Google
 

:: 29 عشق کا شین
وہ خوف زدہ ہوکر دبک گئی۔ وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ مرجانا چاہتی تھی۔ لیکن ارجمند کو اس طرح چھوڑنا اس کے لئے ممکن نہیں تھا۔ لیکن یہ مشکل اپنی جگہ تھی کہ وہ اس حال میں کسی کا سامنا کیسے کرے گی۔
قریب آتی ہوئی آوازیں ابھریں۔ دروازے سے کچھ لوگ ڈبے میں آئے۔ اس نے اماں کی خون آلود چادر اپنے منہ پر ڈال لی اور سانس روک لی۔
”اس ڈبے میں تو کوئی بھی زندہ نہیں ہے“ ایک مردانہ آواز ابھری۔
”پھر بھی اندر چل کر دیکھنا تو چاہئے۔“
”اویار، پہلے زندوں کی فکر کرنی ہے ہم نے۔ یہ بے چارے تو ہر فکر سے بے نیاز ہیں۔ انہیں بعد میں دیکھ لیں گے۔“
”ضمیر ٹھیک کہہ رہا ہے۔“ تیسری آواز میں تحکم تھا۔
ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ لوگ۔ نادرہ نے دل میں سوچا۔ میں زندہ کب ہوں۔
وہ لوگ نیچے اترے اور دوسرے ڈبے کی طرف بڑھ گئے۔ نادرہ کچھ دیر بیٹھی رہی۔ پھر اس نے سوچا کہ ٹرین سے اترنا تو ہوگا۔ اس نے سوچا کہ پلیٹ فارم پر اترنے کے بجائے دوسری طرف اترے گی۔ کیوں؟ اور اس کے بعد کیا ہوگا، یہ سب کچھ سوچنے کے وہ قابل نہیں تھی۔
اس نے ارجمند کو جگانے کی کوشش کی۔ لیکن ناکام رہی۔ تھک ہار کر اس نے اسے گود میں اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اس نے ارجمند کو اٹھاتو لیا۔ پانچ سال کی لاڈلی بھتیجی کو اس نے بارہا گود میں اٹھایا تھا، لیکن اس وقت جسم جس طرح نڈھال تھا، اس کی وجہ سے وہ اسے بہت بھاری لگی۔ اس کی ٹانگیں کپکپانے لگیں۔ لیکن ایک احساس اور بھی تھا۔ ارجمند نے جیسے اس کی برہنگی کو اور ڈھانپ لیا تھا۔ ورنہ تو وہ اماں کی چادر کے باوجود خود کو برہنہ ہی سمجھ رہی تھی۔
اس نے لڑکھڑاتے ہوئے قدم دروازے کی طرف بڑھائے۔
اسی لمحے دروازے کی طرف سے آہٹ ابھری اور وہ جوان آدمی اچانک ہی سامنے آگیا۔ نادرہ کے حلق سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
جوان آدمی اسے بہت غور سے دیکھ رہا تھا، اور وہ اپنی جگہ ساکت ہوگئی تھی۔ پھر جوان آدمی آگے بڑھا اور اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔ ”ڈریئے مت۔ اب آپ اپنے لوگوں کے درمیان ہیں۔“ اس نے بے حد شائستگی سے کہا۔
نادرہ نے اسے غور سے دیکھا۔ اس کی عمر 30، 35 کے درمیان ہوگی۔ وہ بشرٹ اور پینٹ پہنے تھا۔ پیروں میں شوز تھے۔ صورت شکل اور طورطریقے سے بھی شائستہ معلوم ہوتا تھا۔ نادرہ قدرے پرسکون ہوگئی۔
”مجھے بس اتنا بتادیں، آپ کا کوئی اپنا بچا ہے یا نہیں۔“
نادرہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
”میں سمجھ گیا، آپ غم نہ کریں۔ میں موجود ہوں نا۔ آئیے میرے ساتھ۔ لائیے، بچی کو مجھے دے دیں۔“
”آ.... آپ.... کون ہیں؟“
”میں عبدالرشید.... دہلی سے تعلق ہے میرا۔ ہم لوگ پہلے ہی ہجرت کرآئے تھے۔ اب یہاں ہمارا اپنا گھر ہے۔“ وہ کہتے کہتے رکا اور اس نے غور سے نادرہ کو دیکھا۔ ”آپ بھی شاید دہلی کی ہیں۔“
نادرہ نے اثبات میں سرہلادیا۔ اب ارجمند کو اٹھاکر کھڑے رہنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ لگتا تھا، کسی بھی لمحے وہ گرجائے گی۔
