Google
 

:: قسط نمبر 32 عشق کا شین
news imageناگواری کی وجہ تو سمجھ میں آگئی تھی۔ مگر وہ اتنی گہری محویت سے باہر آیا تھا کہ گردو پیش کو اب بھی نہیں سمجھ سکا تھا۔
اسی لمحے ایک آواز نے اسے چونکا دیا۔”مال چاہئے باﺅ جی؟.... ایسی کچھی کلیاں ہیں موگرے کی....“
اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ وہی کوے جیسی چپکے چپکے ادھر ادھر چاروں طرف دیکھتی ہوئی آنکھیں۔ مٹھی میں دبا ہوا سگریٹ....
”میرے ساتھ آﺅ باﺅجی، دل خوش ہوجائے گا تمہارا۔ ایسا کورا مال کہیں نہیں....“
عبدالحق نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔”مجھے نہیں چاہئے تمہارا مال۔ ہٹو ایک طرف“۔
”تو یہاں کیا کررہے ہو باﺅ صاحب، مسجد تو پیچھے رہ گئی ہے“۔ اس شخص نے طنزیہ لہجے میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔
عبدالحق وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ اسے افضال صاحب یاد آگئے اور ان کی باتیں۔ یہ کنکر منڈی ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہاں وہ ہیرے بھی مل جاتے ہیں، جو مٹی میں رُلتے رُلتے یہاں پہنچتے ہیں۔ افضال صاحب نے کہا تھا کہ وہ ہر روز یہاں آتے ہیں، اس امید پر کہ شاید کوئی ہیرا انہیں مل
اسے یاد تھا کہ وہ عشق حقیقی اور عشق مجازی میں بہت الجھتا تھا.... خاص طور پر شاعری کے حوالے سے.... اردو کے استاد کہتے تھے کہ جو شعر بے ساختہ کہا جاتا ہے وہ الہامی ہوتا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ شاعر کے نزدیک اس کی ایک تشریح ہوتی ہے، اور شعر پڑھنے یا سننے والا اسے ایک بالکل مختلف مفہوم میں لیتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ ایک شعر سناتے تھے....
رُخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر آتا ہے پروانہ
”اب کوئی اسے عشقِ مجازی کی طرف لے جائے یا عشقِ حقیقی کی طرف۔“ استاد نے کہا تھا۔
عبدالحق نے خاصی دیر اس پر غور کیا تھا۔ لیکن اسے تو وہ خالص رومانوی شعر لگا تھا۔ عشق حقیقی کا تو اس پر گمان بھی نہیں ہوتا تھا۔ یہی بات اس نے استاد سے بھی کہی تھی۔
”اب اس طرح سے سوچو۔“ استاد نے کہا تھا۔ ”تمام انسان پروانے ہیں، شمع یہ دنیا ہے اور پروانے کی فطرت خالقِ کل نے ایسی بنائی ہے کہ وہ شمع کی طرف لپکتا ہے۔ نورِ ازل تو اُسے نظر ہی نہیں آتا۔“
اب عبدالحق سمجھ سکتا تھا۔ اللہ نے دنیا بنائی، اور بہت خوب صورت بنائی۔ متاع زیست عطا فرمایا۔ اور انسان کے دل میں اس کی محبت ڈال دی۔ پھر خود کو چھپاتے ہوئے اسے سب کچھ بتا دیا۔ یہ بھی کہ دنیا عارضی ہے۔ اور یہ بھی کہ جنت اس سے کروڑوں گنا خوب صورت اور نعمتوں والی ہے۔ اور وہ اسے ملے گی، جو اس عارضی دنیا کی ترغیبات سے صرفِ نظر کر کے، بن دیکھے اللہ پر ایمان لائے گا، اور اس کی اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کرے گا۔ مگر آدمی تو دنیا کی رنگینیوں میں ایسے الجھتا ہے کہ اللہ اسے یاد ہی نہیں رہتا، ویسے ہی جیسے پروانے شمع کی طرف لپکتے ہیں۔
واقعی.... یہ تو عشق حقیقی کا معاملہ ہے۔
مگر اسی لمحے اسے کچھ یاد آیا اور وہ شاک میں رہ گیا۔ ارے.... اس رات ہیرا منڈی میں مغنیہ یہی شعر تو گا رہی تھی۔ اور پھر کیسے تکرار کررہی تھی، جیسے چیلنج کررہی ہو.... اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر آتا ہے پروانہ۔
اسی وقت اذان کی آواز نے اسے چونکا دیا، ارے صبح ہوگئی۔ اس نے ہڑبڑا کر سوچا۔ پھر دل میں ایک پھانس سی چبھ گئی۔ ارے.... آج میں تہجد سے محروم ہوگیا۔
اس کے اندر ایک جھنجلاہٹ سی ابھری۔ یہ سونا کیوں ضروری ہے تہجد کے لئے۔ جواب فوری طور پر اس کے اندر اُبھرا۔ یہ فرض نماز نہیں ہے نادان، یہ نماز محبت ہے۔ اور نہ سونا تو بہت آسان ہے۔ ہاں سونا، اور پھر نیند پوری نہ ہونے کے باوجود تھکے ہوئے جسم کے ساتھ اپنے رب سے خلوت میں.... خصوصی ملاقات کے لئے اٹھنا اور تیار ہونا مشکل ہے، جبکہ ہوا کے جھونکے لوری سناتے ہوں اور تھپکیاں دیتے ہوں، تو جاگنا آسان نہیں ہوتا۔
یہی تو محبت کی نماز ہے!
