Google
 

:: قسط نمبر 31 عشق کا شین
”ارے.... میں تو آپ سے محبت کرتا ہوں۔ یہ میں نے کیا کردیا.... یہ آپ کے ساتھ میں نے ظلم....“ رشید سے بولا بھی نہیں جارہا تھا، پھر اس نے نادرہ کے سامنے ہاتھ جوڑدیئے۔ ”یہ شراب بڑی کمینی چیز ہے۔ میں پیتا نہیں ہوں۔ لیکن اماں سے لڑنے کے بعد غم غلط کرنے کیلئے پی لی تھی۔ آپ مجھے معاف کردیں.... خدا کیلئے معاف کردیں، ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گا.... خدا کی قسم، میں خودکشی کرلوں گا۔“
امید نادرہ کی ضرورت تھی، سو پھر سے بندھنے لگی۔ ”ایسی باتیں نہ کریں۔ یہاں ہمارا کون ہے آپ کے سوا۔ اوپراللہ ہے اور نیچے آپ ہیں۔“ اس نے کہا۔ پھر ایک خیال نے اسے چونکادیا۔ ”آپ نشے میں تھے۔ سب کچھ خواب سمجھ رہے تھے۔ یہ بتائیں، آپ کو اپنا وعدہ بھی یاد ہے؟“
”کون سا وعدہ؟“
نادرہ کا دل ڈوبنے لگا۔ ”آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا۔“
”وہ کیسے بھول سکتا ہوں میں۔ اس کی وجہ سے تو سب کچھ ہوا ہے۔ نہ میں اماں سے لڑتا آپ کی خاطر، نہ شراب پیتا۔ اور شراب نہ پی ہوتی تو یہ سب کچھ بھی نہ ہوتا۔“ رشید کی نظریں جھک گئیں۔ ”آپ مجھے معاف کردیں.... خدا کیلئے معاف کردیں، ورنہ میں....“
”میں نے آپ کو معاف کردیا۔ بس آپ اپنا وعدہ....“
” اس کی آپ فکر نہ کریں۔ ابھی ناشتے کے بعد ہم خالہ کے ہاں چلیں گے۔ خالہ کا بہت بڑا گھر ہے۔ وہاں آرام ہی آرام ہے۔ آپ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ نجانے کب سے سوئی نہیں ہیں۔ وہاں آرام سے سوجائیے گا۔ میں اماں کے پاس جاﺅں گا، اور آخری بار انہیں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ نہیں مانیں تو بس شام کو ہم شادی کرلیں گے۔“
نادرہ بے فکر ہوگئی۔ ارجمند اٹھی تو اس بار پوری طرح ہوش میں تھی۔ اس نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا۔ ”یہ کون سی جگہ ہے پھپھو؟“ گزشتہ روز کی باتیں اسے یاد نہیں تھیں۔ نادرہ کو دوبارہ اس مرحلے سے گزرنا پڑا۔ اور اس بار وہ مرحلہ زیادہ سخت تھا۔ ننھی بچی نے جو کچھ نہیں دیکھا تھا، وہ تو شاید وہ سہہ ہی نہیں سکتی تھی۔ اللہ نے رحم کیا کہ اسے اس سے بچالیا۔ لیکن اس کیلئے تویہ بھی قیامت سے کم نہیں تھا۔ یہ اجنبی گندا سا، کچا گھر جہاں پھپھو کے سوا کوئی نہیں تھا۔ اور دادا، دادی، ماں، باپ، چچا.... سب اللہ کے پاس چلے گئے۔ تو وہ اور پھپھو یہاں اکیلے کیا کریں گے۔ ”پھپھو.... ہم بھی اللہ میاں کے پاس چلیں۔“
اسے سمجھانا آسان نہیں تھا، جبکہ اس دکھ سے نادرہ کا اپنا دل پھٹا جارہا تھا۔ دیر لگی۔ لیکن بالآخر ارجمند کو قرار آگیا۔ نادرہ جانتی تھی کہ ارجمند پر یہ وقت باربار آئے گا.... مہینوں آتا رہے گا۔ آنکھ دیکھے کو تو صبر آہی جاتا ہے۔ لیکن جو دیکھا نہ ہو، اس پر یقین کرنا آسان نہیں ہوتا۔ آس لگی ہی رہتی ہے۔
ناشتے کے بعد رشید انہیں لے کر نکل آیا۔ وہ تانگے میں بیٹھے۔ اور یوں وہ بوا کے پاس پہنچ گئی۔