رشید نے یہ بات بھانپ لی ”لائیے.... بچی کو مجھے دے دیں۔“ اس نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا۔
نادرہ نے ارجمند کو اس کی گود میں دے دیا۔
”آپ کا نام کیا ہے؟“
نادرہ کو لگا کہ وہ اسے بہت غور سے دیکھ رہا ہے.... جیسے اس کی نظریں چادر کے آرپار ہورہی ہیں۔ ”میرا نام نادرہ ہے“ اس نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
”اور یہ بچی؟“
”میری بھتیجی ہے.... ارجمند۔“
”مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ آپ پر کیا گزری ہے، اور آپ کس حال میں ہیں۔“ رشید نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا۔ ”ایسے میں آپ کو لاوارث کی حیثیت سے کسی کے سامنے نہیں آنا چاہئے۔“
نادرہ کا چہرہ تمتما اٹھا۔ مگر اسے فوراً ہی احساس ہوگیا کہ بات کڑوی ہے، اور اسے بری بھی لگی ہے۔ لیکن ہے سچی۔ یہ تو وہ خود بھی نہیں چاہتی تھی۔ اس حال میں اس ایک آدمی کے سامنے آنا اسے اچھا نہیں لگا تھا، تو وہ بہت سارے لوگوں کا سامنا کیسے کرسکتی ہے۔
”آپ میری بات غور سے سنیں۔“ رشید نے کہا۔ ”ہم پلیٹ فارم پر نہیں، بلکہ دوسری طرف اتریں گے۔ میں آپ کو اپنے گھر لے جاﺅں گا۔ وہاں آپ کو میری بہن کے کپڑے مل جائیں گے۔ راستے میں کوئی پوچھے تو مجھے اپنا رشتہ دار بتائیے گا۔ یوں آپ زیادہ تکلیف دہ پوچھ گچھ سے بچ جائیں گی۔“
”لیکن آپ.... آپ کو تو میں جانتی بھی نہیں۔“
”جانتی تو آپ کسی کو بھی نہیں ہیں یہاں۔ میں تو پھر بھی آپ کے شہر کا ہوں۔ اور اس وقت تو آپ کی پہلی ضرورت معقول لباس ہے۔“
”اوہ.... مگر ان کا نام کیا تھا۔
اب عبدالحق پتا جی کا نام تو نہیں بتا سکتا تھا لیکن راج پوت بچہ اپنی ولدیت مصلحتاً بھی نہیں تبدیل کرسکتا۔ ”مجھے یاد نہیں ہے چچا۔“
وہ ڈر رہا تھا کہ یہ مرحلہ بہت دشوار ہوجائے گا لیکن معاملہ برعکس ہوا۔ افضال صاحب بچوں کی طرح تالیاں بجانے لگے۔ ”دیکھا، تم بھی بھول گئے۔ ارے نام تو کوئی بھی بھول سکتا ہے۔ میں یونہی پریشان ہوتا تھا۔“
عبدالحق نے سکون کی سانس لی۔
”چچا.... یہ بتائیں، آپ اس افضال کو کیسے جانتے ہیں؟“ عبدالحق نے پوچھا۔ وہ عزت سے نام لیتا تو افضال صاحب بھڑک اٹھتے۔ افضال صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ ”تعلق کی نوعیت یاد نہیں آتی۔“ چند لمحے بعد انہوں نے کہا۔ ”لیکن یہ جانتا ہوں کہ تعلق بہت گہرا تھا۔ اسی لئے تو اس تعلق پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔“
”بہت گہرا تعلق تھا، آپ کا اس سے؟“
”گہرا ہی ہوگا، بہت گہرا۔ کیونکہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ مجھے یاد ہے۔ میں اس میں شریک تھا۔“
”آپ پاکستان اس کے ساتھ ہی آئے تھے؟“
”ہاں۔ اور اسی دوران تو میں نے اس کا اصل چہرہ دیکھا۔ اسی دوران تو مجھے اس سے شدید نفرت ہوئی۔“ افضال صاحب کی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
”ایسی کیا بات ہوگئی، اس سفر میں۔“