٭٭٭
عبدالحق کو یہ احساس تو تھا کہ یہ اس پر ایک ایسی رات گزری ہے، جو زندگی کا رُخ تبدیل کردیتی ہے۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ کتنی زیادہ اور کیسی کیسی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ بھید تو اس پر رفتہ رفتہ کھلنا تھا۔
پہلی تبدیلی کا احساس تو اسے فجر کی نماز میں ہی ہوگیا۔ نماز میں حضوری کی وہ کیفیت نہیں تھی، جو اس کی نماز کا خاصہ تھی۔ اب تو نماز میں بھی اس کے تصور میں نور بانو کا سراپا لہرا رہا تھا۔
اسے بے چینی تو ہوئی۔ لیکن اس نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ اس کے خیال میں یہ وقتی تبدیلی تھی۔ لیکن باقی نمازوں میں بھی یہی کیفیت رہی تو وہ پریشان ہوگیا۔
اگلے روز سے اس نے اس کیفیت سے لڑنا شروع کردیا۔ یوں نماز کے دوران وہ ایک باطنی جنگ لڑنے لگا۔ تمام وقت وہ نور بانو کو ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن وہ ضدی سراپا تھا کہ اس کے تصور سے چپکا رہتا۔
اس روز وہ فجر کے بعد مولوی صاحب کے پاس رک گیا۔ اس نے ان سے سورة الذٰریٰت کی اُن آیات کے حوالے سے بات کی۔ ”یہ رات کی عبادت کی کیا اہمیت ہے مولوی صاحب؟“
مہر علی صاحب نے چند لمحے سوچا، پھر بولے۔ ”دیکھو پتر، دن تو اللہ نے دنیا کےلئے بنایا ہے اور رات آرام کے لئے....“
”مگر نماز دن میں بھی تو پڑھی جاتی ہے۔“ عبدالحق نے اعتراض کیا۔
”وہ تو اللہ کی رحمت ہے۔ وہ اپنے کسی بندے کو بھی محروم نہیں رکھنا چاہتا۔ اس لئے دن میں بھی نمازیں فرض کردیں۔ اب یہ سمجھ لو کہ دن کی نماز تو ایسی ہی ہے، جیسے دنیا کے کام۔ جیسے رزق کے لئے کوشش کرنی ہے، ویسے ہی نماز بھی پڑھنی ہے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے رات کی ابتدا میں بھی نماز فرض کردی۔ تاکہ تم آرام کے لئے لیٹو، تب بھی تمہارے اعمال میں یہ لکھ لیا جائے کہ آرام سے پہلے بھی تم نے عبادت کی تھی اور صبح کی فرض نماز بھی رحمت ہے کہ تم دنیاوی دن کا آغاز بھی عبادت سے کررہے ہو۔ اور اسی لئے فرض نماز جماعت سے ہے۔ ورنہ تو اللہ کو وہ اعمال بھی ناپسند ہیں، جن میں دکھاوے کا شائبہ بھی ہو۔ تم نے غور نہیں کیا پتر کہ اجتماعی عبادت صرف فرض نماز ہے۔ باقی نماز تو گھر جاکر پڑھنا ہی بہتر ہے۔ تو دن کی نماز کو تو دنیا ہی کا کام سمجھو۔“
”تو دن میں نوافل نہیں پڑھے جا سکتے؟“
”یہ بہت نازک سوال ہے پتر۔ پڑھ سکتے ہو، مگر اس صورت میں کہ تم پر تمہارے اہل خانہ کے، پڑوسیوں، رشتہ داروں اور بستی والوں کے جو حقوق ہیں، وہ تم نے احسن طریقے سے ادا کر دیئے اور اپنے لئے حلال رزق بھی حاصل کرلیا۔“
”اور اس کے بغیر دن میں نوافل پڑھنے کا اجر نہیں؟“
”یہ تو میں نہیں کہہ سکتا۔ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ دیکھونا، دو باتیں ہیں اس میں۔ ایک تو تم کسی کی حق تلفی کررہے ہو۔ دوسرے لوگ تمہیں دیکھیں گے تو اس عبادت کی بنیاد پر تمہیں عابد اور زاہد اور متقی اور پرہیزگار سمجھنے لگیں گے۔ تو تم سمجھو نہ سمجھو، یہ دنیا دکھاوا ہو گا، جو اللہ کو پسند نہیں۔ اسی لئے رات کی عبادت کی بڑی فضیلت ہے۔ بھئی رات کی عبادت تو محبت ہے۔ تھکے ہوئے ہو۔ جی چاہتا ہے کہ بس لیٹو اور سوجاﺅ۔ لیکن جاکر وضو کرتے ہو، پھر نماز پڑھتے ہو، قرآن پڑھتے ہو، ذکر و استغفار کرتے ہو، اس وقت میں جو خالص تمہارا اپنا ہے۔ اور تمہیں دیکھنے والا بھی کوئی نہیں۔ اس عبادت سے تم دنیا میں عزت اور شہرت نہیں کما رہے، صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کررہے ہو۔
”اب دوسرے زاویئے سے سوچو۔ اپنے محبوب سے تو ہر کوئی تنہائی میں ملنا چاہتا ہے۔ ربطِ خاص تو خلوت میں ہی ہے نا۔ جلوت میں تو رسوائی ہوتی ہے۔ اچھے عاشق تو رسوائی گوارا نہیں کرتے۔ محبوب کو بھی یہ اچھا نہیں لگتا۔ تو پتر، تنہائی اور خلوت تو رات میں.... رات کے اندھیرے میں ہے، جب کوئی تمہیں دیکھنے والا نہیں، سوائے تمہارے محبوب کے۔ سمجھ رہے ہونا پتر؟“
رات پردہ پوش! عبدالحق نے دل میں سوچا۔ ”جی.... میں سمجھ رہا ہوں۔“ اس نے مولوی صاحب سے کہا۔