رشید نے اپنی خالہ کو ان کے بارے میں بتایا، اپنی ماں سے جھگڑے کا بتایا۔ ”خالہ، میں ان سے شادی کرنا چاہتا ہوں.... آج ہی۔“
خالہ اسے اپنے کمرے میں لے گئیں۔ وہاں گھر جیسی مسہری تھی۔ خالہ نے اسے لپٹاکر خوب پیار کیا۔ ”تم فکر نہ کرو۔ آرام سے یہاں رہو۔ تمہیں کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ آرام سے لیٹ جاﺅ۔ لگتا ہے، مہینوں سے نہیں سوئی ہو۔“
وہ اسے اور ارجمند کو کمرے میں چھوڑکر چلی گئیں۔ نیند کو ترسی ہوئی نادرہ چند لمحوں میں ہی سوگئی۔ اور وہ ایسی بے سدھ ہوکر سوئی کہ آنکھ کھلی تو رات ہوچکی تھی۔ کمرے میں اندھیرا تھا۔
وہ اٹھ کر بیٹھی تو ہارمونیم اور طبلے کی آواز سنائی دی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، ارجمند بھی موجود نہیں تھی۔ وہ کمرے سے نکلی۔ اس گھر کے جغرافیے کا تو ابھی اسے علم نہیں تھا۔ وہ موسیقی کی آواز کی طرف بڑھتی رہی۔ باہر گھر میں برقی روشنی تھی۔
بالآخر اسے ارجمند نظر آگئی وہ دروازے سے ٹک کر کھڑی اندر دیکھ رہی تھی، اور اتنی منہمک تھی کہ اسے اس کے آنے کا بھی پتا نہیں چلا۔ نادرہ نے اندر جھانکا تو وہاں رقص کی محفل سجی تھی۔ تماش بین بیٹھے داد دے رہے تھے۔ اور سکے اور نوٹ اچھال رہے تھے۔
ایک لمحے میں نادرہ کی سمجھ میں سب کچھ آگیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ وہ ارجمند کو لے کر دوبارہ اس کمرے میں آئی۔ وہاں بیٹھ کر وہ سوچتی رہی۔ بالآخر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے سمجھوتہ کرنا ہوگا.... ارجمند کی خاطر۔ ارجمند نہ ہوتی تو وہ ٹرین میں ہی خود کو ختم کرلیتی۔ لیکن اسے ارجمند کی خاطر جینا تھا، چاہے اس میں کتنی ہی ذلت ہو۔ اسے بس کسی طرح ارجمند کو ذلت اور گندگی سے بچانا ہے۔
وہ عقل مند تھی۔ اس نے سمجھ لیا کہ جو ہونا ہے، وہ تو ہوکر رہے گا۔ خواہ وہ مزاحمت کرے۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہنسی خوشی سب کچھ قبول کرلیا جائے۔ اس خالہ کو خوش رکھا جائے، تاکہ اس سے اپنی بات منوائی جائے۔ ارجمند کے تحفظ کی یہی ایک صورت تھی۔
اس نے ہرپہلو سے سوچا اور لائحہ عمل طے کرلیا۔ ارجمند کیلئے یہ ماحول بہت ہی خراب تھا۔ اس کا ایک مظاہرہ وہ ابھی دیکھ چکی تھی کہ وہ کتنی رغبت سے رقص دیکھ رہی تھی۔ وہ اسے خوب سمجھتی تھی۔ ارجمند کو قدرت سے فن کارانہ فطرت ملی تھی۔ چھوٹی سی تھی تو تصویریں بنانے لگی تھی، اس عمر میں، جب بچے سے پینسل بھی نہیں تھامی جاتی۔ پڑھنے سے زیادہ اسے ڈرائنگ میں دلچسپی تھی۔ اور موسیقی بھی اسے مسحور کرلیتی تھی۔ یہاں اس کوٹھے پر یہ بات اس کے لئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی تھی۔
یوں کوٹھے کی اس زندگی کا آغاز ہوا، جہاں وہ نادرہ سے نرگس بن گئی۔ ارجمند کیلئے اس نے سب سے پہلے رنگین پینسلوں اور ڈرائنگ کی کاپیوں کا بندوبست کردیا۔ پھر بہت تھوڑے عرصے میں اس نے نیلم بائی کا دل جیت لیا۔ اس کی بات سنی اور مانی جانے لگی۔