”بتانے والی بات نہیں ہے میاں۔“ افضال صاحب نے اسے بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
”مجھے بھی نہیں بتائیں گے چچا۔ میں تو بھتیجا ہوں آپ کا۔“ عبدالحق نے انہیں اکسایا۔ ”اور آپ بتائیں گے نہیں تو میں یہ کیسے مانوں گا کہ وہ بہت برا آدمی تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ آپ بلاوجہ اس سے نفرت کرتے ہیں....“
”بلاوجہ؟“ افضال صاحب بھڑک گئے۔ ”تم تو یہ سوچ سکتے ہو۔ مگر حقیقت میں جانتا ہوں۔ میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اپنے کانوں سے سنا ہے۔ اس کمینے کو تو سو بار قتل کردیا جائے تو بھی کم ہے۔“
”تو پھر مجھے بتائیں نا۔ ورنہ میں آپ کو ہی غلط سمجھتا رہوں گا۔“
افضال صاحب نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ ”میں کسی کو کچھ بتاﺅں تو اس میں افضال کی ذلت اور رسوائی ہے۔ مگر نجانے کیا بات ہے کہ اتنی شدید نفرت کے باوجود اس کی ذلت اور رسوائی مجھے گوارا نہیں۔“ ان کے لہجے میں اذیت تھی۔ ”اب اسے تو اس کے کئے کی سزا مل گئی، تو پھر مزید ذلت اور رسوائی کیوں۔ وہ آخر میرا اپنا ہے، کوئی بہت قریبی تعلق ہے، میرا اس سے۔“
عبدالحق کا دل بھر آیا۔ لیکن اسے لگ رہا تھا کہ اس وقت لوہا گرم ہے۔ اس نے کہا ”لیکن چچا، میں بھی تو آپ کا اپنا ہوں۔ مجھ سے کیا پردہ اور میرا سینہ بہت گہرا ہے۔ اس کی ذلت اور رسوائی تو نہیں ہوگی۔ جیسے وہ آپ کا اپنا ہے، ویسے ہی میرا بھی تو ہے۔“
افضال صاحب نے سر اٹھا کر شکر گزاری سے اسے دیکھا۔ پھر بولے۔ ”نجانے کیا بات ہے میاں تم میں، کہ تمہیں میں سب کچھ بتاسکتا ہوں۔ تو سنو۔ وہ افضال پشتینی رئیس تھا۔ اس کے علاقے میں اس کے نام کا سکہ چلتا تھا۔ علاقے کے رہنے والے اس کی رعایا تھے۔ وہ مغرور اور متکبر تھا.... اپنے نام و نسب پر بھی، اپنی دولت پر بھی، اپنی زمین جائیداد پر بھی اور اپنی اولاد پر بھی۔ حالانکہ خطاب اور زمین انگریزوں کی غلامی کے صلے میں ملے تھے۔
”جب یہ پاکستان کا سلسلہ شروع ہوا تو اسے کوئی پروا نہیں تھی۔ وہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں، اُسے تو رعایا پر راج ہی کرنا تھا اور اس کی رعیت میں ہندو بھی تھے اور مسلمان بھی۔ مگر جب اس کی رعایا میں ہندوﺅں کے تیور بگڑنے لگے تو بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ اب مزید وہاں رہنا اپنے غلاموں کی غلامی قبول کرنے کے برابر تھا۔ چنانچہ اس نے ہجرت کا فیصلہ کرلیا۔
”ہجرت کے وقت افضال کچھ بھی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی یہی حکومت پاکستان میں قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس کا بس چلتا تو اپنی ساری زمین بھی اٹھا کر لے جاتا۔ بہرحال زمین نہ سہی، اس کے کاغذات اس نے رکھ لئے۔ زیورات اور نقدی الگ تھی۔ آگے کی اسکیم اس کے ذہن میں تھی۔ چار بیٹے تھے اس کے اور اس دولت کے زور پر تو وہ پاکستان میں بھی وہی سب کچھ بناسکتے تھے۔
