Google
 

:: قسط نمبر 30 عشق کا شین
رشید اٹھ کر باہر چلا گیا تھا۔ وہ کپڑے پہن کر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ وہ واپس آگیا۔ ”میں دروازے پر تالا ڈال آیا ہوں۔ باہر جانے کا خیال دل میں نہیں لانا۔ ویسے باہر مجھ سے بھی زیادہ برے لوگ ملیں گے۔“ اس نے کہا۔ پھر اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا۔ ”تم جا کہاں رہی ہو؟“
”دوسرے کمرے میں.... اپنی بھتیجی کے پاس۔“ نادرہ نے بکھرتی آواز میں کہا۔
”تم یہیں سوﺅ گی میرے پاس۔“ رشید نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ ”رات کو پھر تمہاری ضرورت پڑ سکتی ہے۔“
”لیکن ارجمند کی آنکھ کھلی تو وہ ڈرے گی۔“
”ڈرے گی تو یہاں آجائے گی۔“
افضال صاحب کی کہانی نے عبدالحق کو اداس کردیا تھا۔ آدمی غلطیاں کرتا ہے، پھر اپنے باطن میں کیسے کیسے عذاب جھیلتا ہے۔ اب وہ افضال صاحب کے کرب کو سمجھ سکتا تھا۔ ساری گرھیں کھل گئی تھیں۔ افضال صاحب کا دنیا میں کوئی بھی تو نہیں بچا تھا۔ پھر بھی وہ ہر روز کسی جستجو میں مارے مارے پھرتے تھے۔ وہ کہتے تھے ان کے لوگ کھو گئے ہیں۔ وہ کہتے تھے، شہید کبھی نہیں مرتے کون جانے کہاں، کس روپ میں مل جائیں۔ اس لئے وہ انہیں ڈھونڈتے ہیں۔
اب عبدالحق سمجھ سکتا تھا کہ افضا ل صاحب کی اپنے بارے میں یادداشت پوری طرح تو اب کھوئی ہے۔ لیکن نارمل تو وہ پہلے بھی نہیں تھے۔ جو کچھ ان پر گزری تھی، اس کے بعد وہ نارمل تو رہ ہی نہیں سکتے تھے۔ شعوری طور پر ان واقعات کو انہوں نے بھلا دیا تھا۔ اگر وہ انہیں یاد رکھتے تو یقیناً خودکشی کرلیتے یا پاگل ہوجاتے۔ اور انہوں نے ایسا کیا تو صرف اس لئے کہ وہ اپنے کئے کی تلافی کرنا چاہتے تھے لیکن جن واقعات کو اپنی دانست میں انہوں نے بھلا دیا تھا، وہ درحقیقت ان کے لاشعور میں محفوظ تھے۔
افضال صاحب کےلئے ان کا اپنا وجود بے غیرتی کی علامت تھا۔ صرف تلافی ہی ان کے داغ کو کسی حد تک دھو سکتی تھی۔ مگر پوری طرح تو وہ داغ مٹنے والا نہیں تھا۔
عبدالحق کو اس روز بڑی حیرانی ہوئی تھی کہ افضال صاحب ہیرامنڈی کیوںگئے۔ اور انہوں نے بتایا تھا کہ وہ وہاں آتے رہتے ہیں۔ اب عبدالحق اس کا سبب سمجھ سکتا تھا۔ افضال صاحب کو تلافی کا موقع ملا تو خوش قسمتی سے وہ ان کے ساتھ تھا۔ بلکہ اس نے ان کے کام کو آسان بھی کردیا تھا ورنہ وہ نجانے کیا کرتے۔ بہرحال اس روز ان کی جستجو بارآور ثابت ہوگی۔
