مسلمانوں کیلئے رہائی کے بدلے چینی شہریت چھوڑنے کی شرط

چین بالخصوص صوبہ سنکیانگ میں قید مسلمانوں میں سے 2 ہزار کو حکومت بیجنگ مشروط پر رہا کرنے کے لیے آمادہ ہوگئی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ان مسلمانوں کو چین کی شہریت ترک کرنا ہوگی جس کے بعد انہیں ملک سے باہر جانے دیا جائے گا۔

چین میں بڑی تعداد میں مسلمان اصلاحاتی کیمپوں یا تعلیم نو کے کیمپوں میں بند ہیں۔ ان میں زیادہ تعداد تو ایغور آبادی کی ہے تاہم خاصی تعداد میں قازاق نسل کے مسلمان بھی قید کیے گئے ہیں۔

اگرچہ قازاق نسل کے لوگوں کی اکثریت قزاقستان میں رہتی ہے تاہم چین میں آباد قازاق مسلمانوں کے پاس چین کی ہی شہریت ہے۔ اب قزاقستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ قازاق نسل کے 2 ہزار مسلمانوں کو چین چھوڑنے کے لیے تیار ہے تاہم انہیں چینی شہریت ترک کرنا ہوگی اور رہائی کے بعد چین کو چھوڑ کر جانا ہوگا۔ قزاقستان کی حکومت نے انہیں اپنے یہاں لانے اور اپنے ملک کی شہریت دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

چین کی قید میں رہنے والی ایغور مسلمان خاتون گلبہار جلیل ترک ٹی وی کو انٹریو میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بتا رہی ہیں
چین کی قید میں رہنے والی ایغور مسلمان خاتون گلبہار جلیل ترک ٹی وی کو انٹریو میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بتا رہی ہیں

قزاقستان کی حکومت اس سے پہلے بھی 29 قازاق اور ایغور مسلمان چین سے رہا کرا چکی ہے لیکن وہ تمام قزاقستان کے شہری تھے جنہیں سنکیانگ جانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے ان افراد میں گل بہار جلیل بھی شامل تھیں۔ جنہوں نے رہائی کے بعد ترکی میں پناہ لی۔

 

حراستی مراکز میں چینی مسلمانوں کیلئے فاقے یا مرغن کھانے!

پاکستان کی طرح قزاقستان کے بھی چین کے ساتھ قریبی تجارتی و اقتصادی تعلقات ہیں لہٰذا چین سے مسلمانون کی ممکنہ رہائی پر قزاقستان کے ذرائع ابلاغ نے زیادہ رپورٹنگ نہیں کی۔ یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے ذریعے سامنے آئی۔

اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی خبر رساں ادارے نے کہاکہ 2 ہزار مسلمانوں کی رہائی پر چین کی آمادگی اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت بیجنگ  مسلمانوں کے خلاف کریک ڈائون پر سامنے آنے والا ردعمل محسوس کر رہی ہے۔

قزاقستان کی کوششوں سے دو ہزار مسلمانوں کی رہائی ان پاکستانیوں کے لیے امید کی کرن ہے جن کی بیویاں چین کے کیمپوں میں بند ہیں۔ ایسے پاکستانیوں کی تعداد 200 کے لگ بھگ ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی سینیٹ کو محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے بریفنگ میں بتایا تھا کہ چین نے کم از کم 8 لاکھ مسلمانوں کو گرفتار کر رکھا ہے جن کی تعداد 20 لاکھ تک بھی ہوسکتی ہے۔

’میت پر رونا بھی انتہا پسندی‘

چینی حکومت مسلمانوں کے خلاف ظلم کے الزمامات مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے بعض لوگوں کو تعلیم نو کے کیمپوں میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ اچھے شہری بنیں۔

اس معاملے پرالزامات کا اثر زائل کرنے کے لیے گذشتہ ہفتے چین نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو ان کیمپوں کا دورہ بھی کرایا۔ تاہم دورہ کرنے والے صحافیوں کا تعلق کسی بھی مغربی ملک سے نہیں تھا۔ بلکہ وہ بھارت، قزاقستان، انڈونیشیا، روس اور تھائی لینڈ کے شہری تھے۔

اس دورے میں نئی کہانیاں سامنے آئیں۔

سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کے گورنر شہرت ذاکر نے اصلاحاتی کیمپوں کے حوالے سے ہونیوالے انکشافات کو ’’جھوٹا بہتان‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے 10 لاکھ مسلمان قید ہونے کے دعوے کو ’’افواہ‘‘ کہا۔

صحافیوں کو کاشغر سمیت تین شہروں کے کیمپوں میں لے جایا گیا۔ چینی حکام کی موجودگی میں بعض قیدیوں نے صحافیوں سے گفتگو کی۔

فضالہ بتوئی نامی 26 سالہ خاتون نے بتایا کہ پانچ برس قبل اس نے اپنے پڑوسیوں کے یہاں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ عورتوں کو سر ڈھانپنے چاہیئیں۔ اس کا کہنا تھا کہ اس اجتماع کے بعد اس نے حجاب لینا شروع ہوکردیا۔ ایک دن سرکاری حکام گائوں میں آئے اور اسے اپنی ’’غلطی‘‘ کا اندازہ ہوا۔

فضالہ ایک برس سے کیمپ میں ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرنے والے تقریبا تمام مسلمانوں کا کہنا تھا کہ وہ ’’انتہا پسندی‘‘ کا شکار تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق رپورٹرز کو مختصر وقت کے لیے ایک کلاس روم میں جانے کی اجازت دی گئی جہاں ایک استاد پڑھا رہا تھا کہ شادی میں ناچ گانے کی اجازت نہ دینے اور میت میں نہ رونا بھی انتہا پسندی کی علامت ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اس کلاس میں تمام شاگرد ایغور تھے۔ کسی سے بھی بدسلوکی کا اشارہ نہیں ملا۔

صحافیوں کی آمد پر بعض قیدیوں نے انگریزی میں گانا بھی گایا۔ اور کہا کہ وہ کیمپ کی زندگی سے مطمئن ہیں۔

چین کے ایک اصلاحاتی کیمپ میں کلاس روم کا منظر
چین کے ایک اصلاحاتی کیمپ میں کلاس روم کا منظر

تبصرے بند ہیں.