مہر علی صاحب نے گہری سانس لی۔ ”دیکھو پتر، انسان کی فطرت ایسی ہے کہ گناہ کی طرف لپکتا ہے۔ اس کے لئے گناہ ہلکا ہے اور نیکی بھاری۔ اللہ گناہ کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن بندے کی توبہ اسے بہت پسند ہے۔ لیکن بندے کے کھل کر اعلانیہ گناہ کرنے پر اللہ غضبناک ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ ڈھٹائی.... بلکہ اس سے بھی بہت آگے بڑھ کر اللہ کے خلاف اعلان بغاوت ہے۔ اور یاد رکھو، نیکی ہو یا گناہ، اللہ یہ پسند نہیں کرتا کہ بندہ اس پر گواہ بنائے۔ اور اللہ بہت کافی ہے گواہی کے لئے۔ وہ سمیع و بصیر ہے، علیم و خبیر ہے۔ سب کچھ جانتا ہے۔ گناہ کی تشہیر کی تو تم نے بغاوت کی، اعلان جنگ کیا۔ نیکی کی تشہیر کی تو نیک نامی اور عزت کی شکل میں صلہ وصول کرلیا۔ وہ رحیم و کریم اجر سے تو پھر بھی محروم نہیں کرے گا۔ لیکن جو بے حساب اجر مل سکتا تھا، وہ تم نے کھو دیا۔ اور پتر اللہ ستارالعیوب ہے.... پردہ رکھنے والا۔ وہ تو گناہ گاروں کا بھی پردہ رکھتا ہے۔ اس نے رات بنائی، پردہ پوش۔ گناہ بھی چھپا لیتی ہے اور نیکی بھی۔ جبکہ معاف کرنے والا اور اجر دینے والا تو سب کچھ جانتا ہے۔ وہ نیکی، وہ عبادت، جس پر اس کے سوا کوئی گواہ نہیں، وہ تو عشق ہے اور اس کے اجر کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا۔ اور وہ ستار تو اپنے بندوں کے گناہ بھی بندوں پر عیاں نہیں کرتا۔ اب سوچو، رات نہ ہوتی تو کیا ہوتا۔“
رات پردہ پوش!
”اللہ نے جو کچھ بھی پیدا فرمایا، اس میں اتنے بھید ہیں کہ بندہ پوری عمر کھوجتا رہے تو بھی اس پر نہ کھلیں۔“ مولوی صاحب نے کہا۔ ”رات کے بھیدوں کے بارے میں سوچتے رہا کرو پتر۔ اور اللہ سے پوچھا کرو۔“
عبدالحق کو میر کا ایک شعر یاد آگیا....
یہی جانا کہ کچھ نہ جانا میر
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم
٭....٭....٭
نادرہ کو اب رات سے خوف آتا تھا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسے رات سے نفرت ہوگئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ رات کا سکون اور راحت وہ پیچھے ہندوستان میں ہی چھوڑ آئی ہے۔ پاکستان میں جو اس نے پہلی رات گزاری تھی، اس سے رات کی خوفناکی کا آغاز ہوا تھا۔ اور اس کے بعد اس نے کوئی رات سکون کی نہیں گزاری تھی۔ اور رات کی نیند کو تو وہ ترس ہی گئی تھی۔ شام ہوتے ہوتے اس کا خوف بڑھتا جاتا اور سورج غروب ہونے کے بعد تو وہ اندر ہی اندر لرزتی رہتی تھی۔
دوسرے اسے شام کے بعد سج سنور کر کوٹھے پر بیٹھنے سے نفرت تھی۔ حالانکہ اسے کبھی بہت زیادہ دیر وہاں نہیں بیٹھنا پڑتا تھا۔ اسے ان لڑکیوں پر ترس آتا تھا، جو بعض اوقات گھنٹوں وہاں بیٹھی رہتی تھیں۔
کوٹھے پر وہ جتنی دیر بھی بیٹھتی، سر جھکائے رہتی۔ نگاہ اٹھانا تو اس کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ وہ تو بس یہ سوچتی رہتی تھی کہ زمین دھنس جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ اس ذلت کے بارے میں اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، اور وہ اس کی مستحق بھی نہیں تھی۔
مگر اب اس میں ایک تبدیلی آگئی تھی۔ اب وہ نظریں اٹھا کر دیکھتی تھی، اور جہاں تک نظر جاسکتی تھی، وہاں تک کا جائزہ لیتی تھی۔
اسے اپنی اس تبدیلی کا موہوم سا احساس تھا۔ کیونکہ بنیادی طور پر تسلسل کے باوجود اس کا وہ عمل غیر ارادی تھا۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ باہر کے لوگ اس تبدیلی کو جان گئے ہیں، اور اس بارے میں تجسس بھی کرتے ہیں۔
سامنے پان کی دکان پر پان لگانے والے تارے نے دکان کے مالک سے کہا۔ ”استاد.... پنچھی نے پنجرہ قبول کرلیا ہے۔“
منظور نے اسے دیکھا۔ ”کس پنچھی کی بات کررہا ہے؟“
”نرگس کی استاد، اور کس کی۔“
نرگس منظور کی کمزوری تھی۔ جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا، تبھی وہ اس پر دل و جان سے فدا ہو گیا تھا۔ حالانکہ تماش بینی اس کی فطرت میں نہیں تھی۔ پان کی یہ دکان تو اس کے لئے روزی کا ٹھیا تھا۔ دوسرے بہتات بھی آدمی کا دل برا کردیتی ہے۔ وہاں دیکھنے کو تماش بینوں کے علاوہ چہروں اور جسموں کے سوا تھا ہی کیا۔ سو وہ اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ اور جگہ ایسی تھی کہ اس کا کام بہت چلتا تھا۔ سہ پہر سے وہ اور تارا پان لگانا شروع کرتے تھے۔ شام ڈھلتے ہی جب پہلا چراغ روشن ہوتا تو بازار میں رونق شروع ہوجاتی۔ ساتھ ہی اس کا کام، اور رات گہری ہوتے ہوتے دوبارہ پان لگانے پڑ جاتے۔ ایسے میں فرصت کسے ہوتی کہ کسی کو دیکھے۔
