارجمند کی دونوں طرح کی تعلیم شروع ہوگئی۔ لیکن نیلم نے نرگس کو اور اس کے سمجھوتے کو پوری طرح سمجھ لیا تھا۔ نرگس کا خواب اس پر کھل گیا تھا۔ وہ ارجمند کو بچانے کیلئے اپنی قربانی دے رہی تھی۔ نیلم نے سمجھ لیا کہ ارجمند ان دونوں کے درمیان وجہ نزاع بن سکتی ہے، لیکن ابھی اس میں بہت وقت پڑا تھا۔ اس وقت تک نرگس کو تو نچوڑا جائے۔ الجھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ نیلم بائی جانتی تھی کہ کوٹھے کے ماحول میں کیسا سحر ہوتا ہے۔ کوٹھے پر پلنے بڑھنے والی کچی عمر کی لڑکیاں تو اس سحر سے بچ ہی نہیں سکتیں۔ نرگس کچھ بھی نہیں کرسکے گی۔ کوئی لڑکی رقص سیکھے گی تو اسے رقص دکھانے کا شوق بھی ہوگا۔ اور جوانی کی سرحد میں قدم رکھنے والی لڑکی کیلئے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر سراہنا کافی نہیں ہوتا۔ وہ مردوں سے تعریف سننے کیلئے کچھ بھی کرسکتی ہے۔ نیلم بائی مطمئن تھی۔ وہ مناسب وقت پر بہت چپکے چپکے ارجمند کو پرپرزے نکالنے میں مدد دے گی۔ نرگس سے الجھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جب کسی کو گڑ کھلاکر مارا جاسکتا ہو تو زہر دینے کی کیا ضرورت ہے۔
نیلم بائی پلٹی اور اس کمرے کی طرف چل دی، جہاں استاد جی ارجمند کی تربیت کررہے تھے۔
........x........
وہ وقت نادرہ کیلئے بہت سخت ہوتا تھا، جب زخم ہرے ہوتے تھے۔ تب وہ پہلے ہی کی طرح مرنے کی آرزو کرتی تھی۔ مرنا اس کیلئے بڑی بات نہیں تھی۔ بلکہ مرنا تو اس کیلئے بہت آسان تھا۔ درحقیقت تو وہ اس دن ٹرین میں ہی مرگئی تھی۔ اس کے بعد مرنا تو اس کیلئے محض ایک رسم تھا۔ لیکن ایک ذمہ داری ایسی آپڑی کہ موت سے ہزارگنا بدتر زندگی جینا اس کیلئے ضروری ہوگیا۔
ٹرین کے پاکستان پہنچنے سے کچھ ہی دیر پہلے اسے ہوش آیا تھا، ڈبے کا منظر دیکھتے ہی اسے ابکائی آئی۔ لیکن پیٹ میں کچھ تھا ہی نہیں۔ پھر اچانک اسے اپنی برہنگی کا احساس ہوا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔ اس کے اپنے کپڑے اس قابل نہیں تھے کہ اس کی برہنگی کو مکمل طورپر ڈھانپ سکتے، لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ یہ تصور بھی اس کیلئے سوہان روح تھا کہ وہ مکمل برہنہ حالت میں پاکستان پہنچے۔ چنانچہ اس نے وہی کپڑے پہن لئے۔ پھر اسے اماں کی چادر نظر آئی۔ خون کے دھبے سوکھ چکے تھے۔ اس نے وہ چادر اوڑھ لی۔
ٹرین کی رفتار کم تھی۔ لیکن وہ چل رہی تھی۔
اسے یاد آیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوچکا ہے۔ ایک لمحے کو تو اسے لگا کہ اس نے کوئی بھیانک خواب دیکھا تھا۔ لیکن دکھتا ہوا بدن گواہی دے رہا تھا کہ وہ حقیقت تھی۔ پھر ڈبے کی صورتحال دیکھی تو سب کچھ واضح ہوگیا۔ اس لمحے اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ وجود کی اس ناپاکی کے ساتھ پاکستان کی سرزمین پر قدم نہیں رکھے گی۔ وہ چلتی ٹرین سے کود کر جان دےدے گی۔
یہ سوچ کر وہ دروازے کی طرف چلی۔ اس لمحے اس کی نظر ارجمند پر پڑی، جو بے سدھ ایک طرف پڑی تھی۔ اس کے قدم ٹھٹھک گئے۔ ارے.... یہ ابھی تک سورہی ہے۔ کہیں امی نے افیون زیادہ تو نہیں دے دی تھی۔ ننھی بچی کیلئے تو ایک چٹکی بھی بہت ہے۔
وہ گھبراکر ارجمند کی طرف بڑھی۔ سینے کے تموج سے اندازہ ہوگیا کہ وہ زندہ ہے۔ اور اس کی سانسیں بڑی ہموار تھیں۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ سورہی ہے۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گئی اور اسے ہلانے لگی۔ ”اٹھو گڑیا....“ ارجمند کسمسائی، کچھ منمنائی۔ لیکن شاید آنکھیں کھولنا اس کے بس میں ہی نہیں تھا۔ وہ پھر بے سدھ ہوگئی۔
وہ کچھ دیر ارجمند کا سر اپنے زانوں پر رکھ کر بیٹھی رہی۔ پھر اسے احساس ہوا کہ ٹرین کی رفتار کم ہورہی ہے۔ پھر رفتار بتدریج کم ہوتے ہوتے ٹرین ٹہرگئی۔ اس کے ساتھ ہی باہر سے آوازیں آنے لگیں۔
Updated on 15 May 08 at 10:50 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.