تو وہ بازار حسن میں اپنی بیٹی کی تلاش میں آتے تھے۔ وہ سب سے کہتے تھے کہ ان کے گھر میں کوئی زندہ نہیں بچا۔ سب شہید ہوگئے حالانکہ یہ حقیقت نہیں تھی۔ مگر وہ کسی کو اپنی بیٹی کے بارے میں کیسے بتا سکتے تھے۔ وہ تو ان کی روح کا ناسور تھا۔ انہوں نے وہ منظر دیکھا تھا جو کسی بیٹی کا باپ نہیں دیکھ سکتا۔ مگر انہوں نے دیکھا تھا۔ وہ بڑی آن بان والے تھے۔ لیکن آزمائش کے ایک کمزور لمحے میں ان پر زندگی سے بے غیرتی کی حد تک محبت کا اور موت کے خوف کا عذاب اترا تھا۔ پھر اگر وہ بیٹی ان کی آنکھوں کے سامنے مرجاتی، تب بھی شاید انہیں کسی حد تک قرار آجاتا۔ لیکن ظالم سکھ نہ صرف ان کی زندہ بیٹی کو اٹھا کر لے گئے تھے، بلکہ یہ اعلان بھی کر گئے تھے کہ وہ اسے بازار کی جنس بنا دیں گے۔
عبدالحق حساس اور درد مند تھا۔ وہ سوچ سکتا تھا کہ افضال صاحب کس کس طرح سوچتے ہوں گے، کیسے بے یقینی میں مبتلا رہتے ہوں گے وہ یہ یقین کرنا چاہتے ہوں گے کہ ان کی بیٹی مرگئی ہوگی۔ لیکن یہ امکان انہیں ڈستا ہوگا کہ وہ زندہ ہوگی اور کس بازار میں کس کوٹھے پر بے عزتی کی زندگی گزار رہی ہوگی.... صرف ان کی بزدلی اور بے غیرتی کی وجہ سے ان کا جی چاہتا ہوگا بلکہ ان کی زندگی کا یہی واحد مقصد ہوگا اور یہی واحد آرزو کہ کسی طرح وہ انہیں مل جائے اور وہ اسے ذلت کی اس دلدل سے نکال لائیں۔
انہیں یہ خیال بھی ستاتا ہوگا کہ قوی امکان یہی ہے کہ وہ ہندوستان میں ہی کہیں ہوگی۔ کیا پتا، انہوں نے سوچا ہو کہ افشاں تو اب انہیں نہیں مل سکتی۔ وہ کسی اور لڑکی کو اس طرح کی زندگی سے نجات دلا سکیں تو شاید ضمیر کا بوجھ کچھ کم ہو۔ شاید اسی لئے وہ ہرشام بازار حسن جاتے ہوں گے اور کوٹھے پر بیٹھی سجی سنوری لڑکیوں میں کوئی شناسا چہرہ تلاش کرتے ہوں گے۔
اور بالآخر افضال صاحب کامیاب ہوگئے۔ انہیں زرینہ مل گئی، اور وہ اسے بازار سے نکال بھی لائے۔
اس تلافی سے افضال صاحب کا بوجھ یقیناً ہلکا ہوتا۔ لیکن زرینہ کو بازار تک پہنچانے میں جمیل کا کردار آڑے آگیا۔ تلافی کی خوشی دھری رہ گئی۔ جمیل کے کردار نے انہیں ان کا ماضی یاد دلا دیا۔ لاشعور میں دبی ہوئی یادیں ابھر آئی ہوں گی۔ اپنی ذلت کا زخم ہرا ہوگیا ہوگا۔ اس لئے تو جمیل انہیں جمیل نہیں، افضال لگا۔ افضال جو ان کے نزدیک اس دنیا میں بے غیرتی کی علامت تھا۔ اور انہوں نے افضال کو قتل کرکے جیسے دنیا کو پاک کردیا اور خود کو بری کرا لیا۔
عبدالحق کا جی چاہا کہ افضال صاحب کو یاد دلائے کہ انہوں نے ایک نیکی کی ہے، تلافی کی ہے۔ یوں وہ انہیں واپس لانے کی کوشش کرسکتا تھا۔ لیکن اس کی سمجھ میں فوراً ہی یہ بات آگئی کہ یہ اور زیادہ مخدوش ثابت ہوسکتا ہے۔ امکان یہی تھا کہ اگر افضال صاحب نے خود کو افضال مان لیا تو وہ خودکشی کرلیں گے۔ ان کےلئے بہتر یہی تھا کہ وہ کسی شناخت کے بغیر دماغی امراض کے اس اسپتال میں اپنی باقی ماندہ زندگی بے نام گزار دیں۔ کم از کم اذیت سے تو بچے رہیں گے۔ یہ سوچتے ہوئے اس کا دل بہت دکھا۔ لیکن زندگی کے حقائق کو سمجھنا اور قبول کرنا وہ سیکھ چکا تھا۔