فنون کی طرف ارجمند کا فطری میلان تھا۔ رقص اور موسیقی میں اس کی دلچسپی نادرہ کیلئے پریشان کن تھی۔ لیکن اس کا ایک فائدہ بھی ہوا تھا۔ اس دلچسپی کی وجہ سے اس کے زخم جلدی مندمل ہوگئے تھے۔ ابتدا میں وہ سب کو یاد کرکے دن میں کئی کئی بار روتی تھی۔ لیکن جہاں موسیقی کی آواز ابھرتی، وہ مسحور ہوجاتی۔ وہ وہاں جاکھڑی ہوتی اور دیکھتی رہتی۔ یوں وہ جلد ہی پچھلی زندگی کو بھول گئی۔
اس دلچسپی کے توڑ کیلئے نادرہ نے ڈرائنگ کے رجحان کو مہمیز کیا۔ ارجمند ڈرائنگ کی طرف ویسے ہی راغب تھی۔ اس کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں ڈرائنگ اس کا مشغلہ بن گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ غیر معمولی تصویریں بنالیتی تھی۔ وہ صلاحیت اس کی فطری تھی۔ تین سال کی تھی تو پھلوں کی تصویریں ایسی بناتی تھی کہ اصلی لگتے تھے۔ اب وہ اور آگے نکل گئی تھی۔ ایک دن تو اس نے نادرہ کی تصویر بناڈالی.... ایسی کہ نادرہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس روز نادرہ نے اسے واٹر کلرز منگوادیے۔
کچھ وقت گزرا، اور نیلم بائی کا اعتماد بحال ہوا تو نادرہ نے ارجمند کی تعلیم کا تذکرہ چھیڑا۔ وہ اسے اسکول تو نہ بھجواسکی، لیکن گھر پر اس کی تعلیم کا بندوبست ہوگیا۔ مگر اس کے ساتھ بھی ایک سمجھوتہ کرنا پڑا۔ ارجمند کو رقص اور موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دی جانے لگی۔ اس کے ساتھ ہی نادرہ نے خود ارجمند کو قرآن پڑھانا شروع کردیا۔
حقیقت پسند تو نادرہ پہلے بھی تھی۔ مگر حالات نے اسے اور زیادہ حقیقت پسند بنادیا تھا۔ وہ صورتحال کا جائزہ لیتی تو مایوسی کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوتا۔ اس کا اپنا کوئی نہیں تھا، اور وہ اس کوٹھے کی محدود دنیا میں قید تھی۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ارجمند کو بچاپاتی.... اسے ماحول سے نکال دیتی۔ اس کا سہارا تو بس اللہ کی ذات تھی۔ صورتحال کے انتہائی مایوس کن ہونے نے اس رابطے کو اور گہرا.... اور پکاکردیا تھا۔ قرآن وہ باقاعدگی سے پڑھتی تھی۔ جب بھی موقع ملتا، نماز بھی پڑھتی اور اللہ سے ایک ہی دعا کرتی.... اپنے لئے نہیں، ارجمند کیلئے۔ اللہ کوئی رحمت کا فرشتہ بھیج دے جو اس معصوم بچی کو معصیت کی اس دنیا سے نکال لے جائے.... اور ایسا جلدی ہوجائے.... ارجمند پر یہاں کا رنگ چڑھنے سے پہلے! نادرہ کو احساس تھا کہ یہ ماحول بہت خطرناک ہے.... اور بچی پر یہاں کا رنگ چڑھنا بہت آسان ہے۔
ہر روز اس کی دعا پہلے سے شدید ہوجاتی۔ روتے روتے اس کا دامن تر ہوجاتا۔ پھر روح میں ایسا اطمینان اور سکون اترجاتا، جیسے اللہ نے اس کی دعا قبول کرلی ہے۔ یہ نعمت حاصل نہ ہوتی تو شاید وہ گھل گھل کر ختم ہوجاتی۔
”میں آگئی پھپھو“
ارجمند کی آواز نے اسے چونکادیا۔ وہ ماضی کی یادوں سے نکل آئی....
