ولی عہد محمد بن زاید 3 دن سے کہاں تھے-گتھی سلجھ گئی

راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس پر ابو ظہبی کے ولی عہد شہزادے محمد بن زاید النہیان کا بوئنگ 747 طیارہ اتوار کی دوپہر اترا تو زمین پر جمع بیشتر لوگ بالخصوص ذرائع ابلاغ کے نمائندے یہی سمجھے کہ وہ متحدہ عرب امارات سے براہ راست آئے ہیں۔  حکومت پاکستان کی جانب سے ایک روز قبل جاری بیان میں یہی کہا گیا تھا کہ شہزادہ محمد اتوارکو ’’پاکستان‘‘ پہنچیں گے۔

لہٰذا جب وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ابوظہبی کے ولی عہد تین دن سے پاکستان میں تھے اور یہ تاثر درست نہیں کہ وہ صرف دو گھنٹے کیلئے آئے تو بہت سے لوگ چونک گئے اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ اگر محمد بن زاید پاکستان میں تھے تو پہلے دو دن کہاں رہے، ان کا دورہ خفیہ کیوں رکھا گیا اور دوسرا سوال یہ تھا کہ ان کے دورے کا پہلا حصہ اگر خفیہ رکھنا ہی مقصود تھا تو وزیراطلاعات یہ بات سامنے کیوں لے آئے۔

کئی لوگوں نے یہ بھی پوچھا کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت بیشتر لوگ محمد بن زاید کی ملک کے اندر موجودگی سے بے خبر کیوں رہے۔

خصوصی طیاروں کی خفیہ پروازیں

ابوظہبی کے ولی عہد شہزادے سمیت شاہی خاندان کے افراد جن طیاروں پر سفر کرتے ہیں انہیں ابوظہبی کی ایک نجی فضائی کمپنی پریزیڈیشنل فلائٹ چلاتی ہے۔ اس کمپنی کا نام پہلے ابوظہبی امیری فلائیٹ تھا۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید جس طیارے میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں وہ بوئنگ 747 بزنس جیٹ ہے جس کا رجسٹریشن نمبر A6-PFA ہے۔

یہ انتہائی آرام دہ طیارہ ہے جسے خصوصی طور پر بنایا گیا ہے۔ اس میں کشادہ کمرے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے صوفے اور بیڈز لگے ہیں۔ ہر طرح کی سہولت یہاں موجود ہے۔ 2017 میں شہزادہ محمد بن زاید اسی طیارے میں بھارت کے سرکاری دورے پر گئے تھے جہاں بننے والی اس کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر شیئر ہوئی تھیں۔

عام طور پر اگر کسی طیارے کا رجسٹریشن نمبر معلوم ہو تو اس کی پروازوں کا ریکارڈ معلوم کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ فلائٹ ریڈار، فلائٹ فائنڈر اور دیگر ویب سائیٹس ہی بتا دیتی ہیں کہ طیارہ کہاں سے کب اڑا اور کہاں اترا۔

ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید کے پسندیدہ بوئنگ بزنس جیٹ رجسٹریشن نمبر A6-PFA کی ایک تصویر
ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید کے پسندیدہ بوئنگ بزنس جیٹ رجسٹریشن نمبر A6-PFA کی ایک تصویر

تاہم دیگر کئی بڑی شخصیات کی طرح ابوظہبی کے شاہی خاندان کی پروازوں کا ریکارڈ خفیہ رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا اس طیارے کی پاکستان آمدورفت کا ریکارڈ عام دستیاب نہیں۔

البتہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے ولی عہد تین قبل پاکستان پہنچنے کے بعد سے رحیم یار خان میں مقیم تھے۔ رحیم یار خان میں بڑے طیاروں کے اترنے کے لیے ایئرپورٹ بھی موجود ہے اور امارات کے شاہی خاندانوں کے قیام کی سہولت بھی۔