بہرحال افضال صاحب کے اس راز کو اس نے اپنے سینے میں دفن کرلیا۔ اس سلسلے میں اس نے مسعود صاحب کو بھی کچھ نہیں بتایا۔ ”میں نہیں سمجھتا سر کہ ان کی یادداشت کبھی بحال ہوگی۔“ اس نے اداس لہجے میں ان سے کہا۔
”میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ انہوں نے جمیل پر خود کو قیاس کیوں کیا۔“ مسعود صاحب نے پرخیال لہجے میں کہا۔ ”ان کے اور جمیل کے درمیان تو کوئی قدر مشترک ہے ہی نہیں۔“
”ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔“ عبدالحق نے گڑبڑا کر کہا۔ مسعود صاحب جس نہج پر سوچ رہے تھے، وہ انہیں درست نتیجے تک پہنچا سکتی تھی۔ ”لیکن سر، انسانی دماغ عجیب بھول بھلیاں ہے....“
”پھر بھی، اگر وہ جمیل کو افضال سمجھے اور افضال سمجھ کر ہی انہوں نے اسے قتل کیا تو ان کے اور جمیل کے درمیان کوئی مماثلت تو ہوگی۔“ ”نہیںسر، آپ خود سوچیں کہاں افضال صاحب اور کہاں جمیل ۔ نہ تو ان کی ذہنی سطح ایک ہے اور نہ ہی اسٹے ٹس۔ دونوں کا پس منظر بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔“ عبدالحق نے جلدی سے تردید کی۔
”میں کسی باطنی مماثلت کے امکان پر غور کررہا ہوں۔“
انہیں موضوع سے ہٹانے کے لئے عبدالحق کو ان کے پسندیدہ موضوع پر بات چھیڑنا پڑی۔ ”اور سر، آپ کے سول سروس کے اسٹرکچر کا کیا حال ہے؟ کچھ بہتری نظر آئی؟“ اس نے کہا۔
”فی الحال تو نہیں۔ لیکن بہتری تو انشااللہ آئے گی“ مسعود صاحب ایک دم پرجوش ہوگئے۔ ”اور ہاں، میرا بھی تبادلہ ہونے والا ہے۔“
”کہاں؟“
”اکنامک پلاننگ ڈویژن میں“
”اور آپ خوش ہیں اس میں؟“
ہاں میاں، میرا اصل شعبہ تو وہی ہے اور اس وقت تو بڑی اہمیت ہے اس کی۔ یہاں تو میں اپنی مرضی سے بیٹھا تھا۔ مقصد خدمتِ خلق بھی تھا اور آنے والوں کی تعداد، ان کے دکھوں اور ان کے مسائل کو سمجھنا بھی۔ مگر اب پاکستان کےلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ یہ طے ہے کہ پاکتان کی بقا کےلئے اس کا معاشی استحکام بہت ضروری ہے۔ معیشت کےلئے طویل پلاننگ کرنی ہو گی۔“ وہ کہتے کہتے رکے ۔ ”ارے ہاں، تم سے بھی تو میں نے اس سلسلے میں بات کی تھی۔ اور تم نے وعدہ بھی کر لیا تھا۔“
”جی ہاں۔ لیکن....“
”لیکن ویکن کچھ نہیں۔“ انہوں نے کہا اور ہنسنے لگے۔ ”وہ تو تم نے میرے ایک احسان کے صلے میں وعدہ کیا تھا۔ پورا تو کرنا پڑے گا۔“
