پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے 92 فیصد ملزم تعلیم یافتہ افراد

وفاقی محتسب کے پاس سال 2018 میں بچوں سے زیادتی، تشدد اور ناروا سلوک کی 250 سے زائد درخواستیں آئیں۔ جب کہ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے 92 فیصد ملزمان تعلیم یافتہ افراد تھے۔

گذشتہ برس سائلین کی جانب سے مختلف معاملات پر ملنے والی 76 ہزار درخواستوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے بتایا کہ سب سے زیادہ شکایات بجلی کمپنیوں لیسکو اور کے الیکٹرک کے خلاف آئیں۔

بچوں کے حوالے سے شکایات سے متعلق سوالات پر وفاقی محتسب کا کہنا تھا کہ زیادتی، تشدد، ناروا  کے 250 سے زائد درخواستیں سال 2018 میں موصول ہوئیں۔ ان میں اسکول میں درپیش آنے والے واقعات بھی شامل ہیں۔

سید شہباز طاہر نے کہاکہ ’’بچوں کے حوالے سے ہم نے اپنے ادارے کے ذریعے بہت کام کیاہےہم نے قصور میں بچوں کے واقعات پر ناصرف ایک ضخیم رپورٹ مرتب کی بلکہ وہاں دفتربھی قائم کیا۔ بچوں کے لیے ماہر نفسیات ،ماہر تعلیم اور ماہر ڈاکٹروں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں ہم نے تمام متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ تک رسائی حاصل کی ان کے انٹرویوزکیے زیادہ تر بچے غریب ہیں۔‘‘

وفاقی محتسب سید طاہر شہباز(فاٹئل فوٹو)
وفاقی محتسب سید طاہر شہباز(فاٹئل فوٹو)

وفاقی محتسب کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق بچوں سے زیادتی کے 92 فیصد ملزم تعلیم یافتہ افراد تھے جبکہ 70 فیصد متاثرہ بچوں کے والدین ںاخواندہ تھے۔

رپورٹ میں قصور کے واقعات کے حوالے سے کہا گیاکہ فحش فلمیں، منشیات اور جسم فروشی ان کا بڑا سبب ہیں۔

2018 میں زیادتی کے واقعات میں صرف 2.6 فیصد ملزمان کو سزا ملی۔ بیشتر قبائلی دبائو اور مختلف ہتھکنڈوں سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

بجلی کمپنیوں سے عاجز عوام

وفاقی محتسب کے مطابق 2018میں 76000سے زائد شکایات ان کے ادارے کو ملیں جن میں سے میں سے 70713شکایات کا ازالہ کردیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ شکایات لیسکوکے خلاف 14000موصول ہوئی ہیں جبکہ کے الیکٹرک کے خلاف 8718،جبکہ 14ہزار وہ شکایات ہیں جومختلف اداروں کی جانب سے تین ماہ میں کارروائی مکمل نہ ہونے پر وفاقی محتسب کوبھجوائی گئی ہیں۔

سوئی نادرن گیس کے حوالے سے 3790،پشاور الیکٹرک کے خلاف 3000جبکہ حیدرآبادالیکٹرک کے خلاف 3900سے زائد شکایات موصول ہوئیں۔

تبصرے بند ہیں.