ارجمند نے سمجھ لیا تھا کہ آج پھپھو کی وہی کیفیت ہے۔ پرانی والی۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا۔ اور جب ایسا ہوتا تو پھپھو کو چپ لگ جاتی تھی۔ وہ بہت اداس ہوجاتی تھیں۔ ایسے میں وہ پھپھو کا خیال رکھتی، اور انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتی۔
لیکن آج وہ خود بہت اداس تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اسے چچا جان کی شادی یاد آگئی تھی۔ کیسے ڈھولک بجی تھی، کیسے گیت گائے گئے تھے۔ ہاتھوں میں مہندی لگی تھی اور نئے کپڑ ے بنے تھے۔ اس کےلئے غرارہ....
”پھپھو.... یہاں کسی کی شادی نہیں ہوتی“؟
نادرہ نے سر اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا۔”یہ خیال کیوں آگیا تمہیں“؟
”چچا جان کی شادی ہوئی تھی تو کتنا مزہ آیا تھا۔ میرے لئے کتنا خوب صورت غرارہ سیا تھا آپ نے“۔
”غرارہ تو میں اب بھی سی دوں گی تمہارے لئے“۔
”لیکن شادی میں تو اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے“۔
نادرہ کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔”شادی تو اب یہاں انشااللہ تمہاری ہی ہوگی“۔
”واہ.... تب تو مجھے بہت سارے کپڑے ملیں گے.... گوٹے والے، سلمٰی ستارے والے۔ اور بہت سارے زیور بھی.... چچی جان کی طرح“۔ ارجمند نے بے حد خوش ہو کر کہا۔”کب ہوگی میری شادی پھپھو“۔
”میں تو چاہتی ہوں کہ جلد سے جلد ہوجائے۔ لیکن ابھی تو تم بہت چھوٹی ہو“۔ یہ کہتے ہوئے نادرہ کے لہجے میں اداسی در آئی۔
”تو میں کب تک بڑی ہوجاﺅں گی“
”بارہ پندرہ سال تو لگیں گے“۔
ارجمند چند لمحے سوچتی ہی۔”کس سے ہوگی میری شادی۔“
”دیکھیں گے کوئی اچھا سا لڑکا.... شہزادوں جیسا، خوب صورت، رعب والا، لیکن نرم دل“۔
”مجھے تو کسی کی پسند پر اعتبار نہیں۔“
”میری پسند پر بھی اعتبار نہیں“؟
”نہیں پھپھو“۔ ارجمند نے بڑی صفائی سے انکار کر دیا۔ ”آپ اس رات جس بڑی بڑی مونچھوں والے کے ساتھ کمرے میں جارہی تھیں، مجھے تو وہ بہت برا لگا تھا، جیسے.... کوئی ڈاکو“۔
نادرہ تھرا کر رہ گئی۔ اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
”اچھا ہوا، آپ نے اس سے شادی نہیں کی۔ بوا کہہ رہی تھیں کہ آپ اپنے لئے دولہا تلاش کر رہی ہیں۔ لیکن اب تک کوئی پسند نہیں آیا ہے۔ مگر پھپھو، اُس مونچھوں والے کو تو آپ کو منہ بھی نہیں لگانا چاہئے تھا۔“
”تو اس وجہ سے تمہیں میری پسند پر اعتبار نہیں رہا“۔ نادرہ اور اداس ہوگئی تھی۔
”جی پھپھو، اپنے لئے تو میں خود ہی دولہا پسند کروں گی“۔
”ٹھیک ہے گڑیا۔ اب میں اللہ سے ہر روز دعا کیا کروں گی کہ تمہیں تمہاری پسند کا دولہا دے“۔