عبدالحق جانتا تھا کہ وہ زرینہ کا حوالہ دے رہے ہیں.... اور ہ بھی سنجیدگی سے نہیں۔“ وعدہ کر کے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹتا سر۔ لیکن میرا ایک بار گاﺅں واپس جانا ضروری ہے۔ اور گاﺅں میں اس وقت تک نہیں جا سکتا، جب تک یہاں آنے کا مقصد پورا نہ ہو جائے۔“
”مجھے یاد ہے، تمہیں کسی کی تلاش ہے۔ مگر میاں، صرف ایک نام کے حوالے سے کسی کو تلاش کرنا آسان نہیں۔“ مسعود صاحب نے کہا۔ ”ویسے لاہور میں سیٹل ہو گئے تو شاید یہ کام آسان ہو جائےگا۔“
”آپ کا میرے سلسلے میں ارادہ کیا ہے؟“ عبدالحق نے پوچھا۔
”میں جانتا ہوں کہ کم از کم فی الحال پیسہ تمہارا مسئلہ نہیں۔ یہاں میں نے ایک کوٹھی تمہارے لئے پسند کرلی ہے۔ وہ خریدو اور گھر والوں کو یہاں لے آﺅ۔ تعلیم مکمل کرو، مقابلے کا امتحان پاس کرو، اور اس ملک کی خدمت کرو۔“
”کوٹھی بھی پسند کر چکے ہیں آپ؟“ عبدالحق نے حیرت سے کہا۔
”ہاں میاں۔ وہ کلیم ڈپارٹمنٹ میں میرا ایک دوست ہے اچھے عہدے پر۔ اس سے بات کی تھی۔ وہ کوٹھی مشتاق نے ہندوستان سے آئے ہوئے ایک مہاجر کو الاٹ کی تھی، جو وہاں صاحب حیثیت ہوتے تھے۔ اب وہ صاحب چاہتے ہیں کہ اس کوٹھی کو بیچ کر کوئی چھوٹا سا مکان لیں اور باقی رقم سے کوئی کاروبار شروع کریں تاکہ آمدنی کا سلسلہ شروع ہو۔ کوٹھی بہت شاندار ہے۔ دیکھو گے تو خوش ہو جاﺅ گے....“
مگر عبدالحق کوٹھی سے آگے کچھ دیکھ رہا تھا۔ ”آپ کے دوست تو میرے کام بھی آسکتے ہیں۔“
”کیسے؟ کیا مطلب؟“
”دیکھیں نا، میں رضوان صاحب کی تلاش میں ہوں۔ رضوان صاحب بھی آگرہ میں صاحب حیثیت تھے اور وہ پاکستان بننے سے پہلے یہاں آگئے تھے۔ انہوں نے بھی تو اپنی وہاں کی املاک کے بدلے یہاں کچھ لیا ہو گا.... اور کلیم ڈپارٹمنٹ سے ہی لیا ہو گا۔ تو وہاں ریکارڈ میں ان کا نام یقینا ہو گا.... اور ان کا موجودہ پتا بھی۔“ یہ کہتے کہتے اس کا لہجہ ہیجانی ہو گیا۔ اسے احساس ہورہا تھا کہ جو بات اس نے ایک موہوم سے امکان کے خیال سے شروع کی تھی، وہ تو درحقیقت ایک فیصلہ کن پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ادھر مسعود صاحب بھی سنبھل کر بیٹھ گئے.... بیٹھ کیا گئے، گرتے گرتے بچے۔“ کمال ہے۔ مجھے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔“ انہوں نے متاسفانہ لہجے میں کہا۔ ”حالانکہ یہ تو سامنے کی بات تھی۔“
”بعض اوقات سامنے کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔“ عبدالحق نے کہا ”بس اب آپ مجھے مشتاق صاحب سے ملوا دیجئے۔“
”کل ہی مل لو جاکر۔ میں تمہیں تعارفی خط دے دوں گا۔“
٭٭٭