کچھ باخبر صحافی

ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں سب لوگ شہزادہ محمد بن زاید کی یہاں موجودگی سے لاعلم تھے۔ اسلام آباد کے کچھ صحافیوں کو بھی اس کا علم تھا۔ کم ازکم دو کم معروف نجی ٹی وی چینلز نے ہفتہ کو ابوظہبی کے ولی عہد کے دورے کے حوالے سے خبر دیتے ہوئے بتایا تھا کہ شہزادہ محمد رحیم یار خان سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ تاہم ان کی رحیم یار خان میں موجودگی پر زور نہیں دیا گیا۔

رحیم یار خان ایئرپورٹ کے عوام الناس کے لیے دستیاب شیڈول کے مطابق وہاں سے اتوار کو کسی بھی پرواز نے اسلام آباد کے لے اڑان نہیں بھری۔  لیکن خود وفاقی وزیراطلاعات نے واضح الفاظ میں کہے بغیر کچھ اشارے دیئے ہیں کہ ابوظہبی کے شہزادے کہاں تھے۔

نورخان ایئربیس پر طیارے سے اترنے کے بعد شہزادہ محمد بن ابوزید وزیراعظم عمران خان کے ہم رکاب
نورخان ایئربیس پر طیارے سے اترنے کے بعد شہزادہ محمد بن ابوزید وزیراعظم عمران خان کے ہم رکاب

انہوں نے صحافی شوکت پراچہ کا ٹوئیٹ شیئر کیا جنہوں نے تین جنوری کو بتایا تھا کہ امارات کے شاہی خاندان کا ایک بڑا وفد پاکستان میں موجود ہے اور ولی عہد بھی پاکستان میں ہی ہیں جو پاکستان کے اندر سے اتوار کو اسلام آباد پہنچیں گے۔

اسلام آباد میں ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے ولی عہد نے پہلے دو دن پاکستان کا نجی دورہ کیا جس کے بعد اتوار کو ان کا سرکاری دورہ تھا۔ چونکہ سرکاری دورے میں پروٹوکول لازمی ہوتا ہے لہٰذا انہوں نے اپنی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے پہلے دو روز نجی رکھے۔ ایسا کئی ممالک کے سربراہان کرتے ہیں۔ وہ اپنی نجی مصروفیات کے لیے ایک ہی دورے کا کچھ حصہ نجی  رکھتے ہیں اور کچھ سرکاری ہوتا ہے۔

فواد چوہدری نے بھی نصف شب کے بعد اپنی ایک ٹوئیٹ میں تصدیق کی کہ شہزادہ محمد بن زاید کا پہلے دو دن کا دورہ نجی تھا۔

اس ٹوئیٹ سے وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کے اس بیان کی وضاحت ہوگئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ابوظہبی کے ولی عہد ’’ایک روزہ‘‘ سرکاری دورے پر آئے تھے۔

حساس معاملہ دورہ خفیہ رکھنے کا سبب

تاہم یہ سوال باقی ہے کہ دورے کے پہلے دو دن خفیہ کیوں رکھے گئے اور وزیراطلاعات نے جب تین دن کا ذکرکردیا تو رحیم یار خان یا کسی اور جگہ کا نام کیوں نہیں لے رہے۔

اس سوال کا جواب سیاسی حساسیت ہے۔

امارات کے شہزادے کئی دہائیوں سے شکار کرنے پاکستان آتے رہے ہیں۔ حتیٰ کہ بلوچستان میں شمسی کے مقام پر فضائی مستقر(airstrip) بھی انہوں نے ہی بنوایا تھا جسے مشرف دور میں امریکیوں کو استعمال کے لیے دیا گیا۔ یہ شہزادے بالخصوص نایاب پرندے تلور کا شکار کرتے ہیں۔

عرب شہزادوں کی طرف سے تلور کا شکار ایک حساس مسئلہ ہے
عرب شہزادوں کی طرف سے تلور کا شکار ایک حساس مسئلہ ہے

تلور کا شکار ایک حساس معاملہ ہے جو نہ صرف سپریم کورٹ میں آچکا ہے بلکہ عمران خان نے لیگی دور میں اس معاملے کواٹھایا تھا اور عرب شہزادوں کو اس کے شکار کی اجازت دینے پر سخت تنقید کی تھی۔

اب ان کے اپنے دور میں عرب شہزادے کی جانب سے شکار کی بات کھلنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا ہوسکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ رحیم یار خان کا دورہ خفیہ رکھا گیا۔

