جب عوام کی صحافت نے اصل کہانی بے نقاب کردی

ساہیوال کے قریب انسداد دہشت گردی اہلکاروں کی فائرنگ سے باپ، ماں اور بیٹی سمیت 4 افراد کے قتل کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوششیں ناکام بنانے میں عام شہریوں کی بنائی گئی ویڈیوز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

سی ٹی ڈی نے پہلے انہیں اغوا کار اور پھر دہشت گرد قرار دیا تھا۔ ہوسکتا تھا تمام دنیا انہیں دہشت گرد ہی سمجھتی اگر کچھ ویڈیوز پوری کہانی کو شروع سے آخر تک بیان نہ کر دیتیں۔

مغرب میں کسی واقعے سے متعلق ویڈیوز یا رپورٹس کو ’سیٹیزن جرنلزم‘ یا عوام کی صحافت کہا جاتا ہے۔ امریکی ٹی وی سی این این نے کچھ برس پہلے آئی رپورٹ ireport کے نام سے شہری صحافت کا ایک سلسلہ بھی شروع کیا تھا۔ پاکستان میں ہفتہ کو عوام کی اس  صحافت نے انصاف کیلئے آواز اٹھانے میں وہ کردار ادا کیا جو شاید مرکزی دھارے کا میڈیا بھی نہ کرسکے۔

وقفے وقفے سے سامنے آنے والی ویڈیو کو واقعاتی ترتیب سے دیکھا جائے تو کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے۔  جو ویڈیو ہفتہ کی شب تک سامنے آئیں ان میں واقعاتی ترتیب کے حساب سے پہلی ویڈیو ایک بس سے بنائی گئی ہے  جس کے مطابق پولیس نے بچوں کو کار سے نکالنے کے بعد فائرنگ کی۔

بس میں بیٹھے لوگ آپس میں بات کررہے کہ بچے کار سے باہر نکالے جا رہے ہیں۔ تین بچوں کو کار سے نکالا جاتا ہے۔ بس میں بیٹھے افراد خیال ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں اغوا کرکے لے جایا جا رہا تھا۔ ابھی ان کی بات چیت جاری ہوتی ہے کہ فائرنگ شروع ہوجاتی ہے۔ فائرنگ کے دوران ایک اہلکار کار کے سامنے کی طرف موجود ہوتا ہے جبکہ دیگر بائیں جانب پولیس کی گاڑی کے قریب۔ فائرنگ ختم ہونے کے بعد کار کے سامنے کھڑا اہلکار بھی پولیس کی گاڑی کی طرف آتا ہے۔

یاد رہے کہ مقتولین کی کار کی جو تصاویر او ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں ونڈ اسکرین پر بھی گولیوں کے نشان موجود ہیں جبکہ پچھلا شیشہ (اسکرین) بھی ٹوٹا ہوا ہے۔

پولیس کی گاڑی بچوں کو لے کر وہاں سے روانہ ہوجاتی ہے۔ اس کے کچھ دیر بعد بس بھی آگے بڑھتی ہے اور کار کے قریب سے گزرتی ہے۔ ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے کہ کار کا اگلا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

دوپہر 12 بجے کے لگ بھگ سفید رنگ کی آلٹو کار پر پولیس فائرنگ کے اس واقعے کی کئی دیگر ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ فائرنگ سے  ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے، ذیشان، ان کے ساتھ پسنجر سیٹ پر موجود خلیل، پچھلے نشت پر بیٹھی خلیل کی اہلیہ نبیلہ اور 13 سالہ بیٹی رابیہ جاں بحق  ہوئے۔

واقعے کے بعد  نجی ٹی وی چینلز نے ابتدائی خبر یہ دی کہ  سی ٹی ڈی کی کارروائی میں ’’مبینہ‘‘ دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم عوام کی بنائی گئی ویڈیوز نے پوری کہانی کھول کر بیان کردی گئی ہے۔

مقتول خلیل کے بیٹے عمیر کے بیان کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکار انہیں لے کر کچھ دور گئے اور پھر واپس آکر ایک پیٹرول پمپ پر چھوڑ گئے۔

جس دوران بچوں کو نجی پیٹرول پمپ پر چھوڑا گیا گاڑی کے گرد جمع افراد نے کار کے اندر بدستور موجود لاشوں کی ویڈیوز بنانا شروع کردیں۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص پوچھتا ہے ’کیا ان لوگوں کے پستول تھا؟‘‘ دوسرا جواب دیتا ہے نہیں ان کے پاس ہتھیار نہیں تھے۔ اس پر پہلا شخص کہتا ہے کہ اگر ہتھیار نہیں تھے اور کار سواروں نے فائرنگ نہیں کی تو انہیں گولیاں کیوں ماری گئیں، انہیں تو گرفتار کیا جاسکتا تھا۔

اسی جگہ کی ایک اور ویڈیوز میں خون آلود لاشیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔

تیسری ویڈیو کار سے کچھ فاصلے پر سڑک پر کھڑی ایک  اور بس سے بنائی گئی۔ اس وقت تک سی ٹی ڈی کے جانے کے بعد ساہیوال پولیس کے اہلکار وقوعہ پر پہنچ چکے ہیں۔ اس ویڈیو میں لاشیں گاڑی سے نکالی جاتی ہیں۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس کے اہلکار کار کی ڈگی (ہیچ بیک) کھول کر سامان نکال رہے ہیں، وہ تین بڑے بیگ نکالتے ہیں۔ صاف پتہ چل رہا ہے کہ کار سواروں کو قتل کرنے والوں نے گاڑی کی تلاشی نہیں لی تھی۔ حالانکہ سی ٹی ڈی نے ایک بیان میں اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ بھی کیا۔