زرینہ حیران تھی۔ نور بانو اس کےلئے یکسر بدل گئی تھی۔ اب نہ تو وہ اس سے تفتیش کرتی تھی اور نہ ہی اس کا انداز طنزیہ ہوتا تھا۔ عبدالحق سے دو روزہ شناسائی کا جو طعنہ اس کے لئے وبال جان بن گیا تھا، اب وہ بھی نور بانو کی زبان پر نہیں آتا تھا۔ پہلے دو دن تو وہ یہ سوچ کر اور محتاط ہو گئی کہ کہیں یہ بھی کسی نئی حکمت عملی کا حصہ نہ ہو۔ لیکن پھر اسے نور بانو کے خلوص کا اندازہ ہو گیا۔ وہ تو سچ مچ اس کے ساتھ بڑی محبت سے پیش آنے لگی تھی۔ البتہ انداز اس کا مربیانہ تھا۔ مگر زرینہ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اس سے تو اسے مزید تحفظ کا احساس ہوتا تھا پھر زرینہ کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ نور بانو کے خدشات دور ہو گئے ہیں اور اب وہ عبدالحق کے معاملے میں اسے اپنا حریف نہیں سمجھتی۔ یہ کیسے ہوا، اس کا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا اور اس بات کی کوئی اہمیت بھی نہیں تھی۔
اس رات وہ سونے کےلئے لیٹیں تو نور بانو نے بالکل اچانک اس سے کہا۔ ”سنو زرینہ، تم مجھے میرے پچھلے رویے پر معاف کر دو۔“
زرینہ کو بہت حیرت ہوئی۔ ”مگر مجھے تو آپ سے کوئی شکایت نہیں۔“ اس نے دھیرے سے کہا۔
”لیکن تمہیں تکلیف تو پہنچی ہو گی میرے رویے سے۔ میں سچ مچ بہت شرمندہ ہوں۔“
”آپ مجھے شرمندہ کررہی ہیں۔ میں جانتی ہوں کہ اس کا سبب ایک غلط فہمی تھی۔“
”نہیں.... وہ میرا چھوٹاپن تھا۔ اس کا سبب میرے دل کی تنگی تھی۔“ نور بانو کے لہجے میں شرمندگی تھی۔ ”مگر بعد میں، میں نے غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ تم اور میں تو دو سگی بہنوں کی طرح ہیں، جن کے دکھ درد مشترک ہیں۔ تم بھی اپنا سب کچھ کھو کر آئی ہو، اور میرے پاس بھی کچھ نہیں بچا۔ ہم دونوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ لٹتے دیکھا ہے۔ مجھے تو تم سے صرف محبت کرنی چاہئے۔“
اس کے لہجے کی سچائی نے زرینہ کے دل کو چھو لیا۔ ”میرے دل میں تو آپ کےلئے عزت اور محبت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔“ وہ بولی۔
مگر نور بانو اس وقت کسی رو میں بہہ رہی تھی۔ اس نے جس طرح اپنی بہنوں کو پامال ہوتے دیکھا تھا، اور اس کی اپنی جو کیفیت تھی، وہ سب زرینہ کو سنا ڈالی۔ پہلی بار اسے ایسا لگا، جیسے قلب اور روح پر سے ہر بوجھ پوری طرح ہٹ گیا ہے۔ ”میں خوش نصیب تھی کہ ان لوگوں کی پناہ میں آگئی۔“ عبدالحق کا نام لیتے لیتے رک گئی۔“ اور ان لوگوں کے روپ میں مجھے سب کچھ مل گیا۔ ہر رشتہ مل گیا۔ ورنہ میرا کیا حشر ہوتا۔“ اس خیال سے ہی اسے جھرجھری آگئی۔
لیکن مجھ پر جو گزری ہے، وہ تو میں تمہیں بتا بھی نہیں سکتی۔ زرینہ نے دل میں سوچا۔ پھر بڑے خلوص سے نور بانو سے بولی۔ ”چلیں.... اب میری صورت میں آپ کو بہن بھی مل گئی اور میری اپنی محرومی بھی دور ہو گئی۔“
