بولیویا میں چورتاریخی اہمیت کے قیمتی صدارتی تمغے لے اڑے

0

چوری تو دنیا بھر میں ہوتی ہے لیکن کیا آپ نے سنا ہے کہ چور کسی ملک کے صدر کے تمغے لے اڑے ہوں ؟ ۔

جی ہاں ایسی انوکھی چوری ہوئی ہے بولیویا میں جہاں تاریخی اہمیت کے حامل سونے اور زمرد کے صدارتی تمغے چوری ہوگئے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق بولیویا کے صدارتی تمغے اس وقت چوری ہوئے جب اس کے متولی میڈل گاڑی میں رکھ کر قحبہ خانے گئے ہوئے تھے ۔

متولی لیفٹنٹ رابرٹ جان ڈی بلان نے پولیس کو بتایا کہ صدر نے کوچا بمبا شہرمیں تقریرکرنا تھی جس میں انہوں نے تاریخی تمغہ اورتین رنگوں والا کمربند پہننا تھا۔

بولیویا کے صدر ایوو مورلس

میڈیا رپورٹس کے مطابق تمغوں کے متولی کی پرواز رات گئے تاخیرکا شکارہوگئی تھی جس کے بعد وہ قحبہ خانے چلے گئے تھے۔

رابرٹ نے پولیس کو بتایا کہ وہ مختلف جگہ جانے کے بعد اپنی گاڑی کے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گاڑی میں داخل ہوئے تو تاریخی صدارتی علامتوں والا بیگ کوئی لے جاچکا تھا۔

بولیویا کے صدرایوو مورلس نے آخری بار یہ میڈل 6 اگست کو بولیویا کے 193 ویں یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پرزیب تن کئے تھے تاہم ان کی چوری کے بعد انہوں نے کوچا بمبا شہر میں میڈل اورکمر بند کے بغیرملٹری پریڈ میں شرکت کی ۔

مذکورہ میڈل جمہوریہ بولیویا کے بانی کو کانگریس کی جانب سے 1825 میں تحفے کے طور پردیا گیا تھا جسے 1826 میں صدارتی میڈل کے طورپرانتونیو جوس سکر نے پہلی باراستعمال کیا تھا۔