نیب تحقیقات کرےمگرکسی کی عزت مجروح نہ کرئے،سندھ ہائی کورٹ

سندھ ہائی کورٹ نے نیب کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ نیب تحقیقات کریں ، مگر کسی کی عزت مجروح نہ کریں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں جام خان شوروکی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست پرسماعت ہوئی، سابق صوبائی وزیرعدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت میں سماعت کے دوران جام خان شورو نے کہا کہ مجھے نیب کا کال اپ نوٹس ملا ہے، نیب کو تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے جام خان شورو کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کیس پر دلائل دیں گے، نیب پراسیکیوٹر نےعدالت کو بتایا کہ انکوائری مکمل ہوگئی ہے، اب تحقیقات شروع کی جائے گی۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کب شروع ہوں گی، ہمیں ٹائم بتائیں، آپ ایسے کام کریں گے تو 3 سال تک معاملہ چلتا رہے گا۔
عدالت نے پراسیکیوٹرسے استفسار کیا کہ فائل پڑھی، آپ کے پاس کیس کی فائل ہے؟، اب ایسا نہیں چلے گا نیب کوئی معمولی ادارہ نہیں ہے، یہ حال رہا تو ڈی جی نیب کو طلب کریں گے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسپیشل پراسیکیوٹرنیب کی کیس سے متعلق تیاری نہیں ہے، عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر کو تیاری کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ تحقیقات کب تک مکمل ہو جائیں گی؟ جس پرنیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایک ماہ میں ملزم کے خلاف تحقیقات مکمل کرلیں گے۔
سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ نیب ملزم کو8، 8 گھنٹے کیوں بٹھاتا ہے؟ آپ تحقیقات کریں مگر کسی کی عزت مجروح نہ کریں۔
بعدازاں سندھ ہائی کورٹ نے سابق صوبائی وزیر جام خان شوروکے خلاف کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.