اس رات کے بعد وہ دونوں بہت قریب ہو گئیں۔ دن میں بھی ان کا وقت ساتھ گزرنے لگا۔
زرینہ نے مینو کو نور بانو کے آگے پیچھے پھرتے دیکھا تو اسے بڑی حیرت ہوئی۔ یہ بات اسے اور عجیب لگی کہ نور بانو اسے اپنے ہاتھ سے کھلاتی ہے۔ ویسے تو نور بانو کے پاس بکروں کی ایک جوڑی بھی تھی، اور وہ ان کا بھی خیال رکھتی تھی۔
”حیرت ہے، آپ کو جانور پالنے کا شوق ہے۔“ ایک دن زرینہ نے اس سے کہا۔ ”آپ تو بول چال سے مجھے شہری لگتی ہیں۔“
”ہاں، میں دہلی کی ہوں۔“ نور بانو نے کہا۔ ”اور شاید اسی لئے مجھے جانور پالنے کا شوق ہوا۔ کیونکہ اپنے گھر میں تو میں نے ایسا کچھ دیکھا ہی نہیں تھا۔ زبیر بھائی ان دنوں بکریوں کی فارمنگ کررہے تھے۔ ایک بکری نے یہ دو بچے دیئے....“ نور بانو نے اپنی جوڑی کی طرف اشارہ کیا۔ ”تو میں نے ان سے مانگ لئے۔ یہ چھوٹے تھے تو اتنے خوب صورت تھے کہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔“
”میں سوچ سکتی ہوں۔“ زرینہ نے آہستہ سے کہا۔ ”ہمارے گھر میں بھی بکریاں پالی جاتی تھیں۔“ ایک لمحے کو وہ اداس ہو گئی۔ پھر سنبھل کر بولی۔ ”لیکن آپ ان سے زیادہ توجہ اس مینڈھے کو دیتی ہیں۔“
نور بانو کی نگاہیں جھک گئیں۔ ”یہ مجبوری ہے۔ اس کے نخرے بہت ہیں۔“
زرینہ نے غور سے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر اچانک چھانے والی سرخی اس نے دیکھ لی تھی۔ ”کیا مطلب؟“
”ایسے نہیں سمجھو گی تم۔ اچھا اسے کچھ کھلا کر دکھاﺅ۔“
زرینہ نے کوشش کی۔ لیکن مینو نے اس طرف دیکھا بھی نہیں۔ زرینہ نے اسے بادام کا لالچ بھی دیا۔ لیکن ناکام رہی۔ ”واقعی.... یہ تو بڑا نخرے والا ہے۔ لگتا ہے، صرف آپ کے ہاتھ سے کھاتا ہے۔ آپ نے اس کی عادتیں بگاڑ دی ہیں۔“
”نہیں.... یہ میرا نہیں ہے، اور اس کی عادتیں بھی میں نے نہیں بگاڑی ہیں۔“
”تو پھر؟“
”اسے عبدالحق صاحب لائے تھے۔“ نور بانو کی نگاہیں پھر جھک گئیں۔ ”وہ اس کا ہر کام خود کرتے تھے اور یہ ہر وقت ان کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ پھر وہ اچانک لاہور چلے گئے۔ انہیں تو پتا بھی نہیں ہو گا کہ اس بے چارے پر کیا گزری۔“
زرینہ کی دلچسپی بڑھ گئی۔ مینو بڑی محبت سے نور بانو کے گھٹنے سے سر رگڑ رہا تھا۔ ”مجھے بتائیں نا۔“ زرینہ نے کہا۔
”ان کے جانے کے بعد اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ پاگلوں کی طرح انہیں ڈھونڈتا پھرتا تھا۔ اسی لئے باندھنا پڑ گیا۔ جان کے لالے پڑ گئے۔“
”تو پھر آپ سے یہ کیسے رام ہو گیا۔“