ارجمند چند لمحے سوچتی رہی، پھر بولی۔”پھپھو.... ایک بات مانیں گی میری“؟
”بولو میری گڑیا، کیا بات ہے“۔
”آج مجھے بھی اپنے ساتھ کوٹھے پر لے چلیں۔“
نادرہ کو اپنا وہاں بیٹھنا بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ ارجمند کو تو وہ وہاں ذرا دیر کےلئے بھی لے جانا گوارا نہیں کرتی تھی۔ خود تو وہ مجبور تھی۔ اور وہاں بیٹھ کر اس سے نظر بھی نہیں اٹھائی جاتی تھی۔ یہ احساس اب بھی سوہانِ روح ہوتا تھا کہ ہرگزرنے والا اسے میلی، تولنے والی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ جیسے وہ کوئی لڑکی نہیں، ٹھیلے پر رکھا ہوا کوئی پھل یا ترکاری ہے۔
لیکن وہ ارجمند کی بے کلی بھی سمجھ سکتی تھی۔ بچی کا دل باہر جانے کو چاہتا ہوگا۔ وہ خود بھی باہر جانے کو کیسے ہڑکتی تھی۔ اس سے اور نیلم بائی کے درمیان بہ ظاہر کیسا ہی اعتماد ہو، لیکن اندر گہرائی میں بے اعتمادی موجود تھی، اور وہ بھی دو طرفہ، بائی نے کبھی ا سے باہر جانے کو منع کیا، نہ ارجمند کے جانے پر پابندی لگائی۔ لیکن ان دونوں کو ایک ساتھ اس نے کبھی باہر نکلنے نہیں دیا۔ شاید اس کے نزدیک وہ دونوں ایک دوسری کی واپسی کی ضمانت تھیں۔ وہ کبھی کہتی.... بوا، ارجمند کو کتاب دلا لاﺅں، تو بوا کہتی، تم چلی جاﺅ۔ ارجمند تو میرا سر دبائے گی۔ بہت درد ہورہا ہے سر میں۔ یا وہ کہتی.... تم ذرا یہ کام کرلو نرگس۔ ارجمند اچھو میاں کے ساتھ چلے جائے گی۔ اور یہ دوسری بات نادرہ کو قبول نہیں تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ارجمند ایک لمحے کےلئے بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہو۔ اور وہ سوچتی کہ ابھی تو ارجمند صرف چھ سال کی ہے تو اس کی پریشانی کا یہ حال ہے۔ وہ سولہ سال کی ہوگی تو کیا ہوگا۔ ایک لمحے کو خوف سے اس کا جسم سرد ہوجاتا۔ مگر اگلے ہی لمحے اندر سے ایک آواز ابھرتی.... اس وقت تک انشاءاللہ وہ یہاں ہوگی ہی نہیں۔ کیسے؟ یہ اسے معلوم نہیں تھا۔ مگر اسے یقین تھا کہ ہوگا یہی۔
اس وقت اسے تنگ پنجرے میں قید ننھی چڑیا جیسی اپنی بھتیجی پر ترس بھی آیا اور پیار بھی۔ کبھی کبھی پنجرے کی تیلیوں کے پار باہر کی دنیا کو دیکھنے کا موقع تو ملنا چاہئے اسے۔
جواب ملنے میں اتنی دیر ہوئی تو ارجمند بے تاب ہوگئی۔”اچھی پھپھو، آج مجھے لے چلیں۔ پھر بہت دن تک نہیں کہوں گی چلنے کو“۔ اس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا۔