”لیکن جب انہوں نے جانے کا ارادہ کیا تو پتہ چلا کہ یہ اتنا آسان نہیں رہا ہے۔ اپنی حویلی میں بیٹھے اسے پتہ ہی نہیں چلا تھا کہ باہر کی فضا کتنی تبدیل ہوچکی ہے۔ وہ تو اپنے زعم میں پہلے کی طرح حاکم بنا بیٹھا تھا۔ وہ تو اسے اس کے ایک وفادار نے بتایا کہ ہندوﺅں نے آہستہ آہستہ کارروائیاں شروع کردی ہیں اور اب وہاں سے نکلنا بھی مخدوش ہوتا جارہا ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہندوﺅں کی نظریں اس کی حویلی پر ہیں۔“
”اب میں تمہیں تفصیل کیا بتاﺅں۔ مختصراً بتاتا ہوں۔ شہر میں فسادات شروع ہوئے تو افضال کی بادشاہت ختم ہوگئی۔ ایک دن اسے حویلی بھی چھوڑنی پڑی۔ فوجیوں نے اسے اس کی فیملی کے ساتھ کالج میں قائم کیمپ میں پہنچادیا۔ راستے میں اس نے جو کچھ دیکھا، اس نے پہلی بار اسے لرزا دیا۔ تمہیں معلوم ہے نا کہ فرعونوں پر لرزہ چڑھے تو وہ بودے ہوجاتے ہیں۔ اندر سے کھوکھلے، لیکن جسم پر رعونت کا لبادہ۔ کیمپ تک پہنچنے سے پہلے اس نے راستے میں تین لڑکیوں کی خون میں نہائی ہوئی بے لباس لاشیں دیکھیں!....تین مختلف مقامات پر.... درختوں سے لٹکی ہوئی اور ان کے جسموں کے نازک حصوں پر پینٹ سے.... ”پاکستان کےلئے تحفہ“.... لکھا ہوا تھا۔ ان مناظر نے اُسے لرزا دیا۔ لاشیں زبانِ حال سے کہہ رہی تھیں کہ ان پر کیا گزری ہے۔ اس نے گھبرا کر اپنی بیٹی کی طرف دیکھا، جو سرجھکائے بیٹھی تھی۔“
عبدالحق سحر زدہ سا سن رہا تھا۔ افضال صاحب جو کچھ بیان کر رہے تھے، ظاہر ہے کہ وہ ان کا آنکھوں دیکھا تھا، وہ سب کچھ اُن پر بیتی تھی۔ لیکن اپنے بارے میں وہ ایسے بتا رہے تھے، جیسے وہ کوئی اور ہوں اور افضال صاحب کو دیکھتے رہے ہوں۔ اس نے درمیان میں ہوں ہاں بھی نہیں کی تھی۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بیان کا وہ طلسم ٹوٹے....
”.... افضال کے چار بیٹے تھے۔ بیٹی ایک ہی تھی۔ وہی تو ایک تھی، جس کےلئے اس نے گڑگڑا کر اللہ سے برسوں دعائیں کی تھیں۔ اس کے علاوہ اس نے کبھی کوئی دعا نہیں کی تھی۔ دعا کے بغیر ہی سب کچھ میسر تھا۔ تو چار بیٹوں کے بعد کئی برس کے انتظار کے بعد پیدا ہونے والی اس بیٹی سے اسے بہت محبت تھی۔ مگر اس وقت وہ پریشان ہوگیا۔ اسے خیال آیا کہ یہ سب کچھ اس کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے.... اس کی بیٹی کے ساتھ۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر طمنچے کو چھوا۔ اسے یہ طمانیت ہوئی کہ اس کے پاس اسلحہ بھی ہے۔ چاروں بیٹوں کے پاس بھی طمنچے تھے۔ اس کے علاوہ سامان میں بندوقیں بھی تھیں اور میگزین بھی۔
”کیمپ اس کی شخصیت کےلئے تباہ کن ثابت ہوا۔ وہاں تو محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ وہاں موجود لوگ اپنے مقام، مرتبے اور اپنی حیثیتں باہر ہی چھوڑ آئے ہیں۔ وہاں نفسانفسی کا عالم تھا۔ اس کا مزارع بھی اسے نہیں پہچانتا تھا اور بُرا یہ ہوا کہ وہ وہاں بہت دیر میں پہنچا۔ جو پہلے سے آئے ہوئے تھے، وہ نسبتاً بہتر حال میں تھے۔