”مجھ سے نہیں، اس چادر سے۔“ نور بانو نے اپنی چادر کی طرف اشارہ کیا۔
”میں سمجھی نہیں۔“
نور بانو چند لمحے جھجکتی رہی۔ پھر سر جھکا کر بولی۔ ”یہ چادر اس کے مالک کی ہے۔ اس میں ان کی خوشبو ہے۔ اس کی وجہ سے اس نے مجھے ان کا مقام دے دیا۔“
”اللہ.... اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ بھوکا مر جاتا۔“ زرینہ نے کہا۔
”اللہ نہ کرے۔یہ تو ان کی امانت ہے“نور بانو نے بے ساختہ کہا۔
اسی لمحے زرینہ پر نور بانو کی محبت پوری طرح واضح ہو گئی۔ یہ لڑکی عبدالحق کو دیوانہ وار چاہتی ہے۔ اس نے سوچا۔ ”یہ تو بتائیں کہ بھائی لاہور کیوں گئے ہیں؟“
”ایک کام سے گئے ہیں، اور جب تک کام نہ ہو جائے واپس نہیں آئیں گے۔“ نور بانو نے اداسی سے کہا۔
”ایسا کیا کام ہے وہاں۔“
”وہ میرے چچا کو تلاش کرنے گئے ہیں، تاکہ مجھے ان کے سپرد کرکے سرخرو ہو جائیں۔“
”اللہ نہ کرے کہ وہ کامیاب ہوں۔“
نور بانو نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ”یہ کیوں کہا تم نے؟“
”کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آپ یہاں سے جائیں۔“
”کیوں؟“
”کیونکہ آپ یہاں سے نہیں جانا چاہتیں۔“ زرینہ نے کہا۔ ”سنیں نور بانو، بھائی آپ کو اچھے لگتے ہیں نا۔“
نور بانو چند لمحے خاموش رہی۔ پھر بولی۔ ”چاند کسے اچھا نہیں لگتا۔ وہ تو ساری دنیا کو اچھا لگتا ہے۔“
”بے شک، لیکن ویسے نہیں، جیسے چکور کو اچھا لگتا ہے۔“
”لیکن ملتا تو چکور کو بھی نہیں۔“ نور بانو نے اداسی سے کہا۔
”یہ تو قصے کہانیوں والی بات ہے۔ ورنہ وہ بھی انسان ہیں اور آپ بھی انسان ہیں۔“ زرینہ نے بے پروائی سے کہا۔ ”مجھے تو لگتا ہے نور بانو کہ آپ جان بوجھ کر اداس رہنا چاہتی ہیں۔ اچھی باتیں سوچا کیجئے۔ دیکھیں نا، میں اور آپ.... ہم لوگ اتنا کچھ دیکھ چکے ہیں کہ مایوس تو ہمیں ہونا ہی نہیں چاہئے۔“
”مگر جب صورتحال ہی مایوس کن ہو تو....“
”زرینہ نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”ویسی مایوس کن تو نہیں ہو سکتی، جس سے آپ ہندوستان میں گزری ہوں گی۔“
”ہاں.... یہ تو ہے۔“ نور بانو نے اعتراف کیا۔
”اور اللہ آپ کو عزت کے ساتھ وہاں سے نکال لایا نا.... اور اب آپ عافیت میں ہیں۔“
”میں نہیں چاہتی کہ وہ مجھے اس حال میں دیکھے۔“ نادرہ کی نظریں جھک گئیں۔
”اس کا حل ہے میرے پاس۔ ہم دروازہ بند کرلیں گے۔ چلو، لیٹ جاﺅ۔“
رشید نے دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ نادرہ کو ایسا لگا، جیسے وہ کوئی پرندہ ہے، جسے پنجرے میں قید کردیا گیا ہے۔