لیکن ایک دن اتفاق سے اس کی نظر سامنے والے کوٹھے کی طرف اٹھی اور اس نے نرگس کو دیکھ لیا۔ وہ اسے دیکھتے کا دیکھتا رہ گیا۔ وہ بازار کی لڑکی تو کہیں سے لگتی ہی نہیں تھی۔ اور وہ بہت خوب صورت اور تروتازہ تھی۔ سرخی اور غازے کی تو اس کے چہرے کو ضرورت ہی نہیں تھی۔ ایک عجیب بات یہ تھی کہ وہ سر جھکائے بیٹھی تھی۔
وہ شام کی پہلی ساعت تھی۔ اس وقت دھندا ذرا ہلکا ہوتا تھا اور زور پکڑ رہا ہوتا تھا۔ اس لئے کچھ فرصت مل جاتی تھی۔ سو وہ اسے دیکھتا رہا۔ وہ اس لڑکی کی آنکھیں دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ تھی کہ نگاہیں اٹھا ہی نہیں رہی تھی۔
”او منظورے، کہاں کھویا ہوا ہے۔ میری سن ہی نہیں رہا ہے۔“ ایک گاہک نے اسے ٹوک دیا۔
”رہائی کا میں نے کب کہا۔ اگر وہ پاگل ثابت ہوگئے تو انہیں سزا نہیں ہوگی۔ عدالت انہیں دماغی امراض کے کسی اسپتال میں بھیجنے کا حکم دے گی، اور وہ وہاں رہیں گے۔“
”اور وہ وہاں کب تک رہیں گے“
”ممکن ہے، تمام عمر“
”اور اگر وہ ٹھیک ہوگئے....“
”دیکھئے اسی بنا پر تو میں شک کررہا تھا۔“ افتخار صاحب نے فاتحانہ لہجے میں کہا۔ ”کچھ مجرم جو خود کو اس طرح سزا سے بچالیتے ہیں، سال دوسال پاگل بن کر گزارتے ہیں، بتدریج پاگل پن کم کرتے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر انہیں سرٹیفکیٹ دے دیتا ہے کہ وہ اب نارمل ہیں۔ پھر انہیں رہائی مل جاتی ہے۔“
”اس جرم کی سزا نہیں ملتی انہیں۔“
”کسی سے پاگل پن کی حالت میں جو جرم سرزد ہو، اس کی دنیا کے کسی قانون میں سزا کی گنجائش نہیں۔“ افتخار صاحب نے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔
”اب مجھے اجازت دیجئے۔“
”افضال صاحب کا خیال رکھئے گا۔“
”ان کی طرف سے بے فکر رہیں۔“
........x........
عبدالحق کا ذہن بری طرح منتشر تھا۔ وہ سکون سے بیٹھ کر سوچنا چاہتا تھا۔ گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران اتنا کچھ ہوا تھا، اور اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ اسے سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔
ایسے میں اسے لارنس گارڈن کا خیال آگیا۔ وہاں تنہائی اور سکون کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔
وہ لارنس گارڈن میں داخل ہوا۔ صبح کا وقت تھا۔ پارک میں بہت تھوڑے لوگ تھے۔ وہ ایک سنسان گوشے کی طرف چلا گیا اور وہاں گھاس پر آلتی پالتی مارکر بیٹھ گیا۔
لیکن وہاں بھی ابتدا میں وہ ارتکاز سے محروم ہی رہا۔ وجہ یہ تھی کہ اسے افضال صاحب بری طرح یاد آئے۔ ابھی پرسوں ہی کی تو بات ہے کہ وہ ان کے ساتھ سڑکوں پر پھررہا تھا.... دنیا، اور طرح طرح کے لوگ دیکھ رہا تھا۔ اور وہ یہاں بھی آئے تھے۔
کچھ دیر وہ انہی سوچوں میں غلطاں رہا۔ پھر بالآخر وہ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوگیا، ذہن میں بے شمار سوال تھے، جن کے جواب انہیں تلاش کرنے تھے، اور پھر کڑیاں ملانی تھیں۔
پہلا سوال یہ تھا کہ افضال صاحب جو ایسے نستعلیق آدمی تھے، انہوں نے جمیل کو اتنی بے رحمی سے قتل کیوں کیا۔ وہ تو دردمند آدمی تھے۔ کسی کی ذرا سی تکلیف پر بھی تڑپ جانے والے۔
اسی لمحے اسے یاد آیا کہ جمیل کے قتل کی خبر پر زرینہ کا کیا ردعمل تھا۔ اس نے اس فعل پر افضال صاحب کی تحسین کی تھی۔ اس نے بتادیا تھا کہ جمیل ہی اسے دھوکہ دے کر کوٹھے پر لے گیا تھا اور اسے بیچ دیا تھا۔
پھر اسے یاد آیا کہ کوٹھے پر اس نے افضال صاحب سے یہ سوال کیا تھا کہ زرینہ کو اس حال کو پہنچانے والا کون تھا تو وہ جھنجھلاگئے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ زرینہ نے انہیں نہیں بتایا۔ انہوں نے اسے منع بھی کیا تھا کہ وہ زرینہ سے اس سلسلے میں کچھ نہ پوچھے۔ اور اس نے پوچھا بھی نہیں تھا۔ اس نے تو زرینہ کو جمیل کے قتل کی اطلاع دی تھی، اور بات کھل گئی تھی۔ اور زرینہ کے لہجے میں کیسی نفرت تھی جمیل کیلئے۔
تو یہ تو طے تھا کہ زرینہ نے اس رات کوٹھے پر افضال صاحب کو جمیل کے متعلق بتادیا تھا۔ اور افضال صاحب نے دانستہ طورپر اسے بے خبر رکھا تھا۔ وہ یقیناً اسی وقت جمیل کو قتل کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ لیکن افضال صاحب جیسا آدمی اور ایسا بے رحمانہ قتل۔ حالانکہ عبدالحق کے خیال میں جمیل اس کا مستحق تھا۔ مگر افضال صاحب....