یہ سامان اور لاشیں پولیس کی ایک موبائل میں رکھی جاتی ہیں اور پولیس وہاں سے رخصت ہوجاتی ہے۔ واضح رہے کہ لاشیں اٹھانے کا کام سی ٹی ڈی کے جانے کے بعد ساہیوال پولیس نے کیا۔

اگلی تین ویڈیوز پیٹرول پمپ کی ہیں۔ ایک ویڈیو میں  ایک شخص عمیر سے بات کر رہا ہے۔ عمیر بتاتا ہے کہ مرنے والے اس کے والدین تھے۔ اس کے کولہے پر گولی کے زخم کانشان بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ دوسری ویڈیو میں ساہیوال پولیس پمپ پر پہنچ چکی ہے۔ پولیس کا ایک اہلکار عمیر کو اٹھا لیتا ہے، تکلیف کے عالم میں عمیر پوچھتا ہے، ’کہاں لے جا رہے ہو‘۔ اہلکار اسے لے کر باہر چلتا ہے۔

اگلی ویڈیو میں عمیر باہر کھڑی پولیس موبائل میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ اس کی ایک بہن بھاگ کر پولیس موبائل تک جاتی ہے۔ دوسری کو اہلکار اٹھا کر لاتا ہے۔ ان دونوں بچیوں کو پولیس کی گاڑی میں سوار کرانے کے بعد گاڑی وہاں سے چلی جاتی ہے۔

ویڈیو بنانے والے شہری دکھاتے ہیں کہ پولیس کی گاڑی پر کوئی نمبر پلیٹ موجود نہیں۔

ساہیوال پولیس کا اہلکار بچی کو پولیس گاڑی میں سوار کرا رہا ہے
ساہیوال پولیس کا اہلکار بچی کو پولیس گاڑی میں سوار کرا رہا ہے

چھٹی ویڈیو میں اسپتال میں عمیر بات کر رہا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ لاہور سے بوریوالا کے ایک گائوں میں شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ وہ مرنے والوں کے بارے میں بھی بتاتا ہے کہ اس کے والد، والدہ بہن اور والد کے دوست مارے گئے ہیں۔ والد کے دوست کا نام پوچھے جانے پر وہ کہتا ہے کہ انہیں سب مولوی صاحب کہتے ہیں۔ عمیر بتاتا ہے کہ اس کے چچا رضوان کی شادی تھی جس میں شرکت کے لیے بورے والا کے گائوں جا رہے تھے۔

یہیں ایک ویڈیو میں وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کیسے اس کے والد پولیس سے کہتے رہے کہ وہ فائر نہ ماریں، معاف کردیں پیسے لے لیں، لیکن پولیس اہلکاروں نے گولیاں چلا دیں۔

’’دہشت گرد اپنے ہتھیار کے ساتھ‘‘ یہ تصویر اس کیپشن سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جبکہ خلیل کی بچی کے ہاتھ میں موجود فیڈر پر دائرہ لگا ہے
’’دہشت گرد اپنے ہتھیار کے ساتھ‘‘ یہ تصویر اس کیپشن سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جبکہ خلیل کی بچی کے ہاتھ میں موجود فیڈر پر دائرہ لگا ہے

پولیس کے ان دعوئوں پر سوال اٹھایا جا رہا تھا جن مین پہلے متقولین کو اغوا کار اور پھر دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

حقیقت مزید کھل کر اس وقت سامنے آئی جب کچھ لوگ بوریوالا کے اس گائوں میں پہنچے جہاں خلیل کے کزن رضوان کی شادی کیلئے گھر میں مہمان جمع تھے۔ اس گھر میں اب صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔

ان ویڈیوز نے حقیقت واضح کر دی۔ اب ایک طرف جہاں مرنے والوں کے لواحقین احتجاج کر رہے ہیں وہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اگر ایک معمولی واقعے پر ڈی پی او پاک پتن کو ہٹایا جا سکتا ہے، اعظم سواتی کا فون نہ سننے پر آئی جی اسلام آباد عہدے سے ہاتھ دھو سکتا ہے تو اتنے بڑے سانحے پر کون استعفیٰ دے گا۔

کئی لوگ اس واقعے کی نقیب اللہ کیس سے مماثلت تلاش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر نقیب اللہ اور خلیل دونوں کی تصاویر شیئر کی جارہی ہیں جس میں دونوں اپنی اپنی معصوم بیٹیوں کے ساتھ ہیں۔

نقیب اللہ محسود اوپر اور خلیل اپنی اپنی بیٹیوں کے ساتھ یادگار تصاویر میں۔ دونوں کو پولیس نے قتل کیا اور دونوں کی کم سن بیٹیاں یتیم ہوگئیں
نقیب اللہ محسود اوپر اور خلیل اپنی اپنی بیٹیوں کے ساتھ یادگار تصاویر میں۔ دونوں کو پولیس نے قتل کیا اور دونوں کی کم سن بیٹیاں یتیم ہوگئیں

 

 

تبصرے بند ہیں.