اس رات وہ دوبار اور پامال ہوئی۔ پھررشید سوگیا۔ وہ خود نجانے کب سے نیند سے محروم تھی۔ نیند سے اس کا برا حال تھا۔ جسم الگ نڈھال تھا۔ لیکن وہ اس خوف سے نہیں سوئی کہ ارجمند کی آنکھ کھلے اور وہ ڈرے تو وہ اس کی آواز سن لے۔ رات بھر اس کے کان باہر لگے رہے۔ ایک بار جی چاہا کہ وہ اٹھے اور دوسرے کمرے میں چلی جائے۔ لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ رشید وہاں آئے، ارجمند کے سامنے اسے مارے، اس پر دست درازی کرے۔ اللہ نے ارجمند کو بہت کچھ دیکھنے سے بچالیا تھا۔ اور وہ چاہتی تھی کہ وہ بچی ہی رہے۔
وہ نیند سے لڑتی، جاگتی اور سوچتی رہی۔ اس کے سامنے اب امید کی کوئی چھوٹی سی کرن بھی نہیں تھی۔ اسے یقین ہوگیا تھا کہ رشید اس سے ہرگز شادی نہیں کرے گا۔ ایسے لوگ شادی نہیں کرتے۔
مگر جب آدمی امید سے محروم ہوجائے تو امید تخلیق کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے۔ رشید نے کہا تھا کہ اس کی ماں اور بہنوں کو اس کے یہاں رہنے پر اعتراض ہے۔ وہ اس شادی کو قبول بھی نہیں کریں گی۔ اور رشید نے کہا تھا کہ وہ اسے خالہ کے گھر لے جائے گا اور خالہ شادی کرادیں گی۔ ان میں کوئی بات بھی جھوٹ نہیں لگتی تھی۔ اس کی ماں اور بہنوں کا ردعمل فطری تھا۔ تو ممکن ہے کہ یہ سچ ہی ہو۔
لیکن پھر اسے دوسری فکر ستانے لگی۔ رشید شراب بھی پیتا ہے۔ گالیاں بھی بدمعاشوں کی طرح دیتا ہے۔ کیا ایسا آدمی ہے اس کے نصیب میں؟ اس لمحے اس کے اندر سے کسی نے اسے ڈانٹا۔ اب تیری کیا شان رہ گئی ہے نادرہ کہ تجھے شایان شان شوہر ملے۔ جو مل جائے، غنیمت ہے۔ تجھ جیسی بدبخت لڑکی سے کون شادی کرے گا۔ تو تو اب بس ارجمند کے مستقبل کی فکر کر۔ اس کا.... اس کے تحفظ کا خیال کر۔
صبح ہوگئی، دن چڑھ آیا۔ رشید سوتا رہا اور وہ نیند سے لڑرہی تھی۔ ایک بار وہ اٹھی اور جاکر دوسرے کمرے میں جھانک آئی۔ ارجمند اب بھی سورہی تھی۔
پھر رشید سوکر اٹھا تو اسے لگا کہ اس کی زندگی کی صبح ہوگئی ہے۔ جیسے اس کی سوئی ہوئی قسمت جاگ گئی ہے۔
رشید نے آنکھیں کھولیں تو وہ اس کے برابر لیٹی تھی۔ رشید کی آنکھوں میں حیرت جھلکی۔ ”ارے.... آپ یہاں؟“ اس کے لہجے میں بھی حیرت تھی۔
نادرہ کو جرت ہوئی۔ وہ اسے آپ کہہ رہا تھا۔ ”آپ ہی تو مجھے یہاں لائے تھے“ اس نے شکایتی لہجے میں کہا۔
”تو.... تو وہ سب سچ تھا.... خواب نہیں تھا۔“ رشید نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ پھر بالکل اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ”میں.... میں بہت برا ہوں.... میں کمینہ ہوں.... یہ میں نے کیا کردیا....“
نادرہ حیران رہ گئی، رشید پھر سے وہی شائستہ آدمی بن گیا تھا۔
Updated on 15 May 08 at 11:12 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.