اس لمحے اسے ایک اور بات یاد آئی۔ اس باغ کے ایک گوشے میں بیٹھ کر باتوں ہی باتوں میں افضال صاحب نے اسے اپنے ماضی کی کتاب سے چند اوراق پڑھ کر سنائے تھے۔ وہ ایسی باتیں تھیں، جو ان کے ضمیر پر بوجھ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت برے آدمی رہے ہیں۔ وہ زندہ تھے تو صرف اپنے اعمال کی تلافی کے کسی موقع کی تلاش میں، ورنہ وہ خودکشی کرلیتے۔
تو جمیل کو قتل کرکے اپنی دانست میں انہوں نے اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کیا تھا۔ جبکہ جمیل کے بارے میں انہیں اس کے سوا کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس نے زرینہ کو دھوکہ دیا تھا نوکری دلانے کا، اور اسے کوٹھے پر لے جاکر فروخت کردیا تھا۔ شریف گھر کی ایک اکیلی لڑکی کو بازار میں بٹھادیا تھا۔ ایسی مظلوم لڑکی کو، جو ہجرت کے دوران اپنے ہرمحافظ رشتے سے محروم ہوگئی تھی۔ بس اتنا ہی جانتے تھے وہ جمیل کے بارے میں۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ جمیل اب تک ایسی نجانے کتنی مظلوم لڑکیوں کی زندگی تباہ کرچکا ہے۔ جمیل تو نہایت مکروہ اور قابل نفرت انسان تھا۔ اگر وہ یہ سب کچھ افضال صاحب کو بتادے تو شاید افضال صاحب کو زیادہ خوشی ہو اور شاید ان کا زیادہ بوجھ کم ہوجائے۔
ایک سوال یہ تھا کہ افضال صاحب یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے افضال کو مارا ہے۔ ایک تو اس کے ذہن میں یہی بات آتی تھی کہ وہ زرینہ کو رسوائی سے بچانے کیلئے پاگل پن کی اداکاری کررہے ہیں۔ کیونکہ وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ انہوں نے جمیل کو کیوں قتل کیا۔ وجہ بتائیں گے تو زرینہ کا نام لینا پڑے گا۔ اس لئے انہوں نے پاگل بن جانے ہی میں عافیت سمجھی۔
لیکن نجانے کیوں، عبدالحق کو لگتا تھا کہ افضال صاحب ادا کاری نہیں کررہے ہیں۔ ان کے انداز میں ذرا بھی تو بناوٹ نہیں تھی۔ انہیں اگر افضال صاحب کہہ کر پکارا جاتاتو وہ مرنے مارنے پر تل جاتے۔ اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے افضال کو مارا ہے، اور ان سے ان کا نام پوچھا جاتا تو وہ کھوسے جاتے۔ گویا وہ خود کو بھول چکے تھے۔
اب یہ بات عبدالحق کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ افضال صاحب کی اس ذہنی کیفیت کا جواز موجود ہے۔ اسی پارک میں بیٹھ کر تو انہوں نے اس سے کہا تھا کہ وہ بہت گھٹیا اور برے آدمی ہیں، انہیں خود سے شدید نفرت ہے۔ تلافی کی آرزو نہ ہوتی تو وہ خودکشی کرلیتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے بارے میں کسی کو کچھ بتابھی نہیں سکتے۔ اسے نجانے کیوں اتنا بتادیا۔ اور انہوں نے کہا تھا.... سب کچھ تو میں تمہیں بھی نہیں بتاسکتا۔
خودکشی خود کو قتل کرنا ہی تو ہے۔ افضال صاحب نے خود کشی کا کہا اور اب وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے افضال کو قتل کردیا۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے لاشعور میں دبی ہوئی اپنی خواہش پوری کرلی۔ کم ازکم وہ یہی سمجھتے ہیں۔ اور اگر یہ درست ہے تو وہ دیوانگی حقیقی ہے۔
افضال صاحب نے کہا تھا، کوئی نہیں جانتا کہ کسی کی گٹھری میں گناہوں کا کتنا بوجھ ہے۔ عبدالحق یہ بات سمجھ سکتا تھا۔ جو بوجھ کسی کے ساتھ شیئر نہ کئے جائیں، وہ نفسیاتی مسائل میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ افضال صاحب کے اندر یقیناً کوئی بہت بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے۔
اسے زرینہ کا خیال آیا تو اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اللہ نے کیسی آسانی پیدا فرمائی کہ زبیر بھائی کو بھیج دیا اور زرینہ ان کے ساتھ گھرچلی گئی۔ وہ یہاں ہوتی تو نجانے کتنی پیچیدگیاں پیدا ہوتیں۔
مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے گھر میں کتنی پیچیدگیاں جنم لیں گی!
........x........