”اب مزاج کی رعونت ایسے تو نہیں جاتی۔ دولت کا گھمنڈ اتنا ہی دیرپا ہوتا ہے، جتنی دولت۔ جب تک دولت، تب تک گھمنڈ۔ کیمپ میں غذا کی بہت شدید قلت تھی۔ کبھی اشیائے خوردونوش کا ایک ٹرک آجاتا، لیکن وہ اتنے لوگوں کےلئے کافی نہیں ہوتا تھا۔ پھر وہاں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہاں وہ لوگ فائدے میں تھے جو ہاتھ پھیلانے کے عادی تھے، جنہیں مانگتے ہوئے شرم آتی تھی، وہ خالی ہاتھ ہی رہ جاتے تھے۔ بس یوں کہو کہ چُھٹ بھیّوں کی بن آئی تھی۔ بسکٹ کے پچاس پچاس پیکٹ لے لےتے۔ پھر ضرورت مندوں کو دس دس روپے کا بیچتے۔ افضال کےلئے تو خیر یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن میں نے وہاں بھوک سے بلکتے بچوں کی ماﺅں کو اپنے کانوں کے بندوں کے بدلے بسکٹ کے وہ پیکٹ خریدتے دیکھا تھا۔
”وہ کیمپ افضال کےلئے ایک بھیانک خواب کی حیثیت رکھتا تھا، تکلیفیں تو وہاں ہر نوع کی تھیں لیکن سب سے بڑی تکلیف یہ تھی کہ وہاں کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ غیر محفوظ ہونے کا یہ عالم تھا کہ فوج کی حفاظت میں ہونے کے باوجود کیمپ پر تقریباً ہر روز حملہ ہوتا تھا، اس کے نتیجے میں کیمپ میں خوف و ہراس مستقل تھا۔
ایک دن افضال نے فوجی سے پوچھا۔ ”کیا اب ہماری زندگی یہیں گزرے گی؟“
”فوجی نے غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ”بڑے صاحب، گاڑی آئے گی تبھی تو آپ سب کو اسٹیشن پہنچائیں گے۔ ابھی سے لے جاکر وہاں ڈال دیں آپ لوگوں کو تو فسادیوں کے ایک ہی حملے میں سب ختم ہوجائیں گے۔
لباس نادرہ کی کمزوری بن گیا تھا۔ اس حوالے کے بعد وہ انکار کر ہی نہیں سکتی تھی۔
وہ بغیر کسی رکاوٹ کے باہر نکلے۔ رشید نے انہیں تانگے میں بٹھایا۔ تانگے کو اس نے سڑک پر رکوایا۔ نجانے کتنی گلیوں سے گزرنے کے بعد وہ ایک کچے مکان کے دروازے پر آکھڑے ہوئے۔ دروازے پر تالا تھا۔ رشید نے جیب سے چابی نکال کر تالا کھولا اور انہیں اندر لے گیا۔ ارجمند اب بھی اس کی گود میں تھی۔
اندر، سامنے چھوٹا سا صحن تھا۔ سامنے دو کمرے تھے۔ رشید انہیں ایک کمرے میں لے گیا۔ نادرہ نے پہلی بار سکون کی سانس لی اور کمرے کا جائزہ لیا۔ وہاں دو چارپائیاں تھیں۔ ایک چارپائی پر کچھ کپڑے بے ترتیب پڑے تھے۔ ان میں مردانہ بھی تھے اور نسوانی بھی۔ چارپائی کے نیچے ٹین کا ایک صندوق تھا۔
رشید نے ارجمند کو دوسری چارپائی پر لٹا دیا۔
نادرہ کے اوسان کچھ بحال ہو گئے تھے۔ وہاں نسوانی کپڑے دیکھ کر اسے اطمینان ہوا تھا۔ لیکن یہ سوچ کر وہ پریشان ہورہی تھی کہ دروازے پر تالا کیوں تھا۔ رشید نے تو بتایا تھا کہ اس کے گھر میں اس کی ماں اور بہنیں بھی ہیں۔ اس نے یہ بات اس سے پوچھ بھی لی۔
”وہ لوگ تو اس وقت کیمپ میں ہوں گی۔“ رشید نے کہا۔ ”آج ٹرین آئی ہے نا۔ کیمپ میں تو قیامت کا سماں ہو گا۔ ہم سب رضاکارانہ طور پر مہاجرین کے لئے کام کررہے ہیں۔ اماں اور بہنیں کیمپ میں، لُٹ کر آنے والی عورتوں کی دل جوئی کررہی ہوں گی۔“
نادرہ مطمئن ہو گئی۔
”چارپائی کے نیچے صندوق میں سے آپ اپنے مطلب کے کپڑے نکال لیں۔ اب مجھے بھی کیمپ جانا ہے۔ آپ اسے اپنا ہی گھر سمجھیں۔ بھوک لگے تو باورچی خانے میں سب کچھ موجود ہے۔ پکانا آپ کو خود پڑے گا اور آپ آرام کرلیں۔ میں جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گا۔“
