سپریم کورٹ نے نجی میڈیکل کالجز کو داخلوں سے روک دیا

0

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ملک بھر کے نجی میڈیکل کالجز کو داخلوں سے روک دیا اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یونی فارم پالیسی نہ ہونے تک داخلے بند رہیں گے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ میڈیکل کالجز میں ایڈمیشن سسٹم کا مرکزی نظام بنانا ہے، موجودہ ایڈمیشن نظام میں سقم ہیں۔ عدالت نے نجی میڈیکل کالجز کو واضح کردیا کہ میڈیکل کالجز میں فیس 8 لاکھ پچاس ہزار سے زائد نہیں ہوگی۔
سماعت کے دوران وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام پیش ہوئے اور عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف آئی اے نے 745 ملین روپے ریکور کر کے طالبعلموں کو واپس کئے ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے عدالت سے یہ استدعا بھی کی کہ یو ایچ ایس کو سینٹرلائز ایڈمیشن پالیسی بنانے کا حکم دیا جائے۔
اس موقع پر طلبہ کو رقوم کی واپسی پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم چاہتے ہیں کہ میڈیکل کالجز اپنے اخراجات بھی پورے کرسکیں۔ ہم نے معیاری ڈاکٹرز بنانے ہیں، لیکن میڈیکل کالجز چلانے کے شعبے میں ایسے لوگ آچکے ہیں جو دکاندار ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میڈیکل کالجز میں ایڈمیشن پر پابندی ہے، جب تک عدالتی حکم واپس نہ ہو داخلے نہیں ہوں گے، عدالتی کارروائی میڈیکل کے شعبے کے لئے بڑی مفید ثابت ہوگی ۔ یونی فارم پالیسی نہ ہونے تک داخلے بند رہیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی۔