اس روز صبح ہی سے نوربانو کا دل اڑا اڑا سا تھا۔ بار بار اسے عبدالحق کا خیال آرہا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ زبیر بھائی عبدالحق کے پاس لاہور گئے ہوئے تھے۔ اور اماں نے زبیر بھائی سے تاکید کی تھی کہ ان کی طرف سے عبدالحق کو فوری واپسی کا حکم دیں۔
اب زبیر بھائی کو گئے تیسرا دن تھا۔ نجانے کیوں اس کے دل کو یقین تھا کہ آج وہ واپس آئیں گے۔ اور کون جانے، ان کے ساتھ عبدالحق بھی ہوں، وعدہ پورا کرنے کا عبدالحق کا مزاج اپنی جگہ، لیکن وہ اماں کا فرماں بردار بھی تو تھا۔
یہ تاویلیں اپنی جگہ مگر درحقیقت یہ اس کے اندر کی خواہش تھی کہ وہ واپس آجائے۔
دوپہر کو نور بانو نے کھانا پکایا اور اماں کے ساتھ بیٹھ کر کھایا۔ لیکن کھانا کیا تھا، وہ بس ٹونگتی رہی، جب اندر ہیجان مچل رہا ہو تو کھانا کس سے کھایا جاتا ہے۔ اماں کے پاس تو وہ اس لئے آتی تھی کہ وہ عبدالحق کی باتیں ضرور کرتی تھیں۔ اور یہ اسے اچھا لگتا تھا۔
”زبیر ابھی تک واپس نہیں آیا“ کھانے کے دوران حمیدہ نے پُرتشویش لہجے میں کہا۔
اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں تھا۔ نوربانو نے کہا۔ ”تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔“
”تو اب ہم مایوس ہوں تو یہ ناشکرا پن ہی ہوا نا۔ اور ناشکرا پن تو خود مایوسی کا سبب ہوتا ہے۔“
اس لمحے نوربانو کو اس پر بہت پیار آیا۔ اس نے لفظ ہم استعمال کرکے اس کی شرمندگی کم کردی تھی۔ بلکہ خود کو بھی اس کے ساتھ شامل کرلیا تھا۔ اور یہ احساس تو اسے پہلے ہی سے تھا کہ اس کا مسئلہ ہی ناشکرا پن ہے۔
”دیکھیں نوربانو، آپ نے تو اپنی کہانی مجھے سنادی۔ لیکن میں تو آپ کو بتابھی نہیں سکتی کہ مجھ پر کیا گزری۔ بس یہ سمجھ لیں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ اب میں یہاں ہوں تو بہت خوش ہوں۔ میں سوچتی ہوں کہ اللہ نے مجھے جہنم سے نکالا اور جنت میں پہنچادیا۔ اس نے میری بہتری کی فکر کی، جبکہ میری فکر کرنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔ ہاں کبھی مجھے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔ یہ تو فطرت ہے۔ مگر میں چند لمحوں میں اسے جھٹک دیتی ہوں۔ جو اللہ مجھے کیمپ کی بے گھری سے نکال کر ایک گھر میں لایا، اس نے میرے مستقبل کا معاملہ بھی طے کردیا ہوگا۔ اتنا کچھ دیکھنے کے بعد میرا کام اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا نہیں، مجھے تو صرف اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے، بلکہ اس سے بھی پہلے مجھے ناشکرے پن سے بچنا چاہئے۔آگے جو ہوگا، انشااللہ اچھا ہی ہوگا۔ کیونکہ اس سے برا تو نہیں ہوسکتا، جو پہلے ہوچکا ہے۔“
نوربانو چند لمحے اس کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتی رہی۔ اس کی نگاہوں میں زرینہ کیلئے محبت تھی۔ پھر اس نے زرینہ کا ہاتھ تھام لیا۔ ”تم بہت اچھی ہو زرینہ، مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہیں غلط سمجھا تھا۔ میں شرمندہ ہوں۔“
”اس میں آپ کی غلطی نہیں تھی۔ صورتحال ہی ایسی تھی“ زرینہ نے بے حد خلوص سے کہا۔
........x........
ڈاکٹر محمود واسطی حق نگر میں آباد وہ واحد آدمی تھے، جو وہاں مہاجر کی حیثیت سے نہیں آئے تھے۔ وہ حیثیت میں بھی کم نہیں تھے۔ ہجرت سے پہلے الہٰ آباد میں ان کی بڑی کامیاب پریکٹس تھی اور ان کا شمار وہاں کے خوش حال لوگوں میں ہوتا تھا۔ ہجرت کرکے وہ لاہور پہنچے تو ان کے پاس کثیر رقم بھی تھی اور زیورات بھی۔ بیوی کے علاوہ ان کے بس دو بیٹے تھے، اور دونوں جوان تھے۔ اس کے باوجود وہ لاہور میں مہاجر کیمپ میں رہے۔ وہ اپنے بچوں کو یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ہجرت کے دوران اور ہجرت کے بعد لوگوں پر کیا کیا گزری ہے۔ کیمپ کے انچارج مسعود صاحب ان کے گرویدہ ہوگئے۔ مسعود صاحب کے توسط سے وہ عرفان صاحب سے ملے۔ پاکستان میں اپنی پریکٹس کا آغاز انہوں نے مہاجر کیمپ سے کیا تھا۔ ان کے نظریات کچھ عجیب تھے۔ ان کا سوچنا یہ تھا کہ پیسے کی کمی نہیں۔ دونوں بیٹے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیںگے۔ چنانچہ اب انہیں پیسہ کمانے سے زیادہ اپنے مقدس پیشے کے ذریعے خدمت کرنے کی فکر تھی۔ اور وہ سوچتے تھے کہ کسی بڑے شہر کی بجائے دیہی علاقے میں پریکٹس کریں۔