نادرہ نے صندوق باہر کھینچ کر اسے کھول لیا تھا۔
رشید جاتے جاتے پلٹا۔ ”اور ہاں، آپ گھبرایئے گا نہیں۔ میں باہر دروازے پر تالا ڈال کر جاﺅں گا۔“
”کیوں؟“
”یہاں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے۔ آج کل تو لوگ کسی بھی گھر میں بے دھڑک گھس جاتے ہیں.... ہندو کا گھر سمجھ کر۔ ہندو عورتوں کی تو خاص طور پر تلاش ہوتی ہے انہیں۔“
نادر ہ سہم گئی۔ رشید کے جانے کے بعد اس نے کپڑے بدلے اور ارجمند کے ساتھ لیٹ گئی۔ نیند اور بھوک دونوں سے برا حال تھا اس کا۔ اٹھ کر کچھ پکانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ اس لئے اس نے سونے ہی کو ترجیح دی۔
لیکن نیند کے باوجود سونا آسان نہیں تھا۔ وہ جیسے چارپائی پر نہیں، ٹرین میں تھی۔ جسم کو بار بار جھٹکے لگتے، اور پھر آنکھوں کے سامنے قیامت کے وہ منظر آجاتے۔ بار بار وہ اٹھ بیٹھتی۔
پھر ارجمند جاگی اور اس نے سب سے پہلے کھانا مانگا۔ تب اسے افسوس ہوا کہ اس نے کچھ پکا کیوں نہیں لیا۔ وہ ارجمند کو لے کر باورچی خانے میں گئی۔ دال اور چاول موجود تھے۔ کھچڑی پکنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس نے لکڑیاں جلائیں اور کھچڑی چڑھا دی۔
ارجمند کے پاس سوالات ہی سوالات تھے۔ نادرہ نے بہلانے کے بجائے اسے حقیقت بتا دی کہ سب لوگ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں، اور اب وہ پاکستان میں ہیں، اور خوش قسمتی سے اللہ نے انہیں یہ ٹھکانا دے دیا ہے۔
کھانا کھا کر وہ دونوں پھر چارپائی پر لیٹ گئیں۔
شام ہوئی، پھر اندھیرا ہو گیا۔ نادرہ نے لالٹین جلالی۔ ارجمند چپکے چپکے روئے جارہی تھی۔ نادرہ جانتی تھی کہ چھوٹی بچی ہے۔ حقیقت کو ایک دم قبول نہیں کر سکتی۔ قسطوں میں قبول کرے گی۔ ایک ایک کو یاد کر کے بار بار رویا کرے گی۔
ارجمند کو پھر بھوک لگی۔ کھچڑی بچی ہوئی تھی۔ نادرہ نے وہ اسے کھلا دی۔ دیر تک وہ دونوں بیٹھی رہیں۔ پھر ارجمند دوبارہ سو گئی۔ اسے دیکھ کر نادرہ کو رونا آنے لگا۔ نرم بستر پر سونے کی عادی بچی کھرّی چارپائی پر بھی کیسے بے سدھ سو رہی ہے۔ شاید افیون کے اثرات ابھی باقی تھے۔
ارجمند کے سونے کے بعد نادرہ کے پاس سوچنے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اور وہ اذیتوں کو دہرانا، ان سے دوبارہ گزرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کےلئے ضروری تھا کہ وہ مثبت انداز میں سوچے۔ اور ایسا سوچنے کےلئے اس کے پاس مثبت مواد بھی موجود تھا۔ جو ہو چکا تھا، اس کا تو کچھ کیا نہیں جا سکتا تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ اب وہ پاکستان میں تھی.... پاکستان.... برصغیر میں مسلمانوں کا اپنا وطن، جہاں آبروﺅں کے لٹیرے ہندو اور سکھ موجود نہیں تھے۔
نجانے کب تک وہ پاکستان کی عظمت کے بارے میں سوچتی رہی۔ پھر دروازہ کھلنے کی آواز سے وہ چونکی۔ اسے ڈر لگنے لگا۔ باہر صحن میں اندھیرا تھا۔ پھر وہ لڑکھڑاتا ہوا ہیولا اسے کمرے کے دروازے میں نظر آیا۔