نادرہ کو اس کی سادگی اور سچائی پر پیار آگیا۔ بچے کتنے سچے ہوتے ہیں۔ ارجمند نے اپنی بات منوانے کےلئے بھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہ نہیں کہا کہ آج لے چلیں، پھر کبھی چلنے کو نہیں کہوں گی۔ کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ بات وہ آئندہ بھی کہے گی.... کہتی رہے گی۔
”ٹھیک ہے گڑیا، چلی چلنا“۔ پہلی بار وہ مسکرائی۔
ارجمند خوش ہوگئی۔”میں ڈرائنگ کی کاپی بھی لے چلوں گی“۔
”ضرور میری شہزادی “
٭٭٭
عبدالحق کو اندازہ بھی نہیں ہوا کہ وہ ہیرا منڈی میں داخل ہوچکا ہے۔ اس کے قدم خود کار انداز میں اٹھ رہے تھے۔ وہ عجیب سی کیفیت میں تھا۔ ذہن دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔ ایک حصے پر اداسی مسلط تھی.... اداسی کہ وہ لاہور شہر سے رخصت ہو رہا تھا۔ لاہور جو زندگی کے مضمون میں اس کےلئے درس گاہ ثابت ہوا تھا۔ یہاں اس نے بہت کچھ دیکھا تھا۔ یہاں سے اس نے بہت کچھ سیکھا اور سمجھا تھا۔ اور ذہن کے دوسرے حصے میں خوشی ہی خوشی تھی.... خوشی کہ وہ گھر واپس جارہا تھا.... اماں کے پاس.... زبیر بھائی اور رابعہ کے پاس.... اور.... اور.... اور وہاں نور بانو بھی تو تھی۔
نور بانو کا خیال آیا تو اس کے کانوں میں نور بانو کی آواز گونجنے لگی.... قرآت کی آواز.... تبارک الذی بیدہِ الملک.... وہ آواز، جس نے اسے محبت سے روشناس کرایا تھا۔ وہ آواز جو اسے کھینچ کر صراطِ مستقیم کی طرف لے گئی تھی۔ کیسی عجیب بات ہے؟ اس نے اداسی سے سوچا۔ دہلی میں اس رات کے بعد اب تک اس نے نور بانو کی قرآت نہیں سنی تھی۔ یہ تو چراغ تلے اندھیرے والی بات ہوئی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ کثرت سے اس کی آواز سنتا۔
اس کی پرانی قرآت کا تو کوئی حوالہ اس کے پاس نہیں تھا، کیونکہ وہ اس وقت اس زبان سے ہی نا بلد تھا۔ اس کے پاس تو بس اسی رات کی قرآت کا حوالہ تھا.... تبارک الذی۔ اور کمال یہ تھا کہ وہ جب بھی قرآن کھول کر یہ سورة پڑھتا تو اسے اپنی آواز سنائی نہ دیتی۔ بلکہ وہ نور بانو ہی کی آواز سنتا تھا۔
اچانک ناگواری کے بہت شدید احساس نے اسے ٹھٹھکا دیا۔ اس کے قدم رک گئے۔ اندر ایک تندکراہت ابھری تھی۔ لیکن وہ اس کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ اس لئے کہ وہ اپنی منقسم کیفیت کا اسیر تھا.... خوش اور اداسی کے بین بین.... اسے گردو پیش کا احساس ہی نہیں تھا۔
قدم رکے تو ناگواری کی وجہ سمجھنے میں اسے محض چند لمحے لگے۔ وہ ہار مونیم اور طبلے کی آواز تھی، اور کوئی عورت کچھ گارہی تھی۔ گھنگھرﺅں کی جھنکار بھی بے حد نمایاں تھی
Updated on 15 May 08 at 11:13 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.