محکمہ؟ زراعت کے افسر عرفان احمد کے دفتر میں پٹواری حسن دین سے اتفاقاً ان کی ملاقات ہوئی۔ حسن دین سے انہوں نے عبدالحق کا تذکرہ سنا۔ انہوں نے حسن دین سے کہا کہ وہ اس گاﺅں کو دیکھنا اور عبدالحق سے ملنا چاہتے ہیں۔
یوں وہ حق نگر آئے اور عبدالحق سے ملے۔ ان دنوں ریت ہٹانے کا کام اپنے آخری مرحلے میں تھا۔
عبدالحق سے مل کر انہیں حیرانی ہوئی۔ جوکچھ انہوں نے اس کے بارے میں سنا تھا، اس کی روشنی میں انہوں نے اس کی عمر کا جو اندازہ لگایا تھا وہ اس سے بہت چھوٹا تھا۔ وہ تقریباً ان کے چھوٹے بیٹے کی عمر کا تھا۔ وہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ سچ تو یہ ہے کہ انہیں لگا کہ وہ اس نوجوان کے روپ میں مستقبل کے ایک بہت بڑے آدمی کو دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے عبدالحق سے بات کی کہ وہ یہاں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ عبدالحق تو نہال ہوگیا۔ گاﺅں والوں کی ایک بہت بڑی ضرورت پوری ہورہی تھی۔ گاﺅں کو ایک اچھا اور مستند ڈاکٹر میسر آرہا تھا۔ اس نے ان سے کہا کہ وہ جہاں جتنی زمین چاہیں، انہیں مل جائے گی۔
”دیکھئے عبدالحق صاحب، ہم زمیندار تو ہیں نہیں۔ زرعی زمین کی تو ہمیں ضرورت نہیں۔ اور ایک بات یہ کہ میں زمین کی قیمت ادا کروں گا۔ ایسے نہیں لوں گا۔“
”اس کا مطلب ہے کہ آپ صاحب حیثیت ہیں“ عبدالحق نے قدرے حیرت سے کہا۔
”الحمدللہ، اللہ کے فضل وکرم سے کسی چیز کی کمی نہیں ہے میرے پاس“
”تو پھر آپ لاہور میں آباد ہونے کے بجائے یہاں کیوں آرہے ہیں۔“ عبدالحق نے ڈاکٹر محمود واسطی سے پوچھا۔
”ایک وجہ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر کی ضرورت یہاں زیادہ ہے۔ لاہور میں تو ڈاکٹروں کی کمی نہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میری نگاہیں مستقبل میں آگے تک دیکھ رہی ہیں۔ میں کسی بڑے آدمی سے جڑنا.... اس کے سائے میں رہنا چاہتا ہوں۔“
”میں سمجھا نہیں“
”میں آپ کو سمجھاﺅں گا بھی نہیں، بس میں پاکستان میں مختلف زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔“
”تو بسم اللہ ڈاکٹر صاحب، حق نگر آپ کیلئے حاضر ہے۔“
”آپ نے یہاں رہائشی علاقے کیلئے تو جگہ مختص کی ہوگی۔“ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا۔
”دیکھیں.... یہاں اس وقت دو ہی پیشے ہیں۔ زراعت اور فارمنگ۔ دونوں میں آدمی اپنی زمین کے پاس ہی گھر چاہتا ہے۔“
”مگر میں کچھ اور دیکھ رہا ہوں عبدالحق صاحب“ ڈاکٹر محمود نے کہا۔ ”آپ اسے گاﺅں دیکھتے ہیں۔ جبکہ مجھے یہ کچھ اور نظرآرہا ہے.... چھوٹا شہر کہہ لیجئے یا بڑا قصبہ۔ اس لئے یہاں رہائشی اور تجارتی علاقے کیلئے کافی زمین مختص کی جانی چاہئے۔“
عبدالحق سوچ میں پڑگیا۔ بات اس کے دل کو لگی تھی۔
”اب سوچیں، آبادی بڑھنے کے بعد کیا یہاں کے لوگ اپنی ضروریات کی خریداری کیلئے قریبی شہر جایا کریں گے۔ سب کچھ یہیں ہونا چاہئے۔“
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ڈاکٹر صاحب۔ رہنمائی کا شکریہ“
ان کی اس بات نے عبدالحق کو ایک نیا وژن دیا تھا۔ اس کے بعد اس نے ان کے ہی نظریے کے تحت پلاننگ کی تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنے لئے ایک مکان کی زمین کے علاوہ عبدالحق سے دس ایکڑ زمین معقول قیمت پر خریدی تھی۔ عبدالحق کو حیرت تھی کہ وہ اتنی زمین کا کیا کریں گے۔ اس نے ان سے پوچھ بھی لیا تھا۔
”یہ آپ کے مستقبل کے حق نگر کا تجارتی علاقہ ہوگا۔“ ڈاکٹر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ ”اور زندگی رہی تو میں یہاں ایک بہت اچھا اسپتال بھی قائم کروں گا۔ دیکھیں نا عبدالحق صاحب، یہ ضروری ہے۔“
اور عبدالحق ان کی فراست اور دوراندیشی کا قائل ہوگیا تھا۔
ڈاکٹر صاحب کے بڑے بیٹے کا رجحان تجارت کی طرف تھا۔ اس دس ایکڑ زمین پر انہوں نے اپنے لئے ایک مطب بنالیا تھا۔ مطب کے ساتھ چھوٹا سا اسپتال تھا، جس میں فی الحال صرف دس بیڈ تھے۔ وہ بھی خالی ہی رہتے تھے۔ اسی لئے علاقے کے لوگ انہیں سنکی سمجھتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک دکان بنائی تھی.... کریانے کی دکان۔ وہ ان کا بڑا بیٹا اکبر چلاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک اچھے جنرل اسٹور کا روپ دھار گیا۔ اس کی افادیت ابتدا ہی میں ثابت ہوگئی تھی۔ وہ علاقے کے لوگوں کیلئے بڑی نعمت تھا۔
چھوٹے بیٹے کا رجحان ڈاکٹری کی طرف تھا۔ اسے ڈاکٹر صاحب نے تعلیم کیلئے لاہور چھوڑدیا تھا۔