”بچی سو گئی ہے؟“ کسی نے لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
وہ آواز رشید کی تو نہیں لگتی تھی۔ ”کک.... کون....؟“ ڈر کے مارے اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔
”ارے میں ہوں شیدا.... اور کون۔“
وہ اور ڈر گئی۔ ”کون شیدا؟“
”ارے بھئی.... عبدالرشید.... رشید.... شیدا۔ چلو.... ادھر دوسرے کمرے میں۔ دیکھو میں کیا لایا ہوں تمہارے لئے۔“
وہ اٹھی، کمرے سے نکلی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ وہ کمرا اس نے دیکھا ہی نہیں تھا۔ وہاں جو چارپائی تھی، اس پر بستر بھی بچھا ہوا تھا۔ لالٹین بھی روشن تھی۔ ”کہاں ہیں آپ؟“
”آﺅ.... یہاں آجاﺅ۔“ رشید نے کہا۔ وہ بستر پر بیٹھا تھا۔ ”دیکھو.... میں تمہارے لئے کباب لایا ہوں۔“
”مجھے بھوک نہیں ہے۔“
”تو رکھ لو۔ بھوک لگے تو کھا لینا۔“
وہ کاغذی تھیلی تھی، جو نم بھی ہورہی تھی اور گرم بھی۔ نادرہ اسے لے کر جانے لگی تو رشید نے کہا۔ ”یہ رکھ کر آﺅ۔ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔“
نادرہ نے کباب باورچی خانے میں رکھے اور کمرے میں واپس آئی۔ مگر اسے ڈر لگ رہا تھا۔ وہ چارپائی کے پاس کھڑی ہو گئی۔ ”آپ کے گھر والے نہیں آئے.... آپ کی اماں....“
”ان سے لڑائی ہو گئی میری.... تمہاری وجہ سے۔“
”میری وجہ سے؟“
رشید نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنے پاس بٹھا لیا۔ ”ہاں.... میں نے تمہارے بارے میں انہیں بتا دیا تھا۔ اس پر وہ بہت ناراض ہوئیں۔ کہنے لگیں کہ لوگ باتیں بنائیں گے۔ محلے میں عزت خراب ہو گی۔ میں نے کہہ دیا کہ میں تم سے شادی کر لوں گا۔ یہ انہیں اور برا لگا....“
”شش شادی.... شادی۔“
”ہاں۔ اور کیسے جیو گی یہاں۔ دیکھو جو کچھ تمہارے ساتھ ہو چکا ہے، اس کے بعد....“
”میں جانتی ہوں یہ بات۔ لیکن....“
”میں تمہیں عزت بھی دوں گا اور گھر بھی۔ تم غم نہ کرو۔“ وہ اسے لپٹانے لگا۔
”آپ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ آپ نے شراب پی ہے۔“ نادرہ نے اسے دھکیلنے کی کوشش کی۔
”تو اس جھگڑے کے بعد اور کیا کرتا۔“ رشید نے کہا۔ اس کی دست درازی بڑھنے لگی۔
”یہ کیا کررہے ہیں آپ؟“ نادرہ نے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کی۔
”فکر نہ کرو۔ کل میں تمہیں خالہ کے گھر لے چلوں گا۔ کل ہی ہم شادی کر لیں گے۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟“
شادی پر تو نادرہ کو اعتراض نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے لئے تو یہ احسان ہی ہوتا۔ لیکن اس کی دست درازی پر اسے ضرور اعتراض تھا۔ ”وہ تو ٹھیک ہے۔ لیکن شادی سے پہلے یہ اچھا نہیں۔“
”مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ تم بہت خوب صورت ہو....“
”لیکن شادی سے پہلے....“
”چھوڑو اس بات کو۔ تم کون سی کنواری کنیا ہو۔“
طعنہ سن کر نادرہ کی مزاحمت میں شدت آگئی۔ لیکن رشید نے اسے بے بس کر دیا تھا۔ ”خدا کے لئے ایسا نہ کریں۔ یہ گناہ ہے۔“