بھانڈا کیوں پھوڑنا پڑا

لیکن اگر دورہ خفیہ رکھا ہی تھا تو اس کا انکشاف کرنے کی کیا ضرورت درپیش آگئی تھی؟

ابوظہبی کے ولی عہد کے دورے سے پہلے بعض سرکاری حکام نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر کچھ ذرائع ابلاغ کو بتایا تھاکہ اس دورے میں امارات پاکستان کو 6سے 7 ارب ڈالر کا تیل مؤخر ادائیگیوں پر یعنی ادھار میں دینے کا اعلان کرے گا۔ امارات تین ارب ڈالر پاکستان کے بینک کھاتوں میں رکھوانے کااعلان تو پہلے ہی کر چکا ہے۔بعض حکام کادعویٰ تھاکہ تاخیر سے ادائیگیوں کے معاہدے، سرمایہ کاری کے اعلانات اور 3 ارب ڈالر کی پہلے سے اعلان کردہ معاونت کے بعد متحدہ عرب امارات کا پاکستان کے لیے مجموعی پیکیج 12 ارب ڈالر ہو جائے گا۔

تاہم ابوظہبی کے ولی عہد مختصر دورہ کرکے چلے گئے۔ نہ تو کسی پیکیج کا اعلان ہوا نہ مشترکہ اعلامیہ جاری ہوسکا۔ وزیراعظم آفس سے جاری ایک بیان کو پہلے کچھ حکام نے یہ کہہ کر صحافیوں کے حوالے کیا کہ یہ مشترکہ اعلامیہ ہے لیکن پھر خبر آئی کہ ابوظہبی کی جانب سے الگ بیان جاری کیا جائے گا۔

اس پر کچھ ٹی وی چینلز نے دورے کی ناکامی کا تاثر دینا شروع کردیا۔

کیا دورہ ناکام رہا؟

سفارتی امور میں دلچسپی رکھنے والے جانتے ہیں کہ کسی اہم سرکاری دورے کے  آخر میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو تو اسے ناکام تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم امارات کے معاملے میں مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کے باوجود اس دورے کو ناکام کہنا مشکل ہے۔ شہزادہ محمد بن زاید کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کے دوران باڈی لینگوئج سے کسی قسم کی ناگواری یا کشیدگی کاتاثر نہیں ملا۔ وزیراعظم عمران خان نے انہیں وزیرعظم ہاؤس کی سیر کرائی۔ (اسی وزیراعظم ہائوس کی جسے وہ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس پر لیگی رہنمائوں نے تنقید بھی کی) اور اپنی پارٹی کے نوجوان رہنمائوں سے ملایا۔ ان میں زرتاج گل وزیر بھی شامل تھیں۔

زرتاج گل نے شہزادہ محمد بن زاید کے ساتھ ملاقات کی اپنی تصاویر خود ٹوئیٹر پر شیئر کیں۔

روانگی کے لیے اپنے بوئنگ بزنس جیٹ میں سوار ہوتے وقت بھی ابوظہبی کے ولی عہد شہزادے کے تاثرات سردمہری  پر مبنی نہیں تھے۔

شہزادہ محمد بن زاید کے چچازاد بھائی زاید بن ہمدان کی فوجی خدمات انجام دینے کے دوران لی گئی تصویر
شہزادہ محمد بن زاید کے چچازاد بھائی زاید بن ہمدان کی فوجی خدمات انجام دینے کے دوران لی گئی تصویر

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے ولی عہد کی بنیادی دلچسپی پاکستان کے اقتصادی مسائل حل کرنے سے زیادہ متحدہ عرب امارات کے دفاعی مسائل حل کرنے میں ہے۔ وہ وہاں کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں۔ ان کے جواں سال چچازاد بھائی شیخ زاید بن ہمدان بن زاید النہان فوج میں شامل ہیں اور یمن کی جنگ میں ہیلی کاپٹر گرنے کے باعث زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اس دورے کے ثمرات مزید کھل کر سامنے آنے سے پہلے ہوسکتا ہے کہ کچھ دفاعی نوعیت کی جزئیات طے کی جائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.