اپنے مطب سے اٹھ کر ڈاکٹر صاحب اکبر کی دکان پر ضرور جاکر بیٹھتے تھے۔ وہاں بیٹھ کر وہ بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتے۔ اکبر کی طرف سے وہ مطمئن تھے۔ وہ محنتی بھی تھا اور عقل مند بھی۔ یہی وجہ تھی کہ دکان مال کے اعتبار سے پھیل رہی تھی۔ کسی نئی
چیز کی ڈیمانڈ آتی تو وہ فوراً وہ چیز لے آتا۔ ابھی تو اس دکان سے زیادہ آمدنی نہیں تھی۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ مستقبل بہت روشن ہے۔
اس روز ڈاکٹر صاحب دکان پر پہنچے تو وہاں رابعہ موجود تھی۔ اور اس کے ساتھ ایک بہت حسین لڑکی بھی تھی۔ وہ بڑے سلیقے سے چادر لئے ہوئے تھی۔ اس کے چہرے کی پاکیزگی اور معصومیت نے انہیں بہت متاثر کیا۔
مگر انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اکبر بہت نروس نظرآرہا تھا۔ پھر اس کی وجہ بھی ان کی سمجھ میں آگئی۔ وہ باربار کن انکھیوں سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس کی بے دھیانی کا یہ عالم تھا کہ وہ حساب بھی ٹھیک سے نہیں کرپارہا تھا۔
”ارے.... آپ دکان لٹانے کیلئے بیٹھے ہیں“ لڑکی نے اکبر کو ٹوکا۔ ”دو روپے دس آنے بنتے ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں ایک روپیہ دس آنے۔ اتنا تو شاید آپ کا منافع بھی نہیں ہوگا۔“
اکبر نے باپ کو دیکھا تو اور نروس ہوگیا۔ ”جی.... آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میرے سر میں درد ہے نا، اس وجہ سے....“
رابعہ نے ڈاکٹر صاحب کو سلام کیا۔ لڑکی نے بھی اس کی تقلید کی۔
”کیسی ہو رابعہ؟ اماں کا کیا حال ہے؟ اور عبدالحق واپس آئے یا نہیں“ ڈاکٹر صاحب نے سوالات کی بوچھارکردی۔
رابعہ نے ترتیب سے جواب دئے۔ ”صاحب تو ابھی نہیں آئے۔“ اس نے آخر میں کہا۔
”اور یہ بچی کون ہے؟“
”بہن ہے ہماری۔ اماں کی بیٹی جو ہوئی“ رابعہ نے بڑے فخر سے کہا۔
”بہت اچھی ہے ماشااللہ“
ان کے جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب سوچتے رہے۔ وہ یہاں بے مقصد نہیں آتے تھے۔ اکبر شادی کے قابل تھا، جوان تھا۔ اور دکان پر لڑکیاں بھی آتی تھیں، وہ بیٹے سے بے خبر نہیں رہنا چاہتے تھے۔ لیکن اس سے پہلے انہوں نے اکبر کو کسی لڑکی کو اس طرح دیکھتے نہیں دیکھا تھا۔ اور سچی بات یہ تھی کہ لڑکی انہیں بھی بہت اچھی لگی تھی۔ یہ وہ جانتے تھے کہ وہ اماں کی بیٹی نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ حوالہ کافی تھا کہ اماں اسے بیٹی سمجھتی ہیں۔
اس روز وہ دکان سے اٹھے تو فیصلہ کرچکے تھے۔ گھر پہنچتے ہی انہوں نے بیوی سے کہا۔ ”صفیہ.... آج میں نے ایک بہت پیاری لڑکی دیکھی۔“
”اب تو باز آجائیں ڈاکٹر صاحب“ ان کی بیگم نے شوخی سے کہا۔ ”آنکھیں بند کرکے نبض دیکھا کیجئے۔“
”ارے نہیں بھئی“ مریضہ تھوڑاہی تھی وہ۔“
”لو.... تو اب راستہ چلتے بھی دیکھنے لگے۔ مطب ہی کیا کم تھا آپ کا۔“
”تم تو ہر بات مزاق میں اڑادیتی ہو، میں بہت سنجیدہ ہوں۔ مجھے وہ لڑکی اکبر کیلئے اچھی لگی ہے۔“
”کیا نام ہے اس کا؟“
”وہ تو میں نے پوچھا ہی نہیں۔“ ڈاکٹر صاحب نے بے حد معصومیت سے کہا۔
”لو تو اب اسے کہاں ڈھونڈتے پھریں گے۔“
”ارے وہ رابعہ کے ساتھ تھی“
”اوہ.... زرینہ ہوگی۔ سچ کہتی ہوں، وہ تو میرے دل میں بھی اتر گئی تھی۔ مجھے بھی اکبر کا خیال آیا تھا اسے دیکھ کر۔“
”بس تو جاکر اماں سے بات کرو رشتے کی۔“
”جی تو میرا بھی چاہا تھا۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ شاید وہ صاحب کیلئے....“ زبیر کی دیکھا دیکھی اب پورا گاﺅں عبدالحق کو صاحب کہنے لگا تھا۔
”ارے نہیں بیگم۔ یہ نہیں ہوسکتا۔“ ڈاکٹر صاحب نے ان کی بات کاٹ دی۔
”کیوں؟“
”عبدالحق کی شادی تو بس نور بانو سے ہوگی۔ دیکھ لینا۔“ ڈاکٹر صاحب نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ”تم کل ہی جاکر اماں سے بات کرلو۔“
”ٹھیک ہے۔ چلی جاﺅں گی۔ اب آپ کھانا تو کھالیں۔“
”ہاں، لے آﺅ“
”اور ہاں۔ اکبر سے تو پوچھ لیں۔“
”بھئی بیٹا ہے ہمارا۔ اس کی شادی تو ہماری پسند سے ہی ہوگی۔ آپ فکر نہ کریں اس کی“
”آپ جانیں۔“ صفیہ نے اٹھتے ہوئے کہا۔ ویسے وہ بھی بہت خوش تھیں۔
........x........
Updated on 15 May 08 at 11:13 back to Home
Google
 

Office# no: 1 Block 4, Hockey Club of Pakistan, Liaquat Barracks, Karachi-4,
Ph: 5655270, 5655272, Fax: 5655275-6
E-mail US: Info@ummatpublication.com

Daily Ummat Karachi
Copyright2003-2008, All Rights Reserved.