رشید ایک دم سے بپھر گیا۔ اس کا لب و لہجہ اور انداز ہی بدل گیا۔ ”وہاں سے کس حال میں آئی ہے سالی گشتی۔ میں نے تو دیکھا ہے اپنی آنکھوں سے۔ اور میں سب سے چھپا کر یہاں لے آیا کہ کسی کو پتا نہ چلے اور تو مجھے گناہ اور ثواب سکھاتی ہے۔“ یہ کہہ کر اس نے پوری قوت سے نادرہ کے رخسار پر تھپڑ مارا۔ انگلیوں کے نشانات اس کے رخسار پر جیسے چھپ گئے۔
ایک لمحے کو نادرہ پر جیسے سکتہ سا طاری ہو گیا۔ اس عالم میں بھی اس نے سوچا کہ رشید کی ایک بات تو درست ہے۔ اگر وہ اس حال میں سب کے سامنے جاتی تو کتنی رسوا ہوتی۔ مر جانے کا مقام ہوتا۔ یہ تو واقعی اس نے احسان کیا تھا اس پر۔ لیکن ایک بات اور بھی اس کی سمجھ میں آگئی۔ رشید وہ ہرگز نہیں تھا، جو اس نے ریل کے ڈبے میں خود کو ظاہر کیا تھا۔ کہاں وہ شائستگی اور کہاں یہ گالیاں۔ آپ سے تم، اور اس کے بعد تو تک آنے میں اس نے دیر نہیں لگائی تھی۔ اور یہ جو غصے اور اشتعال میں نظر آیا تھا، یہی اس کا اصلی روپ تھا۔
”وہاں جو میرے ساتھ ہوا، میں تو اس کے بعد زندہ ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔“ اس نے بڑی عاجزی سے کہا۔
”مگر میں تو تلافی کررہا ہوں۔ شادی کا وعدہ کررہا ہوں تم سے۔ کل ہماری شادی ہو جائے گی۔“
”تو آپ ایک دن صبر کر لیں۔ آج جو گناہ ہو گا، کل وہ گناہ نہیں ہو گا۔“
”تمہیں اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ جو کچھ وہاں ہوا، اس کے بعد تمہارے لئے سب برابر ہے۔“
اس لمحے نادرہ کا دل چھلنی ہو گیا۔ ”وہاں جو کچھ ہوا، وہ ظلم تھا.... زبردستی تھی۔ میں گناہ گار نہیں، مظلوم ہوں۔ آپ اس فرق کو کیوں نہیں سمجھتے۔“ اس نے فریاد کرنے والے انداز میں کہا۔
”میری بات سن نادرہ۔ عورت کی عزت شیشے کی طرح ہوتی ہے۔ اور شیشے پر بال بھی آجائے تو وہ بے قیمت ہو جاتا ہے۔ تیرا شیشہ تو چور ہو چکا ہے۔ اب تو یہ ٹوٹنے سے رہا۔ اسی لئے کہتا ہوں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
”آپ مجھ سے شادی کریں گے! زندگی بھر یہی طعنے دیتے رہیں گے۔ اگر میری جگہ آپ کی بہن ہوتی تو کیا کرتے؟“
اس بار تھپڑ اتنا زوردار تھا کہ نادرہ کا ہونٹ پھٹ گیا اور خون نکل آیا۔ ”اب میں تجھے سبق سکھاﺅں گا گشتی۔“ یہ کہہ کر رشید اس پر ٹوٹ پڑا۔
ریل کے ڈبے میں نادرہ پر جو جسمانی قیامت گزری تھی، اس کے سامنے یہ اذیت بے حیثیت تھی۔ لیکن یہاں جو اذیت اس کی روح نے سہی، ریل کے ڈبے میں ان گنت غیر مسلموں کے ہاتھوں پامال ہوتے ہوئے وہ اس پر بالکل نہیں گزری تھی۔ وہاں تو ظالم تھے.... غیر مسلم تھے اور وہ سرزمین ہی کافروں کی تھی۔ مگر پاکستان آکر تو اسے تحفظ کا احساس ہوا تھا۔ اس نے سوچا تھا، اس پاک سرزمین پر دیر سے سہی، لیکن اس کے سارے زخم بھر جائیں گے۔ اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ یہاں بھی لوٹ لی جائے گی.... اور لوٹنے والا کوئی مسلمان ہو گا.... وہ مسلمان جو پناہ دینے کا کہہ کر اسے اپنے گھر لے آیا تھا۔
Updated on 15 May 